دنیا میں جہاں کہیں بھی ظلم، ناانصافی اور کرپشن پنپتی ہے، وہاں عام انسان سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ خاص طور پر غریب اور کمزور طبقہ ان کرپٹ عناصر کے ظلم کا شکار ہوتا ہے جو طاقت، اختیار اور وردی کا ناجائز استعمال کرتے ہیں۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی حفاظت کے لیے بنائے گئے ہیں، لیکن جب ان ہی اداروں میں کچھ لوگ بدعنوانی اور ظلم کی راہ پر چل پڑتے ہیں تو عام شہری بے بسی اور خوف میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف کسی ایک ملک کا نہیں، بلکہ پوری دنیا میں دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں تو یہ ایک عام مسئلہ بن چکا ہے کہ کچھ کرپٹ پولیس اہلکار ناجائز تعمیرات، قبضہ، رشوت اور ظلم و جبر کا سہارا لے کر کمزور لوگوں کے حقوق پامال کرتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے کرپٹ اہلکاروں کے خلاف ایک عام شہری کیا کر سکتا ہے؟ کیا ظلم کو خاموشی سے برداشت کر لینا ہی واحد راستہ ہے، یا پھر اس کے خلاف کوئی عملی قدم بھی اٹھایا جا سکتا ہے؟
1. ظلم کے خلاف کھڑے ہونا: حکمت اور احتیاط ضروری ہے
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بارہا ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی تلقین کی ہے۔ لیکن اسلام ہمیں حکمت اور تدبر کا درس بھی دیتا ہے۔ اگر کسی کرپٹ پولیس افسر نے ناجائز طریقے سے کسی غریب کے علاقے میں زمین یا گلی پر قبضہ کر لیا ہو، تو سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس معاملے کو پرامن اور قانونی طریقے سے کیسے حل کیا جا سکتا ہے۔
(الف) اجتماعی طاقت استعمال کریں
اگر ایک شخص کسی کرپٹ افسر کے خلاف بولے تو وہ مشکل میں پڑ سکتا ہے، لیکن اگر پورا محلہ یا برادری مل کر آواز بلند کرے، تو کرپٹ اہلکار پر دباؤ بڑھے گا۔
علاقے کے معزز افراد، علماء، صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کو ساتھ ملائیں تاکہ معاملہ نمایاں ہو۔
محلے کے لوگ مل کر اعلیٰ حکام کو درخواست دیں اور انصاف کا مطالبہ کریں۔
(ب) قانونی راستہ اپنائیں
اگر کرپٹ پولیس افسر کسی جگہ پر ناجائز تعمیر کر رہا ہے، تو متعلقہ اداروں جیسے کہ میونسپل کارپوریشن، کمشنر آفس یا اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ میں شکایت درج کرائی جا سکتی ہے۔
اگر کوئی فرد براہ راست کارروائی سے ڈرتا ہے، تو گمنام شکایت بھی کی جا سکتی ہے۔
سوشل میڈیا کے ذریعے ایسے مظالم کو بے نقاب کرنا بھی ایک مؤثر طریقہ بن چکا ہے۔
2. براہ راست تصادم سے گریز کریں
کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کرپٹ افسر کے خلاف آواز اٹھائے تو وہ اسے نشانہ بنانا شروع کر دیتا ہے۔ دھمکیاں، جھوٹے مقدمات، اور حتیٰ کہ جسمانی نقصان بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ ضروری ہے کہ صبر اور حکمت کے ساتھ معاملے کو آگے بڑھایا جائے، نہ کہ جذبات میں آ کر خود ہی کچھ ایسا کیا جائے جو مزید نقصان کا سبب بنے۔
(الف) دشمنی مول نہ لیں، مگر حق کے لیے خاموش بھی نہ رہیں
اگر براہ راست سامنا خطرناک ہو، تو دوسرے ذرائع استعمال کریں، جیسے کہ قانونی اداروں میں شکایت کرنا۔
علاقے کے بڑے افراد یا تنظیموں کو معاملے میں شامل کر کے اجتماعی دباؤ پیدا کریں۔
(ب) انتقامی کارروائی سے بچیں
اگر کوئی شخص یہ سوچے کہ خود ہی کرپٹ افسر کی ناجائز تعمیرات کو گرا دے یا نقصان پہنچائے، تو یہ قانون ہاتھ میں لینے کے مترادف ہوگا اور اس کا فائدہ الٹا ظالم کو ہی ہوگا۔
اگر کچھ غلط طریقوں سے بدلہ لیا جائے، تو ظالم مزید طاقتور ہو سکتا ہے اور قانونی کارروائی بھی الٹا کمزور فریق کے خلاف ہو سکتی ہے۔
3. صبر، دعا اور آخرت پر یقین
اگر تمام قانونی، اجتماعی اور عملی طریقے ناکام ہو جائیں اور ظالم وقتی طور پر طاقتور نظر آئے، تب بھی مایوسی اور بے بسی کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو کبھی معاف نہیں کرتا، چاہے وہ دنیا میں کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہوں۔
قرآن میں اللہ فرماتا ہے:
"اور ظالموں کا انجام برا ہوگا۔" (سورۃ القصص: 37)نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی صورت میں ہوگا۔" (صحیح مسلم)
اگر دنیا میں انصاف نہ بھی ملا، تو اللہ کی عدالت میں کوئی بچ نہیں سکے گا۔ ظالم جتنا چاہے طاقتور ہو، اس کا انجام بربادی ہے۔
نتیجہ: ظلم کے خلاف حکمت، قانون اور دعا کے ذریعے لڑیں
کسی کرپٹ پولیس اہلکار یا بااثر ظالم کے خلاف کھڑے ہونا آسان نہیں، مگر یہ بھی ضروری ہے کہ ظلم کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ اس کے خلاف حکمت کے ساتھ آواز اٹھائی جائے، قانونی ذرائع استعمال کیے جائیں، اجتماعی دباؤ بنایا جائے، اور اگر وقتی طور پر کچھ نہ ہو سکے، تو اللہ پر بھروسہ رکھ کر صبر اور دعا کا راستہ اختیار کیا جائے۔
ظالم کو لگتا ہے کہ اس کی طاقت ہمیشہ رہے گی، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ظلم ہمیشہ ختم ہوتا ہے اور حق کو کامیابی ملتی ہے۔