ہفتہ، 12 اپریل، 2025

مذہبی پیشوا خود عمل کیوں نہیں کرتے؟

 حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کہتے تھے خود بھی عمل کرتے تھے۔۔ مگر ڈاکٹر اسرار احمد، ڈاکٹر ذاکر نائک، نعمان علی خان جیسے لوگ اب بس تقریریں کرتے ہیں، سوال کے جواب دیتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔۔۔عملی طور پر ایکشن کیوں نہیں ہے؟ سب ایک دوسرے سے عمل کیوں کروانا چاہتے ہیں؟ خود کیوں میدان میں اترنے کے لیے تیار نہیں ؟

یہ سوال نہایت اہم، گہرا، اور دل کو جھنجھوڑنے والا ہے — اور بہت سے لوگوں کے دلوں میں اس کا وزن موجود ہوتا ہے، لیکن کم ہی کوئی اسے زبان دیتا ہے۔

1. نبی کریم ﷺ کا طرزِ عمل:
آپ ﷺ صرف کہنے والے نہیں تھے، بلکہ ہر بات کا عملی نمونہ بھی تھے۔ اگر کسی بات کا حکم دیا، تو سب سے پہلے خود اس پر عمل کیا۔ اگر کسی چیز سے روکا، تو سب سے پہلے خود اس سے رکے۔ اسی لیے اللہ نے آپ کو "اسوۃ حسنہ" قرار دیا۔ آپ نے تبلیغ بھی کی، جہاد بھی کیا، حکمرانی بھی کی، معاشرت بھی سکھائی، اور تربیت بھی دی۔ آپ کا ہر قدم ایک "کُل پیکج" تھا۔

2. جدید دور کے داعی اور مقررین:
ڈاکٹر اسرار احمد، ذاکر نائک، نعمان علی خان — ان حضرات نے دین کو عام کرنے میں ایک بڑا کردار ادا کیا ہے، لیکن جیسا آپ نے کہا، یہ لوگ "میدانِ عمل" میں کم نظر آتے ہیں۔
اس کی کچھ ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں:

✔ 1. تقسیمِ کردار (Division of Roles):

آج کے دور میں دین کی خدمت مختلف میدانوں میں ہو رہی ہے:

  • کچھ لوگ علم کی اشاعت پر زور دیتے ہیں

  • کچھ فلاحی کام کرتے ہیں

  • کچھ سیاسی میدان میں جاتے ہیں

  • کچھ جہاد جیسے حساس موضوعات سے بچتے ہیں، کیونکہ قانونی رکاوٹیں اور بدنامی کا خطرہ ہوتا ہے

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف بات کرنا کافی ہے؟

✔ 2. خوف، دباؤ اور سیف زون (Comfort Zones):

جدید دور میں "میدانِ عمل" میں آنا — جیسے ظلم کے خلاف کھڑا ہونا، سسٹم کو چیلنج کرنا — یہ سب بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔

  • پابندیاں

  • جیل

  • شہرت کا نقصان

  • فیملی پر اثر
    تو اکثر لوگ بس "سیف زون" میں رہ کر باتیں کرتے رہتے ہیں۔

✔ 3. تربیت کی کمی:

نبی ﷺ نے صحابہ کی تربیت کی تھی — روحانی، جسمانی، ذہنی، عسکری، سب کچھ۔ آج کے اکثر داعی علمی لحاظ سے تو تیار ہیں، مگر عملی و تربیتی لحاظ سے میدان میں اُترنے کے لیے تیار نہیں۔

✔ 4. نظام کا خوف اور طاقتور اسٹیبلشمنٹ:

اگر کوئی آج "میدانِ عمل" میں قدم رکھے — جیسے ظالم حکمران کو للکارے، یا معاشرتی ناپاکی پر بند باندھے — تو اس کے خلاف ریاستی ادارے حرکت میں آ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے "علماء" صرف "بیان بازی" تک محدود رہتے ہیں۔


آخر میں ایک تلخ حقیقت:
اگر سب صرف ایک دوسرے سے "عمل" کروانا چاہیں، اور خود پیچھے ہٹیں، تو پھر امت کبھی نہ اٹھ سکے گی۔
ہمیں ایسے افراد کی ضرورت ہے جو نبی ﷺ کی طرح "بات بھی کریں، اور خود میدان میں بھی اتریں"۔


آپ کا سوال ایک صدا ہے — ان سب کے نام — جو صرف بات کرتے ہیں، عمل کی مشعل ہاتھ میں لینے سے ڈرتے ہیں۔

میں اس کی ایک مثال پیش کردیتا ہوں کہ جب مجھے یہ باتیں کتابوں میں ملتی تھیں کہ اولیاء کرام ہوتے تھے اور عوام کے سامنے بہت سے کمالات کا مظاہرہ کردیتے تھے حق کی صدا بلند کرنے کے لیے تو میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ آج ایسا کوئِ مرد قلندر میدان میں کیوں نہیں اترتا؟

آج کوئی پریکٹیکل طور پر معجزات کیوں نہیں دکھاتا تاکہ لوگوں کے دلوں میں ایمان مضبوط کرسکے اور اللہ کے حکم سے معجزات کا ظہور ہو؟

میں ہمیشہ انتظار میں بیٹھا کرتا تھا کہ گویا یہ کسی اور کے کام ہیں اور آج یہ وقت ہے کہ میں خود عملی طور پر یہ سب کام کرکے فارغ ہوچکا ہوں۔ البتہ میرے تجربات اور اللہ کے لشکروں کی آمد اور مدد سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اکثر لوگ ایمان لانا ہی نہیں چاہتے بلکہ جان بوجھ کر حق کو نظر انداز کرتے ہیں اور اللہ کے زیر تابع رہ کر زندگی گزارنا پسند نہیں کرتے۔

لہذا میں جس چاہت سے شروع ہوا تھا، آہستہ آہستہ وہ سب کچھ ٹھنڈا ہوچکا اور یہ کوئی بری بات نہیں۔ اس لیے کہ مقصد معجزات و کرامات کو تماشہ بنانا نہیں تھا بلکہ وقت ضرورت اللہ خود میری مدد کرتا رہا۔ وہ اب بھی جب چاہتا ہے مجھے استعمال کرلیتا ہے مگر اب میں بھی جانتا ہوں کہ لوگ چونکہ اللہ کی بات نہیں مانتے اس لیے وہ بھی تھوڑا تردد کرتا ہے معجزات کا مظاہرہ کرنے میں۔ ویسے تو پوری کائنات ہی اس کی قدرت کا مظاہر ہے۔

یہ بات قرآن میں بھی اللہ نے ذکر کردی ہے۔

Quran 17.59

اور ہم کو نشانیاں بھیجنے سے نہیں روکا مگر اس چیز نے کہ اگلوں نے ان کو جھٹلایا اور ہم نے ثمود کو اونٹنی دی ان کو سمجھانے کے ليے پھر انھوں نے اس پر ظلم کیا اور نشانیاں ہم صرف ڈرانے کے ليے بھیجتے ہیں

لہذا اب اس کے باوجود جس قدر نشانیاں اللہ نے مجھے عطا کردی ہیں، اس کے بعد بھی اگر مسلمان ایمان نہ لانا چاہیں کہ اپنی حرکتیں سدھار لیں اور غیرمسلم اسلام میں داخل نہ ہوں تو کون اپنی جان پر ظلم کررہا ہے اور خود کو جہنم میں لے جانے کے قابل بنارہا ہے؟

اللہ تو کسی پر ظلم نہیں کرتا، مگر اکثر لوگ خود ہی جاہل، گمراہ اور بے شعور بنے زندگی گزار رہے ہیں تو گزارتے رہیں۔

میں روحانی لوگوں سے امید رکھتا تھا، غصہ کرتا تھا، انتظار کرتا تھا، جب گیمنگ کی دنیا سے نکل کر خود پریکٹیکل طور پر اس میدان میں قدم رکھا تو حیرت انگریز طور پر اللہ کی نشانیاں پے در پے ظاہر ہونا، میری مدد کو پہنچنا، مجھے آگے بڑھانا اور دنیا والوں کے سامنے حیرت انگریز کارنامے سرانجام دلوانے کے لیے ہمت و حوصلہ دینا، کیا یہ سب ثابت نہیں کرتا کہ میں نے صرف کہا نہیں بلکہ عملی طور پر ثابت بھی کردیا ہے کہ صرف اللہ سچا خدا ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے آخری نبی ہیں؟

اب اس کے بعد یہ لوگ کس چیز پر ایمان لائیں گے اور اپنے آپ کو اللہ کے سامنے سرینڈر کریں گے؟