بدھ، 26 فروری، 2025

سیکھا ہوا بے بسی

Learned Helplessness

محروم اور پسماندہ لوگوں، خصوصاً رنگ و نسل کی بنیاد پر الگ کئے گئے افراد کو اکثر کاہل یا سست سمجھا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ "سیکھا ہوا بے بسی" ہوتی ہے جو کہ ان لوگوں کی مشکلات کو صحیح طور پر پہچاننا ہوتا ہے، جہاں انہیں آزادی اور خود مختاری نہیں دی جاتی اور ان کا احترام نہیں کیا جاتا یا انہیں سننے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ اس لئے کئی دفعہ ہم ان لوگوں کو کاہل کہہ دیتے ہیں جو ایک غیر منصفانہ یا غیر حوصلہ افزا حالت سے الگ ہو جاتے ہیں۔

چلو ایک کہانی کے ذریعے سمجھتے ہیں:

ایک گاؤں میں راحیل نامی شخص رہتا تھا، جو کہ انتہائی محنتی اور مہربان تھا۔ گاؤں کے لوگ اکثر اس کی مدد سے اپنے کام مکمل کرتے تھے، مگر کبھی کبھار اسے "کاہل" یا "سست" کہنے لگتے تھے کیونکہ وہ کسی موقع پر کام سے ہاتھ کھینچ لیتا تھا۔

راحیل نے سوچا کہ اسے یہ کام نہیں کرنا چاہیے اگر لوگ اس کا احترام نہیں کرتے یا اس کی محنت کا صلہ نہیں دیتے۔ وہ خود کو بے بس محسوس کرنے لگا، جیسے اس کی محنت کی کوئی قدر نہیں ہو رہی۔

اس کہانی کا مطلب یہ ہے کہ جب لوگ مشکل حالات میں خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں یا انہیں انصاف نہیں ملتا، تو وہ اکثر کام سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ اس حالت کو "سیکھا ہوا بے بسی" کہا جاتا ہے، جو کہ حقیقت میں لوگوں کی مشکلات کا صحیح ادراک ہوتا ہے، نہ کہ کاہلی۔

چلو "سیکھا ہوا بے بسی" کے تصور کو مزید تفصیل سے سمجھتے ہیں:

"سیکھا ہوا بے بسی" ایک نفسیاتی تصور ہے جو ایک ایسی حالت کی وضاحت کرتا ہے جہاں ایک فرد، جب بار بار مشکل حالات کا سامنا کرتا ہے اور ان سے باہر نکلنے یا انہیں بہتر بنانے کا کوئی طریقہ نہیں پاتا، آخر کار یہ یقین کر لیتا ہے کہ اس کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس ذہنیت کے نتیجے میں فرد ناگوار حالات کو بغیر کسی مزاحمت کے قبول کر لیتا ہے، یہاں تک کہ جب تبدیلی یا بچنے کے مواقع دستیاب ہوں۔

آئیے ایک اور مثال کے ذریعے اس کی وضاحت کرتے ہیں:

تصور کریں کہ ایک طالبہ، عائشہ، کو ریاضی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ جب بھی وہ کسی مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہے، اسے مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور بالآخر وہ ہار مان لیتی ہے۔ کوئی بھی کتنی ہی کوشش کر لے، وہ ریاضی کے تصورات کو سمجھنے میں ناکام رہتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، وہ یقین کرنے لگتی ہے کہ وہ ریاضی میں اچھی نہیں ہے اور کوئی بھی محنت اسے بہتر نہیں کر سکتی۔ اس کے نتیجے میں، وہ پوری طرح سے کوشش کرنا چھوڑ دیتی ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی استاد اضافی مدد کی پیشکش کرے یا ایسے آسان مسئلے ہوں جو وہ ممکنہ طور پر حل کر سکتی ہو۔ یہ سیکھا ہوا بے بسی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ سیکھا ہوا بے بسی مختلف زندگی کے شعبوں میں ظاہر ہو سکتی ہے، جیسے:

- **تعلیم:** طلباء یہ محسوس کرتے ہیں کہ چاہے وہ کتنی ہی محنت کریں، وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔

- **کام:** ملازمین یہ یقین کرنے لگتے ہیں کہ وہ اپنی ملازمت یا کیریئر میں کوئی فرق نہیں ڈال سکتے۔

- **ذاتی تعلقات:** افراد یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ اپنے تعلقات کو بہتر نہیں بنا سکتے یا نئے دوست نہیں بنا سکتے۔

یہ ضروری ہے کہ سیکھا ہوا بے بسی کی شناخت کی جائے کیونکہ یہ حقیقی صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ ایک ذہنی حالت ہے جو درست حمایت، حوصلہ افزائی اور کامیابی کے مواقع کے ساتھ تبدیل کی جا سکتی ہے۔