پیر، 23 ستمبر، 2024

خود کو مضبوط بنانا ہے

 یہ اسٹوری اس انگریزی مضمون کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھوائی گئی ہے تاکہ اس کا مطلب اردو پڑھنے والوں کے لیے واضح ہوجائے۔

You've never demanded the rain, sun, or fire to adjust their nature, yet you get angry at people for being harsh. Why not change to avoid being hurt? You protect yourself from natural elements but expect others to protect you from themselves. The rain, sun, and fire don't make an effort to protect you; you do. It's astonishing that you want others to change without recognizing your own need to change and become resistant to oppression.

If you deceive me I see my own mistake, I wasn't discerning that's why you deceived me so instead of getting angry I work on myself to be able to discern well. I work on myself when you are able to manipulate me so that I'm not vulnerable to your tactics next time. I work on myself when you oppress me so that you are unable to oppress me next time. I work on myself so that you are unable to break my heart again next time. It's your responsibility not my to protect yourself from me and others.

Onyema

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک شخص تھا جس کا نام علی تھا۔ علی بہت حساس دل کا مالک تھا اور اکثر دوسروں کی سخت باتوں اور رویوں سے دل برداشتہ ہو جاتا تھا۔ وہ ہمیشہ یہ سوچتا تھا کہ لوگ کیوں اس کے ساتھ نرمی سے پیش نہیں آتے اور اس کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ ہر بار جب کوئی اس سے سخت لہجے میں بات کرتا، علی غصے سے بھر جاتا اور دل ہی دل میں ان لوگوں کو بدلنے کی خواہش کرتا۔

ایک دن، علی بارش میں بھیگ رہا تھا۔ اس نے سوچا، "بارش کیسی عجیب چیز ہے، میں نے کبھی اس سے یہ نہیں کہا کہ وہ رک جائے۔ لیکن جب بارش ہوتی ہے تو میں خود کو چھتری لے کر بچاتا ہوں، یا اندر چلا جاتا ہوں۔" اسی طرح جب دھوپ زیادہ ہوتی ہے تو علی خود کو سورج کی شعاعوں سے بچانے کے لیے سایہ تلاش کرتا تھا، اور جب آگ کے قریب ہوتا تھا تو وہ ہمیشہ خود کو دور کر لیتا تھا تاکہ جلنے سے بچ سکے۔

علی نے اپنے آپ سے سوال کیا، "میں بارش، دھوپ، اور آگ سے تو اپنی حفاظت خود کرتا ہوں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ اپنی فطرت کے مطابق ہی ہیں، لیکن میں لوگوں سے کیوں توقع کرتا ہوں کہ وہ اپنے رویے بدلیں؟"

یہ سوچتے ہوئے علی کو احساس ہوا کہ جیسے وہ قدرتی عناصر سے بچاؤ کرتا ہے، اسی طرح اسے لوگوں کے سخت رویوں سے خود کو بچانے کی ضرورت ہے۔ لوگ اپنی فطرت کے مطابق عمل کرتے ہیں، اور جیسے بارش یا سورج اس کے لیے رک نہیں سکتے، ویسے ہی لوگ بھی اپنی فطرت کے مطابق پیش آتے ہیں۔

علی نے سوچا، "اگر کوئی مجھے دھوکہ دیتا ہے تو دراصل یہ میری غلطی ہے کہ میں نے اس پر بھروسہ کیا تھا، میں نے سمجھداری سے کام نہیں لیا۔ مجھے اس پر غصہ ہونے کے بجائے اپنی عقل کو بہتر کرنا چاہیے تاکہ دوبارہ دھوکہ نہ کھاؤں۔ اگر کوئی میرے جذبات سے کھیلتا ہے تو یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں خود کو اس قدر مضبوط بناؤں کہ وہ دوبارہ میرے دل کو نہ توڑ سکے۔"

علی کو احساس ہوا کہ لوگوں کو بدلنے کی کوشش کرنے کے بجائے اسے خود کو مضبوط کرنا ہوگا۔ دوسروں کی سختیوں سے بچنا اس کا اپنا کام تھا، نہ کہ دوسروں کا۔ جیسے وہ آگ سے بچنے کے لیے دور ہوتا تھا، ویسے ہی اسے لوگوں کی سختیوں سے بچنے کے لیے خود کو تیار کرنا تھا۔

یوں علی نے اپنی زندگی میں ایک نیا سبق سیکھا کہ دوسروں کو بدلنے کے بجائے خود کو مضبوط بنانا ہی بہترین راستہ ہے۔