پیر، 12 مئی، 2025

کمانے کی نیت

 بلاوجہ کمانے سے بہتر ہے کہ انسان پہلے کمانے کی نیت بنائے اور اس کے بعد کمانے کے لیے عمل شروع کرے۔

نیت

میں جو بھی کماؤں گا، وہ اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں سے ہے، اور اس کا حق بندوں تک پہنچاؤں گا۔

میں اپنے بچوں، والدین، بیوی، بہن بھائی پر خرچ کر کے ثواب پاؤں گا۔

میں کسی کی حق تلفی، جھوٹ، ملاوٹ، سود یا چالاکی سے نہیں کماؤں گا — میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔

میں جب بھی کماؤں گا، اس میں سے ضرور کچھ صدقہ، زکوٰۃ یا خیر میں خرچ کروں گا — خفیہ طور پر۔

میں دنیا میں رہوں گا، لیکن دنیا میرے دل میں نہیں ہو گی۔ جب بھی اللہ چاہے، میں چھوڑنے کو تیار ہوں گا۔

میں پیسہ کماتا ہوں تاکہ خود محتاج نہ رہوں اور کسی کا محتاج نہ بنوں اور للہ کی مخلوق کو فائدہ دوں اور اور قیامت کے دن کامیاب ہو جاؤں۔

دعا

اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ
"اے اللہ! مجھے حلال کے ذریعے حرام سے بچا اور اپنے فضل سے غیر کا محتاج نہ کر"

قرآن

"وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ"
"جو ہم نے انہیں دیا، اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں"

حدیث

جو شخص اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور اس کی نیت ثواب کی ہو، تو وہ اس کے لیے صدقہ ہے" (بخاری و مسلم)

"حلال کمائی نصف عبادت ہے" — (حدیث کا مفہوم)

"فقر سے محبت کرو، کیونکہ وہ جنت کی کنجی ہے" (طبرانی)