میں نے بذات خود اپنی آنکھوں سے اسکول کالج یونیورسٹی سے پڑھی لکھی تعلیم یافتہ ڈگری ہولڈرز خواتین کو اپنے چھوٹے بچوں سے بدترین فرعون نما سلوک کرتے مشاہدہ کیا ہے اور اس کی بنیاد پر میں تمہیں یہ سچ بتارہا ہوں کہ تمہارے اندر جتنا بھِی ڈر خوف ہچکچاہٹ اور لوگوں کے سامنے کھل کر آنے کا مسئلہ ہے اس کا سارا کریڈٹ تمہارے والدین، اساتذہ اور ماضی کے ان لوگوں کو جاتا ہے جنہوں نے تمہیں ڈانٹ ڈپٹ کرکے، قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑِی کرکے، تمہیں ڈرا دھمکا کر، مار پیٹ کر اور ذہنی مریض بناکر اس معاشرے میں لاوارث تنہا چھوڑ دیا ہے۔
وہ تمام لوگ بہرحال اب تمہارے کسی کام کے نہیں کیونکہ ان سب نے اپنی فرعونیت کی ڈگری پوری کرلی ہے تمہارے اندر ڈر خوف پیدا کرکے اور باقی کسر اسی معاشرے کے ممی ڈیڈی بچوں نے تمہارے خلاف سوشل میڈیا پر بکواسات کرکے پوری کرلی ہے جن کے پیٹ بھرے ہیں اور یہ کتے بن کر بھونکنے چلے آتے ہیں کمنٹس پر تمہارے خلاف لہذا ایسے معاشرتی کتوں سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
میں سیدھی بات کرتا ہوں اور مجھے ایسے کتوں سے نہ ڈر ہے اور نہ ان کی پرواہ ہے کیونکہ یہ میرے سامنے دو کوڑِی کی حیثیت بھی نہیں رکھتے اپنے مال اور دولت کے سبب اور ان کا سارا مال میرے لیے خاک کا ڈھیر ہے اس لیے یہ نہ مجھے دباسکتے ہیں اور نہ جھکاسکتے ہیں مگر تمہیں نیچا دکھانے کے لیے یہ اپنی ہر ممکن بھرپور کوشش کریں گے تاکہ تم ڈر کر بزدل بن کر رہو۔
اس دنیا کے اندر ماضی سے اب تک حکمرانوں، وڈیروں، چودھریوں، افسروں وغیرہ نے جو کہ خود نفطہ سے بنے انسان ہیں اپنی طاقت اور غرور کے نششہ میں غریبوں کو اپنا غلام بناکر رکھا ہے اور آج بھی دنیا بھر میں ایسا ہی ہورہا ہے۔
جب تک غریب بزدل بن کر جیتا رہے گا یہ غریبوں پر راج کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ڈر اور خوف کا دھندا کرتے ہیں اور اپنے ساتھ ایسے غنڈوں کو رکھتے ہیں جو دکھنے اور نظر آنے میں بہت مہذب لگتے ہیں مگر اندر سے پکے شیطان اور اللہ کے غدار ہوتے ہیں۔
یہ پدی اور پدی کے شوربے تمہیں کبھی آگے بڑھنے سے روکنے نہ پائیں اگر تم واقعی اللہ کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہو کیونکہ اس فزیکل دنیا میں تمہیں ان سب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہی لوگ پوری دنیا پر قابض ہیں وسائل اپنے کنٹرول میں رکھ کر۔ یہ نہیں چاہتے کہ اللہ کے بنائے ہوئے قدرتی وسائل تمام انسانوں کے استعمال میں آسکیں تو انہوں نے ذہین نوجوانوں کو غلامی، قید، ڈر خوف بھوک وغیرہ میں پھنسا دیا اور خود عیاشیاں کررہے ہیں۔