جمعہ، 6 جون، 2025

قربانی اور نصاب کی حقیقت — آسان الفاظ میں

عیدالاضحی کا تہوار آتا ہے اور قربانی کا ذکر ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ قربانی صرف اس کے فرض ہے جس کے پاس بہت سونا یا چاندی (نصاب) ہو۔ لیکن کیا اللہ اور نبی ﷺ نے ایسا کہا ہے؟

آئیے آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں:


اللہ کا حکم ہے: قربانی کرو

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:

"نماز پڑھو اور قربانی کرو" (الکوثر: 2)

یہ سیدھا سیدھا حکم ہے۔ جیسے نماز فرض ہے، ویسی ہی قربانی کا حکم بھی ہے۔


نبی ﷺ نے کیا فرمایا؟

نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے پاس وسعت (یعنی مالی استطاعت) رکھتا ہے اور قربانی نہیں کرتا، وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔

یہ بات حدیث میں آتی ہے، اور یہ بتاتی ہے کہ اگر آپ کے پاس طاقت ہے تو قربانی کرنا ضروری ہے۔


لیکن نصاب کہاں سے آیا؟

قرآن اور حدیث میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ قربانی صرف اس شخص پر فرض ہے جس کے پاس اتنا سونا یا چاندی (نصاب) ہو۔

یہ نصاب فقہاء نے بعد میں بنایا ہے تاکہ قربانی کرنے والوں کے لیے کوئی حد مقرر ہو جائے۔ لیکن یہ اللہ کا واضح حکم نہیں۔


اصل بات کیا ہے؟

قرآن و سنت کے مطابق اگر آپ کے پاس استطاعت ہے تو قربانی کریں۔

چاہے آپ کے پاس زیادہ پیسہ ہو یا تھوڑا، بس جو بھی آپ دے سکتے ہیں قربانی کریں۔

قربانی کے جانور عموماً اونٹ، گائے، بکری، بھیڑ ہوتے ہیں۔


جو قربانی نہیں کرتا وہ کیا ہے؟

جو شخص استطاعت ہونے کے باوجود قربانی نہیں کرتا، اس کی نیت پر سوال اٹھتا ہے۔

نبی ﷺ نے کہا ہے کہ ایسا شخص ہمارے اجتماع کے قریب نہ آئے۔


خلاصہ

  • قربانی اللہ کا حکم ہے، جو نبی ﷺ کی سنت بھی ہے

  • نصاب کا ذکر قرآن یا حدیث میں نہیں

  • قربانی کی شرط صرف "وسعت" یا استطاعت ہے

  • استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنا غلط ہے


آخر بات

دین کو آسان سمجھیں، اور اللہ کے حکم پر عمل کریں۔ جو ہو سکے قربانی کریں، چاہے تھوڑی ہی کیوں نہ ہو۔

یہ قربانی آپ کی نیت کو مضبوط کرتی ہے، اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ بنتی ہے، اور دین کا حصہ ہے۔