منگل، 25 مارچ، 2025

پولیس اور فوج کے ناجائز اختیارات اور ظلم و بربریت

ریاستی ادارے: محافظ یا مظالم کے آلہ کار؟

دنیا بھر میں ریاستی اداروں کا بنیادی فرض عوام کی حفاظت، قانون کی عملداری اور معاشرے میں امن و امان قائم رکھنا ہوتا ہے۔ تاہم، جب یہی ادارے اختیار اور طاقت کے نشے میں بدمست ہو جائیں تو وہ ظلم، جبر اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔

ریاستی طاقت کا غلط استعمال

بعض ممالک میں پولیس، فوج یا خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے وہ مظالم ڈھائے ہیں جو کسی مہذب معاشرے میں ناقابلِ تصور ہیں۔ ان میں شامل ہیں:

  • جنسی تشدد: کئی رپورٹ شدہ واقعات میں خواتین کو حراست میں لے کر ان کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ ایسے واقعات میں اکثر مجرموں کو سزا نہیں ملتی، کیونکہ نظامِ انصاف کمزور یا جانبدار ہوتا ہے۔

  • قیدیوں پر تشدد: مرد و خواتین قیدیوں کو ریاستی تحویل میں بدترین جسمانی اور ذہنی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں برہنہ کرکے مار پیٹ، بجلی کے جھٹکے، اور جنسی ہراسانی شامل ہے۔

  • جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل: متعدد ممالک میں شہریوں، سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو اغوا کر کے لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔ ان میں سے بہت سے افراد کی لاشیں بعد میں ویران مقامات سے ملتی ہیں۔

کیا ایسے لوگ درندگی کی حد تک نہیں پہنچ جاتے؟

  • درندے اذیت نہیں دیتے – جانور شکار کو فوراً مار دیتے ہیں، لیکن بعض انسان مہینوں تک قید کر کے اذیت دیتے ہیں۔

  • جانور بے گناہ کو نہیں مارتے – درندے صرف اپنے دفاع یا بھوک کے لیے حملہ کرتے ہیں، انسان مگر ذاتی مفاد یا طاقت کی ہوس میں بے گناہوں پر ظلم کرتے ہیں۔

  • جانور اپنی نسل کی حفاظت کرتے ہیں – وہ اپنی ماداؤں اور بچوں کی حفاظت کرتے ہیں، لیکن کچھ انسان دوسروں کے خاندان اجاڑتے ہیں، عورتوں کی عزت پامال کرتے ہیں۔

حل کیا ہے؟

  1. عوامی شعور و بیداری – ظلم کو بے نقاب کرنا، عوام کو منظم کرنا اور اجتماعی مزاحمت پیدا کرنا ضروری ہے۔

  2. آزاد و مؤثر عدالتی نظام – داخلی اور بین الاقوامی سطح پر انصاف کی فراہمی کے لیے قانونی راستے اختیار کیے جائیں۔

  3. میڈیا کا مؤثر استعمال – مظالم کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے روایتی اور سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا جائے۔

  4. بین الاقوامی دباؤ – اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کے اداروں سے رابطہ کیا جائے تاکہ ان جرائم پر عالمی سطح پر کارروائی ہو۔

  5. اخلاقی و مذہبی اصولوں کی پاسداری – ہر مذہب اور ضمیر ظلم کے خلاف ہے؛ اگر اخلاقی اقدار اور انصاف پر مبنی قوانین نافذ ہوں تو ایسے جرائم کی روک تھام ممکن ہے۔


نتیجہ

جب ریاستی ادارے اپنے فرائض سے ہٹ کر ظلم کا آلہ بن جائیں، تو پوری قوم خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ایسے میں خاموشی جرم بن جاتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کریں، انصاف کا مطالبہ کریں، اور ایک ایسا معاشرہ قائم کریں جہاں طاقت قانون کے تابع ہو، نہ کہ قانون طاقت کے تابع۔