جمعرات، 29 مئی، 2025

پاکستانی فری لانسرز! ایک سچ سن لو… تم سب غلط ٹرین پر سوار ہو!"

https://www.facebook.com/share/p/1XYTA8XZ8R/

پاکستانی فری لانسرز! ایک سچ سن لو… تم سب غلط ٹرین پر سوار ہو!"

ہر دو تین سال بعد ایک نئی ٹرین آتی ہے:
"گرافک ڈیزائننگ سیکھو، گھر بیٹھے ڈالر کماؤ"
"سوشل میڈیا مارکیٹنگ کر لو، آسان کام ہے"
"وی اے بن جاؤ، کلائنٹس کی لائن لگ جائے گی"

قوم چڑھ جاتی ہے… پورا جوش، پورا جنون!
لیکن…
🚫 منزل نہیں آتی!

کیوں؟
کیونکہ ہم شارٹ کٹس کے عاشق بن چکے ہیں
کیونکہ ہمیں بچپن سے یہی سکھایا گیا:
“دندی مار لو، تھوڑا جُھوٹ بول لو، آگے نکل جاؤ!”

👎 محنت سے ہمیں الرجی ہو چکی ہے
👎 مشکل چیزوں سے ہمیں چِڑ ہو گئی ہے
👎 ہم وہ کام کرنا چاہتے ہیں جو سب کر رہے ہیں، کیونکہ وہاں “ٹرینڈ” ہے

اب نتیجہ دیکھ لو:
🔥 فائیور پر 28 لاکھ سے زائد گِگ موجود ہیں صرف گرافک ڈیزائن میں
🔥 ہر دوسرا بندہ “سوشل میڈیا مارکیٹر” بن چکا ہے
🔥 ہر تیسرا، ایک “ورچوئل اسسٹنٹ” ہے

تو سوال یہ ہے:
اتنی بھیڑ میں تم کیسے نمایاں ہو گے؟
تمہیں آرڈر کیوں ملے؟

اور پھر روزانہ میرے انباکس میں یہی میسجز:
"بھائی، آرڈر نہیں مل رہا"
"سر، ہم نے سیکھ لیا، اب کریں کیا؟"
"گھر کا چولہا نہیں جل رہا، والِد بیمار ہیں، شوہر چرسی ہے کیا کریں؟"

💣 مسئلہ تمہارا نہیں — مسئلہ ہے وہ "سستے خواب" بیچنے والے منٹورز ہیں
جو 3 ہزار، 5 ہزار میں کورس دے کر کہتے ہیں:
"بس یہ سیکھ لو، تم بھی کماؤ گے!"

لیکن…
⚠️ وہ اپنی دیہاڑی لگا لیتے ہیں
⚠️ اور قوم کا مستقبل تباہ ہو رہا ہوتا ہے!

✅ حقیقی سچ یہ ہے:
🌍 دنیا مشکل کاموں میں پیسہ دیتی ہے
💻 سائبر سیکیورٹی
🤖 آرٹیفیشل انٹیلیجنس
🧠 اے آئی آپٹیمائزیشن
📊 ڈیٹا انیلیٹکس
🔐 بلاک چین
🧬 مشین لرننگ
🌐 Ai powered SEO
Ai Automations

یہ ہیں وہ skills جو دنیا مانتی ہے
یہ ہیں وہ ہنر جن میں لوگ کم، اور قیمت زیادہ ہے

📢 سچ سنو !
نہ تم یوٹیوب کے تھمبنیل بنا کر پوری زندگی کما سکتے ہو
نہ تم انسٹاگرام پوسٹ بنا کر اپنا گھر چلا سکتے ہو

📌 وقت ہے کہ تم اپنے دماغ کو ری-پروگرام کرو
📌 مشکل راستہ چنو، سستے شارٹ کٹس کو جوتا مارو
📌 صرف خود کو نہیں — اپنی نسل کو بھی بچاؤ

🔥 اور یاد رکھو:
آسان راستے کبھی منزل تک نہیں پہنچاتے
مشکل راستے ہی کامیابی کی ضمانت ہوتے ہیں!

میں کون ہوں درد دل رکھنے والا ایک پاکستانی

# مشکل_چیزیں_سیکھو
#خود_کو_بدلو
#قوم_کو_بچاؤ
#شارٹ_کٹ_کا_خاتمہ
# حقیقی_فری_لانسرز 😔

Umair Ahmed

۔۔۔

لکھنا آسان ترین کام ہے، حل بتانا مشکل ترین کام ہے۔ ہمت مت ہارو، پورا سچ ادھر سنو کیونکہ یہ مایوس کرنے والی پوسٹ لکھی گئی ہے۔ ابھی ادھیڑ کر رکھ دیتا ہوں اللہ کے فضل و کرم سے کیونکہ لکھنا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے (گیمر)

"تم سب غلط ٹرین پر سوار ہو!"

⚔️ سب غلط ٹرین پر سوار نہیں ہیں۔ کیا اس نے پورے پاکستان کے تمام فری لانسرز کا انٹرویو کر کے دیکھ لیا کہ سب غلط ٹرین پہ سوار ہیں؟ اگر نہیں تو یہ جھوٹا ثابت ہوا۔

۔۔۔۔
ہر دو تین سال بعد ایک نئی ٹرین آتی ہے:
"گرافک ڈیزائننگ سیکھو، گھر بیٹھے ڈالر کماؤ"
"سوشل میڈیا مارکیٹنگ کر لو، آسان کام ہے"
"وی اے بن جاؤ، کلائنٹس کی لائن لگ جائے گی"

⚔️ اس میں غلط کیا ہے؟ دنیا کے لوگ روز بروز نئی نئی چیزیں ایجاد کررہے ہیں۔ جو مرضی سیکھ لو۔ پیسہ ہر کام میں ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ گٹر کا ڈھکن ہٹانے لگانے کا کام بھی پیسوں کے بدلے کیا جاسکتا ہے۔ بس مائنڈسیٹ پیسہ کمانے اور "حق طلب" کرنے والا ہونا چاہیے۔ کسی کو اپنا حق مارنے کی اجازت ہرگز مت دو پروفیشنل کاموں میں

بہت سے پاکستانی فری لانسرز اس کی بتائی ہوئی اور معمولی قرار کردہ اسکلز سے ہی لاکھوں ڈالرز کمارہے ہیں۔

۔۔۔

قوم چڑھ جاتی ہے… پورا جوش، پورا جنون!
لیکن…
🚫 منزل نہیں آتی!

کیوں؟
کیونکہ ہم شارٹ کٹس کے عاشق بن چکے ہیں

⚔️ سارا دن کمپیوٹر اور موبائل کے شارٹ کٹ استعمال کرنے والے اب شارٹ کٹ کے نقصانات بتارہے ہیں۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ سو فیصد غلط۔ لانگ وے پر شارٹ کٹ کے ذریعہ جلدی پہنچنا ممکن ہے۔ بس راستہ معلوم ہونا ضروری ہے۔ شارٹ کٹ کاموں کو تیز کردیتا ہے اور رزلٹ بھی جلدی آتا ہے۔

۔۔۔

کیونکہ ہمیں بچپن سے یہی سکھایا گیا:
“دندی مار لو، تھوڑا جُھوٹ بول لو، آگے نکل جاؤ!”

⚔️ یہ لوپھکی!

وَلِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ ؕ اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ

ہر شخص ایک نہ ایک طرف متوجہ ہو رہا ہے تم نیکیوں کی طرف دوڑو۔ جہاں کہیں بھی تم ہوگے، اللہ تمہیں لے آئے گا۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

آگے نکلنے اور دوڑنے کی موٹیویشن تو اللہ خود دیتا ہے لہذا آگے نکلنے کو غلط رنگ دینا سراسر قرآنی تعلیمات کے خلاف ہے۔ نیز بچپن سے کوئی ماں باپ جان بوجھ کر یہ نہیں سکھاتے کہ ڈنڈی مارو، جھوٹ بولو وغیرہ۔۔۔۔ہاں ان کی اپنی عادتیں تھوڑی خراب ہوسکتی ہیں مگر بچوں کی تعلیم کے لیے خون پسینہ ایک کردیتے ہیں۔ ناظرہ قرآن پڑھواتے ہیں، اسکول کالج کی فیس دے کر پڑھنے بھیجتے ہیں۔ لہذا اس کی یہ بات بھی غلط ثابت ہوئی۔

۔۔۔

👎 محنت سے ہمیں الرجی ہو چکی ہے
👎 مشکل چیزوں سے ہمیں چِڑ ہو گئی ہے
👎 ہم وہ کام کرنا چاہتے ہیں جو سب کر رہے ہیں، کیونکہ وہاں “ٹرینڈ” ہے

اب نتیجہ دیکھ لو:
🔥 فائیور پر 28 لاکھ سے زائد گِگ موجود ہیں صرف گرافک ڈیزائن میں
🔥 ہر دوسرا بندہ “سوشل میڈیا مارکیٹر” بن چکا ہے
🔥 ہر تیسرا، ایک “ورچوئل اسسٹنٹ” ہے

تو سوال یہ ہے:
اتنی بھیڑ میں تم کیسے نمایاں ہو گے؟
تمہیں آرڈر کیوں ملے؟

⚔️ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو کام آتے تھے تو وہ مشکل کام کے بجائے آسان کام کو اختیار کرتے تھے۔ لہذا اس کی یہ والی بات بھی غلط ثابت ہوئی۔ باقی نتیجے کی جہاں تک یہ بات کر رہا ہے تو نتیجہ خود بتا رہا ہے کہ رزلٹ موجود ہے۔ اگر ہر دوسرا بندہ سوشل میڈیا یا ورچول میں ہے تو اس کو کیا تکلیف ہو رہی ہے؟

یہ سوچنے کی بات ہے۔

رزق دینے والا تو اللہ ہے تو کیا مارکیٹ میں 10 برگر کی دکانیں ہیں تو ساری کی ساری بند کر دی جائیں اس لیے کہ کسی اور کو گیارویں دکان کھولنی ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی کلائنٹس دیتا ہے اور ڈالرز دیتا ہے۔ فائیورکے اوپر بھی جا کے دیکھا جا سکتا ہے کہ انہی کیٹگریز کے اندر کتنے فری لانسرز کو ابھی بھی کام مل رہا ہے۔ یہ نصیب کی بات ہے۔ محنت دعا کوشش صبر لگن جدوجہد اور بھی بہت سے فیکٹرز ہوتے ہیں۔ یہ اس پہ بات نہیں کر رہا۔

اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ کلائنٹ کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ ہائر کر لے۔ اتنی سی بات ہوتی ہے۔

یہ فیشن شو نہیں چل رہا جہاں پہ اپنے آپ کو نمایاں کرنا ہے۔

۔۔۔

اور پھر روزانہ میرے انباکس میں یہی میسجز:
"بھائی، آرڈر نہیں مل رہا"
"سر، ہم نے سیکھ لیا، اب کریں کیا؟"
"گھر کا چولہا نہیں جل رہا، والِد بیمار ہیں، شوہر چرسی ہے کیا کریں؟"

💣 مسئلہ تمہارا نہیں — مسئلہ ہے وہ "سستے خواب" بیچنے والے منٹورز ہیں
جو 3 ہزار، 5 ہزار میں کورس دے کر کہتے ہیں:
"بس یہ سیکھ لو، تم بھی کماؤ گے!"

لیکن…
⚠️ وہ اپنی دیہاڑی لگا لیتے ہیں
⚠️ اور قوم کا مستقبل تباہ ہو رہا ہوتا ہے!

⚔️ اس کو سارا مسئلہ ٹیچرز سے ہے جو لوگوں کو اسکل سکھا رہے ہیں اور اس کے مقابلے پہ نئے لوگ کھڑے ہو رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے اس کے اندر حسد بھر گیا ہے۔

اب یہ اس جلن اور گھٹن کو کورس بیچنے والوں پر غصہ کر کے نکال رہا ہے۔

ارے بھائی کورس بیچنا ہر اس بندے کا حق ہے جو سکھانا چاہتا ہے اور جو نہیں بھی سکھانا چاہتا وہ دوسروں کے کورس سیل کر سکتا ہے افلیٹ مارکیٹر کے طور پہ، اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ بڑے بڑے بزنس مین اپنے کورس سیل کرتے ہیں۔ اس کو پتہ نہیں کیا تکلیف ہے تین پانچ ہزار کے کورس سے۔ لگتا ہے اس کا کوئی 100 روپے کا کورس بھی نہیں بک رہا۔

۔۔۔

✅ حقیقی سچ یہ ہے:
🌍 دنیا مشکل کاموں میں پیسہ دیتی ہے
💻 سائبر سیکیورٹی
🤖 آرٹیفیشل انٹیلیجنس
🧠 اے آئی آپٹیمائزیشن
📊 ڈیٹا انیلیٹکس
🔐 بلاک چین
🧬 مشین لرننگ
🌐 Ai powered SEO
Ai Automations

یہ ہیں وہ skills جو دنیا مانتی ہے
یہ ہیں وہ ہنر جن میں لوگ کم، اور قیمت زیادہ ہے

⚔️ پھر تو جوتے پالش کرنے والے کو اپنا دھندا بند کر دینا چاہیے جو روزانہ کے پیسے کما کے گھر جا رہا ہے کیونکہ پیسہ تو اس کو بھی مل رہا ہے جب کہ یہ دعوی کر رہا ہے کہ "دنیا مشکل کاموں میں پیسہ دیتی ہے"۔ اس کا یہ دعوی تو یہی جھوٹا ثابت ہوگیا۔

بڑے بڑے ائی ٹی پروفیشنل مہینے کا اتنا نہیں کماتے جتنا ایک سڑک پہ برگر بیچنے والا کمالیتا ہے۔ کیونکہ وہ بزنس کر رہا ہے، نوکری نہیں۔

۔۔۔

📢 سچ سنو !
نہ تم یوٹیوب کے تھمبنیل بنا کر پوری زندگی کما سکتے ہو
نہ تم انسٹاگرام پوسٹ بنا کر اپنا گھر چلا سکتے ہو

⚔️ انتہائی فضول بات۔۔۔روزانہ یوٹیوب اور انسٹاگرام چلانے والے لوگ مارکیٹ میں ا رہے ہیں اور ان کو تھمب نیل بنانے کی اور پوسٹ بنوانے کی سروس کی ضرورت ہے لہذا کوئی اپنا پورا گھر بھی چلا سکتا ہے اگر پروفیشنل طریقے سے سروس سیل کرے اور ایکسپرٹ بن کے کام کرے۔

۔۔۔

📌 وقت ہے کہ تم اپنے دماغ کو ری-پروگرام کرو
📌 مشکل راستہ چنو، سستے شارٹ کٹس کو جوتا مارو
📌 صرف خود کو نہیں — اپنی نسل کو بھی بچاؤ

🔥 اور یاد رکھو:
آسان راستے کبھی منزل تک نہیں پہنچاتے
مشکل راستے ہی کامیابی کی ضمانت ہوتے ہیں!

⚔️ واقعی میں اپنے دماغ کو ری پروگرام کر لو

اور اسان راستہ چنو سستے شارٹ کٹ کو جوتا نہ مارو بلکہ اپنے کنٹرول میں رکھو تاکہ جلدی اگے بڑھو اور دوسروں کو بھی سکھاؤ۔

اور یاد رکھو
اسان راستے منزل تک پہنچاتا ہے
صرف مشکل راستے ہے فساد ہی دیتا ہے

اگر ایک سڑک پر کھڈے ہوں اور ٹوٹی ہوئی ہو اور دوسری سڑک صاف ہو تو انسان اسان راستہ اختیار کرتا ہے ٹوٹی ہوئی سڑک پہ نہیں چلتا اپنی بائیک لے کر اتنی عقل کام کرتی ہے تو ائندہ احتیاط سے کام کرنا اور ہر کسی کی بات بھی یقین نہ کرنا

۔۔۔

میں کون ہوں درد دل رکھنے والا ایک پاکستانی

# حقیقی_چیزیں_سیکھو
# خود_کو_بدلو
#قوم_کو_بچاؤ
# شارٹ_کٹ_کا_استعمال
# لیجنڈری_فری_لانسرز 😔

صحت کے لیے چارمنفرد روحانی علاج پروڈکٹس

یہ پراڈکٹس روحانی علاج کے لیے ہیں ۔ تین کی تصاویر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ پینے کا پانی ہوگا بوتل میں۔ تیل کی شیشی مختلف ہوسکتی ہے۔ عرق گلاب بھی۔ مقصد چار آئیٹم ڈلیور کرنے ہیں روحانی شفا حاصل کرنے کے لیے۔ سائز مناسب ہوگا اور بہترین معیار کا پانی، تیل اور عرق گلاب ہوگا ان شاء اللہ
 

سرسوں کا تیل: جسم کے درد اور تکلیف والے حصوں پر لگاکر مالش کریں۔ان شاء اللہ، اللہ کے حکم سے شفا ملے گی جتنا اللہ چاہے گا اور بہتری نصیب ہوگی۔

عرق گلاب: جادوئی اور منفی اثرات کو ختم کرنے میں معاون ہے۔جسم، کپڑوں، چہرے، ہاتھ پاوں وغیرہ پر چھڑکیں حسب ضرورت جب طبیعت میں بوجھل پن محسوس ہو، تنگی محسوس ہو، بے چینی، پریشانی یا گھبراہٹ محسوس ہورہی ہو۔

دم کیا ہوا پانی:  گھر کو روحانی اور جادوئی اثرات سے پاک کرتا ہے۔کمرے کے چاروں کنارے پر عصر اور مغرب کے درمیان چھڑکنا ہوگا۔معمولی سی مقدار بھی کافی ہے۔ان شاء اللہ

پینے کا پانی:جسمانی بیماریوں کو ختم کرنے میں مددگار اللہ کے فضل و کرم سے

 یہ پروڈکٹس منفرد کیوں ہیں؟
یہ پروڈکٹس خصوصی طور پر روحانی علاج اور شفا کے لیے تیار کی گئی ہیں۔شفا اللہ کے حکم سے ملتی ہے۔ آپ کا کام ہے کوشش کرنا اور اللہ پر بھروسا رکھنا۔
 
نتائج اور اعتماد
میں اپنے مریضوں کے کیسز اور اپنی ذاتی بیماریوں کے لیے بھی ان پراڈکٹس کو استعمال کرتا ہوں۔اگر آپ کو ضرورت ہے تو سیلر سے خرید کر آپ کو سپلائی کرسکتا ہوں۔ صرف آرڈر بک کرنے والے کسٹمر کو پراڈکٹس ڈلیور کروائیں جائیں گی جو پیمنٹ ادا کریں گے۔اگر آپ کو اعتماد نہیں تو برائے مہربانی اپنا اور میرا قیمتی وقت ضائع مت کریں۔شکریہ

آرڈر کے لیے انباکس پر میسج کریں۔
پیکج فیس 50 ہزار روپے

نیز اگر آپ یا آپ کا کوئی رشتہ دار/دوست وغیرہ کسی لاعلاج بیماری، خصوصی طور پر وینٹیلیٹر مشین پر ہو جسےڈاکٹرز لاعلاج قرار دے چکے ہیں تو فوری طور پر مجھ سے رابطہ کریں۔ میں اس کا علاج کرواسکتا ہوں۔ علاج کے لیے ملاقات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مریض دنیا میں جہاں بھی ہو، اس کی حالت میں اللہ کے حکم سے بہتری ملنا شروع ہوجائے گی جتنا اللہ چاہے گا ۔مکمل بہتری وقت کے ساتھ اللہ کی مشیت کے تحت ملے گی۔ معجزہ ہوجائے، وہ ایک الگ بات ہے اور اللہ کی مرضی پر ہوگا۔  

جمعرات، 22 مئی، 2025

تکبر کیا ہے؟

 ہم نبی کریم ﷺ کی دی ہوئی تعریف کی روشنی میں تکبر کو دو حصوں میں کہانیوں کے ذریعے سمجھتے ہیں:


🌟 تکبر کی دو اقسام (نبی کریم ﷺ کے مطابق):

1. بَطَرُ الْحَقّ (حق بات کو رد کرنا)
2. غَمْطُ النَّاس (لوگوں کو حقیر جاننا)


📚 حصہ اول: "حق کو رد کرنا" – 5 مختصر کہانیاں


1. علم نہ ماننے والا سردار

قبیلے کا سردار ایک عالم سے کہتا:
"تو مجھ سے چھوٹا ہے، تجھے کیا حق کہ مجھے دین سکھائے؟"
جب عالم نے قرآن کی آیت سنائی، وہ بولا:
"میں قبیلے کا رئیس ہوں، مجھے کسی کی بات ماننے کی ضرورت نہیں۔"

📌 سبق: وہ سردار تکبر میں حق بات کو رد کرتا تھا، اور یہی حقیقی تکبر ہے۔


2. فرعون کا انکار

حضرت موسیٰؑ نے فرعون کو اللہ کی وحدانیت کا پیغام دیا، لیکن وہ بولا:
"میں تمہارا رب ہوں سب سے بڑا!" (سورہ نازعات: 24)

📌 سبق: اس کا انجام عبرتناک ہوا، کیونکہ اس نے حق کو نہ مانا۔


3. ابو جہل کا غرور

نبی ﷺ جب اسلام کی دعوت دیتے، ابو جہل کہتا:
"میں قریش کا سردار ہوں، محمدؐ کو کیوں مانوں؟"

📌 سبق: اس نے نہ قرآن مانا، نہ رسولؐ کو، صرف غرور کی وجہ سے۔


4. شاگرد کی ضد

استاد نے کہا: "بیٹا، تمہاری بات غلط ہے، دلیل دیکھو۔"
شاگرد بولا: "آپ پرانا طریقہ پڑھاتے ہیں، مجھے سب پتہ ہے!"
نتیجہ: وہ ناکام ہوا۔

📌 سبق: علم میں بھی ضد اور حق نہ ماننا تکبر کی علامت ہے۔


5. بزرگ کو ناپسند مشورہ

ایک بزرگ کو کسی نے کہا: "یہ دوا آپ کے لیے بہتر ہے۔"
وہ بگڑ گئے: "مجھے سکھانے آیا ہے؟ میں نے عمر گزاری ہے!"
حالانکہ بات سچ تھی، مگر انہوں نے حق رد کر دیا۔

📌 سبق: عمر یا تجربہ ہونے کے باوجود، حق کو نہ ماننا تکبر ہے۔


📚 حصہ دوم: "لوگوں کو حقیر جاننا" – 5 مختصر کہانیاں


6. غریب نمازی

ایک رئیس مسجد میں داخل ہوا، صف میں ایک غریب بیٹھا تھا۔ رئیس نے کہا:
"یہ میرے برابر کیسے بیٹھا؟"
نماز کے بعد امام نے سورۃ الحجرات سنائی:
"بے شک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔"

📌 سبق: درجہ، مال، یا لباس کی بنیاد پر کسی کو حقیر سمجھنا کفرانِ نعمت ہے۔


7. سلیمان علیہ السلام کا انکسار

حضرت سلیمانؑ کو اللہ نے بادشاہی، علم، جنّ و انسان پر حکومت دی۔
مگر وہ کہتے:
"یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا نہیں۔" (سورۃ النمل: 40)

📌 سبق: طاقتور ہوکر بھی جو عاجز رہے، وہی اللہ کا محبوب ہوتا ہے۔


8. نوکر کو جھڑکنا

خاتون نے نوکر کو جھڑک کر کہا:
"تیری اوقات کیا ہے؟"
پاس ایک عالم سن رہے تھے، کہا:
"اوقات تو سب کی ایک ہے، کفن سب کا ایک سا ہوتا ہے۔"

📌 سبق: زبان سے دوسروں کو ذلیل کرنا غمط الناس یعنی تکبر ہے۔


9. حضرت عمرؓ کا غلام کے ساتھ چلنا

ایک بار حضرت عمرؓ بیت المقدس گئے۔ اونٹ پر کبھی وہ سوار ہوتے، کبھی غلام۔
لوگ حیران تھے۔
حضرت عمرؓ نے فرمایا:
"اسلام نے ہمیں عزت دی، ہم عاجزی سے ہی رہیں گے۔"

📌 سبق: درجہ نہ دیکھو، انسانیت دیکھو۔


10. نماز میں صف بندی

ایک شخص صف میں کھڑا نہ ہوا، بولا:
"میں ان لوگوں کے ساتھ نہیں کھڑا ہو سکتا!"
امام نے فوراً کہا:
"تو نماز نہیں، تکبر کر رہا ہے۔ صف میں سب برابر ہیں۔"

📌 سبق: مسجد کی صف سے لے کر دل کی نیت تک، سب جگہ عاجزی ہونی چاہیے۔


🌺 نتیجہ:

تکبر کی دو شکلیں نبی کریم ﷺ نے واضح فرمائیں:

  • حق کو رد کرنا

  • لوگوں کو کمتر سمجھنا

جو بھی یہ کرے، وہ خود کو ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے۔

آن لائن سبزیاں سپلائی کرنے کا بزنس

فیس بک کی دنیا سے

میں احمد اسلام اباد سے حال ہی میں میں نے ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کیا آن لائن ڈیجیٹل ویجٹیبل سپلائی کا الحمدللہ مجھے ڈیلی بیس پر 10 سے 12 کبھی کبھار 15 آرڈرز تک بھی آ جاتے ہیں یہ سب صرف ایک موبائل اور ایک واٹس ایپ کا استعمال کرتے ہوئے میں اس کاروبار کو شروع کیا ہے۔
بیسکلی میرا ائیڈیا کچھ یوں ہے کہ میں کسٹمرز کو منڈی کے ریٹ پر ویجٹیبلز سپلائی کرتا ہوں ان کا ارڈر پر میں نے تھوڑا سا وزٹ کیا اپنے لوکل جو ایریا کے لوگ ہیں ان کو ایک واٹس ایپ گروپ میں ایڈ کیا اور ڈیلی بیس پر میں اپنی ویجٹیبلز ریٹس جو منڈی کے ریٹس ہیں وہ شیئر کرتا ہوں اور کسٹمر کو منڈی کے ریٹ پر چیز ان کا ارڈر کے مطابق مل جاتی ہے۔لوکیشن نزاکت مارکیٹ سوہان اسلام اباد

اس پوسٹ کا تجزیہ

آن لائن سبزیاں سپلائی کا کام شروع کیا روزانہ ۱۰ سے ۱۵ تک آرڈر آجاتے ہیں ایک موبائل اور واٹس ایپ کے ذریعے
کسٹمرز کو منڈی کے ریٹ پر سبزیاں سپلائی کرتا ہے ان کے آرڈر پر
اپنے لوکل لوگوں کو ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا روزانہ منڈی کے مطابق سبزیوں کے ریٹ شیئر کیے کسٹمر کو منڈی کے ریٹ پر سبزیاں سپلائی مل جاتی ہیں

مضبوط بنو لیکن بدتمیز نہیں

کہانی 1: طاقتور بادشاہ اور نرم دل

ایک بادشاہ بہت طاقتور تھا، لیکن کبھی بھی اپنے رعایا کے ساتھ بدتمیزی نہیں کرتا تھا۔
جب کوئی اس سے غلطی کرتا، وہ غصہ ضرور ہوتا مگر اپنے الفاظ میں نرمی رکھتا۔ اس کی طاقت میں نرمی ہی اس کی سب سے بڑی پہچان تھی۔


کہانی 2: استاد اور شاگرد

ایک استاد سخت اصول رکھتا تھا، مگر کبھی شاگردوں سے بدتمیزی نہیں کرتا تھا۔
ایک دن شاگردوں نے پوچھا،
"سر، آپ سخت کیوں ہیں؟"
استاد نے جواب دیا،
"میں مضبوط ہوں تاکہ تم بہتر بنو، لیکن بدتمیزی کرنے والا نہیں تاکہ تمہیں دکھ نہ پہنچے۔"


کہانی 3: فوجی اور شہری

فوجی نے میدان جنگ میں بہت مضبوطی دکھائی، مگر جب شہر واپس آیا تو تمام شہریوں کے ساتھ نرم دلی سے پیش آیا۔
اس نے سمجھا کہ طاقت کا مطلب دوسروں کو گھٹانا نہیں، بلکہ ان کی عزت کرنا بھی ہے۔


کہانی 4: بیٹا اور والد

بیٹے نے کہا،
"ابا، آپ کبھی کبھار بہت سخت ہو جاتے ہیں۔"
والد نے کہا،
"بیٹا، مضبوط ہونا ضروری ہے، مگر بدتمیزی کرنا نہیں۔ طاقتور وہی ہوتا ہے جو عزت سے بات کرے۔"


کہانی 5: دو دوست

دو دوست تھے، ایک مضبوط لیکن بدتمیز تھا، دوسرا نرم دل مگر کمزور۔
دوسرے نے کہا،
"طاقت میں نرمی ضروری ہے، بدتمیزی سے کوئی چیز نہیں بنتی۔"
پہلا دوست سیکھ گیا کہ طاقت کے ساتھ ادب بھی ضروری ہے۔


کہانی 6: خاتون اور بازار

خاتون نے دکاندار سے خریداری میں سخت بات کی، مگر بدتمیزی نہیں کی۔
دکاندار نے کہا،
"آپ کی بات میں طاقت بھی ہے اور نرمی بھی، یہی عزت کی بات ہے۔"


کہانی 7: حکمران اور رعایا

حکمران نے سخت قانون نافذ کیا، مگر عوام کے ساتھ ہمیشہ شائستہ رویہ رکھا۔
لوگ اس کی طاقت اور ادب دونوں کی تعریف کرتے۔


کہانی 8: نوجوان اور استاد

نوجوان نے استاد کی باتوں پر اختلاف کیا، مگر نرمی سے اپنا موقف پیش کیا۔
استاد نے کہا،
"یہی مضبوطی ہے، بدتمیزی سے نہیں۔"


کہانی 9: شاعر اور ناقد

شاعر نے ناقد کی سخت تنقید برداشت کی، مگر کبھی بدتمیزی نہیں کی۔
اس نے جواب دیا،
"طاقت دل کی ہوتی ہے، زبان کی نہیں۔"


کہانی 10: بھائی اور بہن

بھائی نے بہن کی بات پر سختی دکھائی، مگر بدتمیزی سے بچا۔
بہن نے کہا،
"آپ کی طاقت میں ادب کی جھلک نظر آتی ہے۔"


خلاصہ:
مضبوطی اور طاقت ضروری ہیں،
لیکن بدتمیزی آپ کی عزت کو کمزور کرتی ہے۔
اصل طاقت احترام اور شائستگی میں ہے۔


مہربان بنو لیکن کمزور نہیں

کہانی 1: شیر اور خرگوش

ایک دن جنگل میں شیر کو اپنے زور پر بہت فخر تھا۔ وہ سب جانوروں پر راج کرتا تھا۔ لیکن ایک دن خرگوش نے شیر سے کہا،
"آپ جتنا طاقتور ہو، اتنے ہی مہربان بھی ہو۔"
شیر نے پہلی بار غور کیا اور اپنے غرور کو کم کیا۔ اب وہ نہ صرف طاقتور تھا بلکہ سب کے ساتھ شفقت سے پیش آتا تھا۔
جب کسی جانور کو مشکل پیش آتی تو شیر مدد کرتا، مگر جب کوئی اس کے یا جنگل کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا تو سختی سے قابو پاتا۔
شیر کی مہربانی اسے کمزور نہیں بلکہ سب سے زیادہ طاقتور بناتی تھی۔


کہانی 2: نیک استاد

ایک استاد اپنے شاگردوں سے بہت محبت کرتا تھا۔ وہ ان کی غلطیوں پر نرمی سے سمجھاتا، مگر اگر کوئی نظم و ضبط خراب کرتا تو سختی سے سبق سکھاتا۔
ایک دن ایک شاگرد نے استاد کو بتایا کہ وہ استاد کو سخت سمجھتا ہے۔ استاد نے مسکرا کر کہا،
"میں تم سے محبت کرتا ہوں، اسی لیے تمہیں صحیح راستہ دکھاتا ہوں۔ محبت کا مطلب کمزوری نہیں، بلکہ مضبوط رہنا بھی ہے۔"
شاگرد نے سمجھا کہ استاد کی مہربانی اور سختی دونوں اس کی محبت کا حصہ ہیں۔


کہانی 3: باپ اور بیٹا

ایک بیٹا اپنے والد سے کہنے لگا،
"ابا، آپ بہت سخت کیوں ہوتے ہیں؟"
والد نے کہا،
"بیٹا، میں تم سے محبت کرتا ہوں، اس لیے کبھی کبھی سخت ہونا پڑتا ہے تاکہ تم غلط راستے نہ جاؤ۔ محبت کا مطلب تمہاری کمزوری برداشت کرنا نہیں ہوتا۔"
بیٹے نے سمجھا کہ والد کی محبت میں جرات اور مضبوطی بھی شامل ہے۔


کہانی 4: بہادر لڑکی

ایک چھوٹی لڑکی اپنی گلی کے دوسرے بچوں کے ساتھ بہت مہربان تھی۔ وہ سب کی مدد کرتی اور ہر کسی کا خیال رکھتی۔
ایک دن کچھ بچے اس کی مہربانی کا غلط فائدہ اٹھانے لگے۔ لڑکی نے اپنی بات واضح کر دی کہ وہ مہربان ضرور ہے، مگر کمزور نہیں۔
وہ نہ صرف محبت سے بات کرتی بلکہ اپنی عزت کے لیے بھی کھڑی ہوتی۔
اسی دن گلی کے سب بچے اس کی عزت کرنے لگے کیونکہ وہ مہربان بھی تھی اور مضبوط بھی۔


کہانی 5: بادشاہ اور رعایا

ایک بادشاہ اپنے لوگوں سے بہت مہربان تھا۔ وہ ان کی مشکلات سنتا اور حل کرتا۔
لیکن جب کوئی ظلم یا زیادتی کرتا تو بادشاہ سختی سے اسے روکتا اور قانون کا نفاذ کرتا۔
لوگ کہتے،
"بادشاہ کی مہربانی ہمیں خوش رکھتی ہے اور اس کی مضبوطی ہمیں محفوظ۔"
بادشاہ کی یہ خوبی اسے ایک بہترین حکمران بناتی تھی۔


یہ کہانیاں ہمیں بتاتی ہیں کہ:

  • مہربانی دل کو نرم اور رشتے مضبوط کرتی ہے،

  • مگر کمزوری کبھی برداشت نہیں کرنی چاہیے،

  • جرات اور مضبوطی کے بغیر مہربانی مکمل نہیں ہوتی۔

فخر کرو مگر تکبر نہیں

یہاں دس مختصر مثالیں اور چھوٹے قصے ہیں جو فرق واضح کریں کہ فخر کرنا (حق کا اظہار اور اپنی کامیابی پر خوش ہونا) کیا ہے، اور تکبر (غرور اور دوسروں کو نیچا سمجھنا) کیا ہوتا ہے۔ ہر مثال میں فخر کے ساتھ ساتھ عاجزی بھی دکھائی گئی ہے۔

1. نبی ﷺ کا فخر

نبی ﷺ نے اپنی امت کی اصلاح کے لیے کام کیا۔ جب لوگ ان کی باتوں پر فخر کرتے تو وہ مسکرا کر کہتے،
"فخر کرو کہ تم اللہ کی راہ پر ہو، لیکن کبھی تکبر نہ کرنا۔"
وہ خود کبھی دوسروں کو نیچا نہ سمجھتے اور ہمیشہ عاجزی سے پیش آتے۔


2. حضرت علیؓ اور غلام

حضرت علیؓ اپنے علم اور بہادری پر فخر محسوس کر رہے تھے۔ ایک دن انہوں نے اپنے غلام کو دیکھا جو محنت کر رہا تھا۔
انہوں نے کہا، "میری طاقت اور علم اہم ہیں، مگر تمہاری محنت بھی بہت قیمتی ہے۔"
اس دن حضرت علیؓ نے سیکھا کہ فخر ہو سکتا ہے، مگر تکبر نہیں۔


3. بادشاہ اور کسان

ایک بادشاہ اپنے محل پر بہت فخر کرتا تھا۔ ایک دن وہ کسان کے کھیت پر گیا۔ کسان نے کہا،
"آپ کا محل خوبصورت ہے، مگر میری محنت کے بغیر یہ کچھ نہیں۔"
بادشاہ نے سر جھکا کر کہا، "تمہاری محنت کے بغیر میرا محل کچھ بھی نہیں۔ فخر تو محنت کا ہے، تکبر نہیں۔"


4. استاد اور شاگرد

ایک استاد اپنے شاگردوں کی کامیابی پر خوش تھا۔ اس نے کہا،
"یہ تمہاری محنت ہے، میں صرف رہنما ہوں۔ اپنی کامیابی پر فخر کرو، لیکن کبھی دوسروں کو کم مت سمجھو۔"


5. دو دوست

دو دوست تھے، ایک اپنی کامیابی پر فخر کرتا اور دوسرے کو نظر انداز کرتا۔ ایک دن دوسرے نے کہا،
"ہم سب کے اپنے راستے ہیں، تمہاری کامیابی کی خوشی مجھے بھی ہے۔"
پہلا دوست سمجھ گیا کہ فخر کرنا اچھا ہے، مگر تکبر برا ہے۔"


6. شاعر اور مرید

ایک شاعر اپنی شاعری پر بہت فخر کرتا تھا، مگر اپنے مریدوں کی عزت بھی کرتا۔ وہ کہتا،
"میری شاعری کا حق تم سب پر بھی ہے۔ ہم سب کا فخر مل کر بنتا ہے، تکبر سے بچو۔"


7. عالم دین اور تائب

ایک عالم دین اپنی تعلیم پر فخر محسوس کرتا تھا، مگر جب ایک تائب شخص آیا، تو اس نے عاجزی سے کہا،
"علم سے بڑا تقویٰ ہے۔ فخر کرو اپنی نیکیوں پر، تکبر نہیں۔"


8. کھیل کا کھلاڑی

کھیل کا کھلاڑی جیت کر خوش تھا۔ اس نے ہارنے والے سے کہا،
"ہم سب نے محنت کی ہے، کامیابی کا مطلب یہ نہیں کہ تم کم ہو۔ فخر کر، مگر تکبر نہ کر۔"


9. امیر اور محتاج

ایک امیر نے اپنی دولت پر فخر کیا، لیکن جب محتاج آیا تو اس نے اپنی دولت بانٹ دی اور کہا،
"یہ دولت اللہ کی نعمت ہے، اسے دوسروں کی خدمت میں لگانا فخر ہے، تکبر نہیں۔"


10. قلمکار اور قارئین

ایک قلمکار اپنی تحریر پر فخر کرتا تھا، لیکن اپنے قارئین کو ہمیشہ عزت دیتا۔
"میری کامیابی تمہاری محبت کی وجہ سے ہے، فخر تو اللہ کا ہے، تکبر سے بچو۔"


یہ کہانیاں یاد دلاتی ہیں کہ:

  • فخر اپنی کامیابی اور اللہ کی نعمتوں پر خوش ہونا ہے،

  • تکبر دوسروں کو کمتر سمجھنا اور اپنی برتری ظاہر کرنا ہے۔

جرات مند بنو مگر بدمعاش نہیں

1. حضرت ابوبکر صدیقؓ

جب کفر کے سرداروں نے نبی ﷺ کو نقصان پہنچانے کی سازش کی، حضرت ابوبکرؓ نے جرات دکھائی اور نبی ﷺ کے ساتھ ہجرت کی۔ مگر وہ کبھی ظلم یا بدتمیزی نہیں کرتے تھے، ہمیشہ اخلاق سے پیش آتے تھے۔


2. شیر اور لومڑی

ایک جنگل میں شیر جرات مند تھا، مگر اپنی طاقت کے باوجود کبھی بدمعاشی نہیں کرتا تھا۔ وہ دوسروں کا حق مارتا نہیں تھا بلکہ انصاف سے حکومت کرتا تھا۔


3. بچہ اور استاد

ایک طالب علم نے اپنے استاد کے سامنے غلطی کی نشاندہی جرات سے کی، لیکن نہ بدمعاشی کی، نہ گستاخی، بلکہ ادب سے بات کی۔


4. خاتون اور دکاندار

ایک عورت نے دکاندار سے جرات مند ہوکر کہا کہ اس نے غلط سامان دیا ہے، مگر وہ نہ بڑائی کی نہ بدتمیزی، بس حق کی بات کی۔


5. فوجی اور عام آدمی

فوجی نے دشمن کے خلاف بہادری دکھائی، مگر کبھی بے وجہ کسی کو نقصان نہیں پہنچایا، وہ جرات مند تھا مگر بدمعاش نہیں۔


6. طالب علم اور کلاس فیلو

کسی نے طالب علم کو چھیڑا، تو اس نے جرات سے مقابلہ کیا، لیکن بدتمیزی سے گریز کیا اور صرف اپنے حق کا دفاع کیا۔


7. والد اور بیٹا

والد نے بیٹے کو سمجھایا،
"بیٹے! جرات دکھاؤ، مگر اپنے اخلاق کبھی خراب نہ کرو۔ جرات اور بدمعاشی میں فرق ہوتا ہے۔"


8. کاروباری اور گاہک

کاروباری نے گاہک کی شکایت جرات سے سنی اور مسئلہ حل کیا، مگر نہ گالم گلوچ کی، نہ دھمکی دی۔


9. حکمران اور رعایا

حکمران نے اپنی رعایا کی بھلائی کے لیے فیصلے جرات سے کیے، مگر ظلم و زیادتی سے ہمیشہ پرہیز کیا۔


10. نوجوان اور سوشل میڈیا

نوجوان نے سوشل میڈیا پر غلط معلومات کے خلاف جرات دکھائی، لیکن کبھی دوسروں کا مذاق نہیں اڑایا اور نہ ہی گالی دی۔


خلاصہ:

جرات مند وہ ہوتا ہے جو حق پر ڈٹا رہے، خوف نہ کرے، لیکن دوسروں کی عزت اور اخلاق کا خیال رکھے۔
بدمعاشی وہ ہے جو طاقت یا جرات کو غلط استعمال کرے اور دوسروں کو تکلیف دے۔

پیر، 19 مئی، 2025

نیتن یاہو پر اللہ کا عذاب اور اس کے ثبوت

 اس ویڈیو کے اندر میں نے اسرائیل میں لگنے والی اگ کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ کیوں لگی تھی، کس نے لگائی تھی اور اس کی وجہ کیا تھی؟ اگر نتن یاہو نے مزید دہشت گردی کی تو اس کے ساتھ اس سے بھی برا ہوگا اور وہ اپنے نتائج کا خود ذمہ دار ہوگا  اس لیے بہتر ہے کہ وہ مظلوم مسلمانوں پر ظلم کرنا بند کر دے اور اپنی بے غیرتی دکھانے سے باز آ جائے کیونکہ وہ اللہ کو شکست نہیں دے سکتا اور اس کے جھوٹے خدا اس کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتے۔




ہفتہ، 17 مئی، 2025

لاعلاج بیماریوں سے نجات کے لیے روحانی علاج اسکلز

اس وقت بہت سارے مریضوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انہی صحیح علاج کرنے والا روحانی عامل یا روحانی ڈاکٹر آسانی سے نہیں ملتا۔ بہت سرچ کھنگال کرنے کے بعد جاکر کوئی ملتا ہے تو اس سے ملاقات کا ٹائم لینے میں ہی وقت گزرجاتا ہے، سفر کرنا پڑتا ہے، ملک در ملک خاک چھاننی پڑجاتی ہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مرِیضوں کو اس قابل بنادیا جائے کہ وہ سب گھر بیٹھے خود اپنا روحانی علاج کرکے اپنی بیماریوں کو اللہ کی مدد سے ٹھیک کرسکیں اور اپنی صحت کو بحال کریں اور لعنتی شیطان کو نیست و نابود کریں تاکہ خوشی کے ساتھ صحت و تندرستی کی حالت میں اللہ کی عبادت اور بندگی کرسکیں۔

یہاں پر میں پاکستان کے ایک غیرجانبدار مسلم اسکالر اور روحانی ڈاکٹر مولانا ابرار عالم کی ویڈیوز شیئر کررہا ہوں تاکہ لاعلاج مریض اپنا علاج خود کرسکیں۔

مولانا ابرار عالم ایک پروفیشنل ہیلر ہیں اور گزشتہ بیس سال سے لاعلاج مریضوں کا علاج کررہے ہیں۔ وہ اپنی دعاوں، صدقہ خیرات، تلاوت قرآن وغیرہ کے ذریعے مریضوں کا علاج کرتے ہیں اور مریض دنیا میں جہاں بھی ہو اسے اللہ کی مرضی کے مطابق شفا حاصل ہوتی ہے۔

فری روحانی علاج کے لیے

منگل، 13 مئی، 2025

ہر بندہ روز کماتا ہے - کمانا منع نہیں ہے - کوشش کرنا ہمارا حق ہے

 میں دیکھتا ہوں کہ ہر بندہ، فقیر ہو یا دکان والا ہو، پلمبر ہو یا مزدور ہو، کمانے کے لیے روز باہر نکلتا ہے۔

روزانہ کسی نہ کسی کو کہیں نہ کہیں پر کام ملتا ہے یا کسٹمر ملتا ہے۔

کام کروانے والے مزدوری کے بدلے پیسے دیتے ہیں۔

خریداری کرنے والے پیسے دے کر چیز خریدتے ہیں۔

میں نے اس سے یہ سیکھا ہے کہ انسان روزانہ کماسکتا ہے۔

روز کمانے کی کوشش کرنا چاہیے۔

ہر طرح کے وسائل استعمال کرنے چاہیں۔

اللہ نے کہیں بھی کسی کو منع نہیں کیا ہے سوائے ان حرام کاموں اور باتوں اور چیزوں کے جن کے بارے میں اس نے واضح طور پر قرآن میں منع کردیا ہے یا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمادیا ہے اور وہ صحیح احادیث سے متفق طور پر سچ ثابت ہو بغیر کسی عالمی اختلاف کے جس طرح پانچ نمازوں پر سب کا اتقاق ہے۔

بحیثیت فری لانسر، کام تلاش کرنا تمہارا حق ہے لہذا روز کام تلاش کرو۔

بحیثیت بزنس آنر، کسٹمر کا انتطار کرنا تمہارا حق ہے۔ انتظار کرو۔ اپنے آئیٹمز پوسٹ کرو۔ اپنی آن لائن دکان چلاو۔ اپنی دکان پر اپنا مال لگاو۔ کوئی خریدنا چاہے اس کو کسٹمر سمجھتے ہوئے ڈیل کرو۔

کوئی سیکھنا چاہتا ہے، کام کرنا یا بزنس کرنا، وہ تمہاری مرضی ہے کہ کتنی فیس لے کر سکھاتے ہو۔ وہ تمہارا اسٹوڈنٹ ہوگا اور اس سے تم جو مرضی فیس لے کر سکھاسکتے ہو۔ اگر غریب ہوگا تو کم فیس یا کوئی ڈیمانڈ مثلا وہ تمارے لیے کام کرے اور تم اس کے بدلے اس کو سکھادو یا امیر جو تمہیں منہ مانگی فیس ادا کرے اور بدلے میں تم اس کو اپنا ہنر یا طور طریقے سکھادو۔

فری میں کام کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تم کسی کے باپ کے غلام یا نوکر نہیں ہو۔

کوئی کام کروائے گا تو تم بدلے میں کچھ بھی لے سکتے ہو، یہ تمہارا حق ہے۔

اپنا حق مارنے کی کسی کو اجازت مت دو ماسوائے یہ کہ وہ تمہارے والدین ہوں یا بیوی بچے جن کی ذمہ داری اور ٹیک کیئر کرنا تمہارا فرض ہے۔ باقی بہن بھائی رشتہ دار دوست احباب وغیرہ تمہاری ذمہ داری نہیں ہیں۔

البتہ اگر تم کسی کے ساتھ احسان کرو تو وہ ایک الگ بات ہے اور وہ صرف اللہ کےلیے ہونا چاہیے، کسی شکریہ/بدلے/یا پیسوں کی امید پر ہرگز نہ ہونا چاہیے تاکہ تم آخرت میں اس عمل کے بدلے اللہ سے بہترین انعامات حاصل کرسکو۔

لیجنڈری فری لانسر ذیشان ارشد

پیر، 12 مئی، 2025

کمانے کی نیت

 بلاوجہ کمانے سے بہتر ہے کہ انسان پہلے کمانے کی نیت بنائے اور اس کے بعد کمانے کے لیے عمل شروع کرے۔

نیت

میں جو بھی کماؤں گا، وہ اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں سے ہے، اور اس کا حق بندوں تک پہنچاؤں گا۔

میں اپنے بچوں، والدین، بیوی، بہن بھائی پر خرچ کر کے ثواب پاؤں گا۔

میں کسی کی حق تلفی، جھوٹ، ملاوٹ، سود یا چالاکی سے نہیں کماؤں گا — میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔

میں جب بھی کماؤں گا، اس میں سے ضرور کچھ صدقہ، زکوٰۃ یا خیر میں خرچ کروں گا — خفیہ طور پر۔

میں دنیا میں رہوں گا، لیکن دنیا میرے دل میں نہیں ہو گی۔ جب بھی اللہ چاہے، میں چھوڑنے کو تیار ہوں گا۔

میں پیسہ کماتا ہوں تاکہ خود محتاج نہ رہوں اور کسی کا محتاج نہ بنوں اور للہ کی مخلوق کو فائدہ دوں اور اور قیامت کے دن کامیاب ہو جاؤں۔

دعا

اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ
"اے اللہ! مجھے حلال کے ذریعے حرام سے بچا اور اپنے فضل سے غیر کا محتاج نہ کر"

قرآن

"وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ"
"جو ہم نے انہیں دیا، اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں"

حدیث

جو شخص اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور اس کی نیت ثواب کی ہو، تو وہ اس کے لیے صدقہ ہے" (بخاری و مسلم)

"حلال کمائی نصف عبادت ہے" — (حدیث کا مفہوم)

"فقر سے محبت کرو، کیونکہ وہ جنت کی کنجی ہے" (طبرانی)

دوا کا جسم میں اثر

 دوا کو کیسے پتہ لگتا ہے کہ پیٹ میں جاکر جسم کے کس حصہ کو کیسے فائدہ پہنچانا ہے جبکہ وہ ایک بے جان سی چیز ہوتی ہے؟

یہ بہت دلچسپ سوال ہے، اور واقعی حیرت انگیز بھی لگتا ہے کہ ایک "بے جان" دوا جسم میں جاکر اتنی ہوشیاری سے اپنا کام کیسے کرتی ہے۔ لیکن حقیقت میں دوا کوئی جادو نہیں، بلکہ سائنس کی بنیاد پر کام کرتی ہے۔

جب ہم دوا کھاتے ہیں، تو یہ چند مراحل سے گزرتی ہے:

1. جسم میں جذب ہونا (Absorption)

دوا عام طور پر معدے یا آنتوں میں جا کر خون میں جذب ہو جاتی ہے۔

2. خون کے ذریعے پھیلاؤ (Distribution)

خون دوا کو پورے جسم میں لے جاتا ہے۔ دوا کے مالیکیولز جسم کے ہر اس حصے تک پہنچتے ہیں جہاں خون جاتا ہے۔

3. نشانہ بنانا (Targeting)

یہاں اصل بات آتی ہے: دوا کیمیائی ساخت (chemical structure) کی بنیاد پر صرف مخصوص جگہوں پر اثر کرتی ہے۔

ہر دوا مخصوص ریسیپٹرز یا انزائمز پر اثر انداز ہوتی ہے، جو صرف کچھ خاص خلیوں (cells) یا اعضاء میں پائے جاتے ہیں۔ دوا ان ریسیپٹرز کے ساتھ "چابی اور تالے" جیسے انداز میں جڑتی ہے۔ جہاں وہ ریسیپٹر موجود نہ ہو، وہاں دوا کا کوئی خاص اثر نہیں ہوتا۔

مثال:

  • درد کی دوا (مثلاً پیناڈول) دماغ میں موجود درد کے سگنل کو بلاک کرنے والے کیمیکل پر اثر ڈالتی ہے۔

  • دل کی دوا دل کے مخصوص خلیات پر اثر ڈالتی ہے، جہاں اس کے ریسیپٹر موجود ہوتے ہیں۔

4. خارج ہونا (Excretion)

کام مکمل ہونے کے بعد دوا جگر یا گردوں کے ذریعے جسم سے نکل جاتی ہے۔

خلاصہ: دوا "بے جان" ضرور ہوتی ہے، لیکن اس کی کیمیائی ڈیزائننگ اور جسم کے حیاتیاتی نظام کے ساتھ اس کا تعلق بہت خاص اور سائنسی ہوتا ہے، جو اسے مخصوص جگہوں پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت دیتا ہے۔


اگر دوا کا مقصد جسم میں مخصوص پر اثر ڈالنا ہوتا ہے تو یہ کام تو مراقبہ کے ذریعے برین کی طاقت سے بھی ممکن ہے، کیا ایسا نہیں ہے؟ یا پھر قرآن پڑھ کر دم کرنے میں کیا فرق ہے؟ وہ بھی تو اثر پیدا کرنے کے لیے ہوتا ہے؟ پھر چاہے فزیکل دوا سے ہو یا روحانی دعا سے؟

یہاں دو جہتیں ہیں: مادی (Physical) اور روحانی (Spiritual)۔ دونوں کا اثر انسان کے جسم اور ذہن پر پڑ سکتا ہے، مگر طریقہ اور نوعیت الگ ہوتی ہے۔

آئیے ان کا موازنہ کرتے ہیں:


✅ 1. مادی دوا (Physical Medicine)

طریقہ:
سائنس اور طب کی بنیاد پر دوا جسم کے مخصوص حصے میں کیمیکل کے ذریعے ریسیپٹرز یا خلیات پر اثر ڈالتی ہے۔

مثال:

  • انسولین شوگر کو کنٹرول کرتی ہے۔

  • اینٹی بایوٹک بیکٹیریا کو مارتی ہے۔

نتیجہ:
براہِ راست جسمانی تبدیلی، جس کا اثر تجربے اور لیبارٹری میں ماپا جا سکتا ہے۔


✅ 2. مراقبہ، دعا، اور قرآن سے دم (روحانی و ذہنی اثر)

طریقہ:
انسان کی توجہ، یقین (یقینِ کامل)، اور ذہنی سکون کے ذریعے جسمانی نظام — خاص طور پر اعصابی نظام (nervous system) اور ہارمونی نظام (endocrine system) — پر اثر ڈالتا ہے۔

مثالیں:

  • مراقبہ سے ذہن پرسکون ہوتا ہے، دل کی دھڑکن کم ہو سکتی ہے، بلڈ پریشر بھی نارمل ہو سکتا ہے۔

  • قرآن سننے سے دل کو سکون ملتا ہے (القرآن: ألا بذكر الله تطمئن القلوب

سائنس کیا کہتی ہے؟

  • دعاؤں اور ذکر کا اثر پلیسبو (placebo) جیسے ہو سکتا ہے، یعنی صرف یقین سے شفا ملنا۔

  • دماغ سے "ہیپی ہارمونز" (مثلاً serotonin, dopamine) نکل سکتے ہیں جو جسم کو بہتر کرتے ہیں۔


🔁 فرق کیا ہے؟

پہلودوادعا/مراقبہ
بنیادفزیکل، کیمیائیروحانی، ذہنی
اثر کا ذریعہکیمیکل مالیکیولدماغ، یقین، روح
اثر کی نویتجسم پر براہِ راستدماغ و دل کے ذریعے بالواسطہ
اثر کا انحصارمقدار، وقت، جسمانی حالتنیت، یقین، توجہ، ایمان
سائنس کی تسلیممکمل طور پر تسلیم شدہجزوی تسلیم (پلیسبو، سائیکولوجیکل اثر)

🔄 کیا دونوں میں ہم آہنگی ہو سکتی ہے؟

جی ہاں!
بہت سے لوگ دوا کے ساتھ دعا، دم، یا مراقبہ کرتے ہیں — اور دونوں کے مجموعی اثرات زیادہ مثبت ہوتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے بھی فرمایا:

"اللہ نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کا علاج بھی اتارا ہے۔"
(صحیح بخاری)

اور ساتھ ہی قرآن، دعا اور روحانی علاج کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔


🔚 نتیجہ:

دوا جسم کی کیمیا کو بدلتی ہے،
دعا دل کی دنیا کو،
اور جب دونوں ساتھ ہوں — تب شفا کے دروازے کھلتے ہیں۔

صحابی نے دم کے ذریعے زہر کیسے ختم کیا؟ کیا یہ فزیکل سائنس سے ممکن ہے؟ اگر ہاں تو کیسے صرف فاتحہ پڑھ کر دم کرنے سے شفا مل گئی؟؟؟

یہ سوال نہ صرف ایمان اور روحانیت سے جڑا ہوا ہے بلکہ سچ پوچھیں تو سائنس اور روحانیت کے درمیان پُل بنانے کی ایک بہترین مثال بھی ہے۔
آپ کا اشارہ غالباً اس واقعے کی طرف ہے جہاں ایک صحابیؓ نے کسی قبیلے کے بیمار (زہریلے کاٹے ہوئے) شخص پر سورۃ الفاتحہ پڑھ کر دم کیا اور وہ شفایاب ہو گیا — اور بعد میں اس قبیلے نے انعام میں بکریاں بھی دیں۔


🔷 واقعہ کا خلاصہ (صحیح بخاری و مسلم کی روایت):

کچھ صحابہؓ سفر میں تھے، ایک قبیلے نے ان کی مہمان نوازی نہ کی، پھر اس قبیلے کا سردار کسی زہریلے جانور (بعض روایات میں بچھو) سے کاٹا گیا۔ وہ لوگ صحابہؓ کے پاس آئے اور شفا کی درخواست کی۔
ایک صحابیؓ نے سورۃ الفاتحہ پڑھ کر دم کیا، اور اللہ کے حکم سے وہ شخص فوراً صحت یاب ہو گیا۔


🔍 سوال: کیا یہ فزیکل سائنس سے ممکن ہے؟ اگر ہاں، تو کیسے؟

✅ 1. پہلا پہلو: روحانی اثر + یقین (Faith + Focused Intention)

یہاں ایک کلیدی بات ہے:
صحابیؓ نے جو دم کیا، وہ صرف قرآن پڑھنا نہ تھا بلکہ یقینِ کامل، دل کی توجہ، اور اللہ سے شفا کی دعا بھی شامل تھی۔

نبی ﷺ نے بعد میں اس عمل کی تائید کی، اور فرمایا:
"وما يُدريك أنها رقية؟" (تمہیں کیسے پتا چلا کہ یہ دم ہے؟)

اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن واقعی شفا کا ذریعہ ہے — باذن اللہ (اللہ کے حکم سے)۔


✅ 2. دوسرا پہلو: پلیسبو ایفیکٹ (Placebo Effect)

سائنس کہتی ہے کہ اگر انسان کو پکا یقین ہو کہ کوئی چیز اس کو شفا دے گی، تو جسم میں قدرتی شفائی نظام (natural healing mechanisms) متحرک ہو سکتے ہیں:

  • Endorphins (درد کم کرنے والے ہارمونز)

  • Immune response (مدافعتی نظام فعال ہو جانا)

  • Nervous system کا سکون

  • دماغ سے self-healing سگنلز کا اخراج

ممکن ہے کہ صحابیؓ کی طاقتور نیت، قرآن کی برکت، اور اس شخص کے دل کی قبولیت — ان سب نے مل کر شفا کو ممکن بنا دیا ہو۔


✅ 3. تیسرا پہلو: قرآن خود "شفاء" ہے — روحانی سطح پر

اللہ تعالیٰ خود قرآن میں فرماتا ہے:

"وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ"
(ہم قرآن میں وہ کچھ نازل کرتے ہیں جو مؤمنین کے لیے شفا اور رحمت ہے)
— سورۃ الإسراء: 82

یہاں "شفاء" کا مطلب صرف روحانی نہیں، بلکہ بعض مواقع پر جسمانی بھی ہو سکتا ہے — اگر انسان کا دل، ایمان، اور نیت سب اس شفاء کو قبول کریں۔


🧠 تو کیا واقعی صرف "فاتحہ" پڑھ کر زہر کا علاج ہو سکتا ہے؟

اگر ہم صرف "مادی دنیا" کی بات کریں تو جواب ہوگا: نہیں، صرف الفاظ سے زہر نہیں جاتا۔

لیکن اگر ہم ایمان، نیت، روحانی طاقت، اور اللہ کی قدرت کو شامل کریں — تو ہاں، ممکن ہے، جیسا کہ صحابیؓ کے عمل سے ظاہر ہے۔


🔚 نتیجہ:

دعا + یقین + قرآن = شفا باذن اللہ
دوا اور دعا الگ الگ نہیں، بلکہ تکمیل کرتے ہیں ایک دوسرے کی۔

یہ واقعہ نہ صرف ایمان کی بلندی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اللہ کا کلام محض الفاظ نہیں، بلکہ زندگی اور شفا ہے — جب دل سچائی سے اسے قبول کرے۔

صحابی کا عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ صرف الفاظ سے زہر ختم کیا جاسکتا ہے۔

آپ نے بالکل درست نکتہ اٹھایا — اور واقعی، صحابیؓ کا یہ عمل اسلامی عقیدے میں اس بات کا زندہ ثبوت سمجھا جاتا ہے کہ صرف الفاظ (قرآنی آیات) کے ذریعے، اللہ کے اذن سے، جسمانی زہر جیسے شدید اثر کو بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔

مگر یہاں ایک باریک نکتہ سمجھنا ضروری ہے:


صرف "الفاظ" سے نہیں، بلکہ "اللہ کے کلام" اور "یقینِ کامل" سے شفا ہوئی

یہ الفاظ عام انسانی گفتگو نہیں تھے، بلکہ:

  1. اللہ کا کلام (قرآن) — جس میں خود خالق کی قدرت ہے۔

  2. دل سے پڑھے گئے — محض زبان سے نہیں، بلکہ یقین اور توجہ کے ساتھ۔

  3. ایمان پر مبنی عمل تھا — صحابیؓ کا یقین کامل تھا کہ یہ شفاء دے گا۔

  4. اللہ کی مشیت (Will) — اصل اثر اللہ نے ہی پیدا فرمایا؛ قرآن صرف ذریعہ بنا۔


🔁 لہٰذا، اصل حقیقت یہ ہے:

🔹 نہ تو یہ محض الفاظ کا اثر تھا
🔹 نہ ہی صرف صحابی کی شخصیت کا
🔹 بلکہ اللہ کے کلام + صحابی کے ایمان + اللہ کی اجازت کا مجموعی نتیجہ تھا


🔬 اگر ہم اسے "صرف الفاظ" کہیں تو کیا ہوگا؟

"صرف الفاظ" کہنے کا مطلب ہوتا ہے کہ:

  • کوئی بھی شخص، کسی بھی وقت، بغیر ایمان و نیت کے، وہی الفاظ دہرا کر ویسا ہی نتیجہ پا سکتا ہے۔

لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔

اسی لیے:

  • نبی ﷺ نے یہ نہیں کہا کہ "جو بھی سورۃ الفاتحہ پڑھے گا، فوراً شفاء ملے گی"،

  • بلکہ فرمایا: "وما يدريك أنها رقية؟" یعنی: تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ یہ (سورہ فاتحہ) دم ہے؟

اس میں صحابی کے علم، فہم، اور یقین کی تائید ہے — جو عام الفاظ سے مختلف ہے۔


📖 قرآن کی شفا ہونے کی شرائط:

  1. ایمان (ایمان والوں کے لیے شفا ہے — لِّلْمُؤْمِنِينَ)

  2. نیت و توجہ (خلوص دل سے)

  3. اللہ کی مشیت (ہر شفاء اللہ کے اذن سے ہے)


🔚 خلاصہ:

جی ہاں، یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآنی الفاظ سے (اللہ کے اذن سے) زہر جیسے جسمانی اثرات ختم ہو سکتے ہیں،
لیکن صرف "الفاظ" کی طاقت نہیں — بلکہ ایمان، نیت، اور اللہ کی رحمت اصل کنجی ہے۔


جمعہ، 2 مئی، 2025

کریش کورس: ایک سچا خدا

ایک سچا خدا

سچے خدا کو جانیں اور جھوٹے مذاہب سے آزاد ہو جائیں۔

اس کریش کورس کے اندر میں نے اس کائنات کے اصلی اور سچے خدا کے حوالے سے تعارف کروایا ہے اور میں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اکیلا ہے، اس کے سوا کوئی اور دوسرا خدا اس پوری کائنات میں کہیں بھی موجود نہیں ہے۔
یہ کریش کورس صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنی عقل کو استعمال کرتے ہیں ۔جو لوگ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور سچائی کی تلاش میں نہیں ہیں ان کو یہ کورس کوئی فائدہ نہیں دے گا۔

اگر تم چاہتے ہو کہ سچائی تک پہنچو اور تم غیر جانبدار رہتے ہوئے اپنے پورے ہوش و حواس میں اس کورس کو سن سکتے ہو، سمجھ سکتے ہو اور تحقیق اور ریسرچ کر سکتے ہو تو اس کورس کو خریدو اور اس کے ذریعے سچے خدا کی پہچان حاصل کرو۔

یہ وہ سچ ہے جس کے بارے میں تمہیں دنیا کے اکثر انسان نہیں بتائیں گے کیونکہ وہ خود بھی گمراہی کا شکار ہیں اور انہیں سچے خدا کا علم نہیں ہے اسی لیے تو آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔

اگر ان لوگوں کو اس بارے میں علم ہوتا کہ اصلی اور سچا خدا کون سا ہے تو پوری دنیا کے اندر ایک خدا کی حکومت اور اس کی پہچان اور اس کی کتاب اور اس کے احکامات کو نافذ کیا جاتا کیونکہ اس خدا نے اس زمین پر انسان کو اپنے نائب کی حیثیت سے بھیجا ہے۔

اور ہر انسان کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے طور پر جہاں تک ہو سکے وہ خدا کے نظام کو نافذ کرنے کے لیے کوشش کرے۔

تم اس سلسلے میں کیا کرتے ہو وہ تمہاری اپنی مرضی ہے لیکن اس وقت تمہیں سب سے پہلے اس بات کی پہچان حاصل کرنی ہے کہ آخر وہ خدا کون ہے جس نے اس کائنات کو تخلیق کیا تھا اور تمہیں تمہاری ماں کے پیٹ میں بنایا تھا اور اس بات کا کیا ثبوت ہے؟

اگر تم تیار ہو تو شروع ہو جاؤ !

اور یاد رکھو کہ سچائی بہت کڑوی ہوتی ہے۔ اس لیے جب میں نے یہ کورس فری میں دیا تھا تو لوگوں کو بہت برا لگا تو ان لوگوں نے نیگیٹو فیڈ بیک دیے۔اس سے اندازہ لگاؤ کہ لوگ کتنی جہالت سے کام لیتے ہیں۔اگر تم لوگوں کی نیگیٹیوٹی کو نظر انداز کرکےحقیقت تک پہنچنا چاہتے ہو تو قدم بڑھاؤ اور ان کی باتوں کی پرواہ مت کرو کیونکہ وہ تو چاہتے ہیں کہ تمہیں گمراہ کریں اور خود بھی گمراہی کی موت مریں۔