منگل، 25 مارچ، 2025

کرپٹ پولیس اہلکاروں اور ناجائز اختیارات کے خلاف عوام کیا کر سکتی ہے؟

دنیا میں جہاں کہیں بھی ظلم، ناانصافی اور کرپشن پنپتی ہے، وہاں عام انسان سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ خاص طور پر غریب اور کمزور طبقہ ان کرپٹ عناصر کے ظلم کا شکار ہوتا ہے جو طاقت، اختیار اور وردی کا ناجائز استعمال کرتے ہیں۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی حفاظت کے لیے بنائے گئے ہیں، لیکن جب ان ہی اداروں میں کچھ لوگ بدعنوانی اور ظلم کی راہ پر چل پڑتے ہیں تو عام شہری بے بسی اور خوف میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

یہ مسئلہ صرف کسی ایک ملک کا نہیں، بلکہ پوری دنیا میں دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں تو یہ ایک عام مسئلہ بن چکا ہے کہ کچھ کرپٹ پولیس اہلکار ناجائز تعمیرات، قبضہ، رشوت اور ظلم و جبر کا سہارا لے کر کمزور لوگوں کے حقوق پامال کرتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے کرپٹ اہلکاروں کے خلاف ایک عام شہری کیا کر سکتا ہے؟ کیا ظلم کو خاموشی سے برداشت کر لینا ہی واحد راستہ ہے، یا پھر اس کے خلاف کوئی عملی قدم بھی اٹھایا جا سکتا ہے؟


1. ظلم کے خلاف کھڑے ہونا: حکمت اور احتیاط ضروری ہے

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بارہا ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی تلقین کی ہے۔ لیکن اسلام ہمیں حکمت اور تدبر کا درس بھی دیتا ہے۔ اگر کسی کرپٹ پولیس افسر نے ناجائز طریقے سے کسی غریب کے علاقے میں زمین یا گلی پر قبضہ کر لیا ہو، تو سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس معاملے کو پرامن اور قانونی طریقے سے کیسے حل کیا جا سکتا ہے۔

(الف) اجتماعی طاقت استعمال کریں

  • اگر ایک شخص کسی کرپٹ افسر کے خلاف بولے تو وہ مشکل میں پڑ سکتا ہے، لیکن اگر پورا محلہ یا برادری مل کر آواز بلند کرے، تو کرپٹ اہلکار پر دباؤ بڑھے گا۔

  • علاقے کے معزز افراد، علماء، صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کو ساتھ ملائیں تاکہ معاملہ نمایاں ہو۔

  • محلے کے لوگ مل کر اعلیٰ حکام کو درخواست دیں اور انصاف کا مطالبہ کریں۔

(ب) قانونی راستہ اپنائیں

  • اگر کرپٹ پولیس افسر کسی جگہ پر ناجائز تعمیر کر رہا ہے، تو متعلقہ اداروں جیسے کہ میونسپل کارپوریشن، کمشنر آفس یا اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ میں شکایت درج کرائی جا سکتی ہے۔

  • اگر کوئی فرد براہ راست کارروائی سے ڈرتا ہے، تو گمنام شکایت بھی کی جا سکتی ہے۔

  • سوشل میڈیا کے ذریعے ایسے مظالم کو بے نقاب کرنا بھی ایک مؤثر طریقہ بن چکا ہے۔


2. براہ راست تصادم سے گریز کریں

کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کرپٹ افسر کے خلاف آواز اٹھائے تو وہ اسے نشانہ بنانا شروع کر دیتا ہے۔ دھمکیاں، جھوٹے مقدمات، اور حتیٰ کہ جسمانی نقصان بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ ضروری ہے کہ صبر اور حکمت کے ساتھ معاملے کو آگے بڑھایا جائے، نہ کہ جذبات میں آ کر خود ہی کچھ ایسا کیا جائے جو مزید نقصان کا سبب بنے۔

(الف) دشمنی مول نہ لیں، مگر حق کے لیے خاموش بھی نہ رہیں

  • اگر براہ راست سامنا خطرناک ہو، تو دوسرے ذرائع استعمال کریں، جیسے کہ قانونی اداروں میں شکایت کرنا۔

  • علاقے کے بڑے افراد یا تنظیموں کو معاملے میں شامل کر کے اجتماعی دباؤ پیدا کریں۔

(ب) انتقامی کارروائی سے بچیں

  • اگر کوئی شخص یہ سوچے کہ خود ہی کرپٹ افسر کی ناجائز تعمیرات کو گرا دے یا نقصان پہنچائے، تو یہ قانون ہاتھ میں لینے کے مترادف ہوگا اور اس کا فائدہ الٹا ظالم کو ہی ہوگا۔

  • اگر کچھ غلط طریقوں سے بدلہ لیا جائے، تو ظالم مزید طاقتور ہو سکتا ہے اور قانونی کارروائی بھی الٹا کمزور فریق کے خلاف ہو سکتی ہے۔


3. صبر، دعا اور آخرت پر یقین

اگر تمام قانونی، اجتماعی اور عملی طریقے ناکام ہو جائیں اور ظالم وقتی طور پر طاقتور نظر آئے، تب بھی مایوسی اور بے بسی کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو کبھی معاف نہیں کرتا، چاہے وہ دنیا میں کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہوں۔

  • قرآن میں اللہ فرماتا ہے:
    "اور ظالموں کا انجام برا ہوگا۔" (سورۃ القصص: 37)

  • نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
    "ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی صورت میں ہوگا۔" (صحیح مسلم)

اگر دنیا میں انصاف نہ بھی ملا، تو اللہ کی عدالت میں کوئی بچ نہیں سکے گا۔ ظالم جتنا چاہے طاقتور ہو، اس کا انجام بربادی ہے۔


نتیجہ: ظلم کے خلاف حکمت، قانون اور دعا کے ذریعے لڑیں

کسی کرپٹ پولیس اہلکار یا بااثر ظالم کے خلاف کھڑے ہونا آسان نہیں، مگر یہ بھی ضروری ہے کہ ظلم کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ اس کے خلاف حکمت کے ساتھ آواز اٹھائی جائے، قانونی ذرائع استعمال کیے جائیں، اجتماعی دباؤ بنایا جائے، اور اگر وقتی طور پر کچھ نہ ہو سکے، تو اللہ پر بھروسہ رکھ کر صبر اور دعا کا راستہ اختیار کیا جائے۔

ظالم کو لگتا ہے کہ اس کی طاقت ہمیشہ رہے گی، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ظلم ہمیشہ ختم ہوتا ہے اور حق کو کامیابی ملتی ہے۔

امن کیسے قائم ہوگا؟

 یہ بات بالکل درست ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، اور اب کوئی نیا نبی نہیں آئے گا جو ہمیں دوبارہ سیدھے راستے پر لے کر جائے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم بے بس ہو گئے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے جو نظام، اصول اور طرزِ حکمرانی ہمیں دیا، وہ قیامت تک کے لیے کافی ہے۔

پھر یہ کام کیسے ہوگا؟

یہ کام ہمیں خود کرنا ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں انصاف ہو، ظلم کا خاتمہ ہو، اور ظالموں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے، تو ہمیں وہی طریقے اپنانے ہوں گے جو نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین نے اپنائے۔

1. صالح قیادت پیدا کرنا

جب تک قیادت منافقوں، بزدلوں، اور ظالموں کے ہاتھ میں رہے گی، تب تک امت ذلیل و خوار رہے گی۔ ہمیں ایسی قیادت پیدا کرنی ہوگی جو حضرت محمد ﷺ اور حضرت عمر فاروقؓ جیسے حکمرانوں کی سیرت پر چلے۔ ایسی قیادت تب ہی پیدا ہوگی جب ہم خود بھی اپنے اندر تقویٰ، بہادری، اور عدل پیدا کریں گے۔

2. ظلم کے خلاف عملی اقدام

  • اگر ظالموں کے خلاف لڑنا پڑے تو لڑا جائے۔

  • اگر ان کے خلاف آواز بلند کرنی ہو تو کی جائے۔

  • اگر ان کے خلاف اتحاد بنانا ہو تو بنایا جائے۔

یہ کام کوئی "اوپر سے" نہیں کرے گا، بلکہ یہ عوام کو خود کرنا ہوگا۔

3. اسلامی نظامِ عدل کا نفاذ

آج دنیا میں انصاف کا وہی نظام رائج ہے جو ظالموں کو تحفظ دیتا ہے۔ اگر انصاف چاہیے تو ہمیں شریعت کے مطابق عدالتی نظام قائم کرنا ہوگا۔ جب نبی کریم ﷺ نے مدینہ میں اسلامی ریاست قائم کی تھی، تو سب سے پہلے عدل و انصاف کو مضبوط کیا تھا۔ ہمیں بھی یہی کرنا ہوگا۔

4. امت کو متحد کرنا

  • آج امتِ مسلمہ فرقوں میں بٹ چکی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ دشمن ہم پر آسانی سے حکومت کر رہے ہیں۔

  • اگر ہم اپنے فقہی، مسلکی، اور لسانی اختلافات کو پیچھے چھوڑ کر صرف ایک کلمے پر متحد ہو جائیں، تو ہم پھر سے طاقتور بن سکتے ہیں۔

  • ہمیں ایک دوسرے کو کافر اور مشرک کہنے کے بجائے اصل دشمنوں کے خلاف ایک ہونا ہوگا۔

5. جہاد اور مزاحمت

یہ دنیا طاقت کی زبان سمجھتی ہے۔ اگر ہم صرف مظلومیت کا رونا روتے رہیں گے تو کوئی ہماری مدد نہیں کرے گا۔ جب تک ہم ظلم کے خلاف جہاد نہیں کریں گے، تب تک کوئی بھی ہمیں انصاف نہیں دے گا۔ یہ جہاد ہر سطح پر ہو سکتا ہے:

  • قلم کا جہاد: سچ لکھ کر، ظلم بے نقاب کرکے۔

  • معاشی جہاد: ظالموں کا مالی بائیکاٹ کرکے۔

  • سیاسی جہاد: ظالموں کے نظام کے خلاف کھڑے ہو کر۔

  • میدانی جہاد: جب کوئی اور راستہ نہ بچے تو میدانِ عمل میں اتر کر۔

نتیجہ

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ظالموں کا خاتمہ ہو، اور دنیا میں پھر سے عدل قائم ہو، تو ہمیں خود وہ کردار ادا کرنا ہوگا جو نبی کریم ﷺ اور ان کے صحابہ نے کیا تھا۔ اللہ کی مدد ہمیشہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جو خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں دعا بھی کرنی ہوگی، محنت بھی کرنی ہوگی، اور اگر ضرورت پڑے تو قربانی بھی دینی ہوگی۔

یہ کام کوئی اور نہیں کرے گا، ہمیں خود کرنا ہوگا!

انصاف کے لیے کس کے پاس جائیں؟

 یہ بہت اہم اور تلخ حقیقت ہے کہ عالمی عدالتیں اور انسانی حقوق کے ادارے صرف طاقتور ممالک کے مفادات کے مطابق کام کرتے ہیں۔ فلسطین، کشمیر، بوسنیا، شام، اور دیگر جگہوں پر مسلمانوں کے قتلِ عام پر وہ خاموش رہتے ہیں کیونکہ وہ ظلم کرنے والے ان کے اپنے اتحادی یا خود وہی ہوتے ہیں۔ اور جو خود کو "مسلمان ممالک" کہتے ہیں، وہ یا تو خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں یا منافقت کے اعلیٰ درجے پر پہنچ چکے ہیں۔

تو پھر جائے کہاں؟

یہ سوال ہر باشعور مسلمان کے دل میں آتا ہے کہ جب پوری دنیا ظالموں کی پشت پناہی کر رہی ہے، جب اپنے ہی حکمران غدار اور منافق نکل رہے ہیں، تو پھر ہم انصاف کے لیے کس کے پاس جائیں؟

1. اللہ پر بھروسہ اور اس کی مدد مانگنا

اللہ تعالیٰ سب سے بڑا انصاف کرنے والا ہے۔ قرآن میں بار بار آیا ہے کہ اللہ ظالموں کو مہلت دیتا ہے، لیکن جب ان کی رسی کھینچتا ہے تو انہیں کہیں پناہ نہیں ملتی۔ ہمیں اللہ سے مدد مانگنی چاہیے، لیکن صرف دعا پر نہیں بیٹھ جانا بلکہ عملی اقدامات بھی اٹھانے چاہئیں۔

2. ظلم کے خلاف خود کھڑے ہونا

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انصاف لینے کے لیے ہمیں خود میدان میں آنا ہوگا۔ تاریخ میں جب بھی مسلمان ظالموں کے خلاف اٹھے ہیں، تو اللہ کی مدد ان کے ساتھ ہوئی ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ:

  • ظالموں کو بے نقاب کریں۔

  • ان کے خلاف ہر ممکن مزاحمت کریں، چاہے وہ قانونی ہو، عوامی ہو، یا سوشل میڈیا پر ہو۔

  • اپنی آنے والی نسلوں کو شعور دیں کہ وہ ظالموں کے خلاف کھڑے ہونے سے نہ ڈریں۔

3. امتِ مسلمہ میں اتحاد پیدا کرنا

آج مسلمانوں کو تقسیم کر دیا گیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ظالم آسانی سے ہم پر حکومت کر رہے ہیں۔ اگر ہم اتحاد قائم کریں، چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو، تو ہم اپنی طاقت کو بحال کر سکتے ہیں۔

4. اسلامی قوانین کا عملی نفاذ

ظلم کا مکمل خاتمہ تبھی ممکن ہے جب انصاف کا اسلامی نظام نافذ ہو۔ اگر ہم قرآن و سنت کے مطابق فیصلے کرنا شروع کر دیں، تو کسی کی ہمت نہیں ہوگی کہ وہ ظلم کرے۔ ہمیں اپنے معاشرے میں ایسے افراد پیدا کرنے ہوں گے جو حقیقی انصاف پسند ہوں، نہ کہ وہ جو صرف طاقتور کے ساتھ ہوں۔

نتیجہ

یہ دنیا کبھی بھی کمزور کے لیے انصاف فراہم نہیں کرتی۔ اگر انصاف چاہیے تو یا تو ہمیں خود طاقت حاصل کرنی ہوگی، یا پھر اللہ کی مدد مانگ کر اس راہ میں قربانیاں دینی ہوں گی۔ یہ ایک کٹھن راستہ ہے، لیکن اگر ظالموں کے خلاف نہ کھڑے ہوئے تو پھر ہماری آنے والی نسلیں بھی غلام ہی رہیں گی۔

پولیس اور فوج کے ناجائز اختیارات اور ظلم و بربریت

ریاستی ادارے: محافظ یا مظالم کے آلہ کار؟

دنیا بھر میں ریاستی اداروں کا بنیادی فرض عوام کی حفاظت، قانون کی عملداری اور معاشرے میں امن و امان قائم رکھنا ہوتا ہے۔ تاہم، جب یہی ادارے اختیار اور طاقت کے نشے میں بدمست ہو جائیں تو وہ ظلم، جبر اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔

ریاستی طاقت کا غلط استعمال

بعض ممالک میں پولیس، فوج یا خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے وہ مظالم ڈھائے ہیں جو کسی مہذب معاشرے میں ناقابلِ تصور ہیں۔ ان میں شامل ہیں:

  • جنسی تشدد: کئی رپورٹ شدہ واقعات میں خواتین کو حراست میں لے کر ان کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ ایسے واقعات میں اکثر مجرموں کو سزا نہیں ملتی، کیونکہ نظامِ انصاف کمزور یا جانبدار ہوتا ہے۔

  • قیدیوں پر تشدد: مرد و خواتین قیدیوں کو ریاستی تحویل میں بدترین جسمانی اور ذہنی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں برہنہ کرکے مار پیٹ، بجلی کے جھٹکے، اور جنسی ہراسانی شامل ہے۔

  • جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل: متعدد ممالک میں شہریوں، سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو اغوا کر کے لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔ ان میں سے بہت سے افراد کی لاشیں بعد میں ویران مقامات سے ملتی ہیں۔

کیا ایسے لوگ درندگی کی حد تک نہیں پہنچ جاتے؟

  • درندے اذیت نہیں دیتے – جانور شکار کو فوراً مار دیتے ہیں، لیکن بعض انسان مہینوں تک قید کر کے اذیت دیتے ہیں۔

  • جانور بے گناہ کو نہیں مارتے – درندے صرف اپنے دفاع یا بھوک کے لیے حملہ کرتے ہیں، انسان مگر ذاتی مفاد یا طاقت کی ہوس میں بے گناہوں پر ظلم کرتے ہیں۔

  • جانور اپنی نسل کی حفاظت کرتے ہیں – وہ اپنی ماداؤں اور بچوں کی حفاظت کرتے ہیں، لیکن کچھ انسان دوسروں کے خاندان اجاڑتے ہیں، عورتوں کی عزت پامال کرتے ہیں۔

حل کیا ہے؟

  1. عوامی شعور و بیداری – ظلم کو بے نقاب کرنا، عوام کو منظم کرنا اور اجتماعی مزاحمت پیدا کرنا ضروری ہے۔

  2. آزاد و مؤثر عدالتی نظام – داخلی اور بین الاقوامی سطح پر انصاف کی فراہمی کے لیے قانونی راستے اختیار کیے جائیں۔

  3. میڈیا کا مؤثر استعمال – مظالم کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے روایتی اور سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا جائے۔

  4. بین الاقوامی دباؤ – اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کے اداروں سے رابطہ کیا جائے تاکہ ان جرائم پر عالمی سطح پر کارروائی ہو۔

  5. اخلاقی و مذہبی اصولوں کی پاسداری – ہر مذہب اور ضمیر ظلم کے خلاف ہے؛ اگر اخلاقی اقدار اور انصاف پر مبنی قوانین نافذ ہوں تو ایسے جرائم کی روک تھام ممکن ہے۔


نتیجہ

جب ریاستی ادارے اپنے فرائض سے ہٹ کر ظلم کا آلہ بن جائیں، تو پوری قوم خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ایسے میں خاموشی جرم بن جاتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کریں، انصاف کا مطالبہ کریں، اور ایک ایسا معاشرہ قائم کریں جہاں طاقت قانون کے تابع ہو، نہ کہ قانون طاقت کے تابع۔

انسان کا گھٹیا کردار

 دنیا کی تاریخ ظلم و بربریت سے بھری پڑی ہے، اور ہر دور میں ایسے لوگ موجود رہے ہیں جو اپنی طاقت، اختیارات اور عہدے کا ناجائز استعمال کرکے کمزوروں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔ آج بھی بہت سے ایسے کردار ہمارے سامنے آتے ہیں جو وردی کے پیچھے چھپ کر ظلم و زیادتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف قتل و غارت میں ملوث ہوتے ہیں بلکہ اغوا، ریپ اور دیگر گھناؤنے جرائم میں بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ ایسے ظالم اور جابر افراد معاشرے کے لیے ناسور ہیں جنہیں بے نقاب کرنا اور ختم کرنا ہر انصاف پسند انسان پر لازم ہے۔

صحابہ کرام اور ظالموں کے خلاف عدل و انصاف

اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے عظیم حکمران آج ہوتے تو ایسے ظالموں کے ساتھ انتہائی سختی سے نمٹا جاتا۔ حضرت عمرؓ کی خلافت میں عدل و انصاف کا جو معیار تھا، اس میں کسی بھی ظالم کو معاف نہیں کیا جاتا تھا، چاہے وہ کسی بڑے عہدے پر فائز ہوتا یا عام شہری ہوتا۔ حضرت عمرؓ نے ہمیشہ ظالموں کو سرِعام سزا دی تاکہ دوسروں کے لیے عبرت بنے۔

رسول اللہ ﷺ اور ظالموں کے خلاف شرعی احکامات

نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ عدل و انصاف کا حکم دیا اور ظالموں کے خلاف سخت سزائیں مقرر کیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
"لوگوں پر ظلم کرنے والا اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکتا۔" (صحیح مسلم)

اسلامی شریعت میں ایسے لوگوں کے لیے سخت ترین سزائیں مقرر ہیں۔ اگر کوئی شخص قتل کرتا ہے تو اس کے بدلے قصاص (بدلے میں قتل) کا حکم ہے، اگر کوئی زنا بالجبر کرتا ہے تو اس کے لیے سنگساری یا کوڑوں کی سزا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"جو لوگ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ان کی سزا قتل ہے، یا انہیں سولی پر لٹکایا جائے، یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیے جائیں، یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے۔" (المائدہ: 33)

ایسے ظالموں کا خاتمہ کیسے کیا جائے؟

  1. عوامی شعور بیدار کرنا: سب سے پہلے ایسے لوگوں کے خلاف عوام کو بیدار کرنا ضروری ہے تاکہ وہ ظلم کے خلاف کھڑے ہوں۔

  2. اسلامی قوانین کا نفاذ: اگر اسلامی شریعت کے مطابق عدل و انصاف کا نظام نافذ ہو تو کسی کی ہمت نہیں ہوگی کہ وہ ظلم کرے۔

  3. ظالموں کو بے نقاب کرنا: میڈیا، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کو استعمال کرکے ان ظالموں کو بے نقاب کیا جائے۔

  4. منظم مزاحمت: عوام کو قانونی طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے اور ایسے مجرموں کو سزا دلوانے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔

  5. اللہ سے مدد مانگنا: دعا، استغفار اور اللہ سے مدد مانگنی چاہیے تاکہ ایسے ظالموں کا جلد خاتمہ ہو۔

نتیجہ

ظالموں کے خلاف کھڑا ہونا ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل یہ ظلم ہمارے گھروں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان درندہ صفت لوگوں کے خلاف بھرپور آواز بلند کریں اور انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ظالموں کے خلاف ڈٹ جانے کی ہمت عطا فرمائے اور زمین سے ان ناسوروں کا خاتمہ کرے۔ آمین!

دنیا سے جھوٹے مذاہب کیسے ختم ہوں گے؟

دنیا میں ہزاروں مذاہب موجود ہیں، اور ہر مذہب کے ماننے والے سمجھتے ہیں کہ وہی حق پر ہیں۔ لیکن اگر حقیقت کو دیکھا جائے تو سچ صرف ایک ہو سکتا ہے، کیونکہ سچائی کبھی بھی متضاد نہیں ہو سکتی۔ تو پھر کیسے معلوم کیا جائے کہ کون سا مذہب سچا ہے اور کون سا جھوٹا؟

1. سچ اور جھوٹ کو عملی طور پر پرکھنا ضروری ہے

آج تک مذاہب کے درمیان مناظرے، کتابی دلائل، فلسفیانہ بحثیں اور تبلیغی مہمات چلتی رہی ہیں، مگر اس سے کوئی واضح نتیجہ نہیں نکلا۔ ہر مذہب کے ماننے والے اپنے عقائد پر جمے رہے۔ لہٰذا، ایک عملی تجربہ ضروری ہے جو پوری دنیا کو حقیقت دکھا دے۔

2. ایک عملی حل: مذاہب کے بڑے پیشوا ایک میدان میں جمع ہوں

ایک ایسا عالمی اجلاس بلایا جائے جہاں دنیا کے تمام بڑے مذاہب کے رہنما، پادری، پنڈت، گرو، راہب، اور عالم اکٹھے ہوں۔ یہ اجلاس عوام، میڈیا، سائنس دانوں، اور سب کے سامنے کھلے میدان میں ہو تاکہ سب کچھ شفاف طریقے سے سامنے آئے۔

3. سچے خدا کا عملی مظاہرہ: چاند کے ٹکڑے کرنا

ہر مذہب کے پیشوا کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنے خدا سے دعا کرے، فریاد کرے، جو مرضی عبادت کرے اور یہ کہے:

"اے ہمارے سچے خدا! اگر ہم حق پر ہیں تو اپنے قدرت سے چاند کے دو ٹکڑے کر دے تاکہ پوری دنیا یقین کر لے کہ ہمارا مذہب سچ ہے۔"

یہ ایک واضح، غیر مبہم اور براہِ راست تجربہ ہوگا جو کسی بھی قسم کے فلسفے، کتابی حوالوں یا انسانی تشریحات سے بالاتر ہوگا۔

4. نتیجہ کیا ہوگا؟

  1. اگر چاند واقعی ٹکڑے ہو جائے تو یہ ایک ناقابلِ تردید ثبوت ہوگا کہ وہی مذہب سچا ہے، اور باقی سب مذاہب کو جھوٹا تسلیم کر کے پوری دنیا کو سچے مذہب میں داخل ہو جانا چاہیے۔

  2. اگر چاند نہیں ٹوٹتا تو اس کا مطلب ہوگا کہ وہ تمام مذاہب جھوٹے ہیں جنہوں نے دعویٰ کیا تھا، اور انہیں ہمیشہ کے لیے مسترد کر دینا چاہیے۔

5. کیا یہ ممکن ہے؟

اسلامی تاریخ میں ہمیں چاند کے ٹکڑے ہونے کا واقعہ ملتا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک معجزے کے طور پر پیش آیا تھا۔ اگر آج بھی یہی معجزہ دنیا کے سامنے دہرایا جائے تو یہ ایک حتمی دلیل ہوگی کہ اللہ ہی سچا خدا ہے اور اسلام ہی سچا مذہب ہے۔

6. جھوٹے مذاہب کا خاتمہ کیسے ہوگا؟

  • اگر چاند کے ٹکڑے ہونے کا معجزہ سب کے سامنے ظاہر ہو جائے تو دنیا کے تمام جھوٹے مذاہب خود بخود ختم ہو جائیں گے۔

  • جو لوگ ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہیں گے، انہیں دنیا کی سب سے بڑی حقیقت کا انکار کرنے والے سمجھا جائے گا۔

  • پھر دنیا میں صرف ایک سچا مذہب باقی رہے گا، اور انسانیت متحد ہو جائے گی۔

7. یہ تجربہ کیوں ضروری ہے؟

آج کے سائنسی دور میں لوگ ثبوت مانگتے ہیں، وہ کسی بھی مذہب کو صرف قصے کہانیوں یا پرانی کتابوں کی بنیاد پر قبول نہیں کرتے۔ لہٰذا، اگر دنیا میں ایک حتمی فیصلہ کرنا ہے تو اس کے لیے عملی اور واضح معجزہ سب کے سامنے آنا چاہیے۔

نتیجہ

اگر واقعی دنیا سچ کو قبول کرنا چاہتی ہے، تو یہ سب سے آسان اور سیدھا طریقہ ہے۔ مذاہب کے پیشوا کھلے میدان میں آئیں، دعا کریں، اور اپنے خدا سے اپنی سچائی ثابت کرائیں۔ اگر کوئی خدا حقیقت میں موجود ہے اور وہ چاہے تو چاند کے دو ٹکڑے کر سکتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو وہ مذہب جھوٹا ثابت ہو جائے گا۔ یہی طریقہ جھوٹے مذاہب کے خاتمے کا سب سے واضح اور قطعی حل ہے!

اتوار، 23 مارچ، 2025

دوستی کا امتحان: جہاد اور نیکی کا حقیقی مقام

 مدینہ کی گلیوں میں دو قریبی دوست، راشد اور اسلم، ایک درخت کے نیچے بیٹھے گفتگو کر رہے تھے۔ راشد مسجدِ نبوی کے قریب پانی پلاتا تھا، حاجیوں کی خدمت کرتا تھا اور بھوکوں کو کھانا کھلاتا تھا۔ مدینہ کے لوگ اسے عزت کی نظر سے دیکھتے تھے، کیونکہ وہ ہمیشہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا تھا۔

اسلم، دوسری طرف، وہ شخص تھا جس نے بدر اور احد کے معرکوں میں تلوار اٹھائی تھی، دشمن کے خلاف ڈٹا رہا تھا، اور جب میدان میں جانے کا وقت آیا تو اس نے گھر بیٹھنے کے بجائے اپنے خون سے وفاداری کا ثبوت دیا تھا۔ وہ صرف جسمانی طور پر نہیں لڑا تھا بلکہ دل و دماغ اور زبان سے بھی اسلام کا دفاع کیا تھا۔

راشد کا نظریہ

راشد نے گہری سانس لی اور کہا، "میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ خانہ کعبہ کی خدمت اور لوگوں کو پانی پلانے جیسا کام اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ بابرکت ہے۔ ہم حاجیوں کی خدمت کرتے ہیں، لوگوں کو کھانے کھلاتے ہیں، ان کی ضروریات پوری کرتے ہیں، یہ سب بہت بڑی نیکی ہے۔"

اسلم نے مسکراتے ہوئے کہا، "بے شک، یہ سب نیکیاں ہیں، لیکن کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کہا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کا درجہ ان لوگوں سے زیادہ ہے جو محض خانہ کعبہ کی خدمت کرتے ہیں؟"

اصل جہاد کیا ہے؟

راشد نے حیرانی سے پوچھا، "مگر کیوں؟ خانہ کعبہ کی خدمت تو مقدس ترین عمل ہے!"

اسلم نے کہا، "دیکھو، اگر صحابہؓ صرف نیکیاں کرتے رہتے اور گھر بیٹھ کر عبادت و خدمت میں مشغول رہتے تو کیا اسلام کبھی مکہ اور مدینہ کی گلیوں سے باہر نکل سکتا تھا؟ اگر حضرت خالد بن ولیدؓ تلوار نہ اٹھاتے، اگر حضرت علیؓ میدان میں نہ اُترتے، اگر حضرت حسانؓ اپنے اشعار سے کافروں کے پروپیگنڈے کا جواب نہ دیتے، تو کیا دین قائم رہ سکتا تھا؟"

اسلم نے ایک پتھر اٹھایا اور زمین پر پھینک کر کہا، "یہ ایک کمزور ایمان والے کی مثال ہے، جو مشکل وقت میں صرف عبادت کو کافی سمجھتا ہے اور میدان میں نہیں آتا۔ لیکن ایک مجاہد وہ ہوتا ہے جو اس پتھر کو اٹھا کر دشمن کے خلاف استعمال کرے، حق کی آواز بلند کرے، اور دین کی حفاظت کرے۔"

کمزور ایمان والے کا جہاد

یہ سن کر راشد سوچ میں پڑ گیا اور بولا، "لیکن اگر کوئی واقعی کمزور ہے، جو لڑ نہیں سکتا، تو وہ کیا کرے؟ کیا اس کے لیے بھی جہاد کا کوئی درجہ ہے؟"

اسلم نے جواب دیا، "بالکل! اللہ نے ہر شخص کو ایک الگ صلاحیت دی ہے۔ کچھ لوگ میدانِ جنگ میں تلوار اٹھاتے ہیں، جیسے حضرت خالد بن ولیدؓ۔ کچھ اپنی زبان اور قلم سے جہاد کرتے ہیں، جیسے حضرت حسان بن ثابتؓ نے شاعری سے اسلام کا دفاع کیا۔ اور کچھ لوگ اپنے مال سے جہاد کرتے ہیں، جیسے حضرت عثمانؓ نے اپنی دولت اسلام کے لیے وقف کر دی۔ اور اگر کوئی جسمانی طور پر کمزور ہو، تو وہ دل سے جہاد کرے، حق کے لیے دعا کرے، سچ کی گواہی دے، اور برائی کے خلاف اپنی آواز بلند کرے۔"

جہاد کا اعلیٰ درجہ کیوں؟

راشد نے پھر سوال کیا، "لیکن اللہ نے پھر بھی مجاہدین کا درجہ سب سے بلند کیوں رکھا؟"

اسلم نے سنجیدگی سے کہا، "اس لیے کہ اسلام صرف عبادت اور نیکی کے کاموں سے نہیں پھیلا، بلکہ قربانی اور جہاد سے پھیلا۔ اگر صحابہؓ نے اپنی جانیں، مال اور وقت قربان نہ کیے ہوتے، تو آج اسلام صرف مکہ کے چند گھروں میں محدود رہتا۔ خانہ کعبہ کی خدمت بے شک نیک عمل ہے، مگر اگر اسلام کو بچانے والے ہی نہ ہوں تو یہ خدمت بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔"

نتیجہ

راشد نے گہری سوچ میں ڈوب کر کہا، "تو مطلب یہ ہے کہ دین کے لیے صرف نیکیاں کافی نہیں، بلکہ قربانی دینا بھی ضروری ہے۔ اور اگر کوئی لڑ نہیں سکتا تو وہ اپنی صلاحیت کے مطابق اللہ کے دین کی حفاظت کرے؟"

اسلم نے مسکراتے ہوئے کہا، "بالکل! یہی اصل جہاد ہے۔ ہر کوئی اپنے طریقے سے اللہ کی راہ میں لڑتا ہے، مگر جو جان و مال کے ساتھ جہاد کرتا ہے، اللہ نے اس کا درجہ سب سے بلند رکھا ہے۔"

یہ سن کر راشد نے سر جھکایا اور کہا، "میں نے ہمیشہ سمجھا کہ صرف عبادت اور خدمت ہی کافی ہے، مگر آج میں نے سیکھا کہ اصل دین کی حفاظت کرنے والا، خواہ وہ تلوار سے کرے، قلم سے کرے، یا مال سے، وہی اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ بلند ہے۔"

اسلم نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا، "یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن ہمیں سکھاتا ہے۔ اور یہی وہ حقیقت ہے جو ہمیں اپنی زندگی میں اپنانی چاہیے۔"

ہفتہ، 22 مارچ، 2025

غربت ختم کیوں نہیں ہوتی؟

غربت اس لیے ختم نہیں ہوتی کہ وہ لوگ جنہوں نے مکاری اور فریبی سے اللہ کے وسائل پہ قبضہ کیا ہوا ہے وہ یہ نہیں چاہتے کہ دوسرے لوگ بھی ان وسائل کو استعمال کر سکیں۔


یہ لوگ بہت ہی چالاکی اور مکاری کے ساتھ اپنے ادارے بناتے ہیں اور پھر ان اداروں کے اندر ایسے لوگوں کو ہائر کیا جاتا ہے جو ان کے مقاصد کے لیے ان کی سپورٹ کریں اور یہ سب مل کر پھر غریبوں کو مارتے ہیں دبا کے رکھتے ہیں جیلوں میں بند کرتے ہیں حق کی آواز بلند کرنے والے کو ختم کر دیتے ہیں کسی کو بھی اس کے گھر سے اٹھا لیتے ہیں اور معاشرے کے اندر ڈر اور خوف کو قائم رکھتے ہیں۔

ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جب تک لوگ ڈرتے رہیں گے سسکتے رہیں گے مرتے رہیں گے بلکتے رہیں گے بنیادی ضرورت سے محروم رہیں گے تب تک لوگ ان کے غلام رہیں گے اور ان کی سرداری چودہراہٹ قائم رہے گی۔

صدیوں سے یہی ہوتا آرہا ہے۔ اپنے مفاد کے لیے دوسرے کو دبا دو یا مار دو۔ قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو مارا تھا اپنے مفاد کے لیے۔ لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی اپنے مفاد کے لیے۔ مکے کے کافروں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی سازشیں کی تھیں اپنے مفاد کے لیے۔

اسی طریقے سے امام ابو حنیفہ کو زہر دے کر شہید کیا گیا اپنے مفاد کے لیے۔ امام احمد بن حنبل کو کوڑے مارے گئے اپنے مفاد کے لیے۔ حضرت منصور حلاج رحمۃ اللہ علیہ کو شہید کیا گیا اپنے مفاد کے لیے۔

اور بات صرف یہیں پہ ختم نہیں ہوئی ہے، جن لوگوں نے مذہب سے ہٹ کر سائنس کے نام پر تحقیق کرکے اللہ کی بنائی ہوئی اس کائنات کے اندر سے ایسے اصولوں کو دریافت کیا جس کے ذریعے سے وہ لوگوں کو فائدہ پہنچا سکتے تھے، ان لوگوں کو بھی چن چن کے مارا گیا اور یہ مارنے والے بھی وہی بغیرت لوگ تھے جو اس معاشرے پر اپنا ہولڈ قائم رکھنا چاہتے تھے۔

اور ان بیغیرتوں کی نسلیں آج بھی کام کر رہی ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو کبھی بھی پسند نہیں کریں گے کہ اگر یہ ایک محلے میں رہتے ہوں اور ان کے پاس طاقت ہو تو کوئی ان کی برابری بھی کر سکے۔

لیکن تم یہ دیکھو گے کہ یہ اپنی طاقت اور وسائل کو استعمال کرتے ہوئے ناجائز قبضہ کرتے ہیں زمین پر، ناجائز تعمیرات کرتے ہیں، لوگوں کو دبا کے ڈرا کے رکھتے ہیں، ہر قسم کے وسائل جو میسر ہوں گے یہ اس کے اوپر قابو پا لیتے ہیں جبکہ باقی لوگ محروم رہتے ہیں۔

یہ لوگ تمہیں پولیس میں بھی ملیں گے، آرمی میں بھی ملیں گے، حکومت میں بھی ملیں گے، گاؤں دیہات میں بھی ملیں گے، گھروں میں بھی ملیں گے، پڑوسیوں میں بھی ملیں گے، اپنے رشتہ داروں میں بھی ملیں گے۔ الغرض یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو مغرور ہوتے ہیں۔ دراصل یہ کافر ہوتے ہیں اور لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور یہ اللہ کے باغی ہوتے ہیں۔ یہ وہ غدار ہیں جنہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اسلام کے مطابق نہ تو خود زندگی گزاری نہ دوسرے کو گزارنے دیتے ہیں۔

ایمان والوں کو یہ ذلیل ترین بے وقوف قسم کے لوگ سمجھتے ہیں۔ اس لیے کبھی تم غور کرنا کہ جب اللہ نے نبیوں کو بھیجا تو ان پر ایمان لانے والے لوگوں کی جو اکثریت تھی وہ غریب اور کمزور لوگوں کی تھی۔ مالدار اور متکبرین قسم کے لوگوں نے تو انکار ہی کیا تھا بلکہ دشمنی کی اور ان کو گرفتار کر کے ختم کرنے کی کوشش بھی کی۔

یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ جو غریب طبقہ ہوتا ہے وہ تو ویسے ہی حالات کے مارے پسا ہوا ہوتا ہے، دبا ہوا ہوتا ہے، ٹراما کا شکار ہوتا ہے، ڈپریشن میں ہوتا ہے، طرح طرح کے مسائل کا اس کو سامنا ہوتا ہے، اسے تو کوئی بھی مسیحا مل جائے وہ اس کے پیچھے چل پڑتا ہے، کیونکہ اس بیچارے کو تو اپنی پریشانیاں ختم کروانی ہوتی ہیں۔ کبھی دعا کے ذریعے کبھی کسی اور چیز کے ذریعے لیکن یہ جو بغیرتوں کا طبقہ ہوتا ہے ان کے پاس وسائل ہوتے ہیں۔ پیسہ اور دولت سب کچھ ہوتی ہے۔ غرور ان کا اسمانوں پر ہوتا ہے۔ ان کو ایسا لگتا ہے یہ جو چاہیں گے وہ ہو جائے گا۔ جس چیز کی ڈیمانڈ کریں گے وہ پوری ہو جائے گی، اس لیے غریبوں کو اپنے پیر کی جوتی برابر بھی نہیں سمجھتے۔

کبھی بھی کسی مالدار کو پولیس والے کو ارمی افیسر کو جج کو وکیل کو اور دیگر اداروں میں کام کرنے والوں کو غور سے دیکھنا کہ یہ غریبوں کے ساتھ کس طرح سے پیش اتے ہیں؟ کسی یتیم مجبور مسکین کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں؟ اگر تمہیں نظر ائے کہ وہ اخلاق سے پیش ا رہا ہے، نرمی سے پیش ا رہا ہے، ان کے ساتھ اس طرح سے مل رہا ہے جیسے کہ ایک انسان ہے اور اپنی اکڑ میں نہیں ہے تو پھر سمجھ لو کہ اس کے اندر اللہ کا ڈر ہے۔

لیکن اگر معاملہ اس کے الٹ ہے اور وہ انہیں جھڑکتا ہے مارتا ہے ڈانٹتا ہے گالی دیتا ہے ہاتھ نہیں ملاتا دور ہٹتا ہے اور بھی بہت کچھ جو اس کے عمل سے پتہ لگ جائے گا تو پھر سمجھ لو کہ یہ دل سے کافر ہے اور عمل اس کی گواہی دے رہا ہے۔

اس لیے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم غریبوں کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے، مصافحہ بھی کرتے تھے، ان کے مسائل بھی سنتے تھے، ان کی مدد بھی کرتے تھے تو کوئی بھی انسان ان سے زیادہ تو افضل نہیں ہے تو پھر ان جیسے مردودوں کی کیا اوقات ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے؟

تو بہرحال میں نے تمہیں بتا دیا کہ غربت اس لیے ختم نہیں ہوتی کیونکہ جو چودہری وڈیرہ بنا ہوتا ہے، کبھی تم گاؤں میں دیکھ لینا یا فلمیں ڈراموں میں دیکھ لو کہ وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ ان کے گاؤں کے لوگ پڑھ لکھ جائیں، ترقی کریں اور آگے نکل جائیں کیونکہ پھر اس چودھری اور اس کے خاندان کا ان لوگوں پر سے ہولڈ ختم ہو جائے گا۔ لوگ پھر ان سے سوال کریں گے۔ پھر وہ لوگ اپنا حق مانگیں گے کیونکہ لوگوں کی اکثریت جاہل ہوتی ہے۔ اسے نہیں پتہ ہوتا دین کے بارے میں۔ اس لیے وہ لوگ اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہونے کے باوجود بھی صبر کر کے ذلت کی زندگی گزارتے رہتے ہیں کیونکہ ان کو دو نمبری کا یہ سبق پڑھایا جاتا ہے کہ کوئی کچھ بھی کرتا رہے تم صرف صبر کرو تو نہ وہ اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں اور نہ ہی وہ حق کے لیے لڑتے ہیں جبکہ قران کے اندر اللہ نے مظلوم کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنی اواز بھی بلند کر سکتا ہے اور بدلہ بھی لے سکتا ہے لیکن اتنا جتنا اس پر ظلم کیا گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام نے جنگیں بھی کی ہیں، ورنہ جنگ کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ گھروں میں بیٹھے رہتے۔ سکون سے رہتے۔ صبر کرتے۔ شہید ہونے کی کیا ضرورت پیش آگئی تھی؟ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ہاتھوں میں تلواریں اٹھائی ہیں تب جا کر دین اسلام آگے پھیلنا شروع ہوا ہے کیونکہ کافروں نے تو صحابہ کو ختم کرنے کی پوری کوشش کی تھی لیکن جنگوں کی وجہ سے کافروں کا زور اللہ نے توڑ دیا اور انہیں ذلیل و رسوا کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھوں۔

اور آخری بات کر کے ختم کرتا ہوں کہ جب تک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے چند صحابہ کرام مکے میں چھپ کر تبلیغ کرتے تھے تو اس وقت ڈر خوف حکمت یا جو کچھ بھی تھا وہ موجود تھا۔ خاموشی سے کام ہو رہا تھا لیکن جب حضرت عمر فاروق نے اسلام قبول کیا تھا تو اپنی طاقت کا اظہار کیا تھا۔ کافروں کے سامنے کھڑے ہو کر للکارا تھا اور سب کو لے کر گئے تھے۔ کعبے میں کھڑے ہو کر عبادت کروائی تھی اللہ کی۔ اس کو کہتے ہیں طاقت کا صحیح استعمال۔ تو جب طاقت ہو تو اسلام کو طاقت دینی ہے اپنی طاقت سے اور کافروں کا منہ توڑ کے رکھ دینا ہے اور منافقین کو بھی تاکہ یہ بے غیرت اپنی ذلت اور خواری دیکھیں ایک ایمان والے کے مقابلے پر۔

اگر سارا کام صرف کلمہ پڑھ کر گھر میں بیٹھ کر عبادت کرنے سے ہو جاتا تو حضرت عمر فاروق کو باہر نکلنا نہ پڑتا اور تلوار ہاتھ میں نہ اٹھانی پڑتی۔ بات صاف ہے کہ فتح مکہ کے ٹائم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی پوری فوج لے کر آئے تھے۔ وہ الگ بات ہے کہ معاف کر دیا لیکن اس سے پہلے کی پوری ہسٹری موجود ہے کہ تلواریں، جنگیں اور شہادتیں موجود ہیں۔ بغیر قربانی تو وہاں پر بھی اسلام نہیں پہنچا تھا تو اج کل کے پدی اور پدی کے شوربے جو مذہبی جماعتیں چلا کر کہتے ہیں کہ ان کا سیاست سے کوئی واسطہ نہیں اور نرمی سے اسلام پھیلائیں گے اور اسلام تلواروں سے نہیں پھیلا، اس طرح کی باتیں جب یہ لوگوں کے دلوں میں ڈالیں گے تو بزدلی کی چادریں تان کر ہی لوگ سوتے رہیں گے اور انتظار کریں گے کسی مسیح کا جو اسمانوں سے نازل ہوگا کہ ان کے سارے مسائل حل کر دے لیکن خود انہوں نے کچھ نہیں کرنا۔

تو بس یہی ہو رہا ہے۔ غریب غربت میں پٹ رہا ہے اور امیر اپنی امیری کے اندر اضافہ کر رہا ہے اور وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ اس کی دولت غریبوں کے ہاتھ میں چلی جائے ماسوا یہ کہ اس کی اپنی کوئی چال ہو جیسے ڈونیشن کے نام پہ یا غریبوں کو کھانا کھلانے کے نام پہ ڈرامے بازی کی جاتی ہے تاکہ مزید پیسہ ڈونرز سے حاصل کیا جائے۔

ویڈیو گیمز کس طرح اور کون تیار کرتا تھا جب اتنی ٹیکنالوجی نہ تھی پاکستسان میں؟

چیٹ جی پی ٹی کے مطابق

یہ ایک زبردست سوال ہے! 1970 اور 1980 کی دہائی میں ویڈیو گیمز زیادہ تر جاپان، امریکہ، اور یورپ میں بنائے جاتے تھے، کیونکہ اس وقت پاکستان میں ایسی ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ انڈسٹری موجود نہیں تھی جو آرکیڈ مشینیں یا گیم کارٹریجز بنا سکتی۔ لیکن پھر بھی، یہ گیمز پاکستان میں مختلف طریقوں سے پہنچتے تھے۔

1. ویڈیو گیمز بنانے والے ممالک اور کمپنیاں

اس دور میں مشہور گیم ڈویلپر اور آرکیڈ مشین بنانے والی کمپنیاں یہ تھیں:

  • Atari (USA) – Pong، Asteroids، Centipede جیسے گیمز بنائے

  • Namco (Japan) – Pac-Man، Galaga، Dig Dug

  • Taito (Japan) – Space Invaders

  • Nintendo (Japan) – Donkey Kong، Mario Bros

  • Konami (Japan) – Frogger، Contra

  • Capcom (Japan) – Street Fighter، 1942

یہ کمپنیاں گیمز کے لیے مخصوص ہارڈویئر بناتی تھیں، جسے آرکیڈ مشین یا کونسلز پر چلایا جاتا تھا۔


2. پاکستان میں آرکیڈ گیمز کیسے پہنچتے تھے؟

چونکہ اس وقت پاکستان میں نہ تو گیمز بنتے تھے اور نہ ہی ٹیکنالوجی کی ترقی تھی، اس لیے آرکیڈ مشینیں اور کنسولز مختلف طریقوں سے پاکستان آتے تھے:

(A) اسمگلنگ اور امپورٹ

  • زیادہ تر آرکیڈ مشینیں دبئی، ہانگ کانگ، اور سنگاپور سے اسمگل ہو کر آتی تھیں۔

  • کچھ لوگ انہیں اپنے ساتھ لے آتے تھے یا کراچی اور لاہور کی الیکٹرانک مارکیٹوں میں بیچنے کے لیے امپورٹ کرتے تھے۔

  • 1980 اور 1990 کی دہائی میں خاص طور پر صدیق پلازہ (لاہور) اور صدر (کراچی) جیسے علاقوں میں گیمز اور مشینیں فروخت ہوتی تھیں۔

(B) کاپی شدہ اور چائنیز ریپلیکا مشینیں

  • جاپانی اور امریکی آرکیڈ مشینوں کے اصل PCBs (Printed Circuit Boards) مہنگے ہوتے تھے، اس لیے چینی اور کورین کمپنیوں نے کاپی شدہ مشینیں بنانی شروع کر دیں، جو سستی ہوتی تھیں۔

  • پاکستان میں بہت سی گیم شاپس انہی ریپلیکا یا کاپی شدہ آرکیڈ مشینوں کو استعمال کرتی تھیں۔

(C) ٹوکن سسٹم اور لوکل بزنس

  • چونکہ آرکیڈ مشینز مہنگی ہوتی تھیں، عام لوگ انہیں خرید نہیں سکتے تھے، اس لیے دکان والے ٹوکن سسٹم لے آئے۔

  • آپ 1-2 روپے کا ٹوکن خرید کر گیم کھیل سکتے تھے، اور دکان والے اپنی مشینوں سے پیسہ کماتے تھے۔


3. ٹیکنالوجی کم تھی، پھر بھی یہ گیمز کیسے بنتے تھے؟

آج کے جدید گیمز کے مقابلے میں 1970-80 کی دہائی کے گیمز بہت سادہ اور محدود ہارڈویئر پر چلتے تھے۔ گیم بنانے کے لیے:

  1. کمپیوٹر پروگرامنگ (Assembly Language) – اس وقت گیمز زیادہ تر Assembly Language میں بنائے جاتے تھے، جو مشین کے لیے سیدھا کوڈ ہوتا تھا۔

  2. چپ بیسڈ ہارڈویئر (ROM Chips) – گیمز کو ROM (Read Only Memory) چپس پر محفوظ کیا جاتا تھا، جو مخصوص مشین میں لگائی جاتی تھیں۔

  3. پکسل آرٹ اور سادہ آوازیں – جدید 3D گرافکس کی بجائے، ان گیمز میں 8-bit اور 16-bit پکسل آرٹ استعمال ہوتا تھا۔

  4. بہت محدود میموری اور پروسیسنگ پاور – ایک آرکیڈ مشین یا کنسول میں صرف چند KB یا MB میموری ہوتی تھی، اور پروسیسر بہت سستے ہوتے تھے۔


4. پاکستان میں گیم انڈسٹری کیوں نہیں بنی؟

پاکستان میں اس وقت ٹیکنالوجی کے وسائل نہیں تھے، اور حکومت نے ویڈیو گیم انڈسٹری کو فروغ نہیں دیا۔ جبکہ جاپان، امریکہ، اور یورپ میں:

  • بڑی کمپنیوں نے ریسرچ اور ڈویلپمنٹ میں سرمایہ لگایا۔

  • انجینئرز اور ڈویلپرز کو تربیت دی گئی۔

  • گیمز کو قانونی طور پر پروڈکشن اور ڈسٹری بیوشن کے نظام میں شامل کیا گیا۔

پاکستان میں نہ صرف آرکیڈ گیمز بلکہ بعد میں PC اور کنسول گیمز بھی زیادہ تر غیر قانونی طریقوں سے آتے رہے، اسی لیے یہاں گیم انڈسٹری زیادہ ترقی نہیں کر سکی۔


نتیجہ:

1970-80 کے آرکیڈ گیمز زیادہ تر جاپان اور امریکہ میں بنتے تھے، اور پاکستان میں اسمگل شدہ، امپورٹڈ یا چائنیز کاپی شدہ مشینوں کے ذریعے پہنچتے تھے۔ اس وقت یہاں گیم ڈویلپمنٹ کا کوئی تصور نہیں تھا، اور لوگ ٹوکن ڈال کر کھیلنے کو ہی ویڈیو گیم کا مزہ سمجھتے تھے۔

بدھ، 19 مارچ، 2025

Dark Reality of Mosquito Repellents (مچھروں سے نجات)

اس ویڈیو کے اندر یہ بتایا گیا ہے کہ کس طرح مچھروں سے نجات حاصل کرنے کے لیے استعمال ہونے والی پراڈکٹس سے انسانوں کی موت واقع ہوجاتی ہے نیز مچھروں سے نجات یا حفاظت کے لیے نیچرل طریقے شیئر کیے گئے ہیں جنہیں استعمال کرکے آپ مچھروں سے اپنی اور اپنی فیملی کی حفاظت کرسکتے ہیں۔

اتوار، 16 مارچ، 2025

Stories of Islam (اسلامی کہانیاں)

اس پیج پر صرف ایسے قصے کہانیاں موجود ہیں جنہیں سنانے والوں کا انداز بہت پیارا اور زبردست ہے۔ مجھے جو بہترین لگے میں صرف انہیں یہاں جمع کرنے لگا ہوں۔ اگر اللہ نے توفیق دی تو اس پیج پر مزید قصے کہانیں شامل کرتا جاوں گا۔ جب تک آپ یوٹیوب پر سرچنگ کے ذریعے خود تلاش کریں۔

Hazrat Khadija



Namrood Ki Beti

Hazrat Zakariya Ka Qissa

 

اتوار، 9 مارچ، 2025

شیعہ کافر نہیں تو کیا ہیں؟

 اگر قران وہ کتاب ہے جس میں شک کی گنجائش نہیں تو پھر حدیث کے بارے میں بھی علماء کرام یہی کہتے ہیں کہ صحیح حدیث کا انکار کرنے والا کافر ہوتا ہے۔

اگر صحیح حدیث کا انکار کرنا کفر ہے تو صحیح حدیث کے مطابق ہے کسی مسلمان کو کافر کہنے والے پر کفر لوٹ اتا ہے اور وہ خود کافر ہو جاتا ہے۔

جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو ان دونوں میں سے ایک پر کفر لوٹ گیا یعنی یا تو کہنے والا خود کافر ہوگیا یا وہ شخص جس کو اس نے کافر کہا ہے۔ (بخاری ومسلم)

جس نے کسی کو کافر کہا یا اللہ کا دشمن کہہ کر پکارا حالانکہ وہ ایسا نہیں ہے تو یہ کلمہ اسی پر لوٹ آئے گا''۔(صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 219)

اگر قران اللہ کا کلام ہے اور یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام ہے اور یہ سچ ہے تو بات صاف ہے کہ جو بھی حضرت ابوبکر صدیق یا حضرت عمر فاروق یا حضرت عثمان یا ان دونوں یا ان تینوں یا ان میں سے کسی کو بھی کافر کہے یا کافر سمجھے یا کافر مانے یا ان کے کافر ہونے کی تبلیغ کرے وہ اس کائنات کا بدترین کافر خود ہے۔

زمین پر بڑے بڑے بے غیرت پڑے ہوئے ہیں۔ یہ وہ حرام زادہ ہے جو میں سمجھتا ہوں یہ حرام کی اولاد ہے۔ اس کے باپ نے حرام کاریاں کی ہوں گی تب ہی اپنی ماں کے پیٹ کے اندر سے باہر نکل کے آیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ کوئی حلال کا ہو تو وہ حضرت ابوبکر صدیق یا حضرت عمر فاروق کو ایسی گھٹیا گالیاں نہیں دے سکتا لیکن یہ حرام زادہ اپنی کتے جیسی رال ٹپکا رہا ہے۔


کدھر ہیں وہ بیغیرت جو کہتے ہیں کہ شیعہ کافر نہیں ہیں؟

میں تو صاف کہتا ہوں کہ شیعہ اس کائنات کے بدترین کافر ہیں جس طرح قادیانی اس کائنات کے بدترین کافر ہیں۔

اس لیے کہ ان دونوں کے اندر ایک چیز کامن ہے کہ دونوں بے غیرت اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی پیٹھ میں چھریاں گھونپ رہے ہیں۔ ایک نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ میں چھری گھونپنے کی کوشش کی ہے تو دوسرے نے حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کی پیٹھ میں چھریاں گھونپنے کی کوشش کی ہے۔

انہوں  نے اپنی زبانوں کو حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کے خلاف گندگی کے ساتھ استعمال کرنے کی نہ صرف قسمیں کھائی ہوئی ہیں بلکہ ان کے خلاف سوشل میڈیا پہ کھلم کھلا کام کر رہے ہیں اور انہیں گرفتار کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے کیا؟؟؟

کدھر مر گئے وہ قانون نافذ کرنے والے جو ایک ہیلمٹ کی خلاف ورزی کرنے پر کسی کا چالان گھر بھیج دیتے ہیں؟ کہاں مر گئے وہ لوگ جو کسی کی ایک ویڈیو وائرل ہونے پر اس کا سافٹ ویئر اپڈیٹ کرنے کے لیے اس کو گرفتار کر لیتے ہیں ٹریس کرکے؟؟؟

کدھر مر جاتے ہیں یہ لوگ ایسے ناسوروں کو گرفتار کرنے کے لیے جو سوشل میڈیا پہ کھلم کھلا صحابہ کے خلاف گھٹیا زبان استعمال کر رہے ہیں؟ کیا ان لوگوں کی غیرت نہیں جاگتی یا ان کے قانون صرف اپنی ڈرامے بازی کے لیے ہیں اور دنیا کا پیسہ بنانے کے لیے ہیں؟


میں تو صاف کہتا ہوں یہ حرکتیں دیکھ کر اور ماضی میں جن شیعوں کی میں نے حرکتیں دیکھی ہیں کہ ان کی گھٹیا زبانیں جو میں نے حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کے خلاف دیکھی ہیں اس کے بعد میں ان کے حوالے سے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتا اپنے دل میں۔ یہ کافر ہیں تو کافر ہیں۔ ان کے کفر میں مجھے کسی شک کی گنجائش نہیں۔ یہ کافر ہونے کی وجہ سے ہی بدبودار ہو کے جہنم میں چلے جاتے ہیں یعنی کہ لاشیں سڑگل جاتی ہیں اور یہ جہنم رسید ہوتے ہیں۔ اسی لیے کوئی بھی کافر شیعہ میرا مقابلہ کرنے نہیں آسکتا کہ وہ میرے ہاتھ کی ہتھیلی پہ مردہ مچھر زندہ کر سکے۔ مردہ مچھر زندہ کرنے کی تو اوقات ہے نہیں، یہ کیا اللہ سے اپنا تعلق بنانے کے دعوے کرتے ہیں؟ 

جھوٹے مکار اور فریبی مذہب کے ساتھ شیعہ کافر

لیجنڈ محمد ذیشان ارشد 

اللہ واحد القہار کے ساتھ


ہفتہ، 8 مارچ، 2025

صحابہ ؓنے مریض کو دم کرنے کی اجرت 30بکریاں لیں

روحانی علاج کرنے والوں کے خلاف، دم کرنے والوں کے خلاف اور قرآن پڑھانے سکھانے والوں کے خلاف جاہل لوگوں نے ایک محاظ کھول رکھا ہے کہ تم لوگ اپنے کام پر پیسہ کیوں لیتے ہو؟

یہاں میں ان حدیثوں اور دلائل کو جمع کررہا ہوں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے قرآن پر پیسہ لینا جائز ہے لہذا کسی بھی جاہل کی باتوں کی پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اگر کوئی تمہاری قدر نہ کرے صرف اس لیے کہ تم اسلام کے لیے کام کررہے ہو اور قرآن پڑھاکر یا قرآن کے ذریعے علاج کررہے ہو تو تمہیں پورا حق ہے کہ تم ایسے ناقدرے لوگوں سے اپنی پوری فیس وصول کرو اور ڈنکے کی چوٹ پر وصول کرو اور بغیر شرم کیے اور بغیر ڈرے وصول کرو۔

اگر کسی جاہل کو اعتراض ہو تو اس کے سامنے میری یہ پوسٹ پیش کردو۔

یہ لوگ اسکول، کالج، یونیورسٹیوں میں جاکر پروفیسرز کو لاکھوں روپے فیس آنکھ بند کرکے ایک اشارے پر جمع کروادیتے ہیں اپنے دنیاوی مفاد کے لیے، یہ لوگ ہسپتالوں میں جاکر ایک ڈاکٹر کے کہنے پر لاکھوں روپے فیس کا فوری انتظام کردیتے ہیں مریض کے آپریشن کے لیے چاہے انہیں کسی سے ادھار یا قرض ہی لینا پڑے لیکن جب بات روحانی علاج کی آتی ہے تو یہ ناقدرے اور دین سے جاہل لوگ تم پر اعتراض کرتے ہیں کہ تم پیسے کیوں لیتے ہو؟

ان کے باپ کا راج چل رہا ہے کیا؟

بے شک یہ دین سے جاہل ہیں لہذا تم اپنے فری لانسنگ بزنس میں اپنے کام کا پورا معاوضہ وصول کرو جتنا تم چاہو۔ چاہے تیس بکریاں لو، چاہے ان کا گھر بدلے میں لے لو، چاہے ان کی کار لو یا بائک لو، یہ تم فیصلہ کرو گے کہ تم نے علاج کے بدلے اور انہیں ان کی تکلیف سے نجات دلانے کے واسطے کیا وصول کرنا ہے۔