منگل، 14 جنوری، 2025

غوث پاک نے مردہ زندہ کیا

بے شک شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے مردے زندہ کیے ہیں اللہ کے حکم سے۔

اگرچہ میں اس دور میں نہ تھا مگر میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے ولی ہیں اور اللہ نے ان کو جو رتبہ دیا وہ ان کا ہی حق تھا۔

آج بھی کیمروں کے دور میں اللہ مردے زندہ کرچکا ہے۔

لیکن اولیاء اللہ کے گستاخ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ پر اعتراض کرتے ہیں۔

 شیخ عبدالقادر جیلانی پر کیا اعتراض کرتے ہو؟ اگر کسی ہمت ہو تو لیجنڈری فری لانسر آف پاکستان کا مقابلہ کرکے دیکھ لے مردے زندہ کرنے پر، لگ پتہ جائے گا کہ مردے زندہ کرنا کس قدر مشکل ترین کام ہے۔ کوئی کافر یا منافق، مردہ مچھر تک زندہ نہیں کرسکے گا، مردہ انسان زندہ کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔

کیا ولی مردے زندہ کرسکتے ہیں یا نہیں؟

بے شک اللہ کے دوست مردے زندہ کرسکتے ہیں البتہ۔۔۔

 مردے کو زندہ کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔

مردہ اسی صورت میں زندہ ہوتا ہے جب اللہ کا حکم ہوتا ہے۔

اگر اللہ نہ چاہے تو کوئی بھی شخص مردے کو زندہ نہیں کرسکتا۔

لوگ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ، خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ اور دیگر شخصیات پر اعتراض کرتے ہیں کہ انہوں نے مردے زندہ نہیں کیے جبکہ یہ بات حقیقت کے سو فیصد خلاف ہے۔

اللہ جب چاہے مردے زندہ ہوجاتے ہیں کیمروں کے دور میں بھی۔

لیجنڈری فری لانسر آف پاکستان نے جتنے بھی مردے زندہ کیے ہیں وہ سب اللہ کی مدد کے حوالے سے کئے ہیں۔اگر اللہ اس کی مد د نہ کرتا تووہ کسی بھی مردے کو زندہ کرنے میں کامیاب ہرگز نہ ہوتا۔لہذا یہ بات ذہن میں رکھ لی جائے کہ مردے تبھی زندہ ہوتے ہیں جب اللہ کا حکم آپہنچتا ہے بصورت دیگر جتنی مرضی دعائیں کرلی جائیں، مردہ انسان زندہ ہونا تو بہت دور کی بات ہے، کوئی مردہ مچھر کو بھی زندہ نہیں کرسکتا اللہ کے حکم کے بغیر۔

جسے شک ہے آزماکر دیکھ لے، لگ پتہ جائے گا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی۔

کاروبار کو کاروبار کی طرح کریں اور دو گھنٹے مذہب کے لیے وقف کریں

"کاروبار کو کاروبار ہی کی طرح کریں۔البتہ دو گھنٹے مذہب کے لیے وقف کریں اور اس وقت کو مذہب کی نظر سے دیکھیں ،سرمایہ کی نگاہ سے نہیں۔"

زندگی کی دو اہم جہتیں، کاروبار اور مذہب، ہر انسان کی زندگی میں اہم مقام رکھتی ہیں۔ ان دونوں کا آپس میں تعلق بھی بہت گہرا ہے، لیکن ان کا تعلق مختلف نقطہ نظر سے ہوتا ہے۔  کاروبار کو کاروبار ہی کی طرح کریں اور مذہب کے لیے مخصوص وقت کو مذہب کے نقطہ نظر سے دیکھیں، سرمایہ کی نگاہ سے نہیں۔ یہ بات اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ دونوں پہلو اپنی اہمیت رکھتے ہیں، مگر ان کی نوعیت اور مقصد مختلف ہے۔

سب سے پہلے ہمیں کاروبار کی اہمیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ کاروبار انسان کی معاشی زندگی کا بنیادی ستون ہے۔ اس کے ذریعے انسان اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرتا ہے، معاشرتی ذمہ داریاں نبھاتا ہے اور معاشی ترقی کے لیے کام کرتا ہے۔ کاروبار میں انسان کا مقصد عموماً مالی فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے مقصد کو پورا کرسکے اور اپنی زندگی کی ضروریات پوری کر سکے۔ لیکن یہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے محنت، ایمانداری اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ کاروبار کو صرف مالیاتی نظر سے دیکھنا درست نہیں ہے، کیونکہ اس میں انسانی رشتہ، اخلاقی اصول اور دوسروں کے ساتھ انصاف بھی شامل ہے۔

دوسری طرف، مذہب کا مقصد انسان کو اخلاقی اور روحانی طور پر بہتر بنانا ہے۔ مذہب انسان کو خدا کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے، اس کی عبادت کرنے، اور اس کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ مذہب ہمیں سکھاتا ہے کہ دنیا کی عارضی چیزوں میں دلچسپی رکھنا ضروری نہیں ہے، بلکہ ہمیں آخرت کی فلاح اور روحانی ترقی کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ اگر انسان کاروبار کے ساتھ ساتھ اپنی روحانیت پر بھی توجہ دے، تو اس کی زندگی میں توازن آتا ہے اور وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

دو گھنٹے مذہب کے لیے وقف کریں اور اس وقت کو مذہب کی نظر سے دیکھیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہماری زندگی میں مذہب کے لیے مخصوص وقت بہت ضروری ہے۔ روزانہ نماز، دعا، اور عبادات کا وقت ہمارے لیے روحانی سکون اور ذہنی سکون کا باعث بنتا ہے۔ اگر ہم یہ وقت سرمایہ یا دنیا کی نظر سے دیکھیں، تو اس وقت کا مقصد محض دنیاوی فائدہ ہو گا، لیکن اگر ہم اس وقت کو مذہبی نقطہ نظر سے دیکھیں، تو یہ ہمیں روحانی سکون، اللہ کی رضا اور آخرت کی فلاح کی طرف رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دنیا کے کاموں کو نظر انداز کریں۔ بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں دنیا اور مذہب کے درمیان توازن قائم کرنا چاہیے۔ کاروبار میں کامیابی کے لیے ایمانداری، محنت اور انصاف کی ضرورت ہے، اور مذہب میں کامیابی کے لیے ایمان، عبادت اور اخلاقی اقدار کی اہمیت ہے۔ دونوں کو الگ الگ پہلو سے دیکھنا ضروری ہے تاکہ ہم زندگی کے دونوں جہتوں میں کامیاب ہو سکیں۔

نتیجہ:

کاروبار اور مذہب دونوں اہم ہیں، لیکن ان کی نوعیت مختلف ہے۔ کاروبار کو دنیاوی مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے، جبکہ مذہب انسان کو روحانی اور اخلاقی ترقی کی راہ دکھاتا ہے۔ اگر ہم کاروبار کو دنیا کی نظر سے اور مذہب کو مذہب کی نظر سے دیکھیں، تو دونوں میں توازن پیدا ہو سکتا ہے، اور ہماری زندگی میں سکون اور کامیابی آ سکتی ہے۔

پیر، 13 جنوری، 2025

شوگر کا علاج یا شوگر سے موت؟ فیصلہ آپ خود کریں

آج میرے ایک جاننے والے بہت قریبی رشتہ دار کی موت ہوگئی۔

مجھے بتایا گیا کہ وہ شوگر کا مریض تھا اور شوگر کی وجہ سے اس کا بلڈ پریشر بڑھ گیا یا جو بھی تھا، اس کے جسم میں سانس یا پھیپھڑوں وغیرہ میں مسئلہ پیدا ہوا اور راستے ہی میں اس کی موت ہوگئی۔

کہنے کو تو یہ ایک عام سی بات ہوچکی ہے کہ آئے روز لوگ مرنے لگے ہیں مگر آخر کب تک ایسی بیماریوں سے لڑتے ہوئے مریں گے؟ وہ کوئی عام انسان نہ تھا۔ ایک آئی ٹی پروفیشنل تھا۔میرے ساتھ کام کرچکا تھا۔ ایک کمپنی کا سی ای او رہ چکا تھا جہاں میں اس کو جاکر گائڈ کیا کرتا تھا۔ اس نے بعد میں ریئل اسٹیٹ کاروبار بھی کیا ارو ڈراپ شپنگ بزنس بھی شروع کیا۔ یعنی اچھا خاصا جوان اور تجربہ کار ہونہار لڑکا تھا۔ بہت معلوم ہو تو اس کی عمر تقریبا ۳۰ سے ۴۰ کے درمیان ہوگی۔واللہ اعلم بالصواب۔

میں نے اس کو بتایا بھی تھا کہ شوگر کیسے ٹھیک کرسکتے ہیں مگر شاید اس نے میری بات نہ مانی اور اپنی دنیا میں مست رہا اور اچانک موت کا شکار ہوگیا اسی بیماری کی وجہ سے۔

میں نہیں جانتا کہ پاکستان میں یا دنیا بھر میں کتنے لوگ شوگر کی بیماری کی وجہ سے مرجاتےہیں مگر میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ لاعلاج بیماریوں کو ختم کرنے کی اسکلز سیکھ کر ناجانے کتنے آئی ٹی پروفیشنلز خود کو حفاظت میں رکھ کر کام کرسکتے ہیں کہ جب کوئی خطرناک بیماری ان پر حملہ کرے تو وہ فورا اپنے دفاع کے لیے ایک مارشل آرٹسٹ کی طرح فائٹر بن کر جنگ کریں اور اس بیماری کو جڑ سے ختم کردیں تاکہ نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری۔

اب میں نے تو لاعلاج مریضوں کو ٹھیک کرنے کی لیجنڈری اسکلز سیکھ رکھی ہیں، روحانی طاقتیں بھی حاصل کرچکا ہوں اور اللہ کے فضل و کرم سے لاعلاج بیماریوں کو جڑ سے ختم کرسکتا ہوں اللہ کی مدد سے مگر لوگ کیا کررہے ہیں؟ اگر اسی طرح انکاری بن کر رہیں گے یا اللہ والوں کا مذاق تماشہ اڑاتے رہیں گے اور میڈیکل سائنس کو اسپریچوئل سائنس پر ترجیح دیتے رہیں گے، جبکہ مقصد صرف علاج معالجہ کرنا ہونا چاہیے، تو یقین کریں، لوگ خود اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتارنے کی کوششیں کرتے رہیں گے جب کہ انہیں معلوم ہے کہ انہیں موت آجائے گی جسم ختم ہونے کے بعد۔

یہ اللہ کا سسٹم ہے کہ موت یا تو فرشتے کے نازل ہونے پر آتی ہے جو اللہ کے حکم سے پہنچتا ہے یا پھر اگر کسی کو جسم کو خراب کردیا جائے، یا اس کا جسم کسی بیماری سے ختم ہوجائے، یا اس پر چھری چاقو تلوار بندوق وغیرہ سے حملہ کرکے زخمی کرکے قتل کردیا جائے، یا ہاتھ پاوں کاٹ کر گردن الگ کردی جائے، ایسی تمام صورتوں میں بھی موت واقع ہوسکتی ہے۔

یہ اس لیے کہ جب جسم روح کو سنبحالنے کے قابل نہیں رہتا تو اللہ کے سسٹم کے تحت روح جسم سے نکل جاتی ہے اور اسے لینے کے لیے موت کا فرشتہ حاضر ہوجاتا ہے۔

یہ ایسے ہی ہے جیسے گویا موبائل فون کا بٹن خود دباکر موبائل آف کردیا جائے یا پھر کسی وجہ سے اچانک موبائل فون خود بخود بند ہوجائے۔دونوں صورتوں میں گویا موبائل فون کی موت ہوجاتی ہے اور وہ مکمل طور پر آف۔۔۔اب آپ کی زندگی کا بٹن موت کا فرشتہ آکر دبائے یا پھر آپ کے جسم کی خرابی کے تحت آپ کی زندگی آف ہوجائے، یہ فیصلہ آپ خود کرلیں۔

لیجنڈری فری لانسر ذیشان ارشد

غریب کی طرح خریدو اور امیر کی طرف بیچو

جب انسان غریب کی طرح سوچتا ہے اور خریدتا ہے تو سستا خریدتا ہے۔ ایسی مارکیٹس تلاش کرتا ہے جہاں مال سستا ملے لیکن جب بیچنے کی باری آجائے تو اسے چاہیے کہ امیروں میں جاکر بیچے تاکہ مہنگے داموں اس کو آمدنی حاصل ہو اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ دین اسلام میں مال کمانے کے نفع پر کوئی پابندی نہیں ہے ایسی چیزوں پر جو لوگوں کو روزمرہ معاملات میں "ضرورت" کے تحت استعمال نہیں ہوتیں۔

مثال کے طور پر آٹا، گھی، چینی، نمک وغیرہ مگر۔۔۔اگر ان چیزوں کی روانی ہو اور کوئی خصوصی دال چینی، آٹا، گھی، نمک لاکر بیچے یعنی کہ روحانی آٹا، روحانی چینی، روحانی اگربتی وغیرہ تو وہ اس کے بدلے مہنگی قیمت وصول کرسکتا ہے اپنی برانڈ کے تحت جیسا کہ میں لیجنڈری فری لانسر ویب سائٹ پر ایسی روحانی پراڈکٹس اور سروسز فراہم کرتا ہوں جو عام طور پر دستیاب نہیں ہوتیں اور ان چیزوں کو استعمال کرنے پر لوگوں کو اللہ کے حکم سے شفا ملنے کا دعوی بھی کرتا ہوں کیونکہ انسان خواہ کوئی بھی دوا استعمال کرلے یا دعا کرلے، اپنی تمام تر کوششوں کے بعد نتیجہ اللہ کے حکم سے ملنے کا انتظار کرنا چاہیے۔

یہ بات یاد رہے کہ شفا اللہ کے حکم سے بغیر مل ہی نہیں سکتی۔لہذا دھندا کوئی بھی ہو اسلامی اصولوں کے مطابق ہو تو بہتر ہے۔ باقی جہاں تک غریب بن کر سوچنا اور بیچنا ہے تو وہ بات اس لیے ہے تاکہ فری لانسر ز اپنے فری لانسنگ بزنس میں سروسز کے ساتھ ساتھ پراڈکٹس بیچ کر بھی اپنی آمدنی میں اضافہ کرسکیں اور اپنی ویب سائٹ پر سب کچھ بیچنے کے لیے لگادیں۔

جب تک کسٹمر کو معلوم نہ ہوگا کہ آپ کیا بیچ رہے ہیں تو وہ خریدے گا کیسے؟

لہذا ایک فری لانسر چونکہ چلتا پھرتا بزنس مین ہوتا ہے اس لیے اسے لازمی ہے کہ ایک بزنس مین بن کر سوچے۔ مال کہاں سے سستا ملے ؟ اسے بھی نظر میں رکھے اور مال کدھر مہنگا کرکے بہچنا ہے، اس پر بھی نظر رکھے۔

ایک کلائںٹ جب چاہے امریکہ میں رہتے ہوئے کسی پاکستانی فری لانسر سے کام کرواسکتا ہے سستے ریٹ پر یا کسی انڈین فری لانسر سے کام کرواسکتا ہے مگر جب چاہے کسی امریکی فری لانسر کو بھی مہنگے داموں ہائر کرکے کام کرواسکتا ہے۔ تو فرق کس بات کا ہے؟ یہی کہ اسے بھی معلوم ہے کہ پاکستانی یا انڈین فری لانسرز سستے ریٹ پرسستی کوالٹی کا کام کرتے ہیں اور امریکی فری لانسر مہنگے ریٹ پرہائی کوالٹی کا کام کرتا ہے۔

لیکن اگر کسی امریکی کلائنٹ کو اچھا اور کوالٹی کام کرنے والا پاکستانی فری لانسر حاصل ہوجائے اور کم قیمت پر بہترین کام کرکے دے تو؟ تو ایسی صورت میں ظاہر سی بات ہے کہ وہ اسی کو بار بار ہائر کرے گا اور اپنے کام کروائے گا۔

اسی طرح اگر آپ کو اپنا فری لانسنگ بزنس کرتے ہوئے ایسے کاموں میں کسی سے کام کروانے کی ضرورت پڑجائے جو سستے داموں اپنی سروس بیچ رہا ہے تو آپ کو خریدنے میں ہرج ہی کیا ہے؟ یہ اس کے ریٹ ہین، آپ کے ریٹ نہیں۔آپ اس کو ہائر کریں، سستے داموں کام کروائیں اور اپنے بزنس کو آگے بڑھائیں۔

باقی جہاں تک پراڈکٹس کی بات ہے تو پاکستان میں کئی ایسی مارکیٹس ہیں جہاں سے سستے داموں مال ملتا ہے۔ آپ کو جو بھی پراڈکٹس خریدنی ہیں، وہاں سے خرید کر انٹرنیشنل مارکیٹس میں انگریزوں کو بیچنا شروع کردیں۔ ان کے پاس دولت ہے، وہ خرید کر آپ کو نفع دیں گے ان شاء اللہ۔

آپ کو کسی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ آپ مال کہاں سے خریدکر لاتے ہیں۔ یہ آپ کا بزنس سیکریٹ ہونا چاہیے۔جو آپ کے اسٹوڈنٹس بننا چاہیں اور آپ کو فیس ادا کریں، یہ باتیں آپ صرف انہیں کو سکھائیں تاکہ آپ کے مقابلہ پر ہر کوئی کھڑا ہونے کی جرات نہ کرسکے۔

یاد رکھیں، کوئی بھی برانڈ والا، اپنے بزنس سیکریٹس کسی اور کو نہیں دیتا۔ جب آپ اپنے نام سے کام کریں یا کسی برانڈ کے نام سے پہچان بنائیں تو اس چیز کا خیال رکھیں کہ آپ سستے ہرگز نہیں ہیں۔

ایک تجربہ کار فری لانسر ایک بزنس مین ہوتا ہے۔وہ اپنی پراڈکٹس اور سروسز کے ذریعے پیسہ کماتا ہے۔ڈالرز کماتا ہے۔ یورو کماتا ہے۔انڈین روپے کماتا ہے۔ پاکستانی روپے کماتا ہے۔اس کے پاس بہت ساری کرنسی ہوتی ہیں بلکل ایک ویڈیو گیم کی طرح جس میں مختلف کرنسی کماکر ایک گیمنگ کریکٹر اپنے لیے بہت سے فائدے حاصل کرتا ہے اور جس کرنسی میں جو مال ملے اسے خرید کر لاتا ہے یا فروخت کرتا ہے۔

آپ کہاں سے کمائیں گے؟ یہ آپ فیصلہ کریں۔

مگر آپ کہاں سے خریدیں گے؟ یہ میں آپ کو بتاچکا ہوں۔

غریب بن کر سوچیں، غریبوں کی طرح سستا خریدیں مگر اس کے بعد؟

امیر بن کر سوچیں اور امیروں کی طرح بزنس کرنا سیکھیں اپنے کسٹمرز کے ساتھ ایک برانڈ بناکر۔

لیجنڈری فری لانسر ذیشان ارشد

بدھ، 1 جنوری، 2025

آن لائن کورسز کس سے سیکھیں؟

 میرا نام ذیشان ارشدہے اور میں ایک تجربہ کار ویب ڈیویلپمنٹ اسپیشلسٹ ہوں۔ پچھلے 20سالوں میں میں نے 100 سے زائد کمپنیز  کے بزنس آنرز اور جاب پروفیشنلز کو ان کے ویب پراجیکٹس مکمل کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔

میرے کورسز کے ذریعے آپ پریکٹیکل ویب ڈیویلپمنٹ ٹیکنیکس، ڈومین اینڈ ویب ہوسٹنگ، اور فری لانسنگ سیکھ سکتے ہیں تاکہ آپ اپنے کیریئر اور بزنس کو آگے بڑھاسکیں ۔

میرے پریکٹیکل کریش کورسزکے ذریعے ہزاروں اسٹوڈنٹس ویب سائٹ بنانا سیکھ چکے ہیں اور انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔نیز میرے مختلف کریش کورسز کے ذریعے بہت سی دیگر اسکلز بھی میرے اسٹوڈنٹس نے سیکھی ہیں۔

میں آئی ٹی اسکلز  سیکھنے کو بہت آسان بناتا ہوں اور یہی وجہ ہے کہ میرے کریش کورسز کے ذریعے اسٹوڈنٹس پریکٹیکل طور پر بہت جلدی آئی ٹی اسکلز سیکھ جاتے ہیں۔

اگر آپ ویب ڈیویلپمنٹ اسکلز کو سیکھنا چاہتے ہیں اور فری لانسنگ کیریئر میں ترقی کرنا چاہتے ہیں تو میرے کریش کورسز  ابھی پرچیز کریں اور سیکھنے کا سفر شروع کریں!