جمعہ، 27 جون، 2025

تمہیں یہاں سے چلے جانا چاہیے۔ اور دوبارہ واپس مت آنا

social media se ek behtreen post

"تمہیں یہاں سے چلے جانا چاہیے۔ اور دوبارہ واپس مت آنا۔"
بس یہی الفاظ تھے جو اُس نے سنے۔
نہ کوئی چیخ، نہ آنسو۔ بس ایک سپاٹ جملہ... اور دروازے کے بند ہونے کی آواز۔
یہ اُس کی نانی تھیں۔
وہ عورت جس نے اُسے پالا تھا، کھلایا، ہر قدم پر اُس کا خیال رکھا — آج اُسے ایسے باہر نکال رہی تھیں جیسے وہ کوئی اجنبی ہو۔
قریب کھڑے اُس کے نانا حیران رہ گئے۔
"تم کیا کر رہی ہو؟ وہ تمہارا نواسہ ہے!"
نانی نے کوئی جواب نہیں دیا۔
بس خاموشی سے پلٹ کر گھر کے اندر چلی گئیں۔
اُسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔
کسی کو نہیں آیا — نہ ہمسایوں کو، نہ خود اُسے۔
وہ ابھی تک وہی کپڑے پہنے ہوئے تھا جو دوپہر کو پہنے تھے۔
نہ بٹوہ، نہ فون، نہ چابیاں۔ بس... باہر۔
سو وہ چل پڑا۔
پہلے ایک دوست کے گھر گیا۔
"یار، کیا میں کچھ دن تمہارے ساتھ رہ سکتا ہوں؟"
دوست حیرت سے دیکھنے لگا، "تمہیں نکال دیا گیا؟"
"ہاں..." اُس نے سر ہلایا۔
"یار معذرت، میرے والدین اجازت نہیں دیں گے۔ میں چاہتا ہوں مدد کرنا، لیکن نہیں کر سکتا۔"
وہ وہاں سے بھی چلا گیا۔
راستے میں ایک اور دوست ملا۔
"ٹھیک ہو؟ بڑے پریشان لگ رہے ہو۔"
"میرے پاس رہنے کی کوئی جگہ نہیں۔ کچھ دن تمہارے ہاں ٹھہر سکتا ہوں؟"
"تمہارے پاس پیسے ہیں؟ کوئی خرچہ اٹھا سکتے ہو؟"
"نہیں... میرے پاس کچھ بھی نہیں۔"
"تو پھر معذرت، میں کچھ نہیں کر سکتا۔"
وہ خاموشی سے سر جھکائے چلتا رہا۔
آخرکار وہ اپنی گرل فرینڈ کے پاس پہنچا۔
اُسے گلے لگایا اور ساری بات بتائی۔
وہ پریشان ہو گئی۔ بولی کہ اپنے والدین سے بات کرے گی۔
کچھ دیر بعد واپس آئی۔ آواز دھیمی تھی اور آنکھیں اداس۔
"میرے والدین نے منع کر دیا ہے۔ اور سچ کہوں تو... میں اُن کا فیصلہ نہیں بدل سکتی۔ معاف کرنا۔"
وہ خاموش رہا۔
بس سر ہلایا... اور واپس چل پڑا۔
اب وہ واقعی اکیلا تھا۔
ایک پارک کی بینچ پر بیٹھا آسمان کو دیکھنے لگا۔
جس کے لیے وہ ہمیشہ موجود رہا، وہ سب اُس کے لیے موجود نہ تھے۔
کئی گھنٹے گزر گئے۔
اور جب وہ سمجھ بیٹھا کہ اب کوئی نہیں آئے گا...
تب اُس کے نانا کی گاڑی آکر رکی۔
"آؤ، گھر چلتے ہیں۔"
اُس نے سر ہلایا۔
"کس لیے؟ تاکہ کل دوبارہ نکال دیا جائے؟"
"بس ایک بار اور چل پڑو میرے ساتھ... مجھ پر بھروسہ رکھو۔"
اُس نے ہچکچاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔
راستے بھر دونوں خاموش رہے۔
گھر پہنچتے ہی نانی دوڑتی ہوئی آئیں اور اُسے گلے لگانے کی کوشش کی۔
لیکن اُس نے پیچھے ہٹ کر اُنہیں روک دیا۔
تب نانا نے نرمی سے کہا، "بیٹھو۔"
اور پھر اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر آہستہ سے بولے:
"اس نے یہ سب تمہیں تکلیف دینے کے لیے نہیں کیا۔ بلکہ کیونکہ وہ تم سے سب سے زیادہ محبت کرتی ہے۔
وہ چاہتی تھی کہ تم وہ دیکھو، جو وہ کب سے دیکھ رہی تھی۔
تمہیں لگتا تھا تمہارے سچے دوست ہیں۔ ایک مضبوط رشتہ ہے۔
لیکن اُس نے دیکھا کہ یہ سب لوگ صرف تب تک تمہارے ساتھ ہیں جب تم کچھ دے سکتے ہو۔
جب تمہیں کچھ چاہیے ہو، تو سب غائب ہو جاتے ہیں۔
اُسے تمہیں یہ دکھانا تھا — تاکہ تم خود دیکھو، خود سمجھو کہ کون تمہارے لیے سچ میں ہے۔"
اُس کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے۔
تب نانی آہستہ سے آگے بڑھیں، آواز کانپ رہی تھی:
"میرے لیے وہ دروازہ بند کرنا سب سے مشکل کام تھا،" وہ بولیں۔ "لیکن میں مزید ایسے نہیں جی سکتی تھی جیسے سب ٹھیک ہے۔
تمہیں حقیقت کا سامنا کرنا تھا۔
اور مجھے تم سے اتنی محبت کرنی تھی کہ تمہیں تکلیف دے سکوں — تاکہ تم سیکھ سکو۔"
اب وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔
بچوں کی طرح نانی سے لپٹ گیا، ایسا گلے لگایا جیسے الفاظ کی ضرورت ہی نہ ہو۔
اور اُس لمحے میں... اُسے ایک ایسی بات سمجھ آ گئی جو لفظوں سے نہیں سکھائی جا سکتی۔
کبھی کبھی جو انسان تم سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے، وہی تمہیں جھنجھوڑنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
تاکہ تم وہ سچ دیکھ سکو، جس سے تم آنکھیں چرا رہے تھے۔
جب تمہارے پاس سب کچھ ہوتا ہے، تو لوگ تمہارے گرد آ جاتے ہیں۔
لیکن جب تمہارے پاس کچھ نہ ہو — تب تمہیں پتا چلتا ہے کون تمہارے ساتھ ہے۔
نہ کسی فائدے کے لیے۔
بس تمہارے لیے۔
اور ہاں، یہ تکلیف دیتا ہے۔
لیکن آخرکار، یہی تمہیں مضبوط بناتا ہے۔

جمعہ، 13 جون، 2025

کن رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنا جائز ہے؟

Kin Rishtedaron Se Qata Taluq Karna Jaiz Hai | Mufti Akmal | ARY Qtv



غیرمسلم اسلام کیوں قبول کریں؟

 غیرمسلم اس لیے اسلام قبول کریں تاکہ وہ موت کے بعد بھڑکتی ہوئی آگ اور دردناک سزاوں میں جانے سے خود کو بچاسکیں جو اللہ نے کافروں کے لیے تیار کرکے رکھی ہوئی ہے۔

غیرمسلم دنیا میں جتنی چاہے ترقی کرلیں، جتنا چاہے کام کرلیں، دولت شہرت عزت کامیابی حاصل کریں، یہ سب ان کی موت کے بعد انہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچاسکے گی۔

موت کے بعد صرف ایمان بچائے گا اور اس کے لیے اسی زندگی میں اللہ اور اس کے آخری نبی حضرت محمد رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ہوگا۔ انہیں ماننا پڑے گا۔ اگر کوئی غیرمسلم اللہ کا انکار کرے تو جہنم میں داخل ہوگا۔ اگر کوئی غیرمسلم اللہ کو مانے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرے، وہ بھی کافر ہے اور جہنم میں داخل ہوگا۔

جہاں تک یہ بات ہے کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ صرف اسلام اللہ کا دین ہے اور اللہ اس کائنات کا اصلی خدا ہے؟

اس کے ثبوت کے لیے مندرجہ ذیل یوٹیوب چینل اور ویب سائٹس دیکھی جاسکتی ہیں۔

YouTube Channels:

Websites:

مسلسل روز جاگنا بیماری کا باعث (Sidra Naseem) - ایک سوال

 سدرہ نسیم کی ایک پوسٹ پر یہ لکھا تھا


اس پر ایک کمنٹ کسی نے پوسٹ کیا اور کچھ جاہل گنواروں نے اس پر ہنسی مذاق بھی اڑایا نیز سدرہ نسیم نے مسلسل روز جاگنے کو بیماری کا باعث بننے کا سبب بتادیا مگر میڈیکل کو سامنے رکھ کر مگر اس روحانی بلندی کو غلط رنگ دیتے ہوئے۔

اب میرا یہ سوال ہے سدرہ نسیم اور اس کے تمام پیروکاروں سے کہ

مسلسل روز جاگنے سے کتنے ولی اللہ، صحابہ کرام اور نبیوں کا انتقال بیماریوں سے ہوا ہے؟

اللہ کی سزائیں بستیوں پر

 بچپن میں جب قرآن میں ان بستیوں کا ذکر پڑھتی تھی جن پر اللہ کا عذاب آیا اور سب کے سب ہلاک ہو گئے، تو یہ سوال دل میں اٹھتا تھا کہ ان میں جو نیک اور بے گناہ لوگ تھے ان کا کیا قصور تھا؟ وہ بھی ساتھ کیوں ختم ہو گئے؟ وقت گزرنے کے ساتھ جب میں نے دنیا کے نظام، خاص طور پر اپنے ملک کی سیاست، جاگیردارانہ نظام اور طاقت کے غلط استعمال کو دیکھا تو اندازہ ہوا کہ جب ایک نظام مکمل طور پر ظلم، بددیانتی اور ناانصافی پر قائم ہو جائے، تو پھر اس کی اصلاح کا ایک ہی طریقہ رہ جاتا ہے کہ وہ مکمل طور پر الٹ دیا جائے۔ ایسے میں جو نیک لوگ ہوتے ہیں ان کی ہلاکت دراصل ان کے لیے نجات بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ظالم نہیں۔ مگر نیک لوگ معاشرتی برائیوں کے خلاف آواز نہ اٹھائیں اور صرف اپنی عبادت اور ذاتی نیکی میں محدود ہو جائیں تو وہ خاموشی بھی گناہ بن جاتی ہے۔ اور جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو وہ صرف بدکاروں پر نہیں بلکہ ان سب پر آتا ہے جو برائی کو روکنے میں ناکام رہے ہوں۔ بعض اوقات اللہ نیک لوگوں کو فتنوں سے بچانے کے لیے پہلے ہی دنیا سے اٹھا لیتا ہے۔ اس لیے کسی بستی کی مکمل تباہی دراصل ایک بیمار نظام کی جڑ سے صفائی اور نئے آغاز کی تیاری ہوتی ہے۔

ایسی بات نہیں ہے۔ اللہ نیک لوگوں پر عذاب نہیں بھیجتا۔ قرآن کے مطابق اکثر لوگ ظالم فاسق ہیں لہذا اللہ اپنے قانون کے مطابق ظالموں کو سزائیں دیتا ہے۔ ان کے ذریعے صاف واضح ہے کہ بسیتوں کے لوگ ظالم ہوتے تھے اور یہی آجکل واضح ہے لہذا اللہ اپنی سنت کے مطابق کام کرتا رہتا ہے۔ لوگوں کو شعور نہیں کہ وہ اللہ کو صرف لفاظی کے ذریعے بےوقوف نہیں بناسکتے کہ منہ سے کلمہ پڑھ لیا اور کام سارے کافروں والے کرتے رہیں۔ اللہ کے نزدیک دو اہم طبقات ہیں، ایمان والے یا پھر کفر کرنے والے کافر، اور کفر کرنا انکار کرنا ہوتا ہے اور انکار کرنے والا "عمل نہیں کرتا" تو عملا کافر بھی کافروں کی category میں شمار ہوجاتا ہے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس سے اکثر لوگ جاہل ہیں اور غافل ہیں۔

پھر ہم نے وہاں سے اُن لوگوں کو نکال لیا جو مومن تھے، اور ہم نے اس بستی میں مسلمانوں کے ایک گھر کے سوا کوئی نہ پایا۔ سورہ الذاریات (51)، آیت 35-36

اور اسی طرح تیرے رب کی پکڑ ہوتی ہے جب وہ ظلم کرنے والی بستیوں کو پکڑتا ہے۔ بے شک اس کی پکڑ بہت دردناک اور سخت ہے۔ سورۃ ہود (11:102)

اور کتنی ہی ظالم بستیاں ہم نے تباہ کر دیں، اور ان کے بعد دوسرے لوگوں کو پیدا کیا۔ سورۃ الانبیاء (21:11)

اور آپ کا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکزی مقام میں کوئی رسول نہ بھیج دے جو ان پر ہماری آیات تلاوت کرے، اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کرتے مگر جب ان کے رہنے والے ظالم ہوں۔ سورۃ القصص (28:59)

اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو وہاں کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں، پھر وہ نافرمانی کرتے ہیں، تو ان پر بات ثابت ہو جاتی ہے، پھر ہم اسے پوری طرح تباہ کر دیتے ہیں۔ سورۃ بنی اسرائیل (17:16)

جمعرات، 12 جون، 2025

اگر کوئی فیس دے کر نہیں سیکھنا چاہتا تو تمہیں کیا مسئلہ ہے؟

 پہلے یوٹیوب نہیں تھا۔

پہلے لاکھوں لوگ علم اس طرح نہیں سکھارہے تھے۔
اگر کوئی فیس افورڈ نہیں کرسکتا، وہ جہاں سے چاہے مفت سیکھ سکتا ہے۔
جو فیس افورڈ کرسکتا ہے اور استاد کی اہمیت سمجھتا ہے، یا براہ راست استاد سے سیکھنا چاہتا ہے، وہ اسے فیس دے کر سیکھ سکتا ہے، مسئلہ کسی بھی صورت میں نہیں ہے۔
فری سیکھنے والوں کو ڈی گریڈ کرنا بمقابلہ فیس دے کر سیکھنے والوں کے، کسی کا حق نہیں۔
جسے فری سیکھنا ہے سیکھے، جسے پیسے دے کر سیکھنا ہے سیکھے۔
دنیا میں ہر طرح کے انسان ہیں، اور ہر طرح کے لوگ کامیاب ہوچکے ہیں۔
اگر بہت سے لوگ کروڑوں کمانا چاہتے ہیں اور ہزاروں بھی نہیں لگارہے سیکھنے کے لیے تو اس میں مسئلہ کدھر ہے؟ میں ایک کروڑ سے زائد کماچکا ہوں اور سیکھنے پر اتنے ہزار نہیں لگائے تھے، تو؟
ہر انسان کے حالات و واقعات مختلف ہوسکتے ہیں، ایک قانون سب پر اپلائی نہیں ہوسکتا۔

اب بات کرتا ہوں ڈاکٹر کی
اگر ڈاکٹر 2000 فیس لے رہا ہے تو یہ اس کا حق ہے کہ وہ اپنی فیس 2000 رکھے ہوئے ہے۔ جسے تکلیف ہے وہ اس ڈاکٹر کے پاس کیوں نہیں جاتا جو فی سبیل اللہ علاج کررہا ہے یا 100 روپے فیس لے کر دوا دے رہا ہے؟ کیا معاشرے میں ہر طرح کے ڈاکٹرز موجود نہیں ہیں؟ لہذا بے تکی باتوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
ذیادہ فیس مانگنے سے کوئی حرام خور نہیں بن جاتا۔
مجھ سے کوئی علاج کروانے کے لیے آتا ہے، میں پانچ لاکھ روپے ڈیمانڈ کرتا ہوں، یہ میرا بزنس ہے، اب اگر کسی ڈاکٹر کو تکلیف پہنچے یا کسی کے پیٹ میں مروڑ اٹھے، تو میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں۔
ابھی تو ویسے بھی فی الحال علاج معالجہ کا کام pending میں چھوڑ رکھا ہے کیونکہ اکثر لوگ جہالت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لہذا انہیں بھی سبق ملنا چاہیے کہ لاعلاج حالت میں موت کا ذائقہ چکھنے کے قریب جاتے وقت کیسی حالت ہوجاتی ہے انسان کی، پھر ڈھونڈتے پھرتے ہیں کسی مسیحا کو۔ ناقدرے اور ناشکرے لوگ۔

اور ایک بات یہ کہ اسکل سکھانے والے سے یہ سوال کرنا کہ آپ نے کچھ کمایا یا نہیں؟ یہ انتہائی حماقت انگیز سوال ہے۔ کیا کوئی اسٹوڈنٹ اپنے سر سے کلاس میں پوچھتا ہے کہ سر یہ جو آپ ہمیں انگریزی، اردو، اسلامیات، حساب، فزکس وغیرہ پڑھارہے ہیں تو کیا آپ نے اپنی زندگی میں کبھی ان subjects کے زریعے کچھ کمایا ہے؟ یہ بدتمیزی اور بدتہذیبی کہلائے گی۔

ٹیچر کا کام اپنا ہنر سکھانا ہے، علم ٹرانسفر کرنا ہے تو اس پر فوکس ہونا چاہیے، نہ کہ ٹیچر کی ذاتی زندگی، کمائی اور حالات واقعات پر نظر ثانی کرنا ہر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کا حق ہونا چاہیے۔

یہاں میں ٹیچرز کو بھی ڈیفینڈ کررہا ہوں جن پر تنقید کی جاتی ہے کہ تم خود تو کچھ کمانہیں سکے تو پڑھا کیوں رہے ہو؟ یا کچھ زندگی میں کر نہیں سکے تو پڑھانے لگ گئے۔

مارکیٹ میں ہر طرح کے لوگ ہیں، ہر طرح کے اسٹوڈنٹس ہیں۔ جس کا جہاں دل لگتا ہے، جہاں matching ہوتی ہے، جہاں کنکشن بنتا ہے، کرلے، مگر دوسروں کو تذلیل کرنے کا حق اسے نہیں۔

ایک کورس بیچنے والا ہے تو جسے کورس بیچنے کی اوقات نہیں، اسے کوئی حق نہیں کہ کورس بیچنے والے کو منجن بیچنے والا کہہ کر اس کا مذاق اڑائے۔

یہاں تو عجیب ڈرامے بازی چل رہی ہے۔ جس جاہل کا بس چلتا ہے جو مرضی ہانک دیتا ہے۔

اب سڑتے رہو، پڑھتے رہو، اپنا کام ہوچکا۔

الحمدللہ
ذیشان ارشد

غزہ میں صیہونی فورسز نے 57 امدادی کارکنوں سمیت 120 فلسطینی کو شہید کردیا

میں دیکھ رہا ہوں کہ پاکستانی میڈیا ایسے نیوز نشر کرتا ہے جیسے کوئی معمول کی بات ہو اور آلو بھنڈی کے ریٹ بتائے جارہے ہوں۔ ایک عام سی خبر کہ غزہ میں اتنے شہید کردیے گئے، یا فلاں مارے گئے۔

یہ سب کس کو سنارہے ہیں؟

اگر عوام کو سنارہے ہیں تو کس منہ سے سنارہے ہیں؟

کیا عوام کچھ کرسکتے ہیں؟

اگر ہاں تو کیا کریں؟

اگر نہیں تو عوام کے بجائے یہ کس کی ذمہ داری ہے کہ غزہ پر حملہ کرنے والے اسرائیلی یہودی کتوں کو ان کی اوقات دکھائے جاکر اور انہیں لگام ڈالے؟

ظاہر سی بات ہے یہ کام پاکستانی آرمی سمیت دنیا کی تمام مسلم فورسز کے ذمہ آتا ہے۔

کیا وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کررہے ہیں؟

اگر ہاں، تو یہ جنگ بند کیوں نہ ہوسکی اب تک؟

اگر نہیں، تو اب تک کیا جھک ماررہے ہیں؟

انڈیا نے پاکستان پر حملہ کیا تو پاکستان نے تہہ بہ تہہ حملہ کردیا کہ ہمارے ملک کا معاملہ ہے۔

یہ فلسطینی کس کا معاملہ ہے؟

کیا اب اللہ کو خود آنا پڑے گا یہ سارے معاملات طے کرنے کے لیے؟

اگر وہ آگیا تو پھر باقی کسی کو نہ چھوڑے گا۔

ساری دولت، شہرت، طاقت، عہدے، دبدبہ لاشوں کے انبار میں بدل کر رکھ دے گا۔

اب بھی وقت ہے، مسلم آرمی ہوش کے ناخن لے اور پاکستانی آرمی جاکر غزہ میں جنگ بندی کرے یا پھر تمام مسلم ممالک کے حکمران اور ان کے چمچے اپنی عیاشیاں چھوڑ کر پہلے غزہ پر کاروائی کریں ارو انہیں سپورٹ کریں اور انہیں اپنے ملکوں میں رہائش اور بنیادی سہولتیں فراہم کریں۔

اس سے پہلے کہ اللہ ان کے شہروں کو عبرت کا نشان بناڈالے یا ان کے محلوں کو زمین بوس کرڈالے اور اللہ پر ایسا کرنا بہت آسان ہے۔

وللہ واحد القہار


بدھ، 11 جون، 2025

لائف/بزنس/آئی ٹی اسکلز سیکھنے کے لیے بہترین یوٹیوب چینلز

Shaykh Atif Ahmed (Lion-Like Courage)
https://www.youtube.com/channel/UCFsDXM40vHfbNEBt9YdayVg

Shwetabh Gangwar (Personal Development, Study)
https://www.youtube.com/channel/UC2gQaoCItAC-IbT8RNwWqLQ

Zeeshan Arshad (Multipotentialite, Life Transformation, Confidence)
https://www.youtube.com/channel/UCFsDXM40vHfbNEBt9YdayVg

Shabbir Arshad (Martial Arts)
https://www.youtube.com/channel/UCb6ihhxgkWEug_2JBRUBiqg

Kamran Sharif (Mental Health, Depression & Anxiety)
https://www.youtube.com/channel/UCU5aEY3YF7iGgzmWuONJGTA

GFX Mentor (Graphics Designing)
https://www.youtube.com/channel/UCP3AIk974-PeB9bg1Mc7wug

Hisham Sarwar (Freelancing, Blogging & Marketing)
https://www.youtube.com/user/infomist

Sandeep Maheshwari (Motivational Speeches)
https://www.youtube.com/user/SandeepSeminars

Dr. Vivek Bindra (Business and Marketing)
https://www.youtube.com/user/MrVivekBindra

ایک گھٹیا انسان کی وجہ سے سب کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا

 اس وقت رات کے 3:44 ہورہے ہیں۔

میرے جہاں مہمان ٹھہرا ہوا ہوں اس علاقے میں رات کے اس سناٹے کے وقت ایک شخص اپنے گھر میں تیز آواز میں گانے سن رہا ہے۔

اس وجہ سے علاقے کے نہ سہی، اس کے گھر کے قریب کے لوگوں کی نیند خراب ہورہی ہوگی مگر اسے کوئی پرواہ نہیں۔

میں حالانکہ کافی دور ہوں مگر مجھے اس کے گانوں کی آواز آرہی ہے۔

مجھے شدید غصہ آرہا ہے۔

اس لیے کہ رات کی تاریکی اور سکون میں، مجھے کام کرنا ہوتا ہے۔

میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایسے انسانوں کی کوئی مدد نہ کی جائے۔

اور اسی سے مجھے یہ احساس جاگا کہ اس علاقے میں تمام لوگ تو ایسا نہیں کررہے؟

پھر ایک غلیظ شیطان کی سزا سب کو کیوں دی جائے؟

یعنی اگر میں لوگوں کی مدد کروں تو میں سب کی مدد کرسکتا ہوں سوائے ان خبیثوں کے جن کے بارے میں علاقے والے خود گواہی دیں یا میں نے دیکھا ہو کہ وہ مرد یا عورت، دوسروں کو پریشان کرتا ہے یا ان کا جینا حرام کرتا ہے۔

اس کی مثال کچھ اس طرح ہے کہ اگر میں روحانی علاج کرتا ہوں اور میرے پاس غریب لوگ آئیں تو میں بنیادی طور پر سب کا علاج کرسکتا ہوں، چاہے فیس لوں یا نہ لوں، وہ ایک الگ معاملہ ہے، مگر اگر میں فی سبیل اللہ علاج بھی کرنا چاہوں تو سب میرے پاس آسکتے ہیں، کھلا دروازہ اور کھلے دل سے کام کرسکتا ہوں مگر۔۔۔

جس کے بارے میں مجھے معلوم ہوگا کہ یہ وہ شخص ہے یا عورت، چاہے میرا اپنا قریبی رشتہ دار یا بھائی بہن ہی کیوں نہ ہو، جو دوسروں کو تکلیف پہنچا رہا ہے یا جس کے بارے میں لوگ مجھے آگاہ کریں اور میں تصدیق کرلوں کہ یہ واقعی ایک خبیث انسان ہے تو ایسے لوگوں کو میں اپنی خدمات دینے پر پابندی عائد کرسکتا ہوں۔

یہ ہوتا ہے طریقہ کافروں منافقوں کو لگام دینے کے لیے جو معاشرے میں فساد پیدا کررہے ہوں۔

جب تک ان جیسوں کو کھانا پینا، عیاشی، سہولتیں دی جائیں گی یہ مزید بگاڑ پیدا کریں گے لہذا ان کی سزا بنتی ہے۔

مگر ان کی وجہ سے میں لوگوں سے نفرت کروں؟

یہ بات سمجھ نہیں آتی۔'

اسی سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ میرے اندر انسانوں کے گھٹیا سلوک کی وجہ سے جو نفرت پیدا ہوگئی تھی وہ سب کی وجہ سے نہیں بلکہ بعض انسانوں کی وجہ سے ہے ورنہ تو مجھے بہت سے اچھے لوگ بھی ملتے ہیں لہذا ان چند خبیثوں کی وجہ سے پورے معاشرے سے نفرت نہیں کی جاسکتی۔

عام لوگ تو اپنے روز مرہ کے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں، وہ تو خود پریشان ہیں، یہ تو چند گھٹیا شیطانی لوگ ہیں جنہوں نے معاشرے میں فساد مچا رکھا ہے۔

میں سوچتا ہوں کہ اگر میں پولیس میں ہوتا تو کیا کرتا؟

یقینا ایسے سب لوگوں کو گرفتار کرکے جیل میں بند کردیتا۔

پھر معاشرے کے لوگ سدھرنا شروع ہوتے کیونکہ جو ڈرتا ہے وہی اپنی لمٹ میں رہتا ہے۔

اللہ نے بھی ڈر سنانے کے لیے نبیوں کو بھیجا اور بے شک وہ خوشخبری بھی سناتے تھے ایمان والوں کو۔

لہذا معاشرے میں اچھے اور برے انسانوں کے ساتھ الگ الگ رویہ رکھنا جائز ہے۔

مگر ایک کی وجہ سے سب کو الزام دینا درست نہیں اور ناانصافی ہے۔

منگل، 10 جون، 2025

قرآن کا خدا اور ہے، روحانیت کا خدا اور؟

 ایک جاہل انسان نے یوٹیوب پر کمنٹ پوسٹ کیا


اس کی جہالت اس کے کمنٹ سے ٹپک رہی ہے کیونکہ یہ اس قدر جاہل ہے کہ قرآن کی بات کرنے کے باوجود اس کائنات میں دوسرے خدا کے وجود کا اقراری بنا ہوا ہے۔ جو بھی اللہ کے ساتھ کسی اور کو خدا سمجھے، وہ کافر ہے۔

ایسے کافروں کی معاشرے میں کوئی کمی نہیں ہے۔

اولیاء اللہ سے جلن، حسد، بغض، عداوت، دشمنی، نفرت نے ان جیسوں کو واقعی شیطان کا کتا بنارکھا ہے۔

ان جیسوں کو میں اپنے یوٹیوب چینل پر بہت ننگا کرچکا ہوں۔ 

یہ لوگ کمنٹ پر بھونکنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے فزیکل ورلڈ میں پریکٹیکل طور پر

الحمدللہ رب العالمین

میں مسلمانوں کی اصلاح پر کام کرنا کیوں پسند نہیں کرتا؟

میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ معاشرے کے اکثر انسان گمراہ اور مشرک ہیں۔

یہ اللہ کے منکر یا اس کے احکامات کے منکر ہیں۔ 

بعض وہ ہیں جنہوں نے قرآن کا انکار نہیں کیا مگر عملی طور پر کافر ہیں۔

ان کے اعمال دیکھ کر ایک کافر اور مسلمان میں کوئی فرق نہیں کرسکتا۔

کافر بھی وہی کام کررہا ہوتا ہے جو یہ منافقین کررہے ہوتے ہیں۔

فرق یہ ہے کہ وہ یہ کام کلمہ پڑھ کر نہیں کرتے اور یہ اس طرح کے کام کلمہ پڑھ کر کرتے ہیں۔

اب مثال کے طور پر اس وقت گلی میں اندھیرا ہے، لائٹ گئی ہوئی ہے۔

میں جہاں ٹھہرا ہوا ہوں یہ ایک کچی آبادی ہے۔

چاروں طرف لائٹ جانے کے بعد ایک سکون سا ہوتا ہے مگر ساتھ کچھ گھر چھوڑ کر ایک ذلیل انسان جو خود کو مسلمان کہتا ہے، وہ تیز آواز میں گانے بجارہا ہے۔

اسے کوئی پرواہ نہیں کہ اس کے اس گھٹیا کام کی وجہ سے محلہ والوں کو کتنی تکلیف ہورہی ہے۔

وہ اپنی مستی اور عیاشی میں شیطان کا کتا بنا ہوا ہے۔

اس کا باپ پولیس میں ہے۔

ہے تو ویسے ٹلا۔۔۔یعنی ٹریفک پولیس میں مگر ظاہر ہے اس معاشرے کے حرامزدگی کرنے والے زیادہ تر کسی حکمران، پولیس، آرمی، نام نہاد اعلی عہدے پر فائز باپ کی بگڑی ہوئی اولاد ہوتے ہیں۔

یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔

جو بھی ہے مگر اس نے اپنی آخرت خراب کرنے کا سامان خود اپنے ہاتھوں کرلیا ہے۔

ایسے ظالموں، فاسقوں اور کافروں کے لیے میرے دل میں کوئی رحم نہیں ہوتا۔

وجہ صاف ہے کہ جو معاشرے کے لوگوں کو جان بوجھ کر تکلیف دے، انہیں بے سکون کرے اور ان کو اذیت پہنچائے، ایسے منافق اور  کافر سے میرا کیا لینا دینا؟

یہی وجہ ہے کہ میں مسلمانوں کی اصلاح پر کام کرنا پسند نہیں کرتا کیونکہ ان کی اکثریت منہ سے "اللہ" اللہ کرتی ہے مگر اللہ کے حکم کے خلاف جان بوجھ کر کام کرتی ہے۔

یہ لوگ اپنی اصلاح کرنا ہی نہیں چاہتے۔

اسی گلی میں ایک اور گھر والا، اپنے گھر کے باہر بجری اور مٹی منگواکر اپنے گھر میں کام کرواچکا۔ اب چند ماہ سے اس کے گھر کے باہر مٹی اور بجری پڑی ہے، گلی خراب ہورہی ہے، آنے جانے گزرنے میں تکلیف ہوتی ہے، اس کے گھر کے سامنے گٹر کا پانی بھی بہتا رہتا ہے، اس کو میں بول بھی چکا ہوں مگر وہ سدھرنے کو تیار نہیں۔نہ مٹی ہٹائی، نہ سائڈ پر کی، تو ہوگئی اصلاح؟

یہ لاتوں کے بھوت ہیں، باتوں سے ماننے والے نہیں ہیں۔

اتنی مذہبی جماعتوں کے باوجود، مسلمانوں کی اکثریت قرآن سے بے عمل کیوں ہے؟

کیونکہ یہ بے غیرت لوگ خود قرآن پر عمل نہیں کرنا چاہتے۔

یہ اپنے نفس پر وہ پابندیاں نہیں لگانا چاہتے جو اللہ نے ان پر قوانین نافذ کیے ہیں۔

لہذا ایسے سرکش اور بدکے ہوگئے گدھوں سے بدتر انسانوں کو میں اصلاح کرنا پسند نہیں کرتا۔

میں صرف ان مسلمانوں کو سدھرنے میں مدد کرنا پسند کرتا ہوں جو اپنی حالت خود بدلنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے دن رات کوششیں بھی کررہے ہیں۔ گناہگار ہیں مگر شرمسار ہیں۔توبہ کرتے رہتے ہیں۔نہ کہ وہ جو جان بوجھ کر ہٹ دھرمی سے روزانہ ایک غلاظت بھرا کام معاشرے میں ڈنکے کی چوٹ پر کرتے ہیں اور خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔

ایسے کافروں کے لیے تو ذلت کی مار اور دردناک عذاب تیار کرکے رکھا ہوا ہے اللہ نے۔

اور میں قیامت کے دن ایسے ناہنجاروں کے خلاف مکمل گواہی دوں گا۔

اگر اللہ نے اجازت دی تو ان کی سزاوں میں اضافہ بھی کرواوں گا اور انہیں جہنم میں بھی اپنے ہاتھوں سے پھینکوں گا۔

کیونکہ جو لوگوں پر رحم نہیں کرتے، میں ان پر رحم نہیں کرتا۔اور یہی اللہ کا قانون بھی ہے۔

جب اللہ ایسے ناہنجاروں کو ہدایت نہیں دیتا تو میں کون ہوتا ہوں ایسے بے غیرت لوگوں پر اپنا وقت ضائع کرنے والا؟

اس سے تو کئی گنا بہتر ہے کہ میں غیرمسلموں پر کام کروں، انہیں اسلام میں داخل کروں اور ان کو قرآن اور اسلام سمجھاوں کیونکہ وہ کم از کم اسلام کی قدر تو کرتے ہیں۔شوق سے عمل تو کرتے ہیں۔

مجھے نہیں ضرورت ایسے نام کے مسلمانوں کی جو حسد اور جلن سے بھرپور ہیں، مجھے وہ سولڈ مسلم درکار ہیں جو اسلام کا جھنڈا لہراتے ہوئے پوری دنیا پر اسلام غالب کرنے کو تیار ہیں۔

پھر چاہے جس سے جتنا ہوسکے وہ اپنے حصہ کا کام کرے۔

کم از کم میں، اس معاشرے کے منافقین پر اپنا وقت مزید برباد نہیں کرنا چاہتا۔

پہلے ہی بچپن سے جوانی تک یہ لوگ میرا کافی نقصان کرچکے ہیں۔

یہ اسی قابل ہیں کہ انہیں دردناک سزاوں کے ذریعے گرفتار کیا جائے۔

اور یہ کام اللہ کی آرمی کرے گی اور وہ اپنی آرمی سے کام لینا خوب جانتا ہے۔

اللہ واحد القہار کے ساتھ
ڈاکٹر 
لیجنڈ محمد ذیشان ارشد
چیف آف نیچر آرمی اسٹاف
اکیسویں صدی کا مسلم مین
لیجنڈری فری لانسر آف پاکستان

FOUT SHUDA Auliya Say MADAD Mangna? | MARNAY Kay Baad TAQAT Barh Jati Hai? | Mufti Kamran Shahzad

یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے۔ قرآن سے دلیل مانگنا اور اسے قبول کرنا ایک عقل والے انسان کے لیے ہی ممکن ہے۔ اللہ نے اپنی راہ میں قتل ہوجانے والوں کو "زندہ" declare کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اللہ نے دعوی کیا ہے کہ تمہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ البقرہ اور آل عمران میں یہ دونوں آیات موجود ہیں شہدائے اسلام کے حوالے سے۔ ان کی زندگی کا شعور ہر اس انسان کو حاصل نہیں جسے شعور نہیں۔ جو شعور رکھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ موت کے بعد بھی انہیں زندہ declare کرنے کے کوئی reasons ہیں۔ اس کی اعلی مثال شاہ یقیق بابا المعروف روحانی سرجن کی روح ہے جو عالم برزخ میں ہونے کے باوجود اسی physical world میں تصرفات کرتی ہے اور لاعلاج مریضوں کا علاج اور آپریشن سرجریاں کررہی ہے۔ کسی بھی کافر کی روح ایسا نہیں کرپارہی کیونکہ تمام کفار موت کے بعد عذاب میں گرفتار ہیں۔ یہ ہوتا ہے فرق ایک کافر اور مومن کی روح میں۔ اللہ نے یہ اختیار شاہ یقیق بابا کو دیا ہے۔ وہ ایسا کرنے پر قادر ہیں۔

اب سنو اگلی پھکی۔۔۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرنے کے لیے حضرت موسی علیہ السلام عالم برزخ سے کیسے آگئے تھے آسمانوں پر جبکہ ایک انتقال شدہ نبی تھا اور ایک زندہ نبی تھا؟ اور سنو۔۔۔ وہ تمام انبیاء مسجد اقصی میں نماز باجماعت ادا کرنے کیسے پہنچ گئے تھے جبکہ وہ تو مردہ تھے؟ (سوائے حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کے جنہیں اللہ نے زندہ رکھا ہو) کیا مردے بھی زندہ انسان کی قیادت میں نماز ادا کرتے ہیں کسی مسجد میں کھڑے ہوکر؟ یا ایک زندہ انسان روحوں کی جمات کرواسکتا ہے؟ قرآن میں بہت سے واقعات ہیں جو عقل سے خارج ہیں۔ اگر physical resources رکھنے والا انسان موبائل فون ہاتھ میں لے کر کسی سے مدد مانگ سکتا ہے تو وہ شخص جو spiritual resources رکھتا ہو وہ اپنی ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی روح سے بات چیت کرکے مدد مانگ سکتا ہے۔ یہ کوئی ایسی مشکل بات نہیں جسے سمجھنا مشکل ہو۔ اور ہاں جس انسان کے پاس نہ فزیکل ریسورسز ہوں اور نہ اسپریچوئل ریسورسز ہوں وہ بہتر ہے کہ صرف اللہ ہی سے مدد مانگے کیونکہ وہ مجبور ہے۔ اور کون کتنا مجبور اور بے بس ہے یہ اس کے حالات پر depend کرتا ہے۔ جس کے پاس نہیں ہے وہ مدد نہیں مانگ سکتا، جس کے پاس ہے، وہ مدد مانگ سکتا ہے۔ یہ فزیکل اور اسپریچوئل صرف سمجھانے کے لیے ہے۔ مطلقا صرف اللہ سے مدد ہی سب سے بہتر ہے اور پھر اللہ جس کے ذریعے چاہے کام کروادیتا ہے، چاہے انسانوں کے ذریعے/چاہے جنات کے ذریعے/چاہے فرشتوں کے ذریعے/چاہے پوری کائنات میں جس چیز کو چاہے استعمال کرنے کے ذریعے یا پھر براہ راست اپنی طاقت اور قدرت سے کام کردے۔ یہ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔
ڈاکٹر لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

پیر، 9 جون، 2025

اگر لوگوں کو جیتنا ہے تو ہر انسان کے دل کی چابی پہچانو

 اگر لوگوں کو جیتنا ہے تو ہر انسان کے دل کی چابی پہچانو۔

🔑
لالچی کو نصیحت مت دو، اسے تھوڑا سا لالچ دو، یہی اس کا راستہ ہے۔ 💰
غرور کرنے والے سے بحث مت کرو، اسے جھکاؤ مت، خود جھک جاؤ، اس کا غرور اسی وقت ٹوٹ جائے گا۔ 🙇‍♂️
بیوقوف کو دلیل سے مت سمجھاؤ، اسے اپنی راہ پر چلنے دو، چاہے منزل تک پہنچے یا ٹھوکر کھائے، وہ خود سیکھے گا۔ 🤷‍♂️
عالم سے کچھ مت چھپاؤ، اسے سچائی دو، کیونکہ اس کی آنکھیں جھوٹ کے سائے بھی دیکھ لیتی ہیں۔ 👓
جو اکیلا ہے، اسے نصیحت نہیں، صرف ساتھ چاہیے، ایک ہاتھ پکڑ لو، دنیا جیت لے گا۔ 🤝
بھوکا ہے تو تقریر مت دو، روٹی دو، اسی وقت بھوک اس کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ 🍞
بچہ ہے، اسے اخلاقیات کا بوجھ مت دو، ایک کھلونا دو، وہی اس کی دنیا ہے۔ 🧸
استاد کو علم مت دو، عزت دو، کیونکہ عزت ہی اس کا سب سے بڑا انعام ہے۔ 🎓
ساس کو طعنے مت دو، میٹھے بول دو، کڑواہٹ خود ختم ہو جائے گی۔ 🍯
شوہر کو ڈانٹ سے نہیں، سکون سے سمجھاؤ، اس کی دنیا دلیل سے نہیں، سکون سے چلتی ہے۔ 🕊️
بیوی کو ہیرے نہیں، توجہ دو، اس کا دل تمہارے وقت سے روشن ہوتا ہے۔ 💖
نوکر کو حکم سے نہیں، عزت اور اچھی تنخواہ دو، وہ وفادار ہو جائے گا۔ 💼
دوست کو تحفے نہیں، صرف تمہارا اعتماد چاہیے۔ 🤗
دشمن سے مت لڑو، ہاتھ جوڑ دو، شاید وہ بھی نفرت سے تھک چکا ہو۔ 🙏
اور محبوب کو ہزاروں الفاظ نہیں، صرف ایک وعدہ چاہیے:
میں تمہارا ہوں ہمیشہ کے لیے۔ ❤️
ہر انسان کا دل ایک تالا ہے، بس چابی تلاش کرنے کا ہنر آنا چاہیے۔ 🔐
از قلم ماہ نور فاطمہ

جمعہ، 6 جون، 2025

قربانی اور نصاب کی حقیقت — آسان الفاظ میں

عیدالاضحی کا تہوار آتا ہے اور قربانی کا ذکر ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ قربانی صرف اس کے فرض ہے جس کے پاس بہت سونا یا چاندی (نصاب) ہو۔ لیکن کیا اللہ اور نبی ﷺ نے ایسا کہا ہے؟

آئیے آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں:


اللہ کا حکم ہے: قربانی کرو

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:

"نماز پڑھو اور قربانی کرو" (الکوثر: 2)

یہ سیدھا سیدھا حکم ہے۔ جیسے نماز فرض ہے، ویسی ہی قربانی کا حکم بھی ہے۔


نبی ﷺ نے کیا فرمایا؟

نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے پاس وسعت (یعنی مالی استطاعت) رکھتا ہے اور قربانی نہیں کرتا، وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔

یہ بات حدیث میں آتی ہے، اور یہ بتاتی ہے کہ اگر آپ کے پاس طاقت ہے تو قربانی کرنا ضروری ہے۔


لیکن نصاب کہاں سے آیا؟

قرآن اور حدیث میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ قربانی صرف اس شخص پر فرض ہے جس کے پاس اتنا سونا یا چاندی (نصاب) ہو۔

یہ نصاب فقہاء نے بعد میں بنایا ہے تاکہ قربانی کرنے والوں کے لیے کوئی حد مقرر ہو جائے۔ لیکن یہ اللہ کا واضح حکم نہیں۔


اصل بات کیا ہے؟

قرآن و سنت کے مطابق اگر آپ کے پاس استطاعت ہے تو قربانی کریں۔

چاہے آپ کے پاس زیادہ پیسہ ہو یا تھوڑا، بس جو بھی آپ دے سکتے ہیں قربانی کریں۔

قربانی کے جانور عموماً اونٹ، گائے، بکری، بھیڑ ہوتے ہیں۔


جو قربانی نہیں کرتا وہ کیا ہے؟

جو شخص استطاعت ہونے کے باوجود قربانی نہیں کرتا، اس کی نیت پر سوال اٹھتا ہے۔

نبی ﷺ نے کہا ہے کہ ایسا شخص ہمارے اجتماع کے قریب نہ آئے۔


خلاصہ

  • قربانی اللہ کا حکم ہے، جو نبی ﷺ کی سنت بھی ہے

  • نصاب کا ذکر قرآن یا حدیث میں نہیں

  • قربانی کی شرط صرف "وسعت" یا استطاعت ہے

  • استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنا غلط ہے


آخر بات

دین کو آسان سمجھیں، اور اللہ کے حکم پر عمل کریں۔ جو ہو سکے قربانی کریں، چاہے تھوڑی ہی کیوں نہ ہو۔

یہ قربانی آپ کی نیت کو مضبوط کرتی ہے، اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ بنتی ہے، اور دین کا حصہ ہے۔

How to Create a High Ticket Freelancing Service (Urdu)

In this enlightening video, we immerse ourselves in the art of crafting a service that truly goes viral. We debunk the myth that word of mouth alone is enough and explore the essential strategies for business success.

Discover the secrets behind creating a service that people not only love but can't resist sharing. We examine real-world examples like Amazon and Facebook, showcasing how they've mastered the art of trust and virality.

Explore the marketing potential of your viral service, fueled by strong demand and incentives for sharing. Take a page from Dropbox's playbook, where referrals are incentivized. Discover how to harness the power of social media challenges and giveaways to boost your reach.

Watch now and unlock the path to viral success!

  • 0:00 - The Misconception About Word of Mouth
  • 0:59 - Crafting Virality
  • 1:07 - Irresistible Offers
  • 2:11 - Confidence in Your Service
  • 3:04 - Incentives For Marketing
  • 4:02 - Viral Loss Leader
  • 5:19 - Key Takeaways

شور کم کرنے کے طریقے

کمرے میں ماں باپ موبائل پر تیز آواز میں سنتے رتہے ہیں ویڈیوز۔۔۔میں شور کم کیسے کروں کانوں میں؟

یہ واقعی ایک مشکل صورت حال ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر آپ پڑھائی کر رہے ہوں یا سکون چاہتے ہوں۔ یہاں چند عملی طریقے ہیں جن سے آپ شور کو کم کر سکتے ہیں:

1. ایئر پلگس (Earplugs) استعمال کریں:

یہ ایک سادہ اور مؤثر حل ہے۔ بازار میں سستے اور آرام دہ ایئر پلگس ملتے ہیں جو شور کو بہت حد تک کم کر دیتے ہیں۔

2. Noise-Cancelling ہیڈفونز استعمال کریں:

اگر آپ تھوڑا زیادہ خرچ کر سکتے ہیں تو یہ سب سے مؤثر حل ہے۔ آپ ان سے خاموشی حاصل کر سکتے ہیں یا اپنا پسندیدہ میوزک  لگا کر توجہ مرکوز رکھ سکتے ہیں۔

3. White Noise یا Ambient Sound چلائیں:

اپنے فون پر "white noise" یا "rain sounds" چلائیں۔ یہ شور کو mask کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

4. والدین سے مؤدبانہ بات کریں:

اگر ممکن ہو تو ان سے نرمی سے بات کریں:

"امی ابو، اگر ممکن ہو تو آواز تھوڑی کم کر لیں؟ مجھے تھوڑا سکون یا پڑھائی کی ضرورت ہے۔"

5. کمرے میں Soft Items رکھیں:

قالین، پردے، تکیے وغیرہ شور کو جذب کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

6. اپنی جگہ تھوڑا بدلنے کی کوشش کریں:

اگر ممکن ہو تو دوسرے کمرے یا کسی پرسکون جگہ چلے جائیں۔

7. کانوں میں روئی استعمال کریں:

آپ اپنے کانوں میں احتیاط کے ساتھ روئی ٹھونس کر کافی حد تک شور کم کرسکتے ہیں۔

بدھ، 4 جون، 2025

تین سفید زہر... جو خاموشی سے آپ کو موت کے قریب لے جا رہے ہیں

ریفائن شوگر یعنی چینی
ریفائن آئل - فیکٹریوں میں بنانے والا تیل یعنی گھی جیسے کہ ڈالڈا تیل وغیرہ
ریفائن کاربوہائڈریڈ یعنی پیزا برگر شوارما


"تین سفید زہر... جو خاموشی سے آپ کو موت کے قریب لے جا رہے ہیں! 🍞🥤🛢️
آپ روز کھا رہے ہیں، مگر جانتے نہیں یہ آپ کے جسم کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔
یہ ویڈیو دیکھیں، جانیں سچ، اور بچائیں خود کو اور اپنے پیاروں کو!"
🌿 صحت کے بغیر تعلیم کچھ بھی نہیں! 🏫
ہم اپنے اسکول میں تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت کو بھی پہلی ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ ہم مانتے ہیں کہ صحتمند ذہن ہی علم حاصل کر سکتا ہے۔
🩺 ہمارے باقاعدہ ہیلتھ سیشنز کا مقصد صرف بیماریوں کا علاج نہیں، بلکہ ان سے بچاؤ ہے۔
ہم بچوں کو سکھاتے ہیں کہ:
"ہمیں بیماریوں سے لڑنا نہیں، بلکہ ایسی زندگی گزارنی ہے جس میں بیماریاں قریب نہ آئیں۔"
🌱 یہی ہے تاؤ فلسفے کی اصل روح — فطرت کے ساتھ ہم آہنگ، پرامن اور صحتمند زندگی۔
آئیں! مل کر ایک ایسی نسل تیار کریں جو نہ صرف ذہین ہو، بلکہ جسمانی اور ذہنی طور پر بھی مکمل صحت مند ہو۔
صحت زندگی ہے، بیماریاں موت ہیں
جتنے دن زندگی ہے ہنستے مسکراتے چلتے پھرتے گزارو
نہ کہ ہسپتال کے دھکے کھاتے اور دوائیاں پھانکتے ہوئے