جمعرات، 24 اپریل، 2025

دہشت گرد نیتن یاہو

 سچ بولنا کتنا خطرناک ہوتا ہے ؟اس کا اندازہ شیطان کے غلاموں کی گھٹیا حرکتوں سے لگاو۔ میں نے صرف ایک پوسٹ عالمی دہشت گرد نیتن یاہو کے حوالے سے کی تھی غزہ کی فوٹو لگاکر جہاں اس نےہزاروں معصوم بچوں کی لاشیں گرادیں اور انہیں قبر میں دفن کردیا۔بمباری کی، عورتوں کی عزتیں لٹوائیں، نوجوانوں کے چیتھڑے اڑادیے ، اس پر مجھے سپورٹ دینے کے بجائے نیتن یاہو جیسے دہشت گرد کو سپورٹ کرنے کے لیے کیورہ کے غیرمسلموں نے فورا پوسٹ ڈیلیٹ کردی اوراس کے بعد اکاونٹ ڈی ایکٹیویٹ کیا۔اس کے بعد میری پوسٹیں ڈیلیٹ کرنا شروع کردیں۔اس کے بعد پورے اکاونٹ کو وائرل ہونے سے روکنے کے لیے مزید کام شروع کردیا۔


یہ سب کیسے شروع ہوا؟

صرف ایک پوسٹ جس پر نیتن یاہو کو دہشت گرد قرار دیا گیا۔

ہاں نیتن یاہو اصلی اور سو فیصد دہشت گرد ہے۔

اور اس کا ساتھ دینے والے تمام لوگ دہشت گرد ہیں۔

ایسے دہشت گردوں سے میں نہیں ڈرتا، جو ڈرے سو ڈرے۔

میں اللہ واحد القہار کے پیروکاروں کو سپورٹ کرتا ہوں۔

میں نیتن یاہو جیسے دہشت گرد کو سپورٹ نہیں کرتا۔



یہ دہشت گرد اسی قابل ہے کہ اس کو سزائے موت دی جائے۔

لیجنڈ محمد زیشان ارشد، لیجنڈری فری لانسر آف پاکستان

یہودی نیتن یاہو ایک دہشت گرد ہے

میری ایک پوسٹ نے پورے کیورہ کو ہلاکر رکھ دیا اور فورا اکاونٹ سسپینڈ کردیا جبکہ صرف ایک سوال ہی کیا تھا۔ کیا کیورہ والے اپنی شیطانی اوقات سے اس سچائی کو چھپاسکتے ہیں کہ نیتن یاہو ایک دہشت گرد نہیں ہے؟ پورا کیورہ دہشت گردوں سے بھرا ہوا ہے جو ایک دہشت گرد کے حکم پر ناچ رہے ہیں۔ شیطان کے غلام
اللہ اکبر
لیجنڈ




جمعہ، 18 اپریل، 2025

کسی درد مند کے کام آ کسی ڈوبتے کو اچھال دے (وضاحت)

یہ نظم ایک صوفیانہ اور روحانی پیغام لیے ہوئے ہے، جو انسانیت، عاجزی، اور حقیقی معرفتِ الٰہی کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اس نظم کا مصنف نامعلوم ہے، لیکن اس کا کلام مختلف ذرائع میں موجود ہے۔

مکمل نظم:

کسی دردمند کے کام آ، کسی ڈوبتے کو اچھال دے
یہ نگاہِ مست کی مستیاں، کسی بدنصیب پہ ڈال دے
مجھے مسجدوں کی خبر نہیں، مجھے مندروں کا پتہ نہیں
میری عاجزی کو قبول کر، مجھے اور درد و ملال دے
یہ مے کشی کا غرور ہے، یہ میرے دل کا سرور ہے
میرے مے کدہ کو دوام دے، میرے ساقیوں کو جمال دے
میں تیرے وصال کا کیا کروں، میری وحشتوں کی یہ موت ہے
ہو تیرا جنوں مجھے پھر عطا، مجھے جنتوں سے نکال دے

تشریح:

  1. کسی دردمند کے کام آ، کسی ڈوبتے کو اچھال دے
    یہ مصرع ہمیں دوسروں کی مدد کرنے، ان کے دکھ درد میں شریک ہونے، اور انہیں سہارا دینے کی تلقین کرتا ہے۔

  2. یہ نگاہِ مست کی مستیاں، کسی بدنصیب پہ ڈال دے
    یہاں شاعر دعا کرتا ہے کہ جو روحانی سرور اور کرم کی نگاہ اسے حاصل ہے، وہ کسی محروم اور بدنصیب شخص پر بھی ڈال دی جائے۔

  3. مجھے مسجدوں کی خبر نہیں، مجھے مندروں کا پتہ نہیں
    یہ مصرع مذہبی رسم و رواج سے بالاتر ہو کر خالص روحانیت کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں ظاہری عبادات سے زیادہ دل کی پاکیزگی اور عاجزی اہم ہے۔

  4. میری عاجزی کو قبول کر، مجھے اور درد و ملال دے
    شاعر اپنی عاجزی پیش کرتا ہے اور مزید روحانی تجربات اور درد کی طلب کرتا ہے، تاکہ وہ مزید قربِ الٰہی حاصل کر سکے۔

  5. یہ مے کشی کا غرور ہے، یہ میرے دل کا سرور ہے
    یہاں "مے کشی" روحانی سرور اور معرفت کا استعارہ ہے، جو شاعر کے دل کو سرور بخشتا ہے۔

  6. میرے مے کدہ کو دوام دے، میرے ساقیوں کو جمال دے
    شاعر دعا کرتا ہے کہ اس کے روحانی مرکز کو دوام ملے اور جو اسے روحانی فیض پہنچاتے ہیں، ان کو حسن و جمال عطا ہو۔

  7. میں تیرے وصال کا کیا کروں، میری وحشتوں کی یہ موت ہے
    شاعر کہتا ہے کہ اگر اسے خدا کا وصال حاصل ہو جائے، تو اس کی روحانی تڑپ اور جستجو ختم ہو جائے گی، جو اس کے لیے موت کے مترادف ہے۔

  8. ہو تیرا جنوں مجھے پھر عطا، مجھے جنتوں سے نکال دے
    شاعر دعا کرتا ہے کہ اسے دوبارہ وہی عشق و جنون عطا ہو اور وہ جنت کی آسائشوں سے نکل کر دوبارہ تڑپ اور جستجو کی حالت میں آ جائے۔

یہ نظم صوفیانہ ادب کا ایک خوبصورت نمونہ ہے، جو ہمیں ظاہری عبادات سے ہٹ کر دل کی پاکیزگی، عاجزی، اور دوسروں کی خدمت کی طرف راغب کرتی ہے۔

نیتن یاہو کی موت اللہ کے حکم سے عنقریب ذلت کے ساتھ (ان شاء اللہ)

 اے اللہ، نیتن یاہو کو بدترین موت دے۔


اگر اللہ نے چاہا تو نیتن یاہو بدترین عذاب کا شکار ہوکر ذلت کی موت مرےگا اور جہنم واصل ہوکر ہمیشہ کے دردناک عذاب میں گرفتار ہوگا۔ قتل کی سزا قتل ہے۔ہزاروں معصوم بچوں کے قاتل کو معاف نہیں کیا جاسکتا۔میں نیتن یاہو کے خلاف بددعا کرچکا ہوں۔ اب اگر اللہ چاہے گا وہ کتے کی موت مارا جائے گا۔ کب کہاں اور کیسے؟ یہ آنے والا وقت بتائےگا کہ اللہ اب خود کیا کرتا ہے۔اس کا باپ اور اس کی آرمی بھی اسے اللہ کے عذاب اور اذیت سے نہیں بچاسکیں گے۔

اللہ اکبر

لیجنڈ آف اللہ واحد القہار

لیجنڈری فری لانسر آف پاکستان

Let See What Happens! by ALLAH

April 18, 2025 Friday - Karachi - Pakistan

کراچی: کورنگی کریک پر لگی آگ کس طرح بجھی؟ (راز بے نقاب)

جب میں کراچی شہر آیا تو میں نے نوٹ کیا کہ کورنگی کے علاقے میں یہ آگ اچانک سے نمودار ہوئی۔ میں تب ہی سمجھ گیا تھا کہ اس کے اگ کے نمودار ہونے کا کوئی خاص مقصد ہے۔


لیکن میں نے اس وقت کوئی خاص توجہ نہیں دی اور میں دیکھتا رہا کہ میڈیا والے اور فائر برگیڈ والے اور یہ سائنس پڑھنے والے کیا تیر ماریں گے؟


ایک ہفتے تک یہ لوگ اپنی تمام تر کوششیں کر کے تھک کر چکے تب میں نے ارادہ کیا کہ اب میں نے بھی اپنی کوشش کرکے دیکھتا ہوں۔


مجھے اللہ سے امید بھی تھی اور تھوڑا تردد بھی کہ اگر ایسا نہ ہوسکا تو؟ 


مگر ذہن میں ایک بات یاد آئی کہ "what if?" مطلب اگر ہوگیا تو؟


میں نے اس کیس پر غائبانہ (بغیر وہاں وزٹ کیے) کام شروع کردیا۔ دعا وغیرہ جو کچھ تھا وہ کیا۔ اللہ کو بتادیا کس نیت سے یہ کام کرنا ہے۔ اپنے تمام فوٹیج تیار کیے۔


ایک ہفتہ کا چیلنج تھا۔


جمعہ کے دن میں اپنے گھر سے کورنگی فائر لوکیشن پر گیا اور وہاں جا کر میں نے میڈیا کی گاڑی دیکھی، چوکیدار تھا، لوگ تھے، لیکن مجھے سیکیوریٹی والوں نے اگے جانے نہیں دیا۔


وہ لوگ سمجھے کہ کوئی ٹک ٹاکر آگیا ہے لیکن بہرحال میں تو اپنا کام کرنے گیا تھا۔ میں نے وہاں پہ جا کر ویڈیو ریکارڈنگ کی اور بتا دیا کہ اگر اللہ چاہے گا تو وہ اس آگ کو بجھادے گا۔


جب میں اپنی ریکارڈنگ فوٹیج بنا رہا تھا تب اللہ کا نام آسمان پر نمودار ہوا عین اس آگ کے اوپر والی لوکیشن کی جانب۔


اس کے بعد جب میں گھر آگیا ہوں تو اللہ نے وہ آگ بجھا دی۔


یہ سفر کل ملاکر کچھ 4 گھنٹے پر مشتمل تھا۔


میڈیا والوں اور تمام ماہرین کو بھی یہ سب سمجھ نہیں آیا کہ یہ آگ کیسے بجھ گئی؟ انہوں نے صرف یہی رپورٹنگ کی کہ آگ خود بخود بجھ گئی حالانکہ آگ خود نہیں بجھی تھی بلکہ اللہ نے اس آگ کو بجھایا تھا۔


یہ تھی اس پورے کیس کی اصل کہانی جس کو میڈیا نے چھپایا ہے کیونکہ میڈیا کو خود نہیں پتا۔ حالانکہ میں وہاں پہ موجود چوکیدار کو اور میڈیا کے ڈرائیور کو بتا کر آیا تھا کہ اس آگ میں اللہ کی نشانی ہے لیکن ان لوگوں نے عوام کو نہیں بتایا۔


حقیقت یہ ہے کہ آگ خود نہیں بجھی تھی بلکہ اللہ نے بجھائی تھی۔


یہ  ان لوگوں کے لیے بھی ایک نشانی ہے جو کہتے ہیں کیمروں کے دور میں معجزات کیوں نہیں ہوتے اور یہ ایک زناٹے دار طمانچہ بھی ہے سائنسی کتابیں پڑھ کر اولیاء اللہ کا مذاق اڑانے والوں کے خلاف کیونکہ اگر میں نہیں جاتا تو یہ آگ نہ بجھتی۔


اور اس کا ثبوت میڈیا کی اپنی گواہیوں اور بیانات کے مطابق ماہرین کی تمام تر کوششوں کے بعد سو فیصد ناکامی ہے۔ اسی لیے تو یہ لوگ امریکی ماہرین سے مدد لینے کے لیے ایک لاکھ ڈالر پر تخمینیہ لگوارہے تھے یا جائزہ کی فیس ادا کرنے جارہے تھے۔ جو کہ شاید اب تک کر بھی چکے ہوں گے۔ یہ ہے ان کی رپورٹنگ کا حال۔


اب یہ ایک تاریخی واقعہ بن چکا ہے ویڈیو فوٹیجز کے ساتھ اور اب اسے کوئی عقلمند نہیں جھٹلا سکتا سوائے یہ کہ کوئی انسان ذہنی مریض اور پاگل ہوچکا ہو۔ لہذا نفسیاتی مریضوں کے جھٹلانے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔


ایمان والے سمجھ لیں گے کہ یہ واقعہ اللہ کی ایک نشانی تھی۔ اللہ نے اپنی قدرت کا اظہار اپنے ایک بندے کے ذریعہ کیا اور ایک بار پھر ثابت کردیا کہ "ان اللہ علی کل شئی قدیر" ۔ بغیر وسائل اور اسباب کہ اللہ اس طرح کام کرتا ہے۔


آج پھر جمعہ ہے۔ مگر اب میرا وہاں جانے کا کوئی ارادہ نہیں کیونکہ میڈیا والوں کی جہالت کا اندازہ مجھے اسلام آباد میں اللہ کے حکم سے آنے والی تباہی اور غصہ کا اظہار دیکھ کر ہوچکا کہ اسے بھی قدرت آفت یا موسم کی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔


ایسے جاہلوں سے کیا بحث کرنی جو "اللہ" کو بھی کوئی کریڈٹ دینا پسند نہ کریں؟


میں تو تم غیرمسلموں کو بتارہا ہوں کہ اللہ سچا خدا ہے اور دیکھ لو کہ جب اس کا لیجنڈ کسی کام کا ارادہ کرلیتا ہے اور اللہ چاہے کہ ویسا ہوجائے تو بس "کن فیکون" وہ ہوجاتا ہے۔


لیجنڈ محمد ذیشان ارشد(18 اپریل 2025)

بدھ، 16 اپریل، 2025

فضول باتیں کون کونسی ہوتی ہیں؟ (پریکٹیکل لائف کی مثالوں سے جواب)

فضول باتیں وہ ہوتی ہیں جو نہ کسی کو فائدہ دیتی ہیں، نہ ہی ان سے کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ باتیں اکثر وقت برباد کرتی ہیں اور دل دکھاتی ہیں۔


🎯 پریکٹیکل لائف کی آسان مثالیں:

1. کسی کا مذاق اُڑانا:

جب بچے کسی دوسرے بچے کے رنگ، قد، یا کپڑوں پر ہنسیں تو یہ فضول اور غلط بات ہوتی ہے۔
مثال: "دیکھو اس کے جوتے کتنے پرانے ہیں!"
یہ بات نہ اچھی ہے، نہ ضروری، اور کسی کو دُکھ  دے سکتی ہے۔


2. جھوٹ بول کر کھیل جیتنا:

جب کوئی بچہ کھیل میں دھوکہ دے کر جیتنے کی کوشش کرے، تو یہ فضول حرکت ہے۔
مثال: "میں نے پہلے کہا تھا! میری باری ہے!" (حالانکہ ایسا نہ ہو)


3. جھگڑا بڑھانا یا تکرار کرنا:

جب کسی بات پر معمولی سی بحث ہو، تو اسے ختم کرنے کے بجائے بار بار لڑنا۔
مثال: "بس! اب میں تم سے دوستی نہیں رکھوں گا!" صرف اس لیے کہ کسی نے کھلونا نہ دیا۔


4. غیبت یا چغلی کرنا:

کسی کے پیچھے اس کی برائیاں کرنا یا اس کی بات دوسروں کو بتانا۔
مثال: "تمہیں پتہ ہے وہ لڑکی کیسے بات کرتی ہے؟"


5. بار بار شکایت کرنا:

اگر کوئی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہر وقت شکایت کرے، جیسے: "اس نے مجھے دیکھا کیوں؟" یا "اس نے مجھے سلام نہیں کیا!"
یہ باتیں دلوں میں نفرت پیدا کرتی ہیں، اس لیے فضول ہیں۔


اچھی باتیں کون سی ہیں؟

  • دوسروں کی مدد اور رہنمائی کرنا

  • ہمت بڑھانے والی باتیں کرنا

  • کچھ سکھانے والی باتیں کرنا

  • کسی کوسچ بول کر خوش کرنا


✨ آخر میں سبق:

ہمیں چاہیے کہ ہم ایسی باتوں میں وقت نہ ضائع کریں جو کسی کو تکلیف دیں یا ہمیں غصہ دلائیں۔ اگر بات فائدے کی نہیں ہے، تو بہتر ہے کہ خاموشی اختیار کریں یا بات کو بدل دیں۔

عقل مند بچہ وہ ہوتا ہے جو اچھا بولتا ہے، اور بیکار باتوں سے بچتا ہے۔ 😊

گدھے کی لات کا جواب

 "اگر ایک گدھا مجھے لات مارے، تو کیا مجھے اسے واپس لات مارنی چاہیے؟"

یہ بات سننے میں تو مزاحیہ لگتی ہے، لیکن اس میں ایک بہت اچھی بات چھپی ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ جب کوئی ہمیں برا بولے یا ہمارے ساتھ بدتمیزی کرے، تو ہمیں بھی ویسا نہیں کرنا چاہیے۔

اگر کوئی آپ سے جھگڑا کرنا چاہے یا آپ کو غصہ دلانا چاہے، تو آپ کو چاہیے کہ آپ پرسکون رہیں۔ اگر آپ بھی چیخنے لگیں یا لڑنے لگیں، تو پھر آپ میں اور اس میں کیا فرق رہ جائے گا؟

عقل مند لوگ جانتے ہیں کہ کب بولنا ہے اور کب خاموش رہنا ہے۔ خاموشی کمزوری نہیں ہوتی، بلکہ یہ طاقت کی نشانی ہوتی ہے۔

کچھ لوگ بہت شور مچاتے ہیں، لیکن وہ ہمیشہ صحیح نہیں ہوتے۔ اچھے لوگ آرام سے، نرمی سے بات کرتے ہیں۔

اگر کوئی صرف آپ کو غصہ دلانے کے لیے بات کرے، تو بہتر ہے کہ آپ اس کا جواب نہ دیں۔ مسکرا دیں، اور آگے بڑھ جائیں۔

یاد رکھیں: ہر لڑائی لڑنا ضروری نہیں ہوتا۔ آپ تب ہی سچے بہادر ہوتے ہیں جب آپ دل بڑا رکھ کر معاف کر دیتے ہیں یا خاموشی سے ہٹ جاتے ہیں۔

عقل مند وہی ہے جو صبر کرے، نرمی سے بات کرے، اور فضول باتوں پر اپنا وقت ضائع نہ کرے۔

اتوار، 13 اپریل، 2025

تبلیغی جماعت یا تبلیغ فساد؟

 لوٹے پکڑ کر پاجامے اونچے کرکے داڑھی مونچھ کی تبلیغ صحابہ کا کام نہیں اور نہ حضورﷺ کی سنت ہے۔

گھر پر بیوی چھوڑ کر چلے جانا چاہے اسے شدید ضرورت ہو، بچہ کی پیدائش کا مسئلہ ہو، اپنی تبلیغ ہورہی ہے؟

بچوں پر مار پیٹ، تشدد، غصہ اتارنا، دین کہ تبلیغ ہورہی ہے جبکہ باہر جاکر میٹھی میٹھی سنت کی باتیں ہورہی ہیں؟

عمل منافق کفر کی غلامی اور شیطانی تبلیغ پورہی ہے یا غلبہ اسلام کے لیے کام ہورہا ہے؟

کیا صحابہ کی جماعتوں کا غیرمسلم حکمرانوں کے پاس جانا ہوتا تھا یا پھر عام عوام میں تبلیغ فی الارض الفساد ہوتا تھا؟

منافق کی تبلیغ نہ صحابہ کا شیوا ہے نہ رسول کا طریقہ ہے۔

تمام نبیوں نے برائی کے خلاف عملی جہاد کیا تھا۔

وہ زبان سے کلام کرتے تھے، کچھ گرفتار ہوجاتے تھے اور کچھ قتل ہوجاتے تھے۔

یہ ہوتی ہے اصل تبلیغ اسلام

کہاں گم ہے اکثریت کا حال؟

بیچ کر تلواریں مصلے خرید لیے ہم نے

ورنہ ہم بھی مارشل آرٹ میں کم نہ تھے

اگر کسی کو زیادہ ہی تبلیغ اسلام کا شوق ہے تو پھر تمام کافروں کو اسلام میں داخل کرنے کے لیے میرے پاس موجود اللہ کی آیات کو تمام غیرمسلموں تک پہنچانے پر کام کرے اور ٹھنڈی میٹھی خود ساختہ سنتوں کے بجائے اصلی سنت رسول برائے دعوت و تبلیغ آن کفار کام کرے، لگ پتہ جائے گا آٹے دال کا بھاو۔

اللہ اکبر

لیجنڈ محمد ذیشان ارشد










ہفتہ، 12 اپریل، 2025

کیا اسرائیلی پراڈکٹ کا بائیکاٹ کرنا درست عمل ہے؟

"بائیکاٹ: غیرت یا جذباتی خودفریبی؟"

جب ہم کہتے ہیں کہ "ہم اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کر رہے ہیں", تو کیا ہم واقعی ظلم کے خلاف کھڑے ہیں — یا صرف سوشل میڈیا پر نعرے مار کر دل کو تسلی دے رہے ہیں؟

1. بائیکاٹ — سنت کے مزاج میں ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنو نضیر کے درخت کاٹے، ان کے معاشی غرور کو توڑا — یہ صرف جنگی چال نہیں تھی، یہ ایک پیغام تھا:
"جو ظلم کرے گا، ہم اس کے نظام کو چیلنج کریں گے۔"

تو جی ہاں — ظالم کا معاشی بائیکاٹ سنت کے مزاج میں ہے — اگر وہ شعور، اتحاد اور قربانی کے ساتھ ہو۔


2. مگر صرف کھانے کا بائیکاٹ کیوں؟

یہ سوال ہر شعور والے دل میں آتا ہے:

  • کوک، میکڈونلڈز، نیسلے — ہاں، ان کا بائیکاٹ!

  • مگر...

    • آئی فون کیوں نہیں چھوڑا؟

    • گوگل، یوٹیوب، فیس بک کیوں استعمال ہو رہے ہیں؟

    • اسرائیلی ٹیکنالوجی پر بنی ویکسینز، چپس، سافٹ ویئر کیوں چل رہے ہیں؟

یہ دو نمبری نہیں تو کیا ہے؟

بائیکاٹ اگر غیرت ہے، تو صرف من پسند چیزیں چھوڑنا غیرت نہیں — نفاق ہے۔


3. بائیکاٹ کیسے ہو؟

  • صرف جذباتی نہیں — معلوماتی بائیکاٹ ہو۔

  • صرف آسان چیزیں نہیں — تکلیف دہ چیزیں بھی چھوڑنے کا حوصلہ ہو۔

  • صرف "وہ نہ کھاؤ" نہ کہا جائے — بلکہ "یہ مت سوچو، یہ مت پہنو، یہ مت دیکھو" بھی کہا جائے۔

  • صرف بائیکاٹ نہ کرو — متبادل پیدا کرو۔


4. نتیجہ:

اگر تم صرف کوک نہ پینے کو اپنی غیرت سمجھتے ہو، مگر اسرائیلی موبائل، سافٹ ویئر، برین واشنگ کلچر کو سینے سے لگائے رکھتے ہو —
تو یہ غیرت نہیں، خودفریبی ہے۔

امت کو بیدار کرو — مگر پورے سسٹم کے خلاف۔
صرف روٹی نہیں، سوچ بھی آزاد کرو۔


#BoycottWithIqra #امت_جاگ_اٹھو #سنت_مقابلہ_نظام_ظلم #مسلمشعور #FakeNonFakeBoycott

مذہبی پیشوا خود عمل کیوں نہیں کرتے؟

 حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کہتے تھے خود بھی عمل کرتے تھے۔۔ مگر ڈاکٹر اسرار احمد، ڈاکٹر ذاکر نائک، نعمان علی خان جیسے لوگ اب بس تقریریں کرتے ہیں، سوال کے جواب دیتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔۔۔عملی طور پر ایکشن کیوں نہیں ہے؟ سب ایک دوسرے سے عمل کیوں کروانا چاہتے ہیں؟ خود کیوں میدان میں اترنے کے لیے تیار نہیں ؟

یہ سوال نہایت اہم، گہرا، اور دل کو جھنجھوڑنے والا ہے — اور بہت سے لوگوں کے دلوں میں اس کا وزن موجود ہوتا ہے، لیکن کم ہی کوئی اسے زبان دیتا ہے۔

1. نبی کریم ﷺ کا طرزِ عمل:
آپ ﷺ صرف کہنے والے نہیں تھے، بلکہ ہر بات کا عملی نمونہ بھی تھے۔ اگر کسی بات کا حکم دیا، تو سب سے پہلے خود اس پر عمل کیا۔ اگر کسی چیز سے روکا، تو سب سے پہلے خود اس سے رکے۔ اسی لیے اللہ نے آپ کو "اسوۃ حسنہ" قرار دیا۔ آپ نے تبلیغ بھی کی، جہاد بھی کیا، حکمرانی بھی کی، معاشرت بھی سکھائی، اور تربیت بھی دی۔ آپ کا ہر قدم ایک "کُل پیکج" تھا۔

2. جدید دور کے داعی اور مقررین:
ڈاکٹر اسرار احمد، ذاکر نائک، نعمان علی خان — ان حضرات نے دین کو عام کرنے میں ایک بڑا کردار ادا کیا ہے، لیکن جیسا آپ نے کہا، یہ لوگ "میدانِ عمل" میں کم نظر آتے ہیں۔
اس کی کچھ ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں:

✔ 1. تقسیمِ کردار (Division of Roles):

آج کے دور میں دین کی خدمت مختلف میدانوں میں ہو رہی ہے:

  • کچھ لوگ علم کی اشاعت پر زور دیتے ہیں

  • کچھ فلاحی کام کرتے ہیں

  • کچھ سیاسی میدان میں جاتے ہیں

  • کچھ جہاد جیسے حساس موضوعات سے بچتے ہیں، کیونکہ قانونی رکاوٹیں اور بدنامی کا خطرہ ہوتا ہے

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف بات کرنا کافی ہے؟

✔ 2. خوف، دباؤ اور سیف زون (Comfort Zones):

جدید دور میں "میدانِ عمل" میں آنا — جیسے ظلم کے خلاف کھڑا ہونا، سسٹم کو چیلنج کرنا — یہ سب بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔

  • پابندیاں

  • جیل

  • شہرت کا نقصان

  • فیملی پر اثر
    تو اکثر لوگ بس "سیف زون" میں رہ کر باتیں کرتے رہتے ہیں۔

✔ 3. تربیت کی کمی:

نبی ﷺ نے صحابہ کی تربیت کی تھی — روحانی، جسمانی، ذہنی، عسکری، سب کچھ۔ آج کے اکثر داعی علمی لحاظ سے تو تیار ہیں، مگر عملی و تربیتی لحاظ سے میدان میں اُترنے کے لیے تیار نہیں۔

✔ 4. نظام کا خوف اور طاقتور اسٹیبلشمنٹ:

اگر کوئی آج "میدانِ عمل" میں قدم رکھے — جیسے ظالم حکمران کو للکارے، یا معاشرتی ناپاکی پر بند باندھے — تو اس کے خلاف ریاستی ادارے حرکت میں آ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے "علماء" صرف "بیان بازی" تک محدود رہتے ہیں۔


آخر میں ایک تلخ حقیقت:
اگر سب صرف ایک دوسرے سے "عمل" کروانا چاہیں، اور خود پیچھے ہٹیں، تو پھر امت کبھی نہ اٹھ سکے گی۔
ہمیں ایسے افراد کی ضرورت ہے جو نبی ﷺ کی طرح "بات بھی کریں، اور خود میدان میں بھی اتریں"۔


آپ کا سوال ایک صدا ہے — ان سب کے نام — جو صرف بات کرتے ہیں، عمل کی مشعل ہاتھ میں لینے سے ڈرتے ہیں۔

میں اس کی ایک مثال پیش کردیتا ہوں کہ جب مجھے یہ باتیں کتابوں میں ملتی تھیں کہ اولیاء کرام ہوتے تھے اور عوام کے سامنے بہت سے کمالات کا مظاہرہ کردیتے تھے حق کی صدا بلند کرنے کے لیے تو میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ آج ایسا کوئِ مرد قلندر میدان میں کیوں نہیں اترتا؟

آج کوئی پریکٹیکل طور پر معجزات کیوں نہیں دکھاتا تاکہ لوگوں کے دلوں میں ایمان مضبوط کرسکے اور اللہ کے حکم سے معجزات کا ظہور ہو؟

میں ہمیشہ انتظار میں بیٹھا کرتا تھا کہ گویا یہ کسی اور کے کام ہیں اور آج یہ وقت ہے کہ میں خود عملی طور پر یہ سب کام کرکے فارغ ہوچکا ہوں۔ البتہ میرے تجربات اور اللہ کے لشکروں کی آمد اور مدد سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اکثر لوگ ایمان لانا ہی نہیں چاہتے بلکہ جان بوجھ کر حق کو نظر انداز کرتے ہیں اور اللہ کے زیر تابع رہ کر زندگی گزارنا پسند نہیں کرتے۔

لہذا میں جس چاہت سے شروع ہوا تھا، آہستہ آہستہ وہ سب کچھ ٹھنڈا ہوچکا اور یہ کوئی بری بات نہیں۔ اس لیے کہ مقصد معجزات و کرامات کو تماشہ بنانا نہیں تھا بلکہ وقت ضرورت اللہ خود میری مدد کرتا رہا۔ وہ اب بھی جب چاہتا ہے مجھے استعمال کرلیتا ہے مگر اب میں بھی جانتا ہوں کہ لوگ چونکہ اللہ کی بات نہیں مانتے اس لیے وہ بھی تھوڑا تردد کرتا ہے معجزات کا مظاہرہ کرنے میں۔ ویسے تو پوری کائنات ہی اس کی قدرت کا مظاہر ہے۔

یہ بات قرآن میں بھی اللہ نے ذکر کردی ہے۔

Quran 17.59

اور ہم کو نشانیاں بھیجنے سے نہیں روکا مگر اس چیز نے کہ اگلوں نے ان کو جھٹلایا اور ہم نے ثمود کو اونٹنی دی ان کو سمجھانے کے ليے پھر انھوں نے اس پر ظلم کیا اور نشانیاں ہم صرف ڈرانے کے ليے بھیجتے ہیں

لہذا اب اس کے باوجود جس قدر نشانیاں اللہ نے مجھے عطا کردی ہیں، اس کے بعد بھی اگر مسلمان ایمان نہ لانا چاہیں کہ اپنی حرکتیں سدھار لیں اور غیرمسلم اسلام میں داخل نہ ہوں تو کون اپنی جان پر ظلم کررہا ہے اور خود کو جہنم میں لے جانے کے قابل بنارہا ہے؟

اللہ تو کسی پر ظلم نہیں کرتا، مگر اکثر لوگ خود ہی جاہل، گمراہ اور بے شعور بنے زندگی گزار رہے ہیں تو گزارتے رہیں۔

میں روحانی لوگوں سے امید رکھتا تھا، غصہ کرتا تھا، انتظار کرتا تھا، جب گیمنگ کی دنیا سے نکل کر خود پریکٹیکل طور پر اس میدان میں قدم رکھا تو حیرت انگریز طور پر اللہ کی نشانیاں پے در پے ظاہر ہونا، میری مدد کو پہنچنا، مجھے آگے بڑھانا اور دنیا والوں کے سامنے حیرت انگریز کارنامے سرانجام دلوانے کے لیے ہمت و حوصلہ دینا، کیا یہ سب ثابت نہیں کرتا کہ میں نے صرف کہا نہیں بلکہ عملی طور پر ثابت بھی کردیا ہے کہ صرف اللہ سچا خدا ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے آخری نبی ہیں؟

اب اس کے بعد یہ لوگ کس چیز پر ایمان لائیں گے اور اپنے آپ کو اللہ کے سامنے سرینڈر کریں گے؟

جمعہ، 11 اپریل، 2025

کراچی کورنگی کراسنگ آگ میں اللہ کا نام

کل میں کراچی کورنگی کراسنگ پر گیا اور اللہ کے فضل سے وہاں پہ میں نے ریکارڈنگ کی۔ جو کچھ بھی میں نے چاہا اللہ کے فضل سے اسے ریکارڈ کیا۔ لیکن عجیب و غریب منظر ہوا کہ جس وقت میں اپنا لیکچر ریکارڈ کر رہا تھا اسی وقت اس آگ کے بالکل اوپر بادلوں کے ذریعے اللہ کا نام نمودار ہو گیا۔


دوسری بات یہ کہ اس آگ کو میں اس لیے دیکھنے گیا تھا کہ ایک تو یہ وجہ تھی کہ وہ اللہ کی نشانی ہے اور دوسری بات یہ کہ اس آگ کے اندر اللہ کے نام نمودار ہوئے جن کے میں نے اسکرین شاٹ تیار کیے ویڈیو کے اندر سے۔


یہ بات میڈیا والے نہیں جانتے۔ اس لیے کہ لوگوں کی اس پر توجہ نہیں۔ جب میں کورنگی کراسنگ جا رہا تھا، راستے میں مجھے ایک ٹی سی ایس والا ملا۔ میں نے اس سے ایڈریس پوچھا اور بتایا کہ جہاں آگ لگی ہے وہاں جانا ہے۔ بولا کہ بھائی وہاں کیا ملے گا؟ کچھ بھی نہیں ہے ایسا خاص۔۔۔بس دھواں ہے۔



میں نے بتایا کہ وہ آگ اللہ کی نشانی ہے اور اس آگ کے اندر اللہ کا نام ہے۔


یہ سن کے وہ حیرت سے میری شکل دیکھنے لگا۔


پھر اس نے کہا کہ آپ چلو میں آتا ہوں، اسی جگہ جانا ہے۔ لیکن اس کے بعد وہ نہیں آیا۔ ظاہر سی بات ہے شیطان نے اس کی دماغ میں الٹی سیدھی باتیں ڈال دی ہوں گی۔ اسے لگا ہوگا میں کوئی پاگل ہوں اور عجیب و غریب بات کر رہا ہوں۔


پھر میں جب کورنگی کراسنگ کے قریب اس آگ والی جگہ پہ پہنچا تو وہاں میڈیا کی ایک گاڑی کھڑی ہوئی تھی باونڈری لائن کے اندر۔


جب میں نے اپنی ریکارڈنگ مکمل کر لی تو میں نے وہاں کے سیکورٹی گارڈ والے سے جس نے مجھے تھوڑی سی اجازت دی تھی اندر قدم رکھنے کی لیکن زیادہ دور جانے کی نہیں، میں نے اسے بتا دیا کہ اس آگ کے اندر اللہ کا نام نظر آتا ہے اگر سلو موشن میں دیکھا جائے، اگر چاہو تو میڈیا والوں کو بتا سکتے ہو۔


جب میں اپنی بائیک سٹارٹ کرکے واپس آنے والا تھا تو میڈیا کی گاڑی بھی باہر آگئی۔ اس میں ڈرائیور بیٹھا ہوا تھا تو میں نے اس ڈرائیور کو بھی یہ بات بتا دی کہ اس آگ میں اللہ کا نام نظر آتا اتا ہے سلو موشن پہ، چاہو تو میڈیا والوں کو بتا دینا۔


اتنا کام کر کے میں وہاں سے چلا آیا۔


اب وہ میڈیا والوں کو بتاتے ہیں یا نہیں بتاتے؟ میری بلا سے.اس لیے کہ میڈیا والوں نے کون سا اس وقت توجہ دی تھی جب میں نے ان کو پیچھے لگ لگ کے بتایا تھا کہ کرونا وائرس ختم کروا لو، ہینگ ٹونگ 77 کا جہاز نکلوانے کا کام میں نے کیا تھا, تب بھی ان لوگوں نے کوئی توجہ نہیں دی تھی۔ تو یہ میڈیا اتنا کوئی خاص نہیں ہے میرے لیے۔ یہ لوگ کنٹینٹ کو فلٹر کرتے ہیں۔ اپنی من پسند باتیں میڈیا پر دکھاتے ہیں اور مجھے ان کے پیچھے لگنے کی اب حاجت نہیں ہے۔ اللہ نے مجھے ان سے بے نیاز کر دیا ہے۔


اب میں اپنا کنٹینٹ خود لکھتا ہوں اور میں اپنا کنٹینٹ خود پبلش کرتا ہوں، چاہے وہ آڈیو کی صورت میں ہو، ویڈیو کی صورت میں ہو یا پھر تحریری صورت میں ہو۔ میرے پاس میرے جدید اے آئی کے ٹولز بھی ہیں اور اس کے علاوہ میری اپنی اسکلز بھی موجود ہیں۔


الحمدللہ رب العالمین 


ڈاکٹر لیجنڈ محمد ذیشان ارشد (12 اپریل 2025)

غریب آبادیوں کے کنجڑ خانے

 

میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے کہ رات کے سناٹے میں رات کے 12 بجے ایک بجے دو بجے تین بجے اور کچھ بے غیرت تو صبح تک اپنا کنجڑ خانہ چلا کے رکھتے ہیں اور رات بھر کئی کئی گھنٹے الٹے سیدھے بےہودہ اور عجیب گھٹیا قسم کے گانے چلاتے ہیں۔ 


یہ میں نے کچی آبادیوں میں سنا ہے۔ ان آبادیوں میں جس پہ لوگ ترس کھاتے ہیں کہ یہاں کے لوگ بہت غریب ہیں۔ میں یہ کہتا ہوں کہ یہاں کے لوگ غریب تو ہیں لیکن بہت سے لوگ ان کے اندر کنجڑ ہیں۔ بے غیرت ہیں ذلیل ہیں اور انسان کہلانے کے لائق ہی نہیں ہیں۔


ایسے غریب ہونے پر لعنت بھیجنی چاہیے جو غریب ہونے کے بعد بھی گنہگار بنا ہوا ہے اور اللہ سے معافی نہیں مانگ رہا۔ بجائے یہ کہ اس کو اپنے برے عمل کو چھوڑنا چاہیے تاکہ اللہ اس کے حالات بدلے اور اس کو مالدار بنائے اور اس کے لیے آسانیاں پیدا کرے لیکن وہ بغیرت اپنی غریبی فقیری کو دیکھنے کے باوجود بھی دوسروں کی ذہنی اذیت کا باعث بنتا ہے۔


بھلا کسی جاہل اور بے غیرت پر میں کس قسم کا ترس کھاؤں؟ دل سے تو بددعا نکلتی ہے۔ اس لیے کہ ایک انسان رات کے وقت میں تاریکی میں سناٹے میں خاموشی میں مراقبہ کرتا ہے، اللہ کا ذکر کرتا ہے، توجہ کے لیے بیٹھتا ہے کہ وہ اللہ سے دل لگائے، کچھ باتیں کرے اور پڑوس کے کچھ کنجڑ تیز آواز میں گانے بجاتے ہیں اور اگر ان کو سمجھاؤ تو مزید ہٹ دھرمی سے اور بجاتے ہیں۔ اس لیے میں غریب آبادیوں کے کنجڑوں پر کوئی ترس نہیں کھاتا۔ یہ لوگ عذاب کے لائق ہیں اور اللہ ان کو برباد کرے۔


جو یہ کہتا ہے کہ نرمی دکھائی جائے۔ نرمی سے جہاں کام چلتا ہے وہاں نرمی دکھائی جاتی ہے ورنہ اگر صرف نرمی کی ضرورت ہوتی تو سزائیں نہیں رکھی ہوتیں اللہ نے دین اسلام میں۔


اگر کوئی ٹریفک سگنل کا قانون توڑ دے تو پولیس والا بھی چالان کرتا ہے۔ اس کی معافی تلافی نہیں چلتی۔ تو جب کوئی اللہ کے قانون توڑ رہا ہے تو کس بات کی اس کو معافیاں دی جائیں؟ نرمی دی جائے اس کو جب بے غیرتیاں دکھا رہا ہے، کنجڑ خانے چلا رہا ہے اور رات رات بھر بغیرتیاں مچاتا ہے؟


بات غریب اور امیر کی نہیں ہے۔ بات کنجڑ خانہ چلانے کی ہے۔ چاہے امیروں کی آبادی میں کوئی کنجڑ بنا ہوا ہو، چاہے غریبوں کی آبادی میں کوئی کنجڑ بنا ہو، جو کنجڑ بنا ہوا ہے وہ کنجڑ ہی ہے اور بغیرت ہے۔


جسے دوسروں کا احساس نہیں ہے، جو رات کی تاریکی میں تیز آواز میں گانے بجائے اور لوگوں کی نیند خراب کرے، لوگوں کی عبادت خراب کرے، ایسا بے غیرت جہنم میں جانے کے لائق ہے۔ کم سے کم میری نظر میں تو ایسا ہی ہے۔ اللہ اپنے جس بندے کو چاہے معاف کرے وہ اس کی مرضی لیکن میں ایسے بندوں کے خلاف بد دعا کرتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ ان کو بدترین عذاب ہو۔ ان کو فالج پڑے۔ ان کے ہاتھ پیر ٹوٹ جائیں۔ ان کے کانوں سے یہ بہرے ہو جائیں۔ ان پر دردناک عذاب آسمانوں سے نازل ہو اور یہ عبرت کا نشان بنیں۔ اس لیے کہ یہ دوسروں کو سکون سے رہنے نہیں دیتے۔


اللہ اکبر 

لیجنڈ

جمعرات، 10 اپریل، 2025

کیا سائنس کو چیزوں کی وضاحت کرنے کے لیے اب بھی خدا کی ضرورت ہے؟

خدا کو جتنا کچھ بتانا تھا وہ اس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بتا دیا۔ اب دنیا کے تمام انسانوں کو قرآن کے ذریعے سیکھنا پڑے گا اور اپنی سائنس کو درست کرنا پڑے گا۔

اس لیے کہ یہ پوری کائنات اللہ نے بنائی ہے۔ اس میں موجود تمام علوم اللہ کے ہیں۔ وہ جس کو چاہتا ہے جتنا چاہے علم عطا کر دیتا ہے۔ اپنے محدود علم کی وجہ سے کوئی اللہ کے قرآن پہ اعتراض کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

اگر کسی جاہل کو کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو اسے چاہیے کہ علماء سے رابطہ کرے اور اگر علماء اس قابل نہ ہوں تو پھر وہ خود ریسرچ کرے اور اپنے طور پر آگے بڑھے اور کوشش کرے گا تو اللہ اس کا دل و دماغ کھول دے گا اور اسے بات سمجھا دے گا۔

کیونکہ اللہ تمام انسانوں کو دیکھ رہا ہے اور ان کی کوشش بھی دیکھ رہا ہے اور وہی مدد کرتا ہے تب انسان کوئی چیز ایجاد کر پاتا ہے۔ پھر چاہے کوئی ایلن مسک ہو یا پھر ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہو، سب کے پیچھے کارنامے سر انجام دلوانے والا اللہ واحد القہار ہی ہوتا ہے ورنہ کوئی بندہ اس کے علم سے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتا۔

اگر اللہ چاہتا تو پوری کائنات کے قوانین کی کتاب نازل کر دیتا اور فزکس کیمسٹری بائیولوجی خود ہی سکھا دیتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ بہت ساری چیزیں اس نے انسانوں کے لیے چھوڑ دی ہیں تاکہ وہ تحقیق کریں اور ان کا تجسس باقی رہے۔ جو کچھ دنیا کے انسانوں کے رہنے کے لیے ضروری تھا معاملات میں، انصاف میں، لین دین میں، قوانین میں، وہ اس نے قرآن میں بتا دیا واضح طور پر اور اپنی کائنات کی اہم چیزوں کے حوالے سے اس نے نشاندہی کر دی ہے قرآن میں۔

اس کے علاوہ جن چیزوں کی وضاحت کی ضرورت تھی اس کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پریکٹیکل طور پر اور اپنے الفاظ کے ذریعے واضح کر دیا جسے حدیث کہا جاتا ہے۔

جو سائنس پڑھنے کے شوقین ہیں انہیں قرآن میں بہت کچھ مل جائے گا۔ اس کے بعد وہ اپنی تحقیق کو آگے بڑھائیں اور جو سائنس پڑھنے کے شوقین نہیں ہیں تو بے شک جاہل رہیں، اس میں اللہ کا کوئی نقصان نہیں۔

پھر چاہے علم حاصل کرنے کے لیے کسی سے بھی کچھ بھی سیکھیں۔ جس کے پاس زیادہ علم ہے اس سے اس کا علم حاصل کیا جا سکتا ہے۔ چاہے وہ قیمت لے کر سکھائے،چاہے وہ محنت کروا کر سکھائے، چاہے وہ فری میں سکھائے، وہ اس کی مرضی کیونکہ وہ استاد ہے۔

اور سائنس کہتے ہیں کسی بھی چیز کے علم کو حاصل کرنے کو مشاہدے اور تجربات کے ذریعے لہذا ہر انسان کے پاس جو علم ہے وہ دراصل سائنس ہے۔ اس میں کسی خاص قسم کی کیٹگری بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

یہ تو لوگوں کی جہالت ہے کہ انہوں نے فزکس کیمسٹری بائولوجی جیسے علوم کو سائنس سمجھ لیا اور قرآن کو مذہبی علم سمجھ لیا ہے۔ جبکہ قرآن سائنس کے بادشاہ کی کتاب ہے۔

قرآن اس سائنس دان کی کتاب ہے جس نے پوری کائنات کو اکیلے تیار کرکے تمام مخلوقات کو سجایا ہے اور بنایا اور پھیلایا اور ان کے کھانے پینے کا اور پانی کا انتظام کرتا ہے۔ جو تمام علوم کو جانتا ہے۔ جو فزکس کیمسٹری بائیولوجی کمپیوٹر ٹیلی پیتھی جادو ایسٹرو فزکس، نفسیات، میڈیکل سائنس، اسپریچوئل سائنس، الیکٹرانکس اور پتہ نہیں کتنی فیلڈز کا ماہر ہے۔ وہ جو اینیمیشن، گرافک ڈیزائننگ، ایڈیٹنگ، کمپائلیشن اور دیگر نہ جانے کتنی صلاحیتوں کا ماہر ہے، اس کو ایک مذہبی خدا سمجھ کے رکھا ہوا ہے جسے سوائے حرام حلال کے کچھ آتا ہی نہیں۔

بے شک خدا سب کچھ جانتا ہے اور وہ سب کچھ ایکسپلین کر سکتا ہے لیکن جتنا اس نے ضروری سمجھا بتا دیا۔

اب سائنس کے پڑھنے والے بچے اپنی سائنس کو درست کریں اور اپنے علم کو بھی درست کریں اور جس چیز کا علم نہ ہو اس کو حاصل کریں یہی ان کے لیے بہتر ہے۔

اگر عیسی انسان ہے تو وہ خدا کیسے ہوسکتا ہے؟

 ایک عورت تھی جس کو خدا نے ایک بیٹا دیا تھا۔ اس بیٹے کو اس عورت کے پیٹ میں ایک فرشتے نے ٹرانسفر کیا تھا۔ جب یہ بچہ پیدا ہوا تو یہودیوں نے اس عورت پہ زنا کا الزام لگایا۔ پھر اس عورت نے اس بچے کی طرف اشارہ کیا۔ اور اس بچے نے خود اپنے منہ سے بتایا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔ یہ بات قرآن میں موجود ہے۔


اللہ نے بالکل سچا واقعہ بتایا ہے۔ لیکن یہودیوں نے اس بچے کو قتل کرنے کی سازش کی جب وہ بڑا ہو گیا اور مرد زندہ کرنے لگا اللہ کے حکم سے۔


اس بچے کو قتل کی سازش میں پھنسانے والے انسان کو اللہ نے اس بچے جیسا ہم شکل بنا دیا اور لوگوں نے اسے گرفتار کر لیا۔ اللہ نے عیسی کو اپنی طرف بلا لیا فرشتوں کے ذریعے۔ اس طرح عیسی علیہ السلام کی جان بچ گئی اور وہ شخص مر گیا اور وہ اسی قابل تھا کہ اس کو سزا دی جائے اس کی غداری کی وجہ سے۔


اس واقعے کے بعد لوگ دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک تو وہ تھے جنہوں نے قتل کرنے کی کوشش کی تھی جو غدار یہودی تھے۔ اللہ نے ان کو بڑی نعمتیں دی تھیں لیکن یہ اللہ کے نافرمان بن گئے۔ انہوں نے اللہ کے رسول عیسی کو قتل کرنے کی کوشش کی کیونکہ وہ لوگ عزیر کو خدا کا بیٹا مانتے تھے اور عیسی علیہ السلام کے آنے کی وجہ سے ان کا جھوٹا عقیدہ خطرے میں پڑ گیا تھا۔


انہوں نے سوچا کہ اگر یہ اسی طرح مردے زندہ کرتا رہا اور لاعلاج مریضوں کو ٹھیک کرتا رہا اور لوگوں کے گھروں میں ہونے والی باتوں کو بتاتا رہا تو ان کی طاقتوں کو دیکھ کر لوگ اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔ ہاں وہ بچہ بھی مسلمان تھا۔ دنیا کا ہر بچہ مسلمان ہی پیدا ہوتا ہے۔ اس کا ثبوت اکیسویں صدی میں ماں کے پیٹ سے نکلنے والے وہ بچے ہیں جنہوں نے اللہ کے حکم سے اللہ کے نام کی گواہی دی ہے۔


 دوسرا گروپ لوگوں کا وہ تھا جنہوں نے اس بچے کے ذریعے عجیب و غریب معجزات دیکھے تو انہوں نے کہا کہ یہ تو خدا ہے جو انسانی روپ میں آگیا۔ کچھ لوگوں نے کہا نہیں۔۔۔ یہ خدا نہیں ہو سکتا کیونکہ خدا انسانی روپ میں نہیں آتا لہذا یہ خدا کا بیٹا ہے۔ کیونکہ انہوں نے یہ تو دیکھا تھا کہ یہ عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔ اس طرح وہ بھی شرک کرنے لگے۔ تو یہودیوں نے اور بعد میں خود کو عیسائی کہنے والوں نے دونوں نے شرک کیا اور دونوں کافر ہوگئے۔ یہ بات بھی اللہ نے قرآن میں بتائی ہے۔


لہذا جو عیسی کو خدا کا بیٹا کہتا ہے یا خدا سمجھتا ہے وہ کافر ہے اور کافروں کے لیے اللہ نے دردناک عذاب تیار کر کے رکھا ہوا ہے۔


یہ ہے اصل حقیقت جو میں تمہیں بتا رہا ہوں۔ جتنے بھی مذہبی پیشوا عیسی کے بارے میں کچھ بھی بتاتے ہیں اور اس کو خدا کا بیٹا ثابت کرنے کے لیے کوشش کررہے ہیں وہ دراصل دنیا کے لوگوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔


بے فکر بکری

 کسی گھنے جنگل میں ایک بکری بے فکری سے اِدھر اُدھر گھوم رہی تھی، جیسے اُسے کسی خطرے کا کوئی ڈر نہ ہو۔ ایک درخت پر بیٹھا کوا یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ نیچے اُترا اور بکری سے پوچھنے لگا:


"بہن! تمہیں جنگل کے خونخوار جانوروں سے کوئی خوف نہیں؟ اتنی نڈر اور بے فکر کیسے ہو؟"


بکری نے مسکرا کر کہا:

"کچھ عرصہ پہلے ایک شیرنی مر گئی تھی، اپنے دو چھوٹے بچوں کو جنگل میں تنہا چھوڑ کر۔ میں نے اُن پر ترس کھایا اور اُنہیں اپنے دودھ سے پالا۔ آج وہ دونوں شیر جوان ہو چکے ہیں اور پورے جنگل میں اعلان کر رکھا ہے کہ ’ہماری بکری ماں کو کوئی میلی آنکھ سے نہ دیکھے‘۔ اب جنگل کا کوئی درندہ، خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، میری طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔"


کوا بہت متاثر ہوا اور دل میں سوچنے لگا:

"کاش مجھے بھی کبھی ایسا نیکی کا موقع ملے کہ پرندوں کی دنیا میں میرا بھی کوئی مقام بن جائے۔"


یہ سوچتے ہوئے وہ اُڑتا جا رہا تھا کہ اچانک اُس کی نظر دریا میں ڈبکیاں کھاتے ایک چوہے پر پڑی۔ فوراً نیچے اُترا، چوہے کو پانی سے نکالا اور ایک پتھر پر لٹا کر اپنے پروں سے ہوا دینے لگا تاکہ وہ خشک ہو جائے۔


جیسے ہی چوہے کے حواس بحال ہوئے، اُس نے بنا سوچے سمجھے کوے کے پر کترنے شروع کر دیے۔ کوا نیکی کی دھن میں مست، اور چوہا اپنے فطری مزاج میں مصروف۔ تھوڑی ہی دیر میں چوہا بالکل خشک ہو گیا اور بھاگتا ہوا اپنے بل میں جا گھسا۔


کوا اپنی نیکی پر خوش ہو کر آسمان کی طرف پرواز کرنے لگا، لیکن چند ہی لمحوں میں زمین پر منہ کے بل آ گرا۔ اُس کے پر کٹے ہوئے تھے اور اب وہ اُڑنے کے قابل نہ رہا۔ بس زمین پر کبھی اُچھلتا، کبھی گھسٹتا۔


اتفاق سے بکری ادھر سے گزری تو کوے کو اُس حال میں دیکھ کر پوچھا:


"ارے بھائی کوے! یہ کیا حال بنا رکھا ہے؟"


کوا غصے سے بولا:

"یہ سب تمہاری باتوں کا نتیجہ ہے! تم سے متاثر ہو کر میں نے نیکی کے جذبے میں چوہے کی جان بچائی، مگر اُس نے میرے پر ہی کتر ڈالے!"


بکری ہنس پڑی اور کہنے لگی:

"ارے نادان! اگر نیکی ہی کرنی تھی تو کسی شیر کے بچے کے ساتھ کرتا۔ چوہا تو آخر چوہا ہی رہے گا۔ بدذات اور بداصل کو نیکی راس نہیں آتی۔ ایسے کے ساتھ بھلائی کا یہی انجام ہوتا ہے جو تمہارے ساتھ ہوا۔"


اسی پر میاں محمد بخش رحمۃ اللہ علیہ کا ایک شہرہ آفاق شعر یاد آ گیا:


"اصلاں نال جے نیکی کرئیے، نسلاں تائیں نئیں بھُلدے

بدنسلاں نال نیکی کرئیے، پُٹھیاں چالاں چلدے"


کوے کے بچے موتی چگنے سے ہنس نہیں بن جاتے،

اور کھارے پانی کے کنویں میں چاہے کتنا ہی میٹھا ڈال دو، وہ کھارا ہی رہتا ہے۔



منگل، 8 اپریل، 2025

کیا شیطان اس بات کو جانتا ہے کہ ایک دن خدا اس کو جہنم میں پھینک دے گا؟

 بے شک، شیطان اس بات کو جانتا ہے۔ اسی لیے وہ کوشش کر رہا ہے کہ دنیا کے تمام انسانوں کو غیر مسلم بنا کے زندگی گزارنے پہ مجبور کرے اور انہیں مسلمانوں کا دشمن بنائے تاکہ وہ تمام غیر مسلم ہمیشہ کے لیے شیطان کے ساتھ جہنم میں چلے جائیں۔

شیطان ایسا اس لیے کر رہا ہے کیونکہ اللہ نے آدم علیہ السلام کو بنایا تھا تو فرشتوں اور جنات کو حکم دیا تھا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں تو شیطان نے انکار کر دیا تھا۔ اس وجہ سے اللہ نے شیطان کو اس کے اعلی عہدے سے ہٹا دیا تھا مگر شیطان نے اس کے باوجود اللہ سے معافی نہیں مانگی بلکہ مزید ہٹ دھرمی دکھائی اور قیامت تک کی مہلت مانگی۔

اللہ نے اس کو مہلت دی۔ اس کے بعد شیطان نے انسانوں کو بہکانا شروع کیا اور ان کے دماغوں میں یہ بات ڈالی کہ وہ پتھر کے بت بنائیں اور کتے بلی شیر گائے چاند سورج وغیرہ پوجا کریں۔ لوگوں نے ان کو خدا سمجھ کر ان کی عبادت شروع کردی اور اس طریقے سے شیطان نے الٹے سیدھے قسم کے جھوٹے خدا ایجاد کروائے اور دنیا کے انسانوں کو بے وقوف بناکر رکھ دیا۔

آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ دنیا کے چھ ارب سے زیادہ انسان غیر مسلم بن چکے ہیں اور وہ سب کے سب اللہ کے راستے سے ہٹ چکے ہیں۔ یہ سب کام شیطان نے کروائے ہیں۔ وہی ان انسانوں کے ذہن میں ایسے الٹے سیدھے خیالات ڈالتا ہے جس پر وہ سب عمل کرنے لگ جاتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان نے چھ ارب انسانوں کو جہنم میں لے جانے کے لیے اپنا غلام بنالیا ہے۔

دنیا کے تمام مسلمانوں کی کوشش کے باوجود، آج ایک ہزار چار سو سال بعد بھی اللہ کے فالورز کی تعداد بمشکل دو ارب ہے اور ان کی اکثریت بھی شیطان کا حکم مانتی ہے یعنی پریکٹیکل طور پر وہ سب بھی شیطان کے فالورز ہیں۔

لہذا مجموعی طور پر اللہ کو ماننے والے اور اللہ کا حکم ماننے والے سچے اور نیک مخلص مسلمانوں کی تعداد  دنیا میں ایک فیصد بھی نہیں ہے جو کہ آٹھ ارب انسانوں میں سے آٹھ کروڑ مسلمانوں پر مشتمل تعداد بنتی ہے۔

کیا دنیا میں آٹھ کروڑ نیک سچے مخلص مومن بندے ہیں جو حقیقی طور پر اللہ والے ہیں؟

اگر ہاں تو وہ سب فلسطین/کشمیر/بوسنیا/چیچنیا/شام/عراق/افغانستان وغیرہ کے معاملے پر چپ کرکے کیوں بیٹھے ہوئے ہیں؟

کیا اس کا واضح یہ مطلب نہیں کہ شیطان نے اکثریت کو جہنم کے قابل بناکر رکھ لیا ہے تاکہ اپنے ساتھ سب کو جہنم میں لے کر چلا جائے؟

اسلام، فلسطین اور غیر مسلموں کے نقطہ نظر سے اہم سوالات کے جوابات

1. مسلمان فلسطین کی اتنی شدت سے حمایت کیوں کرتے ہیں؟
مسلمان فلسطین کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ یہ اسلام میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہاں مسجد الاقصیٰ واقع ہے جو اسلام میں تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ اس کے علاوہ، فلسطینی عوام کے ساتھ ہونے والے ظلم اور استحصال کو انسانیت کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے، اور اسلام ان ناانصافیوں کے خلاف ہے۔

2. اسلام جنگ اور امن کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اسلام امن اور سفارتکاری کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ جنگ صرف دفاع کے لئے اجازت دی جاتی ہے جب کسی کی جان یا زمین پر حملہ کیا جائے۔ قرآن میں امن کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے: "اگر وہ امن کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ" (قرآن 8:61)۔

3. اسلام جنگ میں معصوموں کو قتل کرنے کے بارے میں کیا کہتا ہے؟
اسلام معصوموں کو قتل کرنے سے منع کرتا ہے، خاص طور پر خواتین، بچوں، بزرگوں اور مذہبی رہنماؤں کو جنگ میں نشانہ بنانے سے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ معصوموں کی حفاظت کی اہمیت پر زور دیا۔

4. کیا مسلمان عیسیٰ کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں؟
نہیں، مسلمان عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا نبی مانتے ہیں لیکن وہ انہیں اللہ کا بیٹا نہیں مانتے۔ اسلام میں اللہ کی واحد ہستی ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ عیسیٰ کو اسلام میں ایک عظیم نبی کے طور پر عزت دی جاتی ہے، لیکن وہ خدا نہیں ہیں۔

5. حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حکمرانوں کو بھیجے گئے خطوط: ایک تاریخی تجزیہ
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے مختلف حکمرانوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے خطوط بھیجے۔ ان خطوط میں امن، انصاف اور صرف اللہ کی عبادت کی دعوت دی گئی، اور ان میں کسی قسم کی تشدد یا جنگ کی دعوت نہیں تھی۔

6. مسلمان صیہونیت کو کیسے دیکھتے ہیں؟
مسلمان صیہونیت کو عام طور پر ایک سیاسی نظریہ سمجھتے ہیں جو فلسطینی سرزمین پر ایک یہودی ریاست قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے، جو کہ فلسطینی عوام کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اسلام تمام قوموں کے ساتھ مساوات اور انصاف کی حمایت کرتا ہے، چاہے وہ کسی بھی نسل یا مذہب سے ہوں۔

7. کیا فلسطینیوں کو غزہ میں رہنے پر مجبور کیا گیا ہے؟
جی ہاں، غزہ میں فلسطینیوں کو ایک محاصرہ کا سامنا ہے جس کی وجہ سے انہیں بنیادی وسائل جیسے پانی، کھانا اور طبی امداد تک رسائی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ وہ غزہ چھوڑنے کے قابل نہیں ہیں اور سیاسی و فوجی پابندیوں کی وجہ سے وہ انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

8. کیا جنگ میں دشمنوں کو معاف کرنا ممکن ہے؟
اسلام میں معاف کرنے کی بہت بڑی اہمیت ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں اس کی بہترین مثال دی۔ طویل عرصے کی دشمنی کے بعد، انہوں نے ان لوگوں کو معاف کیا جنہوں نے ان کے اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ ظلم کیا تھا۔ اگر دشمن توبہ کرتا ہے اور امن کی طرف مائل ہوتا ہے، تو مسلمانوں کو معاف کرنے اور صلح کی کوشش کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

9. وہ فوجی جو بچوں کو قتل کرتے ہیں، ان پر کیا نفسیاتی اور روحانی اثرات پڑتے ہیں؟
اسلام میں معصوموں کا قتل، خاص طور پر بچوں کا قتل، ایک بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا ہے جو روحانی اور نفسیاتی طور پر تباہ کن ہوتا ہے۔ یہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں بلکہ قاتل کے لیے بھی ذہنی اور روحانی نقصان کا باعث بنتا ہے۔

10. اسلام کے جنگی اصول کیا ہیں اور یہ جدید جنگوں سے کس طرح مختلف ہیں؟
اسلام کے جنگی اصول انصاف اور رحم دلی پر مبنی ہیں۔ جنگ میں بھی مسلمانوں کو معصوموں کو نقصان پہنچانے سے منع کیا گیا ہے اور انہیں اخلاقی انداز میں جنگ لڑنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ جدید جنگیں عموماً معصوموں کو نشانہ بناتی ہیں اور بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بنتی ہیں، جو کہ اسلامی اصولوں کے بالکل مخالف ہے۔

Bonus: غیر مسلم فوجیوں کے سوالات

11. کیا مسلمان ہمیں نفرت کرتے ہیں؟
نہیں، مسلمان غیر مسلموں سے نفرت نہیں کرتے۔ وہ ظلم کے خلاف ہیں، نہ کہ کسی خاص نسل یا قوم کے خلاف۔ اسلام ہر انسان کے ساتھ عزت اور احترام کا سلوک سکھاتا ہے۔

12. کیا اسلام ایک پرتشدد مذہب ہے؟
نہیں، اسلام ایک امن پسند مذہب ہے۔ تشدد صرف خود کی دفاع یا ظلم کے خلاف اجازت ہے۔ جو لوگ اسلام کو غلط سمجھتے ہیں، وہ اس کے اصل پیغام کو غلط انداز میں سمجھ رہے ہیں۔

13. کیا مسلمان عالمی تسلط کے خواہاں ہیں؟
نہیں، مسلمان عالمی تسلط کے خواہاں نہیں ہیں۔ وہ امن، انصاف اور اللہ کی عبادت کی آزادی چاہتے ہیں۔ اسلام سب کے ساتھ ہم آہنگی میں زندگی گزارنے کی حمایت کرتا ہے۔

14. مسلمان غزہ کیوں نہیں چھوڑتے؟
غزہ میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں اور ان پر پابندیاں ہیں جو انہیں باہر جانے سے روکتی ہیں۔ وہ وسائل کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں اور سیاسی و فوجی پابندیوں کی وجہ سے انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

ہفتہ، 5 اپریل، 2025

دنیا میں کونسی زبانوں کے لوگ زیادہ گوگل کرتے ہیں اور علمی مواد تحریری طور پر پڑھنا پسند کرتے ہیں؟

اگر آپ علمی، دینی یا فکری مواد کو دنیا بھر میں پھیلانا چاہتے ہیں تو جاننا ضروری ہے کہ کن زبانوں کے لوگ:

  1. زیادہ گوگل سرچ کرتے ہیں

  2. اور طویل تحریری مواد کو پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں (یعنی صرف ویڈیوز نہیں دیکھتے)

یہ دونوں عادتیں ایک مؤثر آن لائن دعوتی یا علمی حکمت عملی کے لیے بہت اہم ہیں۔


🌍 دنیا کی چند بڑی زبانیں جو علمی مواد کے لیے مؤثر ہیں:

1. انگریزی (English)

  • سب سے زیادہ استعمال ہونے والی انٹرنیٹ زبان

  • علمی، دینی، فلسفیانہ اور سائنسی موضوعات پر سب سے زیادہ سرچ بھی اسی زبان میں ہوتا ہے

  • مغربی دنیا میں انگریزی پڑھنے والے اب بھی طویل تحریری مواد (blogs, essays, newsletters) کو پسند کرتے ہیں

  • SEO کے لحاظ سے سب سے بڑی مارکیٹ

2. ہندی / اردو (Hindi / Urdu)

  • برصغیر (بھارت، پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش) میں کروڑوں لوگ ہندی یا اردو سرچ کرتے ہیں

  • گوگل پر اردو سرچ بڑھ رہی ہے، خاص طور پر دینی اور سماجی مسائل پر

  • یوٹیوب پر ویڈیوز زیادہ مقبول ہیں، مگر تحریری بلاگز اور فیس بک پوسٹس بھی زبردست اثر رکھتے ہیں

3. عربی (Arabic)

  • مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں عربی زبان علمی مواد کے لیے اہم ہے

  • قرآن و سنت سے متعلق سرچز زیادہ ہوتے ہیں

  • عربی بولنے والے ممالک میں تحریری دینی مواد (مضامین، فتاویٰ، کتب) کی اہمیت بہت ہے

4. فارسی (Persian / Farsi)

  • ایران، افغانستان، تاجکستان میں بولی جاتی ہے

  • دینی اور فکری مضامین کو پڑھنے کا رجحان موجود ہے

  • ایرانی نوجوان علمی اور فلسفیانہ تحریریں بہت پڑھتے ہیں (خصوصاً اگر جدید انداز میں لکھی جائیں)

5. ترکی (Turkish)

  • ترکی میں لوگ سیاسی، دینی اور سوشلسٹ نظریات پر لکھا ہوا مواد کثرت سے پڑھتے ہیں

  • ترکی میں یوٹیوب کے ساتھ ساتھ بلاگز اور فورمز کا بھی بہت استعمال ہے

6. بنگالی (Bengali)

  • بنگلہ دیش اور مغربی بنگال میں

  • دینی، سماجی اور تعلیمی مواد کو پڑھنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے


📊 کچھ اہم نکات:

  • انگریزی میں لکھنا آپ کو عالمی سطح پر پہنچا دیتا ہے

  • اردو، ہندی اور عربی میں لکھنا آپ کو مسلم دنیا کے دل تک پہنچاتا ہے

  • فارسی اور ترکی میں ترجمہ آپ کو پڑھے لکھے نوجوان حلقوں میں مقبول کر سکتا ہے

  • SEO کے لیے انگریزی، ہندی، اور عربی سب سے زیادہ طاقتور ہیں


✅ سفارش:

اگر آپ علمی یا دعوتی مشن پر کام کر رہے ہیں، تو:

  1. اصل تحریر اردو یا انگریزی میں لکھیں

  2. پھر اسے ترجمہ کروائیں یا خود ترجمہ کریں:

    • عربی، ہندی، فارسی، ترکی، بنگالی، انڈونیشین

  3. ہر زبان کی مقامی مثالیں شامل کریں تاکہ قارئین جڑ سکیں

بدھ، 2 اپریل، 2025

سور کا گوشت کیوں حرام ہے؟ (ایک سائنسی جواب)

 سائنس کے نقطہ نظر سے سور کا گوشت حرام ہونے کی ایک علمی اور طبی وضاحت دی جا سکتی ہے۔ سور کا گوشت حرام قرار دینے کی بنیادی وجہ اس میں پائے جانے والے ممکنہ صحت کے خطرات اور اسلامی اصولوں کی ہم آہنگی ہے جو انسان کی فطری، جسمانی اور ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے ہیں۔

1. سور کی غذائی عادات اور صحت کے خطرات

سور ایک آزمائش کنندہ (omnivorous) جانور ہے، یعنی یہ ہر قسم کی غذائیں کھاتا ہے، بشمول گوبر، مردار، اور دیگر ناپاک مواد۔ اس کی غذائی عادات کی وجہ سے اس کے جسم میں ایسے ٹاکسن (زہریلے مواد) اور بیکٹیریا جمع ہو سکتے ہیں جو انسانوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

سائنسی وضاحت:

  • پاراسائٹس اور بیکٹیریا: سور کے جسم میں ایسی بیماریوں کا امکان زیادہ ہوتا ہے جو انسانوں کے لیے مضر ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس میں ٹائیفوس، ہیپاتائٹس اور سائکوسیس جیسے جراثیم اور پاراسائٹس (خطرناک کیڑے) پائے جا سکتے ہیں۔ یہ جانور کھانے کی تمام چیزوں کو کھا لیتا ہے، جس سے اس کے جسم میں زہر جمع ہو جاتا ہے۔

  • کیمیائی مواد: سور کے گوشت میں کچھ ایسی کیمیکلز اور بایوٹاکسن بھی پائے جا سکتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے مضر ہیں۔

2. سور کے گوشت کا نظامِ ہضم اور جسم پر اثرات

سور کا نظامِ ہضم انسانوں سے مختلف ہوتا ہے۔ سور کا ہاضمہ بہت سست اور پیچیدہ ہوتا ہے، اور یہ گوشت میں موجود چکنائی اور بیکٹیریا کو مؤثر طریقے سے صاف نہیں کرتا، جس کے باعث بیماریوں کا امکان بڑھتا ہے۔

سائنسی نقطہ نظر:

  • ہاضمہ اور چربی کا تناسب: سور کے گوشت میں چربی کا تناسب بہت زیادہ ہوتا ہے اور یہ غیر صحت مند کولیسٹرول پیدا کرتا ہے، جو دل کی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔

  • مائکروبیل توازن: سور کی جلد اور گوشت میں بعض مائیکروبز اور بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں جو انسانوں میں بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں، جیسے کہ توفلو اور سیسٹیسرک بیماری۔

3. اخلاقی اور ماحولیاتی پہلو

سور ایک جانور ہے جس کی پرورش کے دوران اکثر قدرتی اصولوں اور اخلاقی لحاظ سے مسائل آتے ہیں۔ سور کی فطری حالت میں موجود بیماریوں اور اس کے جینیاتی اجزاء کی وجہ سے انسانوں کے لیے اس کا گوشت کھانا مناسب نہیں ہے۔

4. اسلامی حکمت اور سائنسی ہم آہنگی

اسلامی تعلیمات میں سور کا گوشت کھانے سے منع کرنے کے پیچھے انسان کی فطری صحت کو برقرار رکھنے کی حکمت ہے۔ قرآن میں سور کے گوشت کو حرام قرار دینے کا مقصد انسانوں کو ان خطرات سے بچانا ہے جو اس کے جسم میں موجود ٹاکسن، بیماریوں اور غیر صحت مند چربی کی وجہ سے ہو سکتے ہیں۔

سائنسی اور اسلامی ہم آہنگی:

  • قرآن نے جس وقت سور کا گوشت حرام قرار دیا، اُس وقت کے لحاظ سے اُس وقت کی سائنسی معلومات اور معیارات کے مطابق انسانوں کی صحت کو بہتر رکھنے کی حکمت تھی، جو آج کی سائنسی تحقیق سے مکمل ہم آہنگ ہے۔

  • فطری صحت: یہ اصول انسان کی فطری صحت اور ہاضمے کے نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہے، کیونکہ انسانوں کا جسم صرف کچھ مخصوص قسم کے گوشت کو بہتر طریقے سے ہضم اور پروسیس کرتا ہے۔

نتیجہ

سائنس اور طب کے نقطہ نظر سے سور کا گوشت انسانی صحت کے لیے مضر ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس میں بیماریوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، اور یہ غیر صحت مند چربی اور ٹاکسن کے باعث مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اسلامی تعلیمات نے اسی وجہ سے سور کے گوشت کو حرام قرار دیا، تاکہ انسانوں کو صحت کے مسائل سے بچایا جا سکے۔