پیر، 25 ستمبر، 2023

جاہل مرد اور جاہل عورت

 جاہل شوہر بیوی کو کنٹرول کرنے میں لگا رہتا ہے اور عقلمند شوہر بیوی کو اپنے ساتھ چلاتا ہے۔

جاہل بیوی شوہر کو کنٹرول کرنے میں لگی رہتی ہے اور عقلمند بیوی شوہر کے ساتھ چلتی ہے۔

دونوں کو کس طرح زندگی گزارنی چاہیے اس کے لیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی عورتوں سے شادیاں کرکے ایک وقت میں پریکٹیکل طور پر دکھادیا کہ شوہر اور کئی بیویاں کیسے زندگی گزارسکتے ہیں اور ان کی بیگمات نے بھی پریکٹیکل طور پر ثابت کردیا کہ بہت ساری بیویاں ملکر ایک شوہر کے ساتھ کیسے رہ سکتی ہیں۔

اب جو مرد و عورت شیطان کے یار ہیں اور اسلام کے غدار ہیں یا منافق ہیں وہ تو ایک عورت بھی ساتھ نہیں چلا پاتے یا ان کے خدا بن کر انہیں اپنی نوکرانی یا باندی بنانے میں لگ جاتے ہیں یا شیطان کی غلام عورتیں مردوں کو اپنا غلام بناکر ان کی خدا بن جاتی ہیں اور ان کے مرد ان کے حکم پر اللہ کے خلاف جاکر پکے شیطان کے یار بن جاتے ہیں۔

اب جس کا جو دل چاہے کرے مگر جیسے ہی اس کی موت ہوگی اس کے ہوش ٹھکانے لگادیئے جائیں گے۔

منگل، 19 ستمبر، 2023

دنیا میں لاگ ان اینڈ لاگ آوٹ کرنا

اس دنیا کے اندر اگر اس مائنڈسیٹ کے ساتھ کام کیا جائے کہ اس فزیکل دنیا کو اصلی اور خواب کو نقلی یا وہم گمان سمجھنے کے بجائے خواب کو اصلی دنیا اور اس فزیکل دنیا کو نقلی یا وقتی سمجھا جائے تو انسان ایک ویڈیو گیم کی طرح اسے سمجھ کر یہاں اس حال میں آئے کہ جب یہاں لاگ ان کرے تو خود کو اس دنیا کے اندر قید میں سمجھے اور ایک ویڈیو گیم کی طرح اس کو اپنے فزیکل کریکٹر سے انجوائے کرے اور جو کچھ کرسکتا ہے وہ کر گزرے اور اپنے آپ کو ایک ویڈیو گیم کی طرح دشمنوں سے بچانے کا پورا انتظام کرے، اچھی طرح دیکھ بھال کر کریکٹر چلائے، ہوشیاری سے کام لے، اپنی فارمنگ کرے، اپنے آپ کو اپ گریڈ کرے، اپنے آیٹم بنائے، اپنے گیئر خریدے، خود کو طاقتور مسلم کریکٹر میں تبدیل کرے اور آگے سے آگے لیول بڑھاکر ترقی کرتا چلا جائے۔

اب مثال کے طور پر ایک موبائل گیم جب انسان کے ہاتھ میں ہوتا ہے تو وہ اس میں گیم آن کرکے لاگ ان کرتا ہے اور اسکرین کے اوپر اسقدر گہرائی سے فوکس کرکے کھیلتا ہے کہ اسے یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ وہ گیم کا کریکٹر نہیں بلکہ اس کا اپنی ذاتی اصلی کریکٹر ہے جو کہ صرف ایک وہم و گمان اور دھوکہ ہوتا ہے جبکہ گیم کی دنیا کی حقیقت بس اتنی ہوتی ہے جتنی دیر گیم کی اسکرین آن ہوتی ہے اور جیسے ہی گیم آف کیا ویسے ہی گیم کی دنیا اچانک نظروں سے غائب اور انسان خود کو اس فزیکل دنیا میں موجود پاتا ہے لہذا گیم میں موجود تمام اچیومنٹس، تمام کارنامے تمام ریکارڈز، تمام تعریفیں، تمام دشمن و دوست، تمام آیٹم وغیرہ بیکار یا پھر لایعنی ہوجاتے ہیں۔

اس کے بعد انسان اپنی فزیکل دنیا کے کاموں میں مصروف ہوجاتا ہے۔ کیوں کیا ایسا نہیں ہوتا؟ بالکل ایسا ہی ہوتا ہے لہذا ثابت ہوا کہ گیم کی دنیا میں لاگ ان ہوجانا انسان کو فزیکل دنیا سے کٹ کردیتا ہے اور گیم کی دنیا سے لاگ آوٹ ہونا انسان کو فزیکل دنیا سے فٹ کردیتا ہے۔

یہی طریقہ اگر خواب یعنی روح کی دنیا کو اصلی سمجھ کر اپنالیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ معاملہ تھوڑا آسان ہوجائے۔ وہ اس طرح کہ جب تک انسان اس دنیا میں جاگ رہا ہے وہ اس دنیا کو اصلی کے بجائے ایک گیمنگ ورلڈ سمجھے اور اس کے مطابق یہاں کام کرے اور سب کچھ وقتی سمجھے اور جان لے کہ جیسے ہی اس کا ٹائم پورا ہوگا وہ آٹومیٹک لاگ آوٹ ہوجائے گا۔

اور جیسے ہی انسان لاگ آوٹ ہوگا وہ خود کو واپس خواب کی دنیا میں موجود پائے گا۔ یہی ہے دنیا کی زندگی کی حقیقت اور خواب کی زندگی لامحدود ہوتی ہے نہ ٹائم معلوم ہوتا ہے اور نہ فاصلے۔ انسان آنا فانا کہیں سے کہیں ٹریول کرجاتا ہے۔ ہواوں میں پرواز کرتا ہے۔ آندھی طوفان اور زلزلے برپا کردیتا ہے۔ عجیب و غریب طاقتوں کا مالک ہوتا ہے۔ مگر جب اس دنیا میں لاگ ان کرتا ہے تو؟ اس کو اپنا ایک نیا کریکٹر واپس ملتا ہے اسی حالت میں جس میں وہ اسے یہاں جس طرح چھوڑ کر جاتا ہے اگر کسی اور نے اس کے جسم کے ساتھ یا اس کے سازوسامان کے ساتھ چھیڑ خانی نہ کی ہو۔

کیا اس گیمنگ مائنڈسیٹ کے ساتھ زندگی گزارنا آسان نہیں؟ جب انسان کو یہ شعور حاصل ہوگا کہ وہ کس طرح ریئل ورلڈ میں گیمنگ کررہا ہے اور کس طرح جب چاہے لاگ آوٹ ہوکر واپس جاسکتا ہے تو پھر وہ اس دنیا میں معمولی چیزوں پر لوگوں سے لڑائی جھگڑے نہیں کرے گا بلکہ اس کی نظروں میں دنیا کے اکثر انسان محض غافل نظر آئیں گے جو ویڈیو گیم کے این پی سی

NPC
کے طور پر ہوں گے اور وہ اپنے اپنے کریکٹر چلا رہے ہوں گے۔


میں سمجھتا ہوں اس طرح ہم اپنی مرضی سے جس دنیا میں چاہیں آ اور جا سکتے ہیں نہ کہ صرف جاگ لیے تو یہاں سب کچھ کرنا جب تک کہ واپس تھک ہار کر سونہ جائیں۔بھئی بیٹری بھی تو دوبارہ چارج کرنی ہوتی ہے نا؟ تو پھر جب چاہو جسم کی بیٹری دوبارہ چارج کرلی جائے اور اس دنیا سے نکل کر واپس خواب میں جاکر وہاں کی روٹین انجوائے کی جائے اور واپس یہاں لاگ ان کرکے فریش موڈ میں تازہ دم ہوکر پھر سے اپنی ویڈیو گیمنگ شروع کرے اس لائف کی۔

اور یہ گیمنگ تو اس وقت تک چلے گی جب تک اللہ کے حکم سے موت کا ذائقہ چکھانے کے لیے فرشتے سامنے حاضر نہ ہوجائیں اور تب وہ جسم سے روح نکال کر اسے یا تو جنت کی طرف لے جائیں گے یا پھر جہنم کی آگ میں پھینک دیں گے اور اس کا دارومدار انسان کی نیت اور اس کے اس دنیا میں فزیکل ایکشن پر ہوگا۔


لہذا ایسی وقتی دنیا سے کیا دل لگانا؟ ہاں اس کو بھی حقیقت سمجھ کر قبول کیا جائے مگر بحیثیت گیمنگ ورلڈ جس کا ڈیزائنر اور بنانے والا صرف  اکیلا اللہ ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ بے شک تمام تعریفوں کے لائق صرف اللہ ہے جو اپنے بندے کے لیے وہاں سے راستے نکالتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ اللہ اکبر

غیرت

غیرت کے موضوع پر دوران مطالعہ مختلف ویب سائٹس سے مختلف موضوعات میں لکھے ہوئے بہترین جملوں یا الفظ کا انتخاب

Do Not Tolerate Nudity at Home

رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے دیوث کی یہ نشانی بتائی ہے کہ وہ بےحیائی اور خباثت کو اپنے گھر میں برداشت کرتا ہے ۔

Insult Against Personality

مادیت پرستی کے عروج وکمال کی وجہ سے اپنے چھوٹے سے چھوٹے حق کے بارے میں تگ ودو کرنا، اس کام کے لیے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لانا ، ہر ایرے غیرے سے تعلقات استوار کرنا یا ختم کرنا،روز مرّہ کا مشاہدہ اور معمول بن چکا ہے ، لیکن حق تعالیٰ کے حقوق کو زندہ کرنااور ان کی نافرمانیوں ومعاصی کو مٹانے کی فکر کرنا، رائج گم راہیوں کی تردید کرنا،اب نہ صرف یہ کہ عملی سطح پر اس کااہتمام نہیں ہوتا ،بلکہ نظریاتی طور پر بھی اس کو کچھ اچھا گوارا نہیں کیاجاتا،بلکہ اس کو بداخلاقی، عدمِ برداشت، مزاج کی تیزی وغیرہ طعنوں سے یا د کیاجاتا ہے، کوئی خدا کا وفادار بندہ اس کا التزام کرے بھی ،تو قدم قدم پر اس کو حوصلہ شکنی کے اسباب سے واسطہ پڑتا رہتا ہے اپنے ہوں یا اغیار، ہر طرف سے تنقید وملامت کے تیر برسنا شروع ہوجاتے ہیں، اسی کا نتیجہ ہے کہ اب سطح زمین اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں اور شریعت کی خلاف ورزیوں سے بھر چکی ہے

Strive for Answering the Attacker

 اگر دین کے معاملہ میں اختلاف کرنے والے کسی شخص کو دین ِاسلام پر تنقید کرتے سن لے تو سکون سے نہ بیٹھے اور چشم پوشی نہ کرے،اسی غیرت کے باب میں سے جہاد فی سبیل اللہ بھی ہے۔

Action or Reaction of Prophet Muhammad

 اگرکوئی شخص آپ صلی الله علیہ وسلم کی ذات مبارکہ کو تکلیف واذیت دیتا یا آپ صلی الله علیہ وسلم کا شخصی ، جانی یا مالی نقصان کرتا توآپ صلی الله علیہ وسلم بڑے صبر وتحمل اور پوری خندہ پیشانی کے ساتھ اس کو برداشت کرلیتے تھے، لیکن جہاں کہیں کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا اور شرعی حدود کو پامال کرنے کی کوشش کرتا وہاں آپ صلی الله علیہ وسلم کی غیرت وغضب قابل ِدید ہوجاتی اور آپ صلی الله علیہ وسلم اس وقت یوں ہی سکوت اختیار نہ فرماتے ،بلکہ نافرمانی کے ختم ہونے تک درد وغم اور زجر وتوبیخ برابر برقرار رہتی ، علمِ اصول فقہ کے علماء نے اسی وجہ سے آپ کی تقریر کو بھی سنت کا درجہ دے کر ایک مستقل حجت ٹھہرایا ہے، کیوں کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ نبی اکرمصلی الله علیہ وسلم کے سامنے کوئی خداکی نافرمانی کرے،شریعت کی حدود کو پامال کرڈالے اور آپ صلی الله علیہ وسلم اس پر خاموشی اختیار فرمائیں، بلکہ ضرور اس پر نکیر فرماتے تھے۔

Strictness is Not Bad Even if Others Say It is Wrong!

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین اور حضرات صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین)کا بھی یہی طریقہ رہا ہے کہ وہ دینی غیرت وحمیت کے جذبات سے سرشار تھے ،دینی احکام کی نافرمانی یا دین دشمنی دیکھتے وقت بڑی غیرت کامظاہرہ کرتے تھے اور جب تک اس کوختم نہ کرتے یا اس میں اپنی بھر پور طاقت استعمال نہ فرماتے،اس وقت تک چین کا سانس نہ لیتے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں بعض علاقوں میں ارتداد کی لہر دوڑی ،جس کا آپ رضی اللہ عنہ نے بروقت اور بالکل صحیح ادراک فرمایا، لیکن اس وقت بعض صحابہ کرام نے سخت اقدام کرنے کو مصلحت کے خلاف خیال فرمایا، اس وقت آپ نے ایک ایسا تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جو سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے اور قیامت تک کے مسلمانوں کے دینی جذبات اور ایمانی غیرت کی آبیاری وشادابی کے لیے کافی ہے،آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ:”أینقص الدّین وأنا حیّ؟“کیا میرے زندہ رہتے ہوئے دین میں کمی کی جائی گی؟

Work Against False Beliefs

 امّت میں موجود غلط اعتقادات ونظریات کی تردید کرنا اور امت ِمرحومہ کے افراد کو ان سے بچائے رکھنا دینی غیرت وحمیت کا بڑا تقاضا ہے۔

Action Against Fitnah People

ضرورت اس بات کی ہے کہ دینی غیرت کی اس مٹی ہوئی سنت کو پھرسے زندہ کیاجائے اور صرف ظاہری اعمال واحوال ہی میں نہیں ،بلکہ اعتقادی ونظریاتی حدود تک اس کے دائرہ کار کو بڑھایاجائے اور ہر نئے پھوٹنے والے فتنہ سے امت کو بر وقت آگاہ کردیا جائے، تاکہ ظاہری اسباب کی حد تک کسی گم راہی کو امت کے درمیان جمنے اور ٹکنے کا موقع ہی نہ ملے ،ورنہ تو روز مرّہ کا مشاہدہ ہے کہ ایک مرتبہ شکاری کے جال میں پھنسنے کے بعد اس کو نکال لینا ایک مشکل اور صبر آزما مرحلہ بن جاتا ہے، جس کا نتیجہ عموماً مایوسی اور ناکامی کی شکل میں ملتا ہے، لیکن ظاہر ہے کہ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے، بلکہ نہایت مشکل اور کٹھن اقدام ہے، جس میں ذرا بھر غلطی کرنا بھی بڑے خسارے ونقصان کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے اس کام کے لیے بڑے صبر وتحمل،وسیع علم وفضل، گہرے فکر ونظر اور تعلق مع اللہ کی ضرورت ہے۔