ہفتہ، 5 اگست، 2023

تمہاری شخصیت خوفزدہ بنانے کے مجرم یہ لوگ ہیں

میں نے بذات خود اپنی آنکھوں سے اسکول کالج یونیورسٹی سے پڑھی لکھی تعلیم یافتہ ڈگری ہولڈرز خواتین کو اپنے چھوٹے بچوں سے بدترین فرعون نما سلوک کرتے مشاہدہ کیا ہے اور اس کی بنیاد پر میں تمہیں یہ سچ بتارہا ہوں کہ تمہارے اندر جتنا بھِی ڈر خوف ہچکچاہٹ اور لوگوں کے سامنے کھل کر آنے کا مسئلہ ہے اس کا سارا کریڈٹ تمہارے والدین، اساتذہ اور ماضی کے ان لوگوں کو جاتا ہے جنہوں نے تمہیں ڈانٹ ڈپٹ کرکے، قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑِی کرکے، تمہیں ڈرا دھمکا کر، مار پیٹ کر اور ذہنی مریض بناکر اس معاشرے میں لاوارث تنہا چھوڑ دیا ہے۔

وہ تمام لوگ بہرحال اب تمہارے کسی کام کے نہیں کیونکہ ان سب نے اپنی فرعونیت کی ڈگری پوری کرلی ہے تمہارے اندر ڈر خوف پیدا کرکے اور باقی کسر اسی معاشرے کے ممی ڈیڈی بچوں نے تمہارے خلاف سوشل میڈیا پر بکواسات کرکے پوری کرلی ہے جن کے پیٹ بھرے ہیں اور یہ کتے بن کر بھونکنے چلے آتے ہیں کمنٹس پر تمہارے خلاف لہذا ایسے معاشرتی کتوں سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

میں سیدھی بات کرتا ہوں اور مجھے ایسے کتوں سے نہ ڈر ہے اور نہ ان کی پرواہ ہے کیونکہ یہ میرے سامنے دو کوڑِی کی حیثیت بھی نہیں رکھتے اپنے مال اور دولت کے سبب اور ان کا سارا مال میرے لیے خاک کا ڈھیر ہے اس لیے یہ نہ مجھے دباسکتے ہیں اور نہ جھکاسکتے ہیں مگر تمہیں نیچا دکھانے کے لیے یہ اپنی ہر ممکن بھرپور کوشش کریں گے تاکہ تم ڈر کر بزدل بن کر رہو۔

اس دنیا کے اندر ماضی سے اب تک حکمرانوں، وڈیروں، چودھریوں، افسروں وغیرہ نے جو کہ خود نفطہ سے بنے انسان ہیں اپنی طاقت اور غرور کے نششہ میں غریبوں کو اپنا غلام بناکر رکھا ہے اور آج بھی دنیا بھر میں ایسا ہی ہورہا ہے۔

جب تک غریب بزدل بن کر جیتا رہے گا یہ غریبوں پر راج کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ڈر اور خوف کا دھندا کرتے ہیں اور اپنے ساتھ ایسے غنڈوں کو رکھتے ہیں جو دکھنے اور نظر آنے میں بہت مہذب لگتے ہیں مگر اندر سے پکے شیطان اور اللہ کے غدار ہوتے ہیں۔

یہ پدی اور پدی کے شوربے تمہیں کبھی آگے بڑھنے سے روکنے نہ پائیں اگر تم واقعی اللہ کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہو کیونکہ اس فزیکل دنیا میں تمہیں ان سب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہی لوگ پوری دنیا پر قابض ہیں وسائل اپنے کنٹرول میں رکھ کر۔ یہ نہیں چاہتے کہ اللہ کے بنائے ہوئے قدرتی وسائل تمام انسانوں کے استعمال میں آسکیں تو انہوں نے ذہین نوجوانوں کو غلامی، قید، ڈر خوف بھوک وغیرہ میں پھنسا دیا اور خود عیاشیاں کررہے ہیں۔ 

جاہل عورت میری بات سنو

او جاہل عورت اور مسلمانی کے دعوے کرنے والی پڑھی لکھی ہونے کے غرور میں مبتلا فرعون میری بات غور سے سنو

اللہ نے تمہیں اس لیے اولاد نہیں دی کہ تم ان پر حکمرانی کرو اور ان کی شخصیت کو اپنی فرعونیت کے تلے دباکر ان کا بچپن ضائع کرو۔ اگر تم جاب کرکے کمارہی ہو اور ان کو اسکول بھیج رہی ہو تو تمہیں تب بھِی یہ حق نہیں کہ تم اپنے بچوں پر مار پیٹ اور ظلم و تشدد اور مینٹل ٹارچر کرو ،بے غیرت ہو تم۔

اللہ نے تمہیں ایسا کوئی حق نہیں دیا کہ ظالم بن کر بچوں پر تشدد کرو۔ اللہ کی لعنت ہو تم پر اور اللہ تمہیں غارت کرے۔ تم جیسی منحوس اور ظالم نام نہاد مسلم عورتیں جو خود کو ڈگری یافتہ پڑھی لکھی کہتی ہو محض جانور ہو بلکہ ان سے بھی بدتر ہو کیونکہ تم مسلمانی کا دعوی کرنے کے باوجود اپنی عقل استعمال کرنے سے محروم ہو۔

تمہاری ڈگری تمہاری تعلیم نہیں بلکہ جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ تمہیں اتنی ڈگریاں لینے کے بعد بھی چھوٹے بچوں سے بات کرنے کا سلیقہ اور ادب اور تہذیب نہ آسکی اور تم ان پر اپنی خرافات اور گندگی نکالتی ہو۔ مسائل تمہارے اپنے آفس کے ہوتے ہیں مگر سارا دن تمہیں جب موقع لگ جائے تو تم بچوں کے کان خراب کرتی ہو۔ ان پر چِیخ چلاتی ہو۔ بے غیرت ہو تم

تمہارا شوہر تمہیں منع کرتا ہے تو تم اسے ذلیل کرنے لگ جاتی ہو، بے غیرت ہو تم

تم پر تو اللہ کی لعنت ہے اور تم اسے نعمت سمجھ رہی ہو، جاہل بھی ہو تم

دو چار حج عمرہ کرکے ایصال ثواب کرکے تم خود کو فاطمہ الزہرہ سمجھ رہی ہو، گنوار ہو تم

تمہاری یہ دولت، شہرت، عیش و عشرت تمہیں کامیابی نظر آتی ہے؟ پاگل ہو تم

حقیقت سے غافل ہو تم

جس دن موت کا فرشتہ تمہاری روح باہر نکالے گا تب تمہیں اپنے کرتوتوں اور بےحیائی کا علم اور شعور حاصل ہوگا مگر تب تک بہت دیر ہوچکی ہوگی اور تب تم اللہ سے رو رو کر معافیاں مانگو گی مگر تب تمہیں تمہارے گھٹیا اعمال کا بدلہ بھرپور دیا جائے گا۔

جس طرح تم نے بچوں پر تشدد کیا ہے اس کا بدلہ تم سے ضرور لیا جائے گا۔

جس طرح تم نے بچوں کو ڈرایا دھمکایا ہے اور ان کی شخصیت تباہ کی ہے اس کا بدلہ تم سے ضرور لیا جائے گا۔

کیونکہ تم تو اپنے غرور میں ایسی گم ہو کہ تمہیں اللہ معافی مانگنے کی توفیق بھی نہیں دیتا۔ اتنا کافی نہیں؟

بے شک عقل والی مسلم عورت کے لیے اتنا بھی کافی ہے کہ وہ سنبھل جائے مگر جانوروں سے بدتر نام نہاد مسلم عورتیں نہ سنبھل پاتی ہیں اور نہ سدھرتی ہیں بلکہ اپنی بےحیائی، نافرمانیوں اور شوہروں کو ذلیل کرنے اور بچوں کو تباہ کرنے کو عقلمندی اور ہوشیاری سمجھتے ہوئے جہنم واصل ہوجاتی ہیں۔

تم نے جنت اپنے باپ کی جاگیر سمجھ لی ہے کہ تم جو مرضی کرو اور تمہیں جنت دے دی جائے؟

بچوں پر ظلم کے بدلے تمہیں جنت دی جائے؟

شوہر کو ذلیل کرنے کے بدلے تمہیں جنت دی جائے؟

اپنے جسم کی نمائش اپنے آفس جاکر کرنے پر تمہیں جنت دی جائے؟

باہر غیر مردوں میں گلچھڑے اڑانے کے بدلے تمہیں جنت دی جائے؟

ماں باپ کے ساتھ بدتمیزی کرنے کے بدلے تمہیں جنت دی جائے؟

اللہ اور محمد رسول اعظ٘م صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غداری کرنے کے بدلے تمہیں جنت دی جائے؟

تم ہو کس خوش فہمی کے اندر؟

تمہاری اوقات ہے کیا؟

دو کوڑی کی عورت ہو تم اور غرور تمہارا آسمان جتنا؟

یہ ہے تمہاری اصل اوقات جو میں نے تمہیں دکھادی ہے۔

اب بھی وقت ہے۔

باز آجاو اور سدھر جاو۔

ورنہ اللہ نے جس دن تمہیں اپاہج کردیا یا فالج کردیا یا بدترین عذاب میں گرفتار کیا تو کوئی تمہیں اللہ سے بچانے والا مددگار نہ مل سکے گا اور تمہیں تب یاد بھِی نہ ہوگا کہ تم نے اپنے ماضی میں کیا کچھ کیا تھا جس کا یہ بدلہ ہے۔

سدھر جاو اسی میں تمہاری بھلائی ہے۔