جمعہ، 23 جون، 2017

اللہ کے مخلص مومن بندےمعاشرے میں نظر کیوں نہیں آتے؟

میں اللہ کے کام کرنے کےکچھ  طریقے اپنے علم کے مطابق خوب جانتا ہوں۔اگر اللہ کو دنیا میں خود ہی سب کچھ کرنا ہوتا تو آن کی آن میں ساری دنیا کی کایا پلٹ سکتا ہے۔مگر وہ ایسا نہیں کرے گا کیونکہ اس کام کیلئے اس نے انسان کو اپنا نائب بناکر بھیجا ہے اور یہ امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمانوں پر ایک بہت بھاری ڈیوٹی ہے کیونکہ دنیا کے غیر مسلموں کے ہاتھوں اکیسویں صد ی میں  گلوبل ولیج بناکر اللہ نے مسلمانوں پر ظاہری وسائل اور ٹیکنالوجی فراہم کرکے بہت بڑا احسان کیا ہے کہ وہ آسانی سے گھر بیٹھے ہی دنیا بھر کے کفار و مشرکین کے سامنے دین اسلام کے معجزاتی دلائل اور روشن نشانیاں پہنچانے کی کوشش کرسکیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ فرقوں میں بٹے اکثر مسلمان دین اسلام کو کیا خاک غالب کرینگے بلکہ اکثر فرقہ پرست مسلمان تو ایک دوسرے کو ہی کافر و مشرک بنانے کی ڈیوٹی سر انجام دینے میں مصروف ہیں  اور معمولی مسائل پر لڑرہے ہیں۔

اس لیے دین اسلام کے حقیقی کام کو سمجھنا اور اس پر کام کرنا کم از کم کسی فرقی مسلمان کے بس کی بات ہرگز نہیں کیونکہ وہ پہلے یہ دیکھتا ہے کہ کیاکوئی مسلم اس کی جماعت سے تعلق رکھتا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو نفرت سے نظرانداز کردے گا ۔

اس طرح مخلص مومن بندے کو اکثریت کی جانب سے نظرانداز ہونا اور تنہا رہ جانے کا تجربہ ہوتا ہے تو وہ بھلا معاشرے میں کیسے نظر آئے گا ؟

 رہ گئے  دنیا دار مسلمان جنہیں مذہب سے خاص لگاو نہیں تو ان سے اسلام غالب کروانے میں ساتھ ہوجانے کی امید میں محنت کرنے کے بعد تاحال مجھے بھی کوئی سپورٹ حاصل نہیں ہوئی  تو کیا  یہ لوگ کسی مخلص مومن بندے کو سپورٹ کریں گے جو حق اور سچ بغیر ملاوٹ کے بولتا ہو اور کھلم کھلا اعلان کرتا ہو کہ تمام غیرمسلم ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائیں گے ، تمام غیرمسلموں کے تمام معبود باطل ہیں اور اکثر مسلم جھوٹے اور دھوکہ بازی کرنے والے ہیں؟ 

نہیں۔ ایسا نہیں ہوتا۔تو جب سپورٹ نہیں ملے گی تو وہ بھلا معاشرے میں کیسے نظر آئیں گے؟

اللہ جس کو چاہے اپنے دین اسلام کیلئے استعمال کرسکتا ہے اس لیے میں بھی اپنے طور پر غیرمسلموں تک دین اسلام کی سچائی پر ناقابل شکست ثبوتوں کو پہنچانے کی کوشش کرتا رہتا ہوں لیکن فرقہ پرست مسلمانوں اور دنیا دار مسلمانوں سے ہٹ کر جتنے بھی دیگر مسلمان کسی سیاسی یا دیگر جماعتوں سے وابستہ ہیں ان کی جماعتیں دنیا میں کچھ خاص کام نہیں کرسکیں اور نہ کر پارہی ہیں کیونکہ وہ اتنا ہی آگے بڑھ سکتے ہیں جتنا غیر مسلم قوتیں چاہتی ہیں یعنی کہ ابلیس کے پیروکار۔ اسی لیے یہ جماعتیں صرف احتجاج ، رونا پیٹنا، تقاریر وغیرہ کرکے لوگوں سے ہمدری اور مال بٹور سکتی ہیں مگر دین اسلام غالب کرنا یا دنیا کے مظلوم مسلمانوں کو کفار کے ظلم و ستم سےعملی طور پر نجات دلانا ان کے بس کی بات نہیں ہوتی کیونکہ ان کے پاس اس کا سو فیصد حل موجود ہی نہیں ہے، نہ مادی قوت، نہ روحانی قوت ۔ اس لئے ناکام ہیں۔

اب وہ چند فیصد جماعتیں جو بالکل ہی غیر سیاسی بن کر صرف اللہ ہو ، سنتیں اور تبلیغ کے نام پر کام کرتی ہیں تو ان کے کام اسی لئے جاری و ساری ہیں کہ یہ لوگ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی طرز پر کام نہیں  کررہے ورنہ ان کا ٹکراو ظلم کے نظام کے خلاف نظر آتا۔یہ لوگ تو اس سوچ کے تحت چلتے ہیں کہ اپنا عقیدہ چھوڑو نہیں اور کسی کا عقیدہ چھیڑو نہیں۔اس لئے مذہبی اور غیر سیاسی جماعتوں کی اکثریت کے باوجود ٹیپو سلطان، محمد بن قاسم، شیر شاہ سوری، عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ، امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ، عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسی طرز پر معاشرے میں مسلمان نظر نہیں آرہے۔

 آخر میں وہ مجاہدین اسلام جو اللہ کیلئے مخلص ہیں اور اللہ کی مدد کے سہارے اپنا کام کررہے ہیں تو ان کے خلاف غیرمسلموں کا میڈیا چلتا ہے اور دنیا بھر کامیڈیا یہودیوں کے اشاروں کا غلام ہے ۔

یہودی بہت شاطر قوم ہے وہ صرف جنگوں کے ذریعے لڑائی نہیں کرتے بلکہ انہوں نے عورتوں کے ذریعے بھی نوجوان مسلمانوں کو اس قابل نہیں چھوڑا کہ یہ کافروں کے خلاف عملی طور پر  کچھ کرسکیں لہذا یہ اخلاقی و معاشی طور پر تباہ ہوچکے ہیں تو مومن بندے  بھلا معاشرے میں کیسے نظر آئیں گے  ؟

ایسے حالات میں اگر کوئی مسلمان یہ کائناتی سوچ رکھے کہ وہ اکیلا حضرت محمدصلی اللہ علیہ کی امت کیلئے عالمی سطح پر کچھ کرے تو اس کا ٹکراو مخلص مجاہدین اسلام کے علاوہ باقی تمام طبقات کے انسانوں اور جنات سے لازمی طور پر ہوگا  لیکن وہ یاد رکھے کہ اکثر مسلم اپنے دنیاوی مفادات، موت کے خوف یا 

جمعرات، 22 جون، 2017

اکثر لوگ اللہ تک کیوں نہیں پہنچ پاتے؟

غیر مسلم کا اللہ تک پہنچنے کا سوال اس لیے پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تک پہنچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ اور حجاب ان کے لیے خود کفر ہے جبکہ مسلمان کا عقیدہ کسی دلیل کے تحت ہوتا ہےاور ایک مسلم اپنا کوئی بھی عقیدہ اختیار کرکے اسی پر اعتماد کرکے بیٹھ جاتا ہے ۔

اگر یہ عقیدہ اسے علم و دلائل کے تحت حاصل ہوا تو پھر بہت ہی مشکل ہوتا ہے کہ وہ اس عقیدے کو چھوڑ سکے۔پھر یہی عقیدہ زندگی بھر اس کا یقین بنا رہتا ہے خواہ وہ باطل عقیدہ ہی کیوں نہ ہو کیونکہ وہ اپنے عقیدے پر یقین کرکے بیٹھ جاتا ہے اور عمل، تجربہ اور نتیجہ کے میدان میں اتر ہی نہیں پاتا۔

اسی لئے دین اسلام کے وہ حقائق جو علم الیقین سے عین الیقین اور پھر حق الیقین تک لے کر جاتے ہیں اس کیلئے کوئی معنی نہیں رکھتے۔یہ بہت سخت نقصان دہ بات ہے کیونکہ ایسے عقیدہ والے مسلمان کیلئے اسلام صرف زبانی کلامی اور چند مخصوص اعمال کا مجموعہ بن کر رہ جاتا ہے جو کہ درحقیقت ایسا ہی ہے جیسا کہ دوسرے مذاہب والے پیروکاروں کا اپنے باطل اور تصوراتی خداوں کو حقیقی خدا سمجھ کر ان کی عبادت اور پوجا کرتے رہنا کیونکہ یہی عقیدہ ان کے دل و دماغ میں بچپن سے ان کے والدین نے سکھاکر بٹھادیا ہوتا ہے۔

لہذا صرف کتابوں کے سہارے لفاظی کرنے والے اکثر مسلمان اور علماء کبھی بھی کسی غیر مسلم کو  پریکٹیکل کے ذریعہ اللہ کے وجود اور ذات حقیقی تک پہنچنے اور ماننے پر یقین کامل نہیں دلواسکتےکیونکہ وہ خود بھی اس سے محروم ہیں اور جب شریعت کے مطابق عمل نہ کیا جائے تو روحانیت کیسے حاصل ہوگی؟

اور جب روحانیت یعنی طریقت  کا استاد بھی کوئی نہ ہو تو حقیقت کیسے حاصل ہوگی؟

اور جب حقیقت حاصل نہ ہو تو سو فیصد یقین کامل کیسے حاصل ہوگا؟

اور سو فیصد یقین کامل تو اللہ کے فضل سے ہی حاصل ہوتا ہے اور اللہ تک رسائی بھی محض اللہ کی توفیق سے ہی نصیب ہوسکتی ہے، محض اپنی کوشش کے ذریعہ نہیں ۔

لہذا اکثر لوگ اسی لیے اللہ تک نہیں پہنچ پاتے کیونکہ اکثر لوگوں کا مائنڈسیٹ اور فوکس اللہ کی ذات نہیں بلکہ اپنی خواہشات نفسانی اور دنیا کی ہوس ہوتی ہے اس لیے خواہش کے باوجود ان کے لیے اللہ تک پہنچ جانے کی منزل تک رسائی ناممکن ہوتی ہے۔

بدھ، 21 جون، 2017

دنیا بھر کے مسلمان اکیسویں صدی میں عالمی طاقت کیوں نہیں بن پارہے ؟

 میرے علم ، فراست اور دنیا پر نظر کے مطابق فرقہ پرست مسلمانوں کی اکثریت نے اپنی کوششیں اپنے فرقوں کی ترقی اوردیگر فرقوں کو کافر و مشرک قرار دینے تک محدود کرلی ہیں جبکہ  دنیا کی طرف ذیادہ رجحان اور لگاو رکھنے والے اکثر مسلمانوں کو دین اسلام  تمام باطل ادیان و مذاہب پر غالب کرنے سے کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے لہذا روئے زمین پر تقریبا ستر فیصد غیرمسلموں کے سامنے مسلمانوں کی تقریبا پچیس فیصد آبادی ناکارہ ہوچکی ہے۔ باقی کے پانچ فیصد مسلمانوں میں سے کتنے فیصد سو فیصد اخلاص کے ساتھ غلبہ اسلام کے لیے کوششیں کررہے ہیں وہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔

اسی لیے عملی طور پر مسلمان اکیسویں صدی میں عالمی طاقت نہیں بن پارہے   نیز میں بغیر کوشش کے خالی دعاوں کا قطعی قائل نہیں۔یہ انبیاء کرام کا طریقہ نہیں اور نہ ہی اللہ کا ۔اگر ایسا ہوتا تو  تقریبا دو ارب مسلمانوں کی صرف دعاوں سے دنیا کی کایا پلٹ چکی ہوتی اللہ کے حکم سے۔ 

اگر اللہ کے وعدے پر بغیر کوشش کیے ہی بیٹھنا اسلام کی حقیقی تعلیمات ہوتیں تو حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہ کرام عملی طور پر جنگوں کے میدان کے بجائے مصلے بچھاکر دعاوں کے ذریعہ معجزات و کرامات کے بل بوتے پر سارے کارنامے سرانجام دیتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔یہاں تک کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد  حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی عملی طور پراسلام کو غالب کرنے میں مصروف رہےاور مسلم دنیا جانتی ہے کہ انہوں نے اسلام کو کس قدر غالب کیا تھا اللہ کی مدد اور حکم سے  تو  کیا یہ سارے کام صرف دعاوں سے ہوئے ؟

آج اکیسویں صدی میں رہنے والے مسلمانوں کی اکثریت سے   آپ اسلام غالب ہوجانے کی امید لگائیں گے؟

ان کا مقصد اپنے اپنے فرقوں ، جماعتوں، تنظیموں ، اداروں وغیرہ کی تبلیغ اور چودہراہٹ قائم کرنا، مخالفین کو کافر و مشرک قرار دینا، علمی اختلاف کرنے والے کو دشمن اسلام سمجھ کر اس کے خلاف جھوٹے  بیانات اور سازشیں کرنا اور اپنے ہاتھ میں قرآن و حدیث لے کر خود کو اسلام کا ٹھیکے دار ثابت کرکے چندہ، خیرات و   صدقات کے ذریعہ عوام کو دھوکے میں رکھنا ہے۔

علمائے حق تو آج بھی موجود ہیں لیکن مجموعی طور پر فرقہ پرستی کے زہر میں ڈوبے  فرقی مسلمانوں میں نفرت کی آگ اس قدر بھیانک طریقے سے بھڑک رہی ہوتی ہے کہ یہ دوسرے فرقے کے مسلمان کو برداشت کرنا تو بہت دور کی بات ہے، اسے مسلمان ہی نہیں مانتے اسی لیے اس کو دوبارہ مسلمان کرکے اپنے فرقے میں گھسیٹنے کے لیے کوششیں کررہے ہوتے ہیں تو یہ اپنی توجہ غلبہ اسلام پر کدھر سے لے کر جائیں گے؟

امید ہے کہ اب آپ کو سمجھ آگئی ہوگی کہ دنیا بھر کے مسلمان اکیسویں صدی میں عالمی طاقت کیوں نہیں بن پارہے ؟   ایسے حالات میں دنیا میں تبدیلی دیکھنے کے خواہشمند اکثر مسلم صرف خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں اور یہ حقیقت ہمارے لیے ایک زناٹے دار تمانچہ ہے۔