پیر، 27 فروری، 2023

غلبہ السلام مشن کے دوران آپ کو اللہ کے کون سے معجزات کا سامنا کرنا پڑا؟

دین اسلام کی سچائی کے اللہ کے مشن پر کام کرتے ہوئے میرے ساتھ بے شمار واقعات رونما ہوئے اور اللہ نے مجھے کھلی آنکھوں سے اپنی عظیم نشانیوں کا گواہ بنایا۔

میں نے ان میں سے بہت سے معجزات کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا ہے تاکہ پوری دنیا کے غیر مسلم ان معجزات کو دیکھ کر اور ان کو دیکھ کر دین اسلام کی حقیقت کو جان سکیں اور پوری دنیا کے مسلمانوں کا ایمان بڑھے اور وہ ان معجزات کو دیکھ سکیں۔ مکمل یقین ہو کہ اللہ ہی حقیقی معبود ہے۔

اگر آپ ان معجزات کو دیکھنا چاہتے ہیں تو میرے دو یوٹیوب چینلز کے نام یہ ہیں۔

میں نے اللہ کے حقیقی اور قابل مشاہدہ معجزات کے ساتھ مزید یوٹیوب چینلز بھی بنائے جن کو دنیا بھر کے لوگوں نے شیئر کیا۔

امید ہے کہ، یہ سب آپ کو اللہ پر اپنے ایمان کو بڑھانے اور اس کے ساتھ مزید گہرائی سے جڑنے میں مدد دے گا (انشاء اللہ)

اتوار، 26 فروری، 2023

سولوپرینیور کے فوائد اور نقصانات

 سولو پرینور کا مطلب ہے کہ آپ اپنے کاروبار کے واحد مالک ہیں اور خود کام کرتے ہیں۔ سولوپرینیور ہونے کے کچھ فوائد میں شامل ہیں:

لچک: آپ کو اپنے کام کے شیڈول پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور آپ جب چاہیں کام کر سکتے ہیں۔

خود مختاری: فیصلہ سازی کے عمل سمیت اپنے کاروبار کے تمام پہلوؤں پر آپ کا مکمل کنٹرول ہے۔

لاگت کی تاثیر: آپ اوور ہیڈ اخراجات جیسے دفتر کی جگہ، ملازمین کی تنخواہیں، اور بڑے کاروبار کو چلانے سے وابستہ دیگر اخراجات کو بچا سکتے ہیں۔

تخلیقی آزادی: آپ کو کسی اور کی منظوری کی ضرورت کے بغیر نئے خیالات کے ساتھ تجربہ کرنے کی آزادی ہے۔

تاہم، سولوپرینیور ہونے کے کچھ نقصانات بھی ہیں:

محدود وسائل: ایک سولو پرینور کے طور پر، آپ کے پاس محدود وسائل ہو سکتے ہیں، بشمول وقت، پیسہ اور مہارت۔

تنہائی: تنہا کام کرنا تنہا ہو سکتا ہے، اور دوسروں کے خیالات کو اچھالنا یا رائے حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

کوئی بیک اپ نہیں: اگر آپ بیمار ہو جاتے ہیں یا آپ کو وقت نکالنے کی ضرورت ہوتی ہے، تو آپ کا احاطہ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

ترقی کی محدود صلاحیت: ٹیم کے بغیر، اپنے کاروبار کو ایک خاص نقطہ سے آگے بڑھانا مشکل ہو سکتا ہے۔

بالآخر، سولو پرینور ہونا بہتر ہے یا نہیں، اس کا انحصار آپ کی انفرادی ترجیحات، اہداف اور حالات پر ہے۔


منگل، 21 فروری، 2023

کیا اسلا م میں زیادہ پیسہ کمانا حرام ہے؟

 پیسہ کمانے کے حوالے سے ایسے مسلمانوں میں شدید کنفیوزن پائی جاتی ہے جو فرقہ پرستی میں گرفتار ہیں کیونکہ انہیں اکثر و بیشتر یہی سکھایا پڑھایا جاتا ہے کہ دنیا ایک بےکار جگہ ہے۔ یہ دل لگانے کے لیے نہیں ہے۔ انہیں اولیا اللہ اور صحابہ کرام کے حوالے سے من پسند قصے کہانیاں سنائی جاتی ہیں جن سے مائنڈسیٹ پر ایک غلط تاثر قائم ہوتا ہے کہ گویا ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو غریب ہو یا اللہ کا ولی وہی ہوتا ہے جس کے پاس ایک گدڑی ہو اور وہ کسی کٹیا یا جھونپڑی میں بیٹھا اللہ ہو کی ضربیں ماررہا ہو وغیرہ وغیرہ۔ 

یہاں میں پیسہ کمانے کے حوالے سے ایسے لوگوں کے ویڈیوز شیئر کررہا ہوں جو اس معاملہ میں خود ساختہ اور جھوٹے عقائد کے خلاف ایک غیرجانبدار اور صحیح بات کررہے ہیں خواہ ان کا تعلق کسی بھی فرقہ سے ہو لہذا ان ویڈیوز کو پیسہ کمانے کے لیے حوالے سے اپنے عقائد درست کرنے کے لیے ہی سنا جائے اور جتنا ممکن ہوسکے ایک مسلمان اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے مال کمانے کے لیے اپنی کوششیں کرے تاکہ غریبی و فقیری کے سبب کفر میں نہ پڑجائے اور اس کے گھر بار، والدین، رشتہ دار وغیرہ دوسروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائیں بلکہ وہ انہیں اللہ کے دیے ہوئے مال سے مدد کرے اور اپنی دنیا کا حصہ بھی لے اور آخرت میں بھی کامیابیاں حاصل کرسکے اللہ کے فضل سے۔


اتوار، 12 فروری، 2023

ایک ملحد کے طور پر، کیا میں جہنم کا پابند ہوں؟ اور کیا میں اس کا مستحق ہوں؟

 ملحد بننا تمہارا اپنا فیصلہ تھا، تمہیں خدا نے ملحد بننے پر مجبور نہیں کیا لہذا اگر تم جان بوجھ کر ملحد رہ کر زندگی گزارنا چاہتے ہو اور اسی طرح مرنا چاہتے ہو تو بے شک ایسی حالت میں مرجانے پر اللہ تمہیں ہمیشہ کے لیے جہنم میں پھینک دے گا اور تم خود اپنے آپ کو جہنم کا مستحق بناوگے کیونکہ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا لیکن وہ کافروں کو ان کے کفر کی وجہ سے بہت دردناک سزا دیتا ہے۔ اسی لیے اس نے جہنم بنائی ہے۔

دوسری بات یہ کہ تم ماں کے پیٹ سے ملحد بن کر نہیں آئے تھے۔ تمہیں اللہ نے مسلمان بنایا تھا۔ دنیا کا ہر بچہ اپنی ماں کے پیٹ سے مسلم بن کر باہر آتا ہے۔ یہ قصور بچوں کے والدین کا ہے جو اپنی گمراہی اپنے بچوں میں ٹرانسفر کردیتے ہیں اور انہیں بھی زبردستی باطل مذہب پر لگادیتے ہیں۔

اس بات کا ثبوت کہ ہر بچہ مسلم پیدا ہوتا ہے یہ پیدائشی بچے ہیں جو اپنے منہ سے صرف ایک خدا "اللہ" کا نام بول رہے ہیں جبکہ تمہیں بحیثیت ملحد یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ دنیا میں ہزاروں سے ذیادہ خداوں کے نام پر ہزاروں سے ذیادہ مذاہب بنے ہوئے ہیں اور ہر مذہب کا پیروکار یہ دعوی کرتا ہے کہ صرف اس کا مذہب اور اس کا خدا سچا ہے۔

اکثر مذہبی پیروکار جھوٹ بولنے میں ماہر ہیں اور جھوٹی کہانیوں کو لکھ کر جھوٹے خدا تیار کرلیتے ہیں اسی لیے پیدائشی بچوں نے صرف اللہ کے حکم پر صرف اللہ کا نام بول کر ہمیشہ کے لیے یہ ثابت کردیا ہے کہ صرف اللہ ہی اس کائنات کا خدا ہے اور وہی انسانوں کو ان کی ماوں کے پیٹ میں تیار کرتا ہے۔

ایسا کیسے ممکن ہے کہ پیدائشی بچے بغیر اسکول، بغیر کالج، بغیر یونیورسٹی، بغیر مدرسہ، بغیر کسی استاد اور بغیر کسی ٹریننگ کے صرف "اللہ" ہی کا نام بول رہے ہیں؟

یہ بات تو عقل کے بھی خلاف ہے اور فزکس سائنس کے قوانین کے بھی خلاف ہے لہذا اگر تم اپنی عقل استعمال کرسکتے ہو تو پھر اللہ کے معجزات دیکھنے کے بعد اور غور و فکر کرنے کے بعد اور اگر شک و شبہات ہوں تو سچا دین ویب سائٹ پر موجود تحقیات کو پڑھنے اور چیک کرنے کے بعد تم کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوجاو اور فیصلہ کرلو کہ آئندہ کبھی کسی ملحد، عیسائی، یہودی، مسلم، ہندو، بدھست وغیرہ کی جھوٹی کہانیوں پر یقین نہیں کروگے بلکہ پہلے تحقیق کرو گے کہ جو بات تمہیں سنائی جارہی ہے اس کا کوئی پریکٹیکل ثبوت ہے یا نہیں؟

میں نے تمہیں قرآن یا حدیث یا کسی مذہبی کتاب کا کوئی ریفرینس نہیں دیا کیونکہ مجھے اس کی ضرورت نہیں اللہ کو خدا ثابت کرنے کے لیے۔ اس کام کے لیے اللہ نے خود ہی انتظام کردیا ہے اپنی غیرجانبدار مخلوقات کے ذریعہ۔ میرا کام بس اتنا تھا کہ تمہاری توجہ اللہ کے اصلی معجزات کی طرف کردوں۔

یہ حق تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے آچکا۔ اب اگر تم ملحد کے طور پر رہو گے اور اس کے باوجود ملحد رہ کر مرگئے اور اپنی عقل سے کام نہ لیا تو بے شک پھر اللہ کا یہ دعوی تمہارے حق میں درست ہوگا اور وہ تمہیں جہنم میں ہمیشہ کے لیے پھینک دے گا اور تمہارا کوئی دوست یار اللہ کے مقابلہ پر تمہیں بچانے نہیں آسکے گا قیامت کے دن۔

Quran: 2.161-162

اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَمَاتُوۡا وَهُمۡ كُفَّارٌ اُولٰٓٮِٕكَ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةُ اللّٰهِ وَالۡمَلٰٓٮِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَۙ‏ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمُ الۡعَذَابُ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ‏ 

ترجمہ:  یقیناً جو کفار اپنے کفر میں ہی مرجائیں، ان پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ جس میں یہ ہمیشہ رہیں گے، نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی۔

اور یہ اس لیے کہ پہلے تمہیں علم نہ تھا لیکن اب تمہیں علم مل چکا۔ اب ہدایت کے بدلے گمراہی پر رہنا تمہارا اپنا ذاتی فیصلہ ہوگا۔ اس لیے پھر بتادوں کہ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔

بدھ، 8 فروری، 2023

ظاہری اسباب کو اختیار کرتے ہوئے آئندہ کے لیے کوشش کرے

  بندہ ہرکام کو سوچ سمجھ کر کرے، اس کے فوائد اور نقصانات پر پہلے ہی غوروفکر کرلے، پھر اس کے کرنے پر نفع ہو یا نقصان اسے تقدیر الٰہی جانتے ہوئے راضی رہے، اس پر شکوہ شکایت نہ کرے، واویلا نہ مچائےبلکہ ظاہری اسباب کو اختیار کرتے ہوئے آئندہ کے لیے کوشش کرے۔

جمعرات، 2 فروری، 2023

اگر اللہ رحم دل ہے تو وہ لوگوں کو جہنم میں جانے سے کیوں نہیں روکتا؟

 بے شک اللہ رحم دل ہے مگر وہ انصاف بھی کرتا ہے۔

اللہ نے جہنم کافروں کے لیے بنائی ہے۔
اللہ نے جنت مسلمانوں کے لیے بنائی ہے۔
اللہ نے تمام انسانوں کو ماوں کے پیٹ میں تخلیق کیا۔
اللہ نے تمام انسانوں کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی۔
اللہ نے اکیسویں صدی میں ماوں کے پیٹ سے نکلے بچوں کے منہ سے اپنا نام بلواکر دکھادیا۔
اللہ نے انسانوں کو عقل دی اور فیصلہ کرنے کی آزادی دی ہے۔
اب اس کے بعد بھی کوئی انسان اپنی عقل استعمال نہ کرے اور کافر رہ کر مرنا چاہے تو اللہ اس پر زبردستی کیوں کرے؟
اگر کوئی انسان کافر بن کر ہیمشہ کے لیے جہنم میں جانا چاہتا ہے تو یہ اس کی مرضی اور فیصلہ ہے، اللہ اس پر زبردستی کیوں کرے؟
اگر کوئی انسان مسلم بن کر ہیمشہ کے لیے جنت میں جانا چاہتا ہے تو یہ اس کی مرضی اور فیصلہ ہے، اللہ اس پر زبردستی کیوں کرے؟

اللہ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے نبیوں کو بھیجا اور آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ قرآن نازل کرکے اوراکیسویں صدی میں اپنے کھلم کھلا معجزات دکھاکر ہمیشہ کے لیے ثابت کردیا ہے کہ صرف اللہ ہی اس کائنات کا بادشاہ اور مالک اور کنٹرول کرنے والا ہے۔

اس سے بڑی اللہ کی رحمت کیا ہے کہ ایک انسان ساری زندگی کافر رہ کر گزارے اور جب بھی چاہے اللہ سے معافی مانگ کر اسلام قبول کرلے تو اللہ اس کے ماضی کے تمام گناہ فورا معاف کردیتا ہے؟

کیا دنیا کا کوئی جج ہے جو اپنی عدالت میں کسی انسان کو معاف کردے جس نے ساری زندگی روزانہ ملک کے قانون توڑے ہوں؟

کیا دنیا کا کوئی فوجی ہے جو کسی باغی کو معاف کردے جبکہ وہ اس کے ملک کے خلاف روزانہ ساری زندگی کام کرتا رہے؟

کیا دنیا کا کوئی پولیس والا ہے جو کسی مجرم کو معاف کردے جبکہ وہ اس کے شہر کے لوگوں کے خلاف روزانہ ساری زندگی کام کرتا رہے؟

اللہ نے موت سے پہلے تک توبہ کرنے کی مہلت دے رکھی ہے اس کے بعد بھی اگر کوئی کفر پر مرنا چاہے تو اس سے بڑا احمق کون ہوگا؟ اب بھی کوئی اپنی غلطی نہ مانے اور اللہ کو ذمہ دار ٹھہرائے تو اس سے بڑا جاہل کون ہوگا؟

اب یہ سب جاننے کے بعد بھی کوئی انسان کفر کرے اور کافر رہ کر مرنا چاہے تو اس سے بڑا بدنصیب اور کون ہوگا؟

بے شک اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ اکثر لوگ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔


اللہ انصاف کرنے والا ہے، اللہ معاف کرنے والا ہے، اللہ سخت سزا دینے والا بھی ہے۔

جو لوگ ماننا چاہتے ہیں وہ اپنے فائدے کے لیے کریں گے۔
جو کفر کرنا چاہتے ہیں وہ اپنے ہی نقصان کے لیے کریں گے۔

اللہ تمام جہان والوں سے بے نیاز ہے۔