پیر، 30 دسمبر، 2024

عزت اور ذلت کی حقیقت – ایک سبق

یہ بات افسوسناک ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک غلط فہمی پھیل چکی ہے کہ عزت کا پیمانہ صرف اور صرف دنیاوی لباس، دولت، عہدہ، اور ظاہری شان و شوکت پر منحصر ہے۔ بدقسمتی سے کچھ لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی محفل میں اعلیٰ درجے کے کپڑے پہنے یا ان کپڑوں کی استری کرے تو وہ ہی عزت مند اور باعزت سمجھا جاتا ہے۔ یہ حقیقت میں ایک بے بنیاد اور جھوٹا تصور ہے جو دنیاوی سطح پر کامیابی کے لئے ایک خاص قسم کے ظاہر پر مبنی ہے۔

اللہ نے قرآن میں بار بار ذکر کیا ہے کہ عزت و ذلت کا حقیقی مفہوم انسان کے اخلاق، کردار، اور نیک عمل میں ہے، نہ کہ ظاہری حالات یا مال و دولت میں۔ جو لوگ صرف اپنی ظاہری حالت کے ساتھ اپنے آپ کو عزت مند سمجھتے ہیں، وہ دراصل اس فریب میں مبتلا ہیں کہ دنیا کی عارضی چیزوں سے انہیں کوئی بڑا مقام مل سکتا ہے۔

عزت کا اصل مفہوم:

عزت کی حقیقت اس بات میں ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ کے قریب اور اس کی رضا میں مشغول رکھے۔ اللہ نے فرمایا:

"وَعَدَ اللَّٰهُ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ جَنَّٰتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَارُ خَـٰلِدِينَ فِيهَا وَمَسَٰكِنَ طَيِّبَةًۭ فِى جَنَّٰتِ عَدْنٍۢ وَرَضِىَ ٱللَّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِىَ رَبَّهُۥ"
(التوبہ 9:72)

ترجمہ:
"اللہ نے ایمان لانے والے مردوں اور ایمان لانے والی عورتوں کے لیے وہ جنتیں وعدہ کی ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ مکان جنت عدن میں، اور اللہ ان سے راضی ہوگا اور وہ اللہ سے راضی ہوں گے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔"

وہ لوگ جو اپنے آپ کو مال و دولت سے متعلق سمجھتے ہیں، ان کا غلط تصور:

کچھ لوگ اپنے عہدہ، پیسے یا مقامات کے بل پر اپنی عزت و عظمت کا دعوی کرتے ہیں، جیسے وہ کسی کی معیاری زندگی کے معیار بن چکے ہیں۔ "اتنی بڑی ڈاکٹر کا شوہر؟ اتنے بڑے آفیسر کا بیٹا؟" جیسے سوالات ان کے درمیان گاہے بگاہے سننے کو ملتے ہیں، اور ان کا تصور یہ ہوتا ہے کہ ان کے اندر کوئی خاصیت ہے۔ لیکن حقیقت میں اللہ نے دنیا میں صرف آزمائش رکھی ہے۔ اگر کسی کو مال، عزت، یا مرتبہ دیا ہے تو یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہے۔ ان چیزوں کا حقیقی مقام اور مقصد کسی انسان کی عزت یا ذلت کے پیمانے سے نہیں بلکہ اس کے عمل اور نیت سے وابستہ ہے۔

دنیاوی شین و شوکت کی حقیقت:

دنیا میں مال و دولت کی اہمیت صرف اس حد تک ہے کہ انسان اپنے اور اپنے اہل خانہ کی ضروریات پوری کرے۔ اس کے بعد انسان کا کام ان مال و دولت کو لوگوں کی خدمت میں، اللہ کی رضا کے لئے اور دوسروں کی مدد کے لیے استعمال کرنا ہے۔ اگر انسان میں بخل اور غرور ہوتا ہے تو اس کی عزت کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

پڑھے لکھے جاہل:

پڑھائی، دولت اور عہدے کی بنیاد پر خود کو عزت میں سب سے آگے سمجھنے والے افراد دراصل جاہلیت میں مبتلا ہیں۔ جو لوگ علم حاصل کرنے اور دنیا کی دولت جمع کرنے کے بعد بھی اپنے اندر اخلاق نہیں رکھتے، وہ حقیقت میں جاہل ہیں۔ وہ دین کی سچی سمجھ سے دور ہیں اور ایک جھوٹی شان و شوکت میں غرق ہیں جو ان کو اللہ سے دور لے جاتی ہے۔

ذلت کی حقیقت:

ذلت کا تعلق انسان کے اعمال سے ہے، نہ کہ اس کی مالی حالت یا عہدے سے۔ اللہ نے فرمایا:

"وَمَنْ يَكْفُرْ بِإِيمَانِهِ فَإِنَّهُ أَصْلَحَ وَلَيْسَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَأَشْرَكْتَ فِي كَبَرٍ" (الزمر، 39:4)

اگر انسان نے نیک عمل نہیں کیے، اللہ کی ہدایت کو قبول نہیں کیا، اور اپنے نفس اور غرور کو دنیا کی عارضی چیزوں پر ترجیح دی، تو وہ ذلت میں ڈوب جائے گا، چاہے اس کے پاس کتنی بھی دولت یا عزت ہو۔

اختتامیہ:

ہمیں اپنی عزت کا پیمانہ اللہ کی رضا، اخلاقی خوبیوں، اور عمل سے جانچنا چاہیے۔ اس کی قربت میں ہی حقیقی عزت ہے، نہ کہ مال، دولت، یا عہدے میں۔ دنیا میں جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے، وہ عارضی ہے، اور یہ صرف ایک امتحان ہے۔ جو شخص ان چیزوں کو اللہ کے راستے میں صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے استعمال کرتا ہے، وہی سچی عزت کا مستحق ہے۔ اگر یہ لوگ حقیقت میں دین اور اسلام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں اپنی عارضی شان و شوکت کو چھوڑ کر، اپنی اصل عزت کی جانب قدم بڑھانا ہوگا جو کہ اللہ کے راستے میں ہے۔