جمعہ، 27 جون، 2025

تمہیں یہاں سے چلے جانا چاہیے۔ اور دوبارہ واپس مت آنا

social media se ek behtreen post

"تمہیں یہاں سے چلے جانا چاہیے۔ اور دوبارہ واپس مت آنا۔"
بس یہی الفاظ تھے جو اُس نے سنے۔
نہ کوئی چیخ، نہ آنسو۔ بس ایک سپاٹ جملہ... اور دروازے کے بند ہونے کی آواز۔
یہ اُس کی نانی تھیں۔
وہ عورت جس نے اُسے پالا تھا، کھلایا، ہر قدم پر اُس کا خیال رکھا — آج اُسے ایسے باہر نکال رہی تھیں جیسے وہ کوئی اجنبی ہو۔
قریب کھڑے اُس کے نانا حیران رہ گئے۔
"تم کیا کر رہی ہو؟ وہ تمہارا نواسہ ہے!"
نانی نے کوئی جواب نہیں دیا۔
بس خاموشی سے پلٹ کر گھر کے اندر چلی گئیں۔
اُسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔
کسی کو نہیں آیا — نہ ہمسایوں کو، نہ خود اُسے۔
وہ ابھی تک وہی کپڑے پہنے ہوئے تھا جو دوپہر کو پہنے تھے۔
نہ بٹوہ، نہ فون، نہ چابیاں۔ بس... باہر۔
سو وہ چل پڑا۔
پہلے ایک دوست کے گھر گیا۔
"یار، کیا میں کچھ دن تمہارے ساتھ رہ سکتا ہوں؟"
دوست حیرت سے دیکھنے لگا، "تمہیں نکال دیا گیا؟"
"ہاں..." اُس نے سر ہلایا۔
"یار معذرت، میرے والدین اجازت نہیں دیں گے۔ میں چاہتا ہوں مدد کرنا، لیکن نہیں کر سکتا۔"
وہ وہاں سے بھی چلا گیا۔
راستے میں ایک اور دوست ملا۔
"ٹھیک ہو؟ بڑے پریشان لگ رہے ہو۔"
"میرے پاس رہنے کی کوئی جگہ نہیں۔ کچھ دن تمہارے ہاں ٹھہر سکتا ہوں؟"
"تمہارے پاس پیسے ہیں؟ کوئی خرچہ اٹھا سکتے ہو؟"
"نہیں... میرے پاس کچھ بھی نہیں۔"
"تو پھر معذرت، میں کچھ نہیں کر سکتا۔"
وہ خاموشی سے سر جھکائے چلتا رہا۔
آخرکار وہ اپنی گرل فرینڈ کے پاس پہنچا۔
اُسے گلے لگایا اور ساری بات بتائی۔
وہ پریشان ہو گئی۔ بولی کہ اپنے والدین سے بات کرے گی۔
کچھ دیر بعد واپس آئی۔ آواز دھیمی تھی اور آنکھیں اداس۔
"میرے والدین نے منع کر دیا ہے۔ اور سچ کہوں تو... میں اُن کا فیصلہ نہیں بدل سکتی۔ معاف کرنا۔"
وہ خاموش رہا۔
بس سر ہلایا... اور واپس چل پڑا۔
اب وہ واقعی اکیلا تھا۔
ایک پارک کی بینچ پر بیٹھا آسمان کو دیکھنے لگا۔
جس کے لیے وہ ہمیشہ موجود رہا، وہ سب اُس کے لیے موجود نہ تھے۔
کئی گھنٹے گزر گئے۔
اور جب وہ سمجھ بیٹھا کہ اب کوئی نہیں آئے گا...
تب اُس کے نانا کی گاڑی آکر رکی۔
"آؤ، گھر چلتے ہیں۔"
اُس نے سر ہلایا۔
"کس لیے؟ تاکہ کل دوبارہ نکال دیا جائے؟"
"بس ایک بار اور چل پڑو میرے ساتھ... مجھ پر بھروسہ رکھو۔"
اُس نے ہچکچاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔
راستے بھر دونوں خاموش رہے۔
گھر پہنچتے ہی نانی دوڑتی ہوئی آئیں اور اُسے گلے لگانے کی کوشش کی۔
لیکن اُس نے پیچھے ہٹ کر اُنہیں روک دیا۔
تب نانا نے نرمی سے کہا، "بیٹھو۔"
اور پھر اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر آہستہ سے بولے:
"اس نے یہ سب تمہیں تکلیف دینے کے لیے نہیں کیا۔ بلکہ کیونکہ وہ تم سے سب سے زیادہ محبت کرتی ہے۔
وہ چاہتی تھی کہ تم وہ دیکھو، جو وہ کب سے دیکھ رہی تھی۔
تمہیں لگتا تھا تمہارے سچے دوست ہیں۔ ایک مضبوط رشتہ ہے۔
لیکن اُس نے دیکھا کہ یہ سب لوگ صرف تب تک تمہارے ساتھ ہیں جب تم کچھ دے سکتے ہو۔
جب تمہیں کچھ چاہیے ہو، تو سب غائب ہو جاتے ہیں۔
اُسے تمہیں یہ دکھانا تھا — تاکہ تم خود دیکھو، خود سمجھو کہ کون تمہارے لیے سچ میں ہے۔"
اُس کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے۔
تب نانی آہستہ سے آگے بڑھیں، آواز کانپ رہی تھی:
"میرے لیے وہ دروازہ بند کرنا سب سے مشکل کام تھا،" وہ بولیں۔ "لیکن میں مزید ایسے نہیں جی سکتی تھی جیسے سب ٹھیک ہے۔
تمہیں حقیقت کا سامنا کرنا تھا۔
اور مجھے تم سے اتنی محبت کرنی تھی کہ تمہیں تکلیف دے سکوں — تاکہ تم سیکھ سکو۔"
اب وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔
بچوں کی طرح نانی سے لپٹ گیا، ایسا گلے لگایا جیسے الفاظ کی ضرورت ہی نہ ہو۔
اور اُس لمحے میں... اُسے ایک ایسی بات سمجھ آ گئی جو لفظوں سے نہیں سکھائی جا سکتی۔
کبھی کبھی جو انسان تم سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے، وہی تمہیں جھنجھوڑنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
تاکہ تم وہ سچ دیکھ سکو، جس سے تم آنکھیں چرا رہے تھے۔
جب تمہارے پاس سب کچھ ہوتا ہے، تو لوگ تمہارے گرد آ جاتے ہیں۔
لیکن جب تمہارے پاس کچھ نہ ہو — تب تمہیں پتا چلتا ہے کون تمہارے ساتھ ہے۔
نہ کسی فائدے کے لیے۔
بس تمہارے لیے۔
اور ہاں، یہ تکلیف دیتا ہے۔
لیکن آخرکار، یہی تمہیں مضبوط بناتا ہے۔

جمعہ، 13 جون، 2025

کن رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنا جائز ہے؟

Kin Rishtedaron Se Qata Taluq Karna Jaiz Hai | Mufti Akmal | ARY Qtv



غیرمسلم اسلام کیوں قبول کریں؟

 غیرمسلم اس لیے اسلام قبول کریں تاکہ وہ موت کے بعد بھڑکتی ہوئی آگ اور دردناک سزاوں میں جانے سے خود کو بچاسکیں جو اللہ نے کافروں کے لیے تیار کرکے رکھی ہوئی ہے۔

غیرمسلم دنیا میں جتنی چاہے ترقی کرلیں، جتنا چاہے کام کرلیں، دولت شہرت عزت کامیابی حاصل کریں، یہ سب ان کی موت کے بعد انہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچاسکے گی۔

موت کے بعد صرف ایمان بچائے گا اور اس کے لیے اسی زندگی میں اللہ اور اس کے آخری نبی حضرت محمد رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ہوگا۔ انہیں ماننا پڑے گا۔ اگر کوئی غیرمسلم اللہ کا انکار کرے تو جہنم میں داخل ہوگا۔ اگر کوئی غیرمسلم اللہ کو مانے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرے، وہ بھی کافر ہے اور جہنم میں داخل ہوگا۔

جہاں تک یہ بات ہے کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ صرف اسلام اللہ کا دین ہے اور اللہ اس کائنات کا اصلی خدا ہے؟

اس کے ثبوت کے لیے مندرجہ ذیل یوٹیوب چینل اور ویب سائٹس دیکھی جاسکتی ہیں۔

YouTube Channels:

Websites:

مسلسل روز جاگنا بیماری کا باعث (Sidra Naseem) - ایک سوال

 سدرہ نسیم کی ایک پوسٹ پر یہ لکھا تھا


اس پر ایک کمنٹ کسی نے پوسٹ کیا اور کچھ جاہل گنواروں نے اس پر ہنسی مذاق بھی اڑایا نیز سدرہ نسیم نے مسلسل روز جاگنے کو بیماری کا باعث بننے کا سبب بتادیا مگر میڈیکل کو سامنے رکھ کر مگر اس روحانی بلندی کو غلط رنگ دیتے ہوئے۔

اب میرا یہ سوال ہے سدرہ نسیم اور اس کے تمام پیروکاروں سے کہ

مسلسل روز جاگنے سے کتنے ولی اللہ، صحابہ کرام اور نبیوں کا انتقال بیماریوں سے ہوا ہے؟

اللہ کی سزائیں بستیوں پر

 بچپن میں جب قرآن میں ان بستیوں کا ذکر پڑھتی تھی جن پر اللہ کا عذاب آیا اور سب کے سب ہلاک ہو گئے، تو یہ سوال دل میں اٹھتا تھا کہ ان میں جو نیک اور بے گناہ لوگ تھے ان کا کیا قصور تھا؟ وہ بھی ساتھ کیوں ختم ہو گئے؟ وقت گزرنے کے ساتھ جب میں نے دنیا کے نظام، خاص طور پر اپنے ملک کی سیاست، جاگیردارانہ نظام اور طاقت کے غلط استعمال کو دیکھا تو اندازہ ہوا کہ جب ایک نظام مکمل طور پر ظلم، بددیانتی اور ناانصافی پر قائم ہو جائے، تو پھر اس کی اصلاح کا ایک ہی طریقہ رہ جاتا ہے کہ وہ مکمل طور پر الٹ دیا جائے۔ ایسے میں جو نیک لوگ ہوتے ہیں ان کی ہلاکت دراصل ان کے لیے نجات بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ظالم نہیں۔ مگر نیک لوگ معاشرتی برائیوں کے خلاف آواز نہ اٹھائیں اور صرف اپنی عبادت اور ذاتی نیکی میں محدود ہو جائیں تو وہ خاموشی بھی گناہ بن جاتی ہے۔ اور جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو وہ صرف بدکاروں پر نہیں بلکہ ان سب پر آتا ہے جو برائی کو روکنے میں ناکام رہے ہوں۔ بعض اوقات اللہ نیک لوگوں کو فتنوں سے بچانے کے لیے پہلے ہی دنیا سے اٹھا لیتا ہے۔ اس لیے کسی بستی کی مکمل تباہی دراصل ایک بیمار نظام کی جڑ سے صفائی اور نئے آغاز کی تیاری ہوتی ہے۔

ایسی بات نہیں ہے۔ اللہ نیک لوگوں پر عذاب نہیں بھیجتا۔ قرآن کے مطابق اکثر لوگ ظالم فاسق ہیں لہذا اللہ اپنے قانون کے مطابق ظالموں کو سزائیں دیتا ہے۔ ان کے ذریعے صاف واضح ہے کہ بسیتوں کے لوگ ظالم ہوتے تھے اور یہی آجکل واضح ہے لہذا اللہ اپنی سنت کے مطابق کام کرتا رہتا ہے۔ لوگوں کو شعور نہیں کہ وہ اللہ کو صرف لفاظی کے ذریعے بےوقوف نہیں بناسکتے کہ منہ سے کلمہ پڑھ لیا اور کام سارے کافروں والے کرتے رہیں۔ اللہ کے نزدیک دو اہم طبقات ہیں، ایمان والے یا پھر کفر کرنے والے کافر، اور کفر کرنا انکار کرنا ہوتا ہے اور انکار کرنے والا "عمل نہیں کرتا" تو عملا کافر بھی کافروں کی category میں شمار ہوجاتا ہے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس سے اکثر لوگ جاہل ہیں اور غافل ہیں۔

پھر ہم نے وہاں سے اُن لوگوں کو نکال لیا جو مومن تھے، اور ہم نے اس بستی میں مسلمانوں کے ایک گھر کے سوا کوئی نہ پایا۔ سورہ الذاریات (51)، آیت 35-36

اور اسی طرح تیرے رب کی پکڑ ہوتی ہے جب وہ ظلم کرنے والی بستیوں کو پکڑتا ہے۔ بے شک اس کی پکڑ بہت دردناک اور سخت ہے۔ سورۃ ہود (11:102)

اور کتنی ہی ظالم بستیاں ہم نے تباہ کر دیں، اور ان کے بعد دوسرے لوگوں کو پیدا کیا۔ سورۃ الانبیاء (21:11)

اور آپ کا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکزی مقام میں کوئی رسول نہ بھیج دے جو ان پر ہماری آیات تلاوت کرے، اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کرتے مگر جب ان کے رہنے والے ظالم ہوں۔ سورۃ القصص (28:59)

اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو وہاں کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں، پھر وہ نافرمانی کرتے ہیں، تو ان پر بات ثابت ہو جاتی ہے، پھر ہم اسے پوری طرح تباہ کر دیتے ہیں۔ سورۃ بنی اسرائیل (17:16)

جمعرات، 12 جون، 2025

اگر کوئی فیس دے کر نہیں سیکھنا چاہتا تو تمہیں کیا مسئلہ ہے؟

 پہلے یوٹیوب نہیں تھا۔

پہلے لاکھوں لوگ علم اس طرح نہیں سکھارہے تھے۔
اگر کوئی فیس افورڈ نہیں کرسکتا، وہ جہاں سے چاہے مفت سیکھ سکتا ہے۔
جو فیس افورڈ کرسکتا ہے اور استاد کی اہمیت سمجھتا ہے، یا براہ راست استاد سے سیکھنا چاہتا ہے، وہ اسے فیس دے کر سیکھ سکتا ہے، مسئلہ کسی بھی صورت میں نہیں ہے۔
فری سیکھنے والوں کو ڈی گریڈ کرنا بمقابلہ فیس دے کر سیکھنے والوں کے، کسی کا حق نہیں۔
جسے فری سیکھنا ہے سیکھے، جسے پیسے دے کر سیکھنا ہے سیکھے۔
دنیا میں ہر طرح کے انسان ہیں، اور ہر طرح کے لوگ کامیاب ہوچکے ہیں۔
اگر بہت سے لوگ کروڑوں کمانا چاہتے ہیں اور ہزاروں بھی نہیں لگارہے سیکھنے کے لیے تو اس میں مسئلہ کدھر ہے؟ میں ایک کروڑ سے زائد کماچکا ہوں اور سیکھنے پر اتنے ہزار نہیں لگائے تھے، تو؟
ہر انسان کے حالات و واقعات مختلف ہوسکتے ہیں، ایک قانون سب پر اپلائی نہیں ہوسکتا۔

اب بات کرتا ہوں ڈاکٹر کی
اگر ڈاکٹر 2000 فیس لے رہا ہے تو یہ اس کا حق ہے کہ وہ اپنی فیس 2000 رکھے ہوئے ہے۔ جسے تکلیف ہے وہ اس ڈاکٹر کے پاس کیوں نہیں جاتا جو فی سبیل اللہ علاج کررہا ہے یا 100 روپے فیس لے کر دوا دے رہا ہے؟ کیا معاشرے میں ہر طرح کے ڈاکٹرز موجود نہیں ہیں؟ لہذا بے تکی باتوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
ذیادہ فیس مانگنے سے کوئی حرام خور نہیں بن جاتا۔
مجھ سے کوئی علاج کروانے کے لیے آتا ہے، میں پانچ لاکھ روپے ڈیمانڈ کرتا ہوں، یہ میرا بزنس ہے، اب اگر کسی ڈاکٹر کو تکلیف پہنچے یا کسی کے پیٹ میں مروڑ اٹھے، تو میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں۔
ابھی تو ویسے بھی فی الحال علاج معالجہ کا کام pending میں چھوڑ رکھا ہے کیونکہ اکثر لوگ جہالت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لہذا انہیں بھی سبق ملنا چاہیے کہ لاعلاج حالت میں موت کا ذائقہ چکھنے کے قریب جاتے وقت کیسی حالت ہوجاتی ہے انسان کی، پھر ڈھونڈتے پھرتے ہیں کسی مسیحا کو۔ ناقدرے اور ناشکرے لوگ۔

اور ایک بات یہ کہ اسکل سکھانے والے سے یہ سوال کرنا کہ آپ نے کچھ کمایا یا نہیں؟ یہ انتہائی حماقت انگیز سوال ہے۔ کیا کوئی اسٹوڈنٹ اپنے سر سے کلاس میں پوچھتا ہے کہ سر یہ جو آپ ہمیں انگریزی، اردو، اسلامیات، حساب، فزکس وغیرہ پڑھارہے ہیں تو کیا آپ نے اپنی زندگی میں کبھی ان subjects کے زریعے کچھ کمایا ہے؟ یہ بدتمیزی اور بدتہذیبی کہلائے گی۔

ٹیچر کا کام اپنا ہنر سکھانا ہے، علم ٹرانسفر کرنا ہے تو اس پر فوکس ہونا چاہیے، نہ کہ ٹیچر کی ذاتی زندگی، کمائی اور حالات واقعات پر نظر ثانی کرنا ہر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کا حق ہونا چاہیے۔

یہاں میں ٹیچرز کو بھی ڈیفینڈ کررہا ہوں جن پر تنقید کی جاتی ہے کہ تم خود تو کچھ کمانہیں سکے تو پڑھا کیوں رہے ہو؟ یا کچھ زندگی میں کر نہیں سکے تو پڑھانے لگ گئے۔

مارکیٹ میں ہر طرح کے لوگ ہیں، ہر طرح کے اسٹوڈنٹس ہیں۔ جس کا جہاں دل لگتا ہے، جہاں matching ہوتی ہے، جہاں کنکشن بنتا ہے، کرلے، مگر دوسروں کو تذلیل کرنے کا حق اسے نہیں۔

ایک کورس بیچنے والا ہے تو جسے کورس بیچنے کی اوقات نہیں، اسے کوئی حق نہیں کہ کورس بیچنے والے کو منجن بیچنے والا کہہ کر اس کا مذاق اڑائے۔

یہاں تو عجیب ڈرامے بازی چل رہی ہے۔ جس جاہل کا بس چلتا ہے جو مرضی ہانک دیتا ہے۔

اب سڑتے رہو، پڑھتے رہو، اپنا کام ہوچکا۔

الحمدللہ
ذیشان ارشد

غزہ میں صیہونی فورسز نے 57 امدادی کارکنوں سمیت 120 فلسطینی کو شہید کردیا

میں دیکھ رہا ہوں کہ پاکستانی میڈیا ایسے نیوز نشر کرتا ہے جیسے کوئی معمول کی بات ہو اور آلو بھنڈی کے ریٹ بتائے جارہے ہوں۔ ایک عام سی خبر کہ غزہ میں اتنے شہید کردیے گئے، یا فلاں مارے گئے۔

یہ سب کس کو سنارہے ہیں؟

اگر عوام کو سنارہے ہیں تو کس منہ سے سنارہے ہیں؟

کیا عوام کچھ کرسکتے ہیں؟

اگر ہاں تو کیا کریں؟

اگر نہیں تو عوام کے بجائے یہ کس کی ذمہ داری ہے کہ غزہ پر حملہ کرنے والے اسرائیلی یہودی کتوں کو ان کی اوقات دکھائے جاکر اور انہیں لگام ڈالے؟

ظاہر سی بات ہے یہ کام پاکستانی آرمی سمیت دنیا کی تمام مسلم فورسز کے ذمہ آتا ہے۔

کیا وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کررہے ہیں؟

اگر ہاں، تو یہ جنگ بند کیوں نہ ہوسکی اب تک؟

اگر نہیں، تو اب تک کیا جھک ماررہے ہیں؟

انڈیا نے پاکستان پر حملہ کیا تو پاکستان نے تہہ بہ تہہ حملہ کردیا کہ ہمارے ملک کا معاملہ ہے۔

یہ فلسطینی کس کا معاملہ ہے؟

کیا اب اللہ کو خود آنا پڑے گا یہ سارے معاملات طے کرنے کے لیے؟

اگر وہ آگیا تو پھر باقی کسی کو نہ چھوڑے گا۔

ساری دولت، شہرت، طاقت، عہدے، دبدبہ لاشوں کے انبار میں بدل کر رکھ دے گا۔

اب بھی وقت ہے، مسلم آرمی ہوش کے ناخن لے اور پاکستانی آرمی جاکر غزہ میں جنگ بندی کرے یا پھر تمام مسلم ممالک کے حکمران اور ان کے چمچے اپنی عیاشیاں چھوڑ کر پہلے غزہ پر کاروائی کریں ارو انہیں سپورٹ کریں اور انہیں اپنے ملکوں میں رہائش اور بنیادی سہولتیں فراہم کریں۔

اس سے پہلے کہ اللہ ان کے شہروں کو عبرت کا نشان بناڈالے یا ان کے محلوں کو زمین بوس کرڈالے اور اللہ پر ایسا کرنا بہت آسان ہے۔

وللہ واحد القہار