جمعرات، 12 جون، 2025

غزہ میں صیہونی فورسز نے 57 امدادی کارکنوں سمیت 120 فلسطینی کو شہید کردیا

میں دیکھ رہا ہوں کہ پاکستانی میڈیا ایسے نیوز نشر کرتا ہے جیسے کوئی معمول کی بات ہو اور آلو بھنڈی کے ریٹ بتائے جارہے ہوں۔ ایک عام سی خبر کہ غزہ میں اتنے شہید کردیے گئے، یا فلاں مارے گئے۔

یہ سب کس کو سنارہے ہیں؟

اگر عوام کو سنارہے ہیں تو کس منہ سے سنارہے ہیں؟

کیا عوام کچھ کرسکتے ہیں؟

اگر ہاں تو کیا کریں؟

اگر نہیں تو عوام کے بجائے یہ کس کی ذمہ داری ہے کہ غزہ پر حملہ کرنے والے اسرائیلی یہودی کتوں کو ان کی اوقات دکھائے جاکر اور انہیں لگام ڈالے؟

ظاہر سی بات ہے یہ کام پاکستانی آرمی سمیت دنیا کی تمام مسلم فورسز کے ذمہ آتا ہے۔

کیا وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کررہے ہیں؟

اگر ہاں، تو یہ جنگ بند کیوں نہ ہوسکی اب تک؟

اگر نہیں، تو اب تک کیا جھک ماررہے ہیں؟

انڈیا نے پاکستان پر حملہ کیا تو پاکستان نے تہہ بہ تہہ حملہ کردیا کہ ہمارے ملک کا معاملہ ہے۔

یہ فلسطینی کس کا معاملہ ہے؟

کیا اب اللہ کو خود آنا پڑے گا یہ سارے معاملات طے کرنے کے لیے؟

اگر وہ آگیا تو پھر باقی کسی کو نہ چھوڑے گا۔

ساری دولت، شہرت، طاقت، عہدے، دبدبہ لاشوں کے انبار میں بدل کر رکھ دے گا۔

اب بھی وقت ہے، مسلم آرمی ہوش کے ناخن لے اور پاکستانی آرمی جاکر غزہ میں جنگ بندی کرے یا پھر تمام مسلم ممالک کے حکمران اور ان کے چمچے اپنی عیاشیاں چھوڑ کر پہلے غزہ پر کاروائی کریں ارو انہیں سپورٹ کریں اور انہیں اپنے ملکوں میں رہائش اور بنیادی سہولتیں فراہم کریں۔

اس سے پہلے کہ اللہ ان کے شہروں کو عبرت کا نشان بناڈالے یا ان کے محلوں کو زمین بوس کرڈالے اور اللہ پر ایسا کرنا بہت آسان ہے۔

وللہ واحد القہار