بدھ، 3 جون، 2026

موسم بدلنے کے معجزات اور جاہلوں کے اعتراضات

آج کل سوشل میڈیا پر کچھ ایسے جاہل بھی پائے جاتے ہیں جن کا اپنا ایمان اتنا کمزور ہوتا ہے کہ جب وہ کسی دوسرے پر اللہ کا کرم دیکھتے ہیں، تو حسد کی آگ میں جل کر اول فول بکنا شروع کر دیتے ہیں۔ حال ہی میں کسی نے ایک طویل کمنٹ کر کے اپنی جہالت کا ثبوت دیا۔ اب اس کے ایک ایک پوائنٹ کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں تاکہ عقل والوں کو ایسے لوگوں کی جہالت کا اندازہ ہوسکے۔


استغفر اللہ، تمیز نہیں کسی چیز کی، جہالت دیکھو اپنی۔ یہ بھی نہیں پتا کہ اللہ سے دعا کیسے کی جاتی ہے، اکڑ دیکھو اپنی اور اللہ کو حکم دے رہے ہو تم؟ واہ، تم کون ہوتے ہو اسے بتانے والے کہ یہ کرو، وہ کرو؛ تم جب نہیں تھے، تب بھی وہی نظام چلا رہا تھا۔

یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت ہے۔ عقل کے اندھے کو یہ نہیں معلوم کہ اللہ سے گفتگو کرنے، اس کے سامنے گڑگڑانے، عاجزی اختیار کرنے، یقین کے ساتھ دعا مانگنے اور پھر اس دعا کی قبولیت پر ڈنکے کی چوٹ پر بات کرنے کو "حکم دینا" نہیں، بلکہ "سچا توکل اور مستجاب الدعوات ہونا" کہتے ہیں۔ حدیثِ قدسی ہے کہ اللہ فرماتا ہے: "میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں"۔ میرا گمان اور یقین اللہ کی ذات پر سچا ہے، جب وہ میری لاج رکھتا ہے تو کمزور ایمان والے حسد کا شکار ہوجاتے ہیں کیونکہ انہیں اللہ پر ایسا یقین ہی نہیں ہے۔ نہ خود ایسے کام کرسکتے ہیں اور نہ کسی کو کرنے دیتے ہیں۔

اور دوسری بات، جب موسم بارش کا ہوا تو ویڈیو بنا لی کہ میرے کہنے پر بارش ہو رہی ہے، اور جب بارش رکی تو پھر بنا لی کہ دیکھو رک گئی، اور جب دھوپ آئی تو بنا لی کہ دیکھو اب دھوپ آ گئی، اللہ نے میری سن لی۔ جاہل، یہ تو موسم ہے، بدلتا رہتا ہے، اللہ نے فرشتوں کے ذمے لگایا ہے یہ کام اور یہ اللہ کے حکم سے بدلتا رہتا ہے۔ جب جب بدلا تم نے ویڈیو بنا لی اور کہہ رہے ہو کہ تم لیجنڈ ہو؟ تم نے کہا اللہ کو، تو اس نے تمہارے کہنے پر چینج کیا؟ کامن سینس ہی نہیں۔

یہ وہ لکیر کے فقیر ہیں جو موبائل کی 'فورکاسٹ' دیکھ کر جیتے ہیں۔ ان جاہلوں کو یہ معلوم ہی نہیں کہ یہاں ویڈیو موسم فار کاسٹ دیکھ کر نہیں بنتی، بلکہ جب فورکاسٹ کچھ اور کہہ رہی ہوتی ہے، تب اللہ پر کامل یقین کے ساتھ عین وقت پر چیلنج کیا جاتا ہے اور پھر اللہ فار کاسٹ والوں کے سامنے موسم بدل کر دکھاتا ہے۔ اگر یہ اتنا ہی آسان ہے اور صرف ایک "اتفاق" ہے، تو محکمہ موسمیات کے کمپیوٹر اپنے ڈیٹا سمیت ناکام کیوں ہوتے رہے میرے دعووں کے سامنے؟ فورکاسٹ والے تو خود میرے کام کی وجہ سےناجانے کتنی ہی بار اپنے دعوے بار بار بدل چکے ہیں۔ یہ اللہ کا نظام ہے اور اللہ کے حکم سے چلتا ہے اور اللہ اپنے مخلص بندوں کی دعاؤں پر اگر کوئی کام محکمہ موسمیات اور فار کاسٹ مشینوں کے خلاف کردیتا ہے تو اسے معجزہ کہتے ہیں جو حاسدوں کی عقل میں فٹ نہیں ہوتا۔

تیسری بات یہ کہ اوریجنل مسلم ہو اگر تو اسلام کو پڑھو اور عمل کرو، توبہ کرو اللہ سے اور آگے پھیلاؤ اسلام کو قرآن کے ریفرنس سے۔ روز موسم کی ویڈیو بنا کے کہنا معجزہ ہو گیا اور واقعی سب کو برا بھلا کہنا، کون سی اسلام کی تعلیم میں لکھا ہے؟

اسلام ہمیں منافقوں، حاسدوں اور حق کا انکار کرنے والوں کو آئینہ دکھانے سے نہیں روکتا۔ جب اللہ کی نشانی اور لائیو معجزہ سامنے موجود ہو اور پھر بھی کوئی اس کا انکار کرے، تو اسے جاہل کہنا عین اسلام ہے۔ قرآن پاک خود جاہلوں اور حق کا انکار کرنے والوں کی عقل پر تالے لگنے کا ذکر کرتا ہے۔ اسلام پڑھنے کا مشورہ وہ دے رہے ہیں جنہیں خود دعا کی طاقت اور اولیاء و صالحین کے توکل کا الف بے بھی نہیں پتہ۔

چوتھی بات یہ کہ اگر اتنے تم لیجنڈ ہو اور اللہ اگر تمہاری سن کر یہ سب کر رہا، تو فلسطین والوں کو بچاؤ نا، پھر ان کے لیے کچھ نہیں کرتے تم، بس باتیں ہی کرتے ہو ہمیشہ، اس کے علاوہ کچھ کیا تم نے آج تک؟ جاہل، تم جیسے لوگ ہیں جو اسلام کے نام پر ڈھونگ کر رہے ہیں۔

یہ اعتراض اس کی ذہنی پستی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ جن لوگوں کو غائبانہ نظامِ قدرت، دعاؤں کی پوشیدہ طاقت اور اللہ کی حکمتوں کا شعور ہی نہیں، وہ گھر بیٹھ کر صرف بھاشن دیتے ہیں کہ "فلسطین کیوں نہیں بچاتے"۔ میں جہاں موجود ہیں، وہاں سے جو کام کرسکتا ہوں وہ اللہ کے فضل سے کردیتا ہوں۔اور تمہاری عقل کو سمجھانے کے لیے کیا اتنا ہی کافی نہیں کہ دنیا کی نام نہاد سپر پاورز کا سب سے بڑا دفاعی نظام "آئرن ڈوم" (Iron Dome) فیل ہو گیا؟ جب اللہ کی مدد آتی ہے تو دنیا کی ٹیکنالوجی دھری کی دھری رہ جاتی ہے، لیکن یہ دیکھنے کے لیے حاسد کی آنکھ نہیں، ایمان کی آنکھ چاہیے۔ دنیا کا نظام اسباب اور حکمتوں کے تحت چلتا ہے؛ غزوہ بدر سے لے کر کربلا تک، اللہ کے پیاروں نے بھی حالات کے مطابق صبر اور جہاد کا راستہ اپنایا، اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ نعوذ باللہ ان کی دعائیں سچی نہیں تھیں۔ تم جیسے لوگ صرف کی بورڈ پر بیٹھ کر حسد کے تیر چلا سکتے ہیں، حقیقت کا سامنا کرنا تمہارے بس کی بات نہیں اور نہ بڑی بڑی سپر پاورز کے سرورز فیل کردینا اور ڈیٹا بدل دینا تمہاری دعاوں کی بدولت ممکن ہوسکے گا جب تک تم اپنے تکبر چھوڑ کر اولیاء کرام کی عزت کرنا نہ سیکھ لو۔ اللہ اکبر

حاصلِ کلام: یہ پوسٹ اس لیے لکھی ہے تاکہ سب دیکھ لیں کہ جب اللہ کسی کو عزت دیتا ہے اور اپنے کرم سے نوازتا ہے، تو لکیر کے فقیر نام نہاد مسلمانوں کے پیٹ میں کیسا مروڑ اٹھتا ہے۔ حسد کا کوئی علاج نہیں، یہ کمپیوٹر کی سکرینیں دیکھ کر کڑھتے رہیں گے، اور میں اللہ کے فضل و کرم سے معجزات دکھاتے رہوں گا جب تک اللہ خود چاہے گا۔

الحمد للہ، محمد عربی رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیروکار اکیسویں صدی میں کامیاب ہوچکا ہے۔