ہفتہ، 14 دسمبر، 2019

عمل کا دارومدار نیت پر ہے اس میں تکبر کیسا؟

 ایسا ہوتا ہی ہے جب ہم خود کو بہت بڑی چیز سمجھ لیتے ہیں اور کسی غرض کے سبب مدد کرتے ہیں۔ 

 چونکہ عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔ جس کی نیت سو فیصد اللہ کو خوش کرنے کے لیے ہو اور عمل کو اس کی توفیق سمجھے وہ ابلیس و نفس کی اس خفیہ چال میں نہیں پھنستا کہ کسی نے "میری، مجھے، میں" کو کیا سمجھا یا نہ سمجھا۔ نہ وہ خود سے اختلاف کرنے والے کو حقارت سے دیکھتا ہے نہ وہ ان کی تعریف و برائی کی خاص پرواہ کرتا ہے۔ وہ بے نیاز ہی رہتا ہے۔ خالق سے لیتا ہے مخلوق میں بانٹ دیتا ہے۔

جب ہم دوسروں کی مدد اپنی اہمیت منوانے کے لیے کرتے ہیں (اور یہ ہمیں خوب علم ہوتا ہے کہ ہمارا نفس کیا چاہتا ہے خواہ  تب یہ احساس نفس میں رہتا ہے کہ میری مدد سے یہ فلاں فلاں کام  کرگیا، یا فلاں فلاں رتبہ حاصل کرگیا اور مجھے ہی اہمیت نہیں دیتا۔ یہ نفس کی خباثت اور چال ہے جسے اکثر مدد کرنے والے گمان کرتے ہیں گویا انہوں نے کمزوروں و مسکینوں پر احسان کردیا۔

جبکہ یہ احسان اللہ  کرتا ہے کہ کسی متکبر کو ذریعہ بنادیتا ہے دوسروں تک مدد کروانے کا۔۔ پھر اس متکبر کی گردن توڑ کر اسے زمین پر رکھواتا ہے تاکہ اسے یہ احساس کروادے کہ اس کی اوقات کچھ بھی نہیں تھی۔ اگر یہ کمزور، مسکین، جاہل اور برے لوگ نہ ہوں تو کوئی نیک، امیر، عالم اس قابل نہ ریے کہ اللہ کو خوش کرسکے بنا اس کی ایسی مخلوق کو فائدہ پہنچائے بغیر۔ بے شک بہت کم لوگ ہی شکر کرتے ہیں اور خود کو مخلوق کا دنیاوی خدا سمجھ بیٹھتے ہ,یں۔