بندہ ہرکام کو سوچ سمجھ کر کرے، اس کے فوائد اور نقصانات پر پہلے ہی غوروفکر کرلے، پھر اس کے کرنے پر نفع ہو یا نقصان اسے تقدیر الٰہی جانتے ہوئے راضی رہے، اس پر شکوہ شکایت نہ کرے، واویلا نہ مچائےبلکہ ظاہری اسباب کو اختیار کرتے ہوئے آئندہ کے لیے کوشش کرے۔