کافروں کے پاس دولت شہرت عزت طاقت سب کچھ ہے۔ کیسے پتہ لگے کس کے اوپر اللہ کا فضل ہے یا عذاب تک مہلت ہے؟
یہ سوال ایک اہم دینی موضوع سے متعلق ہے اور اس کا جواب اسلام کی گہری فہم اور حکمت پر مبنی ہے۔ کافروں کے پاس دولت، شہرت، عزت اور طاقت ہونا اس بات کی نشانی نہیں کہ ان پر اللہ کا فضل ہے یا وہ اللہ کے قریب ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح کیا ہے کہ دنیاوی مال و دولت کی فراوانی ہمیشہ اللہ کے فضل یا راضی ہونے کی نشانی نہیں ہوتی۔
### اللہ کے فضل اور عذاب کے درمیان فرق کیسے کیا جائے؟
1. **اللہ کا فضل:**
- **ایمان اور عمل صالح:** اللہ کا سب سے بڑا فضل یہ ہے کہ کسی کو ایمان اور نیک اعمال کی توفیق ملے۔ اگر کسی کے پاس ایمان، تقویٰ، اللہ سے قربت اور آخرت کی فکر ہو، تو یہ اللہ کے فضل کی بڑی نشانی ہے۔
- **قناعت اور سکون:** اللہ کے فضل سے وہ دل مطمئن ہوتا ہے اور دنیاوی چیزوں کی طرف حرص و لالچ نہیں رکھتا۔ وہ انسان قناعت پسند ہوتا ہے اور اپنی زندگی میں سکون اور خوشی محسوس کرتا ہے۔
2. **عذاب کے لیے مہلت (استدراج):**
- **دنیاوی فراوانی اور غفلت:** بعض اوقات اللہ کافروں یا گناہگاروں کو زیادہ دولت، شہرت، یا طاقت دیتا ہے تاکہ انہیں آزمائے یا انہیں عذاب کے قریب لائے۔ یہ حالت **استدراج** کہلاتی ہے، جس میں اللہ کسی کو مہلت دیتا ہے، لیکن وہ اپنی غلطیوں سے باز نہیں آتا اور مزید گمراہی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
- **غفلت اور ناشکری:** اگر کسی کے پاس دنیاوی نعمتیں ہوں، لیکن وہ اللہ کو یاد نہ کرے، حق کو رد کرے اور گناہوں میں مبتلا ہو، تو یہ مہلت ہے جو اللہ دیتا ہے، تاکہ انسان کو اپنی غلطیوں کا احساس ہو، مگر جب وہ نہیں سمجھتا تو پھر اللہ کا عذاب نازل ہو سکتا ہے۔
### نتیجہ:
اللہ کے فضل اور مہلت میں فرق یہ ہے کہ اللہ کا فضل ایمان، نیکی اور اللہ سے قربت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے، جبکہ مہلت (استدراج) کی صورت میں انسان دنیاوی نعمتوں میں مبتلا ہو کر اللہ اور آخرت سے غافل ہو جاتا ہے۔ دنیاوی مال و دولت کی بہتات کو کبھی بھی حتمی طور پر اللہ کے فضل کی نشانی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اصل کامیابی ایمان، نیک اعمال اور اللہ کی خوشنودی میں ہے۔