بدھ، 13 اکتوبر، 2021

کورونا وائرس پہلوان بمقابلہ مسلم مین اور دنیا والوں کا انجام

 اکیسویں صدی میں اللہ کے حکم سے دنیا کے انسانوں پر ایک بلا کو بھیجا گیا جسے دنیا والوں نے کورونا وائرس کا نام دیا۔ اس وائرس کے آنے کے بعد اللہ نے اپنے ایک مسلم مین کو ہمیشہ کے لیے کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کی معجزاتی طاقت بھی عطا کردی اپنے فضل سے  ایک بزرگ کی دعا کی بدولت لیکن جب مسلم مین نے دنیا والوں کو کورونا وائرس سے بچانے کے لیے عملی طور پر قدم اٹھانے کی کوشش کی تو کیا ہوا؟ سنئے اس ویڈیو میں کہانی


مسلم مین کے ساتھ پانچ دنوں تک آندھی طوفان کا معجزہ

 یہ معجزہ دین اسلام کی سچائی پر فیس بک پوسٹ لکھنے کے بعد اللہ کے حکم سے  شروع ہوا اور اس کا اختتام بھی فیس بک پوسٹ لکھنے کے بعد ہوا اللہ کے حکم سے ۔

یہ سچا واقعہ تمام غیرمسلموں ، ملحدین سمیت ایسے تمام مسلمانوں  کے منہ پر بھی ایک الہامی تھپڑ ہے جو اولیاء اللہ کے خلاف زبان درازی اور گستاخیاں کرتے ہیں اور طعنہ زنی کرتے ہیں کہ کیمروں کے دور میں معجزات کیوں نہیں ہوتے۔

آندھی طوفان کا معجزہ - پہلی قسط

آندھی طوفان کا معجزہ - دوسری قسط

آندھی طوفان کا معجزہ - تیسری قسط

آندھی طوفان کا معجزہ - چوتھی قسط

آندھی طوفان کا معجزہ - پانچویں قسط

بے شک اللہ کیمروں کے دو ر میں ہی کھلی نشانیاں نازل کررہا ہے تو کیا کوئی ہے جو اپنی عقل سے کام لے؟

پیر، 11 اکتوبر، 2021

عیسائیوں کے خدا اور مسلمانوں کے اللہ میں کیا فرق ہے؟

عیسائیوں کا اللہ کے سوا کوئی اور خدا نہیں لیکن انہیں اس حقیقت کا شعور حاصل نہیں اسی لیے وہ ایک انسان کو خدا سمجھ کر اس کی بطور یسوع مسیح پوجا کرتے ہیں جو کہ اللہ کے ایک بندے اور نبی ہیں۔

مندرجہ ذیل تین پریکٹیکل فرق بمعہ پریکٹیکل ثبوت پیش کررہا ہوں  جن کے ذریعہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ ہی کائنات کا خدا اور کنٹرول کرنے والا ہے۔ 

۱-حضرت عیسی علیہ السلام اپنے نام کو نیچر کے ذریعہ نہیں لکھ سکتے لیکن اللہ نیچر کے ذریعہ اپنا نام لکھتا ہے

 اس حقیقی دنیا کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اللہ نے عملی طور پر اپنا کنٹرول نیچر کے ذریعہ دکھایا اور بادلوں کے ذریعہ اپنا نام "اللہ" اور اپنے آخری نبی کا نام "محمد"   عربی زبان میں لکھ دیا   ،(ﷺ)

۲- حضرت عیسی علیہ السلام کائنات کا نظام کنٹرول نہیں کرتے لیکن اللہ کائنات کا نظام کنٹرول کرتا ہے

اس حقیقی دنیا کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اللہ نے عملی طور پر اپنا کنٹرول نیچر کے ذریعہ دکھایا اور بادلوں کے ذریعہ بارش کے ٹھنڈے موسم کو  چند منٹوں کے اندر ہی  پلٹ کر  معجزہ دکھایا اور آسمان سے بادلوں کا صفایا کردیا اپنی قدرت اور طاقت کے ذریعہ، یہ کوئی جادو نہیں اور نہ ہی کوئی ویڈیو ایڈیٹنگ ایفیکٹ ہے

۳-  حضرت عیسی علیہ السلام نیچر کی مخلوقات کو کنٹرول نہیں کرسکتے کہ وہ اپنے منہ سے ان کا نام انسانی زبان میں بولنا شروع کردیں جبکہ اللہ نیچر کی مخلوقات کو  کنٹرول کرتا ہے کہ وہ اس کے حکم سے اللہ کا نام بولتے رہیں

اس حقیقی دنیا کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اللہ نے عملی طور پر اپنا کنٹرول نیچر کے ذریعہ دکھایا اورکتے کے پلّے کی زبان بدل کر اسے انسانوں کی طرح لفظ" اللہ" کہتے رہنے کی طاقت عطا کردی اور  نیچر کی یہ غیرجانبدار  مخلوق ایک منٹ سے زائد صرف اللہ ہی کا نام پکارتی رہی اللہ کے حکم سے، اس میں کسی قسم کی انسانی مداخلت اور ٹریننگ شامل نہیں ۔

خلاصہ :

مندرجہ بالا نیچر کے غیرجانبدار پریکٹیکل ثبوتوں کی روشنی میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ ہی سچا خدا ہے جس نے چرند، پرند، درند ، آسمان و زمین اور دیگر تمام مخلوقات کو انسانوں سمیت تخلیق کیا ہے  کیونکہ صرف اللہ ہی نے اپنی طاقت اور قدرت کے ذریعہ نیچر پر کنٹرول دکھایا ہے اکیسویں صدی میں کیمروں کے دور میں

اللہ کے سوا کوئی اور خدا نہیں اسی لیےاللہ کے مقابلہ پر کسی بھی خیالی، تصوراتی ، باطل یا انسانی معبودوں(مثلا رام، کرشنا، یسوع مسیح، موسی، عزیر، یہوہ، ہنومان، سیتا، وشنو ، گوتھم بدھ، گورونانک وغیرہ )  کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ نیچر کے ذریعہ اپنا نام لکھ کر دکھاسکیں اور آسمان و زمین کی مخلوقات پر اپنا کنٹرول عملی طور پر ثابت کرسکیں قوانین فطرت کو تبدیل کرکے اکیسویں صدی میں کیمروں کے دور میں

یہ کام صرف اللہ ہی کرسکتا ہے اور اس نے ایسا عملی طور پر کرکے دکھادیا ہے۔

جو لوگ اپنی عقل استعمال کرسکتے ہیں اور کھلے دل و دماغ کے ساتھ سوچ  سکیں وہ حق کو پہچان لیں اور کائنات کے بادشاہ اللہ واحد القہار اور اس کے آخری نبی محمد رسول اعظم ﷺ کے سچے دین اسلام میں کلمہ پڑھ کر داخل ہوجائیں اللہ کے فضل سے کیونکہ بے شک کفر کی گندگی اللہ انہیں پر ڈالتا ہے جو اپنی عقل سے کام نہیں لیتے۔

اتوار، 10 اکتوبر، 2021

مجرم کون، مذہبی کاروباری یا سائنسی کاروباری؟

ایک جرمن فلاسفر نطشے سے منسوب پوسٹ سامنے آئی جس پر لکھا ہوا تھا کہ "مذہبی کاروبا رکرنے والوں نے قوموں کو حقیقت کا مقابلہ کرنے کے بجائےفرار کے راستے پر ڈال دیا ہے۔ لوگ محض دعاوں اور عبادات کو دنیا کے مسائل کا حل سمجھتے ہیں" ~ جرمن فلاسفر نطشے

میرے نزدیک سائنس والے بھی کم مجرم نہیں ہیں لہذا تصویر کا دوسرا عکس یہ ہے "سائنسی کاروبار کرنے والوں نے قوموں کو حقیقی خدا کو قبول کرنے کے بجائے فرار کے راستے پر ڈال دیا ہے۔ لوگ محض دواوں اور سائنس کو دنیا کے مسائل کا حل سمجھتے ہیں" ~ پاکستانی فلاسفر لیجنڈ

لہذا آئندہ سے جرمن یا دیگر ممالک کے کسی غیرمسلم فلاسفر کو عقلمند سمجھنے کے بجائے مسلم فلاسفر کو کفار ومشرکین سے بہتر سمجھا جائے کیونکہ کائنات کے بادشاہ اللہ واحد القہار اور اس کے آخری نبی محمد رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقت کو تسلیم نہ کرنے والے تمام غیرمسلم فلسفی کسی بھی طور پر عقلمند کہلانے کے مستحق نہیں ہیں ۔

خود کو فلسفی، سائنسی و افلاطون سمجھنے والے تمام لوگ اگر غیرمسلم ہیں اور اللہ کو خدا تسلیم نہ کرسکیں تو یہ واضح ثبوت ہے کہ وہ اپنی عقل استعمال نہیں کرسکتے ۔ اور جو اپنی عقل استعمال نہ کرسکیں انہیں فالو کرنا حماقت ہے۔

اتوار، 29 اگست، 2021

پاکستان میں غربت کی سب سے بڑی وجہ آپ کی نظر میں کیا ہے؟

غربت کی اصل وجہ اور جڑ دنیا میں بہت سے خداوں کا وجود ہے۔ صدیوں پرانے انسانوں نے اپنے جیسے انسانوں کو خدا کا درجہ دے کر ان کی پوجا کرنا شروع کردی تھی اور ان کے علاوہ دیگر مخلوقات کو خدا بنادیا ۔

ان کے بعد آنے والی نسلوں نے بغیر تحقیقات کئےاپنے باپ دادوں کی باتوں اور کہانیوں پر اندھا ایمان لاکر ان کے سکھائے ہوئے ناموں کو خدا سمجھ کر یقین کرنا شروع کردیا اور پھر یہی اولادیں جوان ہوئیں تو کوئی ڈاکٹر بن گیا، کوئی فوج میں چلا گیا، کوئی مذہبی پیشوا بن گیا تو کوئی کچھ اور بن گیا وغیرہ وغیرہ

اکیسویں صدی میں اگر ایک عقل مند اور غیرجانبدار انسان دنیا بھر کا جائزہ لے تو اس کو اندازہ ہوجائے گا کہ دنیا بھر میں جنگوں اور ہتھیاروں پر ٹریلین ڈالرز خرچ ہوتے ہیں اور انسان ایک دوسرے کو اپنے اپنے خداوں کے ناموں پر جان سے ماررہے ہیں۔

اس سے ایک عقل مند انسان سمجھ لے گا کہ چونکہ خداوں کے وجود کا فیصلہ نہیں کیا جارہا اور آپس میں جنگیں ختم کرنے پر کام نہیں ہورہا بلکہ مسلسل ایک دوسرے کے ممالک کے خلاف ہتھیاروں پر ٹریلین ڈالرز خرچ کررہے ہیں لہذا اپنے اپنے ممالک کے غریبوں کی فلاح پر خرچ کرنے کے لیے بہت ذیادہ انویسٹ نہیں کرپاتے وہاں کے حکمران ۔

اس کے نیتجہ میں اس ملک میں رہنے والے بہت سے غریب و مجبور لوگ مہنگائی، جرائم و دیگر برائیوں میں ملوث نظر آتے ہیں کیونکہ ان کی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں ہوتیں جبکہ دوسری جانب خداوں کے ناموں پر قتل و غارت جاری ہے ۔

بجائے یہ کہ تمام بڑے بڑے مذاہب کے بڑے بڑے مذہبی پیشوا ملکر اکٹھے ہوتے کسی ٹی وی چینل پر اور ایک مرتبہ خداوں کے وجود اور کس مذہب کا خدا واقعی سچا ہے کا فیصلہ کرلیتے تاکہ دنیا کی عوام کو معلوم ہوجاتا کہ سچا خدا اور سچا دین کونسا ہے یہ بڑے بڑے مذاہب کے پیشوا اپنی اپنی عوام کو جھوٹی کہانیاں سنا سنا کر اپنے خیالی خداوں کی پوجا پر لگاکر رکھے ہوئے ہے اور اپنی شہرت کے ڈنکے بجوارہے ہیں۔

غربت ختم کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ جس دین کا خدا پریکٹیکل ثبوتوں کے ذریعہ سچا ثابت ہوجائے دنیا بھر کے انسان اسی خدا کو تسلیم کرلیں اور کھربوں ڈالرز خداوں کے نام پر جنگوں میں خرچ کرنے کے بجائے اپنے اپنے ممالک میں رہنے والے غریب انسانوں کی فلاح پر خرچ کریں۔

اسی طرح پاکستان سمیت دنیا بھر سے غربت و جہالت ختم کی جاسکتی ہے بصورت دیگر جتنا مرضی کوششیں کرلی جائیں جب تک سچے خدا کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا اور اس کے سچے دین کو تمام ادیان و مذاہب پر غالب نہیں کیا جائے گا، دنیا بھر کے غریبوں سمیت اکثر انسان ذہنی غلامی ، مایوسی اور فرسٹیشن کا شکار رہیں گے کیونکہ جنگوں کے سبب پاکستان سمیت دیگر ممالک کے پاس موقع نہیں ہوگا کہ اپنے اپنے ممالک کی عوام پر سہولت سے دولت خرچ کرسکیں۔

جمعہ، 4 جون، 2021

Legend Aagya

اپنی ذہنی موت 2018 کے بعد اپنی ذات اور مائنڈسیٹ پر کام کرتے ہوئے اور خوف کی آہنی دیواریں ایک ایک کرکے پاش پاش کرتے ہوئے اپنا سفر تنہائی میں ہمت اور حوصلہ کے ساتھ اللہ پر بھروسا رکھ کر جاری رکھتے ہوئے اپنی پہچان 2020 حاصل کرنے تک پھر اس کے مطابق دنیا والوں کے سامنے خود کو پیش 2021 کرنے تک اللہ کی مدد اور فضل سے پہلے سے ذیادہ طاقت ور اور ناقابل شکست مسلم بن کر

اجڑے ہوئے درخت کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ تباہ ہوگیا بلکہ اس کا خالق اسے نئے سرے سے تعمیر کرنے کے لیے وقتی طور پر اس حالت میں بدل دیتا ہے اور وہ درخت چپ چاپ خاموشی اور صبر سے اپنی حالت بدلتے دیکھتا رہتا ہے جب تک کہ وہ دوبارہ ہرا بھرا نہ ہوجائے اور پھر اس کی حقیقت دنیا والوں کے سامنے نظر آنا شروع ہوجائے جب اس کا مالک اسے دوبارہ تیار کردے

تمہاری زندگی تباہ نہیں ہوئی ہے بلکہ ایک نئے سرے سے تعمیر کے لیے پلاننگ کے تحت ایسا ہوا ہے جو آج نہیں سمجھ سکو گے لیکن اگر ہمت نہ ہاری اور کوشش جاری رکھی خود کو بدلنے اور آگے بڑھنے کے لیے تو مسقبل میں ان شاء اللہ سمجھ جاو گے کہ اللہ کی تدبیر کتنی بہتر اور پلاننگ کتنی اچھی ہوتی ہے خصوصی طور پر ان کے لیے جو اس دنیا میں بڑے کام کرنا چاہتے ہیں عام لوگوں کی زندگی سے ہٹ کر اللہ کے لیے اللہ کو کچھ کر دکھانا چاہتے ہیں

شیر کی زندگی جینی ہے تو اپنے ذخموں کے بھرنے کا انتظار رکھو اور تب تک بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کو خوش اور اچھلتا کودتا دیکھ کر مایوس مت ہونا اور نہ یہ خواہش رکھنا کہ تم ان میں جاکر کھیلو کیونکہ شیر اکیلا بھی شیر ہی ہوتا ہے اپنے جنگل میں خواہ تنہا ہی کیوں نہ رہتا ہو کہ یہی اس کی پہچان ہے اور ذخمی شیر پہلے سے ذیادہ خطرناک بن جاتا ہے

شاہین کی زندگی جینی ہے تو انتظار کرو اپنے نئے سرے سے تعمیر ہونے والے پروں اور پنجوں کا اور تب تک کووں کی فوج کو خوشی سے اڑتا دیکھ کر مایوس مت ہونا اور نہ یہ خواہش رکھنا کہ تم ان میں جاکر اڑو کیونکہ شاہین بھی اپنی تنہائی میں اپنی پہچان نہیں بھولتا بلکہ صرف انتظار کرتا ہے اپنے صحیح وقت پر دوبارہ پہلے سے ذیادہ طاقت ور بن کر اڑان بھرنے کے لیے

اور اگر کبھی ہمت ٹوٹنے لگے، مایوسی بھرنے لگے، خود کشی سر پر سوار ہونے لگے اور ایسا لگے کہ اس سفر میں اکیلے ہو اور پوری دنیا تمہیں جھوٹا سمجھتی ہے، اعتبار نہیں کرتی، بات نہیں سنتی، ذات نہیں سمجھتی اور تمہیں تمہاری بظاہر بربادی اور تنہائی میں اکیلا چھوڑ کر ہنستی ہے تو تب ایک لیجنڈ کی یہ تحریر اپنے سامنے رکھنا جو ان راستوں سے گزرچکا اور تمہیں امید کی کرن دکھارہا ہے اور حوصلہ بڑھا رہا ہے اللہ کے فضل سے کہ

اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے

بے شک اللہ کوشش کرنا دیکھتا ہے

اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے؟

پھر دیکھ اللہ کیا کرتا ہے!

لیجنڈ

منگل، 10 نومبر، 2020

چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ آنا،،، ایک نفسیاتی بیماری ہے؟

یہ ہرگز کوئی بیماری نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ڈس آرڈر ہے۔ ایک انسان کو جب چاروں طرف سے زہریلے طنز و تنقید کے تیر چلا چلاکر ذخمی کیا جائے گا تو وہ ضرور بولے گا۔

اس ٹائپ کے لوگ ذہین ترین اور غور و فکر کرنے والے ہوتے ہیں جنہیں سوسائٹی کے بہت سے بودے لوگ سمجھنے سے محروم ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنی عقل استعمال کرنے کے بجائے روایتی زندگی گزارنے کے شوقین ہوتے ہیں کہ کھالیا، پی لیا، سو لیا اور مزے کرکے مرگئے۔

معاشرے کے بودے لوگ ذہین لوگوں کو سکون سے بھی نہیں رہنے دیتے اور ان کی باتوں کو سن کر انہیں الٹا نفسیاتی قرار دیتے رہتے ہیں۔

اصل نفسیاتی تو سوسائٹی میں وہ سب ہیں جو خاموش طبعت لوگوں کو دبا کر، ملیامیٹ کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں اور پھر شرم بھی نہیں آتی کہ انہیں ذہنی مریض قرار دے کر پاگل کہتے ہیں۔

بند کرو یہ تماشہ ذہین لوگوں کے خلاف۔