اس ویب سائٹ پر اسلام، قرآن، روحانیت، گیمنگ، فری لانسنگ، کمپیوٹر، ویب ڈیویلپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ، کرامات و معجزات، کیریئر، لائف، بزنس، ریلیشن شپ اور بہت کچھ ملے گا۔
دنیا کے انسان اپنی جہالت اور کم علمی یا حسد کی بنا پر بہت سے بے گناہ انسانوں کو جیل میں قید کردیتے ہیں یا قتل کردیتے ہیں یا ان کے خلاف بغاوت کردیتے ہیں لہذا اللہ کے نزدیک کسی مسلمان کو جہنم میں داخل کرنے کا یہ معیار ہرگز نہیں کہ دنیا والوں کی اکثریت کے نزدیک وہ گناہگار قرار پایا گیا ہے کیونکہ لوگوں نے بعض انبیاء کرام علیہم السلام کو قتل کردیا اور لوگوں نے ہی حضرت عیسی علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش بھی کی تھی لہذا اگر تم اللہ کے نزدیک بے گناہ ہو تو تمہارا جیل جانا اس بات کا ثبوت نہیں ہوگا کہ تم جہنم میں بھی جاو گے اس لیے بے فکر رہو اور ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
بے شک اللہ اس بات پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے اگر وہ چاہے تو مظلوم قیدی کی مدد کرنے کے لیے اپنے فرشتوں کو بھیج دے یا ظالموں پر اپنا قہر نازل کردے۔
اللہ کے سوا کسی سے ڈرنے یا خوف کھانے کی قطعی ضرورت نہیں اسی کی سطلنت ہے اور اسی کی بادشاہت ہے۔
کائنات کے بادشاہ اللہ رب العالمین کے محبوب اور آخری نبی محمد رسول اعظم ﷺ نے انسانیت صرف سکھائی نہیں بلکہ عملی طور پر انسانوں، جنات، چرند، پرند، درند اور نیچر کی مخلوقات کے ساتھ ہمدردی، رحمت اور بہترین سلوک کرکے دکھایا ہے جس مقام تک دنیا کا کوئی بھی انسانیت کی باتیں کرنے والا دوسرا کوئی انسان کبھی نہیں پہنچ سکتا کیونکہ قول اور فعل میں کوئی بھی انسان حضرت محمدﷺ سے زیادہ سچا نہیں ہوسکتا۔
حضرت محمد ﷺ کے بارے میں تاریخی بیانات اور ماضی کی کتابوں میں جانے کی ضرورت ہی کیا ہے جبکہ کائنات کے خدا نے اکیسویں صدی میں ان کے بارے میں خدائی نشانیاں نازل کرکے یہ فیصلہ کردیا ہے نیچر کے ذریعہ کہ صرف حضرت محمد ﷺ اس کے آخری نبی ہیں ؟ اگر ان کے وجود پر سو فیصد یقین ہے تو پھر کسی بھی بیان یا کتاب کی ضرورت ہی کیوں ہے ؟ اگر ضرورت ہے تو کیوں ہورہی ہے؟ اگر ان کی نبوت کے بارے میں شک ہے تو یقین کیوں نہیں ہے؟ اگر یقین نہیں ہے تو پھر بیانات یا کتابوں کی ضرورت ہی کیوں ہے؟ کیا محمد ﷺ کے آخری نبی ہونے پر سو فیصد ایمان نہیں؟
اگر محمد ﷺ کائنات کے خدا کے آخری نبی نہیں تو ان کا نام نیچر کی مخلوقات کے ذریعہ کون اکیسویں صدی میں لکھ کر دکھارہا ہے؟
بے شک محمد ﷺ کا نام لکھ کر دکھانے والا ایک ہی طاقت ور اور سچا خدا ہے جسے کہتے ہیں اللہ واحد القہار
تمام عالمین میں یہ مقام صرف حضرت محمد ﷺ کو حاصل ہے کہ اللہ ان کے نام مبارک کو نیچر کے ذریعہ خود لکھتا ہے۔
لہذا اگر دنیا کے تمام تاریخی بیانات بند کردیے جائیں اور تمام کتابوں کو سمندر وں میں بہادیا جائے اور حضرت محمد ﷺ کی رسالت کی سچائی پر شک و شبہات میں گرفتار دنیا کے پانچ ارب سے زائد غیرمسلم اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر خدا کی الہامی نشانیوں پر سرجھکادیں تو ان کے پاس اس کے سوا اب کوئی راستہ نہیں کہ تمام غیرمسلم کلمہ پڑھ کر دین اسلام میں داخل ہوجائیں کیونکہ اس بات کا علم ہوجانے کے بعد کہ نیچر کے ذریعہ اللہ اپنے آخری نبی محمدﷺ کا نام لکھ کر دکھارہا ہے اب جو بھی غیرمسلم جھٹلائے اور کفر پر مرے تو وہ ہمیشہ کے لیے جہنم کے دردناک عذاب میں گرفتار ہوگا ۔
نیچر کے ذریعہ حضرت محمد ﷺکی رسالت اور آخری نبی ہونا اکیسویں صدی میں ظاہر کیا جاچکا ہے اللہ کے حکم سے۔
جب سے اس دنیا میں پہلا انسان آیا اور اس کی اولاد پھیلنا شروع ہوئی تب سے اس کی اولاد میں عقل استعمال نہ کرنے والے انسانوں نے اپنی خواہشات کی غلامی اختیار کرکے من مانے خدا بنالیے اور دوسرے انسانوں کو اپنا غلام بناکر رکھنے کے لیے نئے نئے مذہب ایجاد کرلیے۔
سچ یہ ہے کہ اللہ ہی خدا ہے اور صرف اسلام ہی اس کا دین ہے اور سب سے پہلا انسان مسلم تھا اور آج بھی ہر بچہ ماں کے پیٹ سے صرف مسلم پیدا ہوتا ہے اور اسے تخلیق کرنے والا خدا اللہ ہی ہے۔
اللہ کے سوا تمام معبود جعلی اور بناوٹی ہیں اور انہوں نے ایک ذرہ بھی تخلیق نہیں کیا اور ان کے ناموں پر بنے تمام مذاہب بھی جعلی اور فراڈ ہیں۔
جب سے کورونا وائرس اس دنیا میں اللہ کے حکم سے آیا ہے تب سے اس کے بارے میں دنیا کے بڑے بڑے ترقی یافتہ سمجھے جانے والے ممالک کے کفار و مشرکین نے اپنی اجاداری قائم رکھتے ہوئے اپنی ڈگریوں اور معمولی علم کی بنیاد پر جو کچھ دعوے کیے اسے ذہنی پسماندگی کے شکار ممالک من و عن سر جھکاکر قبول کرتے چلے گئے اور جس طرح اللہ کے آگے سر جھکانا اور اللہ سے ڈرنا چاہیے تھا اس سے کہیں زیادہ ڈر اور خوف احساس کمتری کے شکار مسلم حکمرانوں، سائنسدانوں ، ڈاکٹروں اور ماہرین کو کافروں سے تھا۔
کافروں کی جانب سے طرح طرح کے دعوے کیے گئے، مختلف تھیوریز پیش کی گئیں، ان گنت تجربات کیے گئے لیکن اللہ نے کافروں کو ذلیل و رسوا کرکے ان کے تمام دعوووں کی دھجیاں بکھیر ڈالیں۔
دوسری جانب مسلمانوں سے رابطہ کرنے کی جتنی بھرپور کوشش کی کہ یہ لوگ عوام کو آگاہ کریں کہ کورونا وائرس کا حل اللہ واحد القہار نے مجھے دے رکھا ہے اتنا ہی ان لوگوں نے نظرانداز کرنے کا رویہ رکھا۔
کفار و مشرکین و منافقین نے خوب ملکر دنیا بھر کی عوام کو بے وقوف بناکر اپنی دولت بھری ہے اور اگر یہ اس وقت اللہ واحد القہار کی معجزاتی طاقت کی خبریں نشر کردیتے تو دنیا بھر میں تہلکہ مچ جاتا اور غیرمسلم عوام جوق در جوق کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوسکتے تھے لیکن اللہ کے غدار و منافقین نے شیطان کو بھرپور سپورٹ مہیا کرکے اللہ کی طاقت کو دبانے اور چھپانے میں اپنی آخرت برباد کرلی ہے۔بے شک میرا اللہ واحدالقہار سزا دینے میں بہت سخت ہے۔
کسی بھی نیوز چینل والے نے یہ خبر نشر نہیں کی اور نہ ہی اپنے ملک کی عوام کو بتایا کہ مسلم مین فار کرونا ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی جان بچانے کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کو تیار ہے اور ان سے رابطے کررہا ہے لہذا انسان غیروں سے کیا شکوے کرے کہ وہ تو کافر اور مشرک ہیں۔ اللہ کو ماننے والوں کی اکثریت کا بھی حال ویسا ہی نظر آیا اور یہ بھی آستین کے سانپ بن کر لوگوں کو مرتا دیکھ کر خوف و دہشت کی خبریں ہی چلاتے رہے۔
دوسری جانب کافروں کی ذہنی غلامی میں ان کے تلوے چاٹنے والوں نے اللہ ہی کے کعبہ و حج پر پابندی لگاکر پوری دنیا میں دین اسلام کا مذاق تماشہ بنوایا دیا۔ تو کیا غدار و منافقین قیامت کے دن خود کو اللہ سے بچاسکیں گے؟
اللہ کی زمین پر رہنے والے منافقین اور ڈرامے باز کلمہ گو قطعی اس قابل نہیں کہ آئندہ وہ یہ دعوے کریں کہ اللہ واحد القہار ہی اس کائنات کی اصل طاقت اور شہنشاہ ہے جس کے قبضہ قدرت میں تمام اختیارات ہیں کیونکہ شک و شبہات میں گرفتار ایسے مسلم جو کافروں کی دواوں پر اللہ کے کلام اور روحانیت سے زیادہ یقین کرتے ہیں یہ خود اسلام کے غدار ہیں اور انہیں اللہ کے سچے اور وفادار بندوں کے ذریعہ مدد لینے میں تکبر اور انا کا بخار چڑھا رہتا ہے۔
کورونا وائرس کو تخلیق کرنے والا اور اسے پوری روئے زمین پر پھیلانے والا صرف ایک اکیلا اللہ واحد القہار ہی ہے اور دنیا کا کوئی بھی کافر اور اس کا بکاو شیطانی غلام مسلم میرے دعوی کے خلاف مجھ سے مقابلہ نہیں کرسکتا۔
میرے دعوے کی تصدیق کے لیے اللہ واحد القہار نے اپنی خفیہ تدبیروں کے ذریعہ پورا انتظام کرکے کورونا وائرس کی ڈیلٹا لہر کا آغاز کیا اور پھر پریکٹکل طور پر اس نے اپنی طاقت سے یہ ثابت کرکے دکھادیا کہ کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ اللہ ہی ہے اور کورونا وائرس کا کم یا زیادہ ہونے کا لاک ڈاون لگانے سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے جبکہ کافروں کے ساتھ اللہ کی کوئی مدد نہیں۔ بے شک کافروں کے لیے صرف ذلت و رسوائی ہی مقدر رہے گی اور ان کا ساتھ دینے والے بھی اللہ کی پکڑ سے بچ کر نہیں بھگ سکیں گے۔
یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ کورونا وائر س کی ڈیلٹا لہر نے اللہ کے حکم سے انڈیا میں جو تباہی مچائی تھی اس طرح کی تباہی ملک پاکستان میں نہیں ہوسکی۔
کیا کبھی غور کیا ہے کہ اس کا راز کیا ہے؟
آخر انڈیا جیسی تباہی پاکستان میں کیوں نہ ہوسکی حالانکہ جیسے ہی جولائی سنہ ۲۰۲۱ کے مہینے میں کورونا ڈیلٹا لہر کا آغاز انتہائی تیزی سے پاکستان میں شروع ہوا تھا اس کے بعد کراچی شہر میں کورونا ڈیلٹا کی شرح ۳۰ فیصد سے اوپر چلی گئی تھی اور روزانہ کئی اموات شروع ہوگئیں تھیں؟
پاکستان بھر سے کورونا وائرس ڈیلٹا کی لہر میں تیزی کے ساتھ کمی ہونے کے پیچھے اللہ واحد القہار کا حکم تھا اور کراچی شہر میں کرونا وائرس ڈیلٹا کی لہر ۳۰ فیصد سے ڈراپ کرتے ہوئے معمولی شرح تک پہنچ جانا بھی صرف اللہ کے حکم سے ہوا تھا لیکن اس کام کو کروانے کے لیے کسی کی خصوصی آمد ہوئی تھی۔
اللہ واحد القہار کی مدد سےملک پاکستان اورخصوصی طور پر کراچی شہر سے کورونا وائرس ڈیلٹا کم کروانے پر ثبوت
یہ لیجنڈری تجربہ اللہ واحد القہار کی مشیت ، توفیق اور مدد سے شروع ہوا تھا اور اسی نے جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے دور میں اکیسویں صدی میں اپنا ایک کھلامعجزہ دکھایا جسے مکمل آن لائن یوٹیوب پلے لسٹ سیریز کے ذریعہ دیکھا، سنا اور سمجھا جاسکتا ہے۔
اللہ نے خود ہی اپنی معجزاتی طاقت کے ذریعہ یہ ثابت کردیا کہ کورونا وائرس کا خالق، مالک اور کنٹرول کرنے والا اللہ ہی ہے لہذا دنیا کے تمام غیرمسلم سائنسدانوں، مذہبی و روحانی پیشواوں اور ڈگری یافتہ مغروروں کے دعوے سو فیصد جھوٹے ہیں اگر وہ یہ کہیں کہ کورونا وائرس کا خالق اللہ کے سوا کوئی اور ہے کیونکہ ان کے پاس کھوکھلے دعووں اور جھوٹی رپورٹوں کے سوا کچھ بھی نہ ہوگا جبکہ معجزاتی ثبوتوں کے ساتھ صر ف لیجنڈ آف اللہ موجود ہے۔ بے شک اللہ کے سوا کوئی اور خدا موجود ہی نہیں اور محمد رسول اعظم ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔
چونکہ آپ ایک خفیہ مسلمان ہیں اور بعض اوقات آپ اپنے حالات کی وجہ سے نماز نہیں پڑھ سکتے اس لیے آپ کو اس کے بارے میں زیادہ فکر مند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ آپ کے حالات کو بخوبی سمجھتا ہے کہ آپ سنجیدہ ہیں، نماز کے لیے تیار ہیں لیکن کچھ شدید رکاوٹیں ہیں۔
اللہ نے آپ کو کفر کی زندگی کے اندھیروں سے نکال کر اپنے حقیقی دین اسلام کی روشنی میں داخل کردیا ہے ، اس لیے اگر آپ کو کبھی نماز پڑھنے میں دشواری پیش آئے تو اس پر مایوس نہ ہوں، معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں اور اس سے معافی مانگیں۔بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔
چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے آپ کو اسلام میں داخل ہونے میں مدد دی ہے اس لیے اپنے موجودہ دن اور لمحات میں آپ سے جتنا ممکن ہوسکے وہ نمازیں ادا کرلیا کریں ، اللہ کا ایک نیک بندہ اور پریکٹیکل مسلمان بننے کی کوشش کرتے رہیں نیز کائناتی معجزاتی اور آخری نبی حضرت محمد رسول اعظم ﷺ کی ذات مبارکہ پر درد شریف بھیجتے رہا کریں۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کم از کم آپ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جانے سے بچ گئے ہیں کیونکہ جو مسلمان مرے گا وہ جنت میں جائے گا لیکن غیر مسلم رہ کر مرنے والے کے سارے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائیں گے۔ آپ کے لیے موجودہ دور میں اسلام میں ہونا بھی غنیمت اور کافی ہے، خواہ اعمال کی کمی ہوجائے۔ اور اگر آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑے بڑے اور بہترین انعامات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ اپنے فارغ وقت میں اپنے گھر سے ایک کام ضرور شروع کر سکتے ہیں وہ یہ کہ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد یعنی اپنے دوسرے غیر مسلم بھائیوں اور بہنوں کو اسلام کی دعوت دیں۔
اس مقصد کے لیے آپ ویب سائٹ RightfulReligion.com وزٹ کریں اور اللہ کے وجود پر معجزاتی و قابل مشاہدہ دلائل و ثبوتوں کے بارے میں علم حاصل کریں۔