منگل، 27 ستمبر، 2022

فری لانسرز کی 5 خطرناک غلطیاں

 لوگ عموما فری لانسنگ اس لیے کرتے ہیں کہ اس میں آزادی٬ آسانی اور اپنی مرضی کے مطابق کام کرسکیں نہ کہ صبح نو سے شام پانچ نوکری روٹیںن اور باس کی ڈانٹ۔ فری لانسنگ اتنی بھی آسان نہیں جتنا تصور کی جاتی ہے لیکن اگر ان غلطیوں سے احتیاط کی جائے تو بہت ذیادہ مشکل بھی نہیں رہتی۔

جتنے دام اتنا کام

کلائنٹ نے جو بتادیا اتنا ہی کام کرکے اپنی ذمہ داری سے فارغ ہوجاتے ہیں۔ اس طرح کام کرنے سے کلائنٹ پر آپ کی صلاحیتوں کا کوئ خاص اثر نہیں ہوتا۔

اگر آپ کے دماغ میں کلائنٹ کے کام کو بہتر بنانے کا کوئ مشورہ ہو تو اسے بتائیں۔

اگر آپ اپنے ہنر سے اس کے کام میں کوئ نیا نکھار لاسکتے ہیں تو ایسا ضرور کریں اور کلائنٹ کو اس بارے میں آگاہ کریں کہ آپ نے کیا کام کیا اور کیوں کیا تاکہ اسے آپ کی ماہرانہ صلاحیتوں کا علم ہو اور وہ نہ صرف خوش ہو بلکہ آئندہ بھی کام کے لیے آپ ہی سے رابطہ کرے۔

ہر جگہ منہ مارنا

نئے فری لانسرز ہر طرح کے پراجیکٹ پر بولی لگاتے پھرتے ہیں۔ یہ ایک غلط طریقہ ہے۔

آپ صرف ان پراجیکٹس پر بولی لگائیں جنہیں آپ واقعی کرنا بھی پسند کرتے ہیں تاکہ جب کلائنٹ سے بات چیت ہو تو آپ خوشی سے کام کریں۔

یاد رکھیں کہ آپ ایک حد تک پراجیکٹس لے کر سنبھال سکتے ہیں۔ ہر قسم کا کام لے کر بعد میں پچھتانے٬ کلائنٹ سے بحث کرنے٬ ڈیڈ لائن خراب ہونے اور مختلف کلائنٹس کے ساتھ پھنس جانے کے بعد جھوٹ بول کر ٹال مٹول کرکے آپ اپنی پروفائل کا ریکارڈ خراب کردیں گے اور ڈپریشن کا شکار بھی ہوں گے۔

سستا مگر گندہ

پراجیکٹ پر بولی جیتنے کے چکر میں معمولی رقم کی بولی لگا کر ساری توجہ پراجیکٹ جیتنے پر ہوتی ہے یہ سوچے بغیر کہ بعد میں خود ہی بھگتنا ہے۔

پراجیکٹ لینا مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ اپنی پسند کا کام مناسب رقم میں لینا اصل بات ہے۔

آپ پروفیشنل فری لانسنگ کرنے آئے ہیں اس لیے پراجیکٹ کے کام کے لحاظ سے مناسب بولی لگائیں تاکہ جتنی محنت آپ کریں وہ آپ کو مایوس نہ کرے۔

سستے ریٹ پر بہت ذیادہ محنت کا کام لیا تو آپ کے کئ دن اسی میں برباد ہوں گے معمولی رقم کے عیوض۔

ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا

پہلے پراجیکٹ لینے کی جلدی میں ہاں ہوں کرکے کلائنٹ کو راضی کرتے ہیں بعد میں غلط فہمیوں کے سبب کلائنٹ سے فضول بحث کرتے ہیں۔

پراجیکٹ لینے سے پہلے اچھی طرح پڑھ کر سمجھ لیں۔ اپنے گمان کے مطابق کچھ بھی سمجھ کر پراجیکٹ بناکر دینے سے غلطی کے بہت امکانات ہیں۔

جو بات سمجھ نہ آئے لازمی کلائنٹ سے واضح کروائیں۔ کوئ سوال ہو تو پوچھیں۔  یہاں تک کہ اگر آپ کام سمجھ چکے ہیں تو اپنی سمجھ کے مطابق کلائنٹ کو لکھ کر پیش کردیں کہ جو آپ نے سمجھا ہے وہ ٹھیک ہے یا نہیں تاکہ کلائنٹ اسے پڑھ کر تصدیق کردے اور آپ اطمینان سے کام کریں۔ اس سے بعد میں غلط فہمی اور بدمزگی کے امکانات تقریبا ختم ہوجاتے ہیں۔

پراجیکٹ  کے دوران کلائنٹ کے پیغام پر جلدی جواب دینے کی کوشش بھی کیا کریں تاکہ اسے ذیادہ انتظار نہ کرنا پڑے۔

مایوسی کا گڑھا

ہمت ہار کر فری لانسنگ چھوڑ بیٹھنا۔

کامیاب فری لانسر بننے میں وقت لگتا ہے۔ یہ الادین کے چراغ کا جن نہیں کہ خواہش کا اظہار کیا اور کامیابی حاصل ہوگئ۔ مسلسل محنت سے ہی بہتری آتی ہے۔

شک و شبہات کا شکار ہوکر ہمت ہارنے کی ضرورت نہیں۔ اپنی چھوٹی چھوٹی کامیابی کو نوٹ کریں۔ اپنے ماضی میں جھانک کر اپنے حال کا موازنہ کریں کہ آپ کہاں سے شروع ہوئے اور اس وقت کہاں ہیں اور اپنے آپ کو سراہیں اور اللہ کا شکر ادا کریں۔

آپ دنیا بھر میں موجود لوگوں کے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں لہذا جب آپ وقت لگائیں گے٬ محنت کرتے رہیں گے تو یقینا کامیاب بھی ہوں گے۔

ہمت نہ ہارنے کی ایک وجہ میں بتادیتا ہوں کہ یاد رکھیں اچھے معیار کے کام پر ذیادہ پیسے دینے والے کلائنٹس بھی موجود ہیں اور وہ آپ کے تجربہ٬ مہارت٬  کارکردگی اور صلاحیتوں کی بنیاد پر سستے فری لانسرز کے مقابلے میں آپ کو منتخب کریں گے بشرطیکہ آپ اپنے ہنر اور کلائنٹ سے بات چیت کرنے میں مہارت حاصل کرلیں تو آپ مقابلے میں نمایاں ہی رہیں گے کیونکہ آپ کی مہارت جتنی اعلی ہوگی آپ کے مقابلے میں کھڑے ہونے والے اتنے ہی کم ہوں گے۔

اگر آپ فری لانسنگ پر ٹریننگ کورس کرنا چاہتے ہیں تو مجھ سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

اتوار، 9 جنوری، 2022

دنیا کے سب سے بہترین اور پرفیکٹ ماہر نفسیات

عالم دنیا میں صرف حضرت محمد رسول اعظمﷺ ہی سب سے بہترین اور پرفیکٹ ماہر نفسیات گزرے ہیں جن کی باتیں فری میں دنیا کے تمام انسانوں کے لیے موجود ہیں۔

یہ سب ہوتے ہوئے ایک سمجھدار مسلم کو کفار سے نفسیات کے اسباق سیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں جنہیں اتنی بھی عقل نہ تھی کہ اس کائنات کو بنانے والا سچا خدا ہے صرف اللہ ہے۔

اگر خود کو پڑھے لکھے سمجھنے والے کسی بھی مسلم کے لیے سب سے ذیادہ آسان ترین طریقوں اور مختصر الفاظ میں نفسیات کے بہترین سبق پڑھانے اور سکھانے والے محمد رسول اعظمﷺ کی باتیں کافی نہیں تو پھر زندگی بھر نفسیاتی اور ذہنی مسائل کا شکار بن کر رہنا ہی اس کا مقدر بنا رہے گا اللہ کے حکم سے کیونکہ وہ ایسا ناشکرا انسان ہے جس نے دنیا کے سب سے اول نمبر کے بہترین اور سو فیصد پرفیکٹ ماہر نفسیات کی قدر ہی نہیں کی اور ان کے فری میں دیے گئے سبق کو اہمیت نہ دی۔

اللہ واحد القہار

جمعرات، 6 جنوری، 2022

کتابوں کا خدا اور ہے اور بابوں کا خدا اور؟

کتابوں کا خدا اور بابوں کا خدا صرف اللہ ہی ہے کیونکہ اللہ کے سوا کوئی اور خدا اس کائنات میں موجود ہی نہیں۔ جہاں تک قصے اور کہانیوں کی بات ہے تو خود اللہ نے قرآن کے ذریعے بہت سے واقعات اور کہانیاں ہی سنائے ہیں لہذا اولیاء اللہ کی ذات پر طنز و تنقید کرکے مذاق تماشہ صرف حسد اور بغض کی بنا پر جہالت ہے اور کچھ بھی نہیں ورنہ جو حشر جہلم شہر کے ساتھ اللہ کے حکم سے ہوا اس پر ثبوت دیکھ لیں وہ لوگ جو عقل استعمال کرنے کے لائق ہیں کہ شاید وہ نصحیت اور عبرت حاصل کریں، اللہ اکبر



منگل، 28 دسمبر، 2021

مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے ظالم


غیرمسلم اپنے باطل خداوں کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں حالانکہ مسلمان کائنات کے ایک سچے خدا اللہ کے پیروکار ہیں اور غیرمسلم مذہبی پیشوا اپنی عوام اور حکمرانوں کو اس سچ سے دھوکے میں رکھے ہوئے ہیں جس کا فیصلہ نیچر اللہ کے حکم سے اکیسویں صدی میں کرچکی ہے، اللہ اکبر

پیر، 20 دسمبر، 2021

کیا میں جیل گیا تو جہنم میں جاؤں گا؟

دنیا کے انسان اپنی جہالت اور کم علمی یا حسد کی بنا پر بہت سے بے گناہ انسانوں کو جیل میں قید کردیتے ہیں یا قتل کردیتے ہیں یا ان کے خلاف بغاوت کردیتے ہیں لہذا اللہ کے نزدیک کسی مسلمان کو جہنم میں داخل کرنے کا یہ معیار ہرگز نہیں کہ دنیا والوں کی اکثریت کے نزدیک وہ گناہگار قرار پایا گیا ہے کیونکہ لوگوں نے بعض انبیاء کرام علیہم السلام کو  قتل کردیا اور لوگوں نے ہی حضرت عیسی علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش بھی کی تھی لہذا اگر تم اللہ کے نزدیک بے گناہ ہو تو تمہارا جیل جانا اس بات کا ثبوت نہیں ہوگا کہ تم جہنم میں بھی جاو گے اس لیے بے فکر رہو اور ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

بے شک اللہ اس بات پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے اگر وہ چاہے تو مظلوم قیدی کی مدد کرنے کے لیے اپنے فرشتوں کو بھیج دے یا ظالموں پر اپنا قہر نازل کردے۔

اللہ کے سوا کسی سے ڈرنے یا خوف کھانے کی قطعی ضرورت نہیں اسی کی سطلنت ہے اور اسی کی بادشاہت ہے۔

اللہ اکبر

اللہ واحد القہار

سخت عذاب دینے کا بادشاہ

جمعہ، 3 دسمبر، 2021

محمد رسول اعظم ﷺ ایک عظیم کائناتی معجزاتی انسان ہیں

کائنات کے بادشاہ اللہ رب العالمین کے محبوب اور آخری نبی محمد رسول اعظم ﷺ نے انسانیت صرف سکھائی نہیں بلکہ عملی طور پر انسانوں، جنات، چرند، پرند، درند اور نیچر کی مخلوقات کے ساتھ ہمدردی، رحمت اور بہترین سلوک کرکے دکھایا ہے جس مقام تک دنیا کا کوئی بھی انسانیت کی باتیں کرنے والا دوسرا کوئی انسان کبھی نہیں پہنچ سکتا کیونکہ قول اور فعل میں کوئی بھی انسان حضرت محمدﷺ سے زیادہ سچا نہیں ہوسکتا۔

پیر، 29 نومبر، 2021

کیا حضرت محمد ﷺ کے بارے میں کوئی تاریخی ثبوت ہے کہ وہ حقیقت میں موجود تھے؟

حضرت محمد ﷺ کے بارے میں تاریخی بیانات اور ماضی کی کتابوں میں جانے کی ضرورت ہی کیا ہے جبکہ کائنات کے خدا نے اکیسویں صدی میں ان کے بارے میں خدائی نشانیاں نازل کرکے یہ فیصلہ کردیا ہے نیچر کے ذریعہ کہ صرف حضرت محمد ﷺ اس کے آخری نبی ہیں ؟ اگر ان کے وجود پر سو فیصد یقین ہے تو پھر کسی بھی بیان یا کتاب کی ضرورت ہی کیوں ہے ؟ اگر ضرورت ہے تو کیوں ہورہی ہے؟ اگر ان کی نبوت کے بارے میں شک ہے تو یقین کیوں نہیں ہے؟ اگر یقین نہیں ہے تو پھر بیانات یا کتابوں کی ضرورت ہی کیوں ہے؟ کیا محمد ﷺ کے آخری نبی ہونے پر سو فیصد ایمان نہیں؟

اگر محمد ﷺ کائنات کے خدا کے آخری نبی نہیں تو ان کا نام نیچر کی مخلوقات کے ذریعہ کون اکیسویں صدی میں لکھ کر دکھارہا ہے؟



بے شک محمد ﷺ کا نام لکھ کر دکھانے والا ایک ہی طاقت ور اور سچا خدا ہے جسے کہتے ہیں اللہ واحد القہار

تمام عالمین میں یہ مقام صرف حضرت محمد ﷺ کو حاصل ہے کہ اللہ ان کے نام مبارک کو نیچر کے ذریعہ خود لکھتا ہے۔

لہذا اگر دنیا کے تمام تاریخی بیانات بند کردیے جائیں اور تمام کتابوں کو سمندر وں میں بہادیا جائے اور حضرت محمد ﷺ کی رسالت کی سچائی پر شک و شبہات میں گرفتار دنیا کے پانچ ارب سے زائد غیرمسلم اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر خدا کی الہامی نشانیوں پر سرجھکادیں تو ان کے پاس اس کے سوا اب کوئی راستہ نہیں کہ  تمام  غیرمسلم کلمہ پڑھ کر دین اسلام میں داخل ہوجائیں کیونکہ اس بات کا علم ہوجانے کے بعد کہ نیچر کے ذریعہ اللہ اپنے آخری نبی محمدﷺ کا نام لکھ کر دکھارہا ہے اب جو بھی غیرمسلم جھٹلائے اور کفر پر مرے تو وہ ہمیشہ کے لیے جہنم کے دردناک عذاب میں گرفتار ہوگا ۔

نیچر کے ذریعہ حضرت محمد ﷺکی رسالت اور آخری نبی ہونا اکیسویں صدی میں ظاہر کیا جاچکا ہے اللہ کے حکم سے۔