بدھ، 21 دسمبر، 2022

کیا انسان موسم کو بارش پر مجبور کر سکتا ہے؟

دنیا کا کوئی بھی انسان اللہ کی مدد کے بغیر نہ تو موسم تبدیل کرسکتا ہے اور نہ ہی آسمان سے بارش برساسکتا ہے لیکن اللہ کی مدد سے انسان بارش بھی برساسکتا ہے اور موسم بھی تبدیل کرسکتا ہے اور اگر اللہ چاہے تو جب ارادہ کرے اپنے کسی بھی بندے کے لیے اپنی مرضی سے موسم پلٹ سکتا ہے جیسا کہ اس نے میرے اس کریش کورس بنانے کے درمیان معجزہ دکھایا۔

یہ اس بات کا پریکٹیکل ثبوت ہے کہ اللہ جب چاہے موسم تبدیل کرتا ہے اور اگر اللہ کا کوئی بندہ چاہے کہ موسم تبدیل ہوجائے اور اللہ اس بات کی اجازت دے تو موسم اللہ حکم سے تبدیل ہوجاتا ہے ورنہ کچھ نہیں ہوسکتا۔

جہاں تک فزیکل سائنس کی بات ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ سائنسی آلات اور مشینوں اور جہازوں کے ذریعہ مصنوعی بارشیں برسائی جاسکتی ہیں۔ اگر اس بات کو تسلیم کیا جائے تو اس کے لیے پہلے ایسی باتیں کرنے والوں سے پریکٹیکل اور ناقابل شکست ثبوت مانگے جائیں اور اگر کوئی ثبوت نہ پیش کرے تو اس کی باتوں کا کوئی اعتبار نہیں

قدرتی طور پر ایسا ہونا کہ انسان ارادہ کرے اور موسم پلٹ جائے یا آندھی طوفان یا زلزلے آجائیں یا کورونا وائرس کی لہروں میں اضافہ یا کمی ہوجائے یہ صرف اللہ کے حکم اور اجازت سے ہوتا ہے ورنہ کوئی انسان ایسا کچھ نہیں کرسکتا

کچھ غیرمسلم دعوے کرتے ہیں کہ وہ اپنی روحانی طاقت سے موسم پلٹ سکتے ہیں یا بارش کرسکتے ہیں یا مردے زندہ کرسکتے ہیں لیکن حقیقی طور پر کسی بھی غیرمسلم کے بس میں ایسا کچھ بھی نہیں اور ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کہ کوئی غیرمسلم ارادہ کرے اور موسم پلٹ جائے تو اس کے جعلی معبودوں کا نام بادلوں کے ذریعہ ظاہر ہوجائے جبکہ جب اللہ کا پجاری اگر ارادہ کرے اور ایسا ہوجائے تو اس پر الہامی نشانی یہ ہوگی کہ اللہ کے نام کا ظہور بھی ہوگا جیسا میرے ساتھ پیش آنے والے بہت سے واقعات میں ایسا ہوا

اسی طرح ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کہ کوئی غیرمسلم ارادہ کرے تو کسی پرانی قبر کے اندر سے مردہ دوبارہ زندہ ہوکر قبر پھاڑ کر باہر نکل آئے مگر اللہ کا پجاری ارادہ کرے اور اللہ سے دعا کرے تو یہ سو فیصد ممکن ہے کہ پرانی قبر میں دفن شدہ مردہ قبر پھاڑ کر بھی دوبارہ باہر نکل کر آسکتا ہے اللہ کے حکم سے کیونکہ اللہ اس پر قادر ہے کہ جب چاہے آنا فانا ایسا کردکھائے کسی بھی لمحہ بغیر ظاہری اسباب کے، اللہ اکبر، الحمدللہ رب العالمین

انسانی مداخلت کرکے سائنسی مشینوں اور آلات کے ذریعہ نیچر کے سسٹم میں تبدیلیاں پیدا کرنا کسی بھی طور پر خدائی عمل قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی اسے خالص انسانی کام کہا جاسکتا ہے

دعا کے ذریعہ اللہ سے کوئی کام کروانا ایک الگ بات ہے اور اللہ چاہے تو اپنے کسی بھی بندے کے لیے معجزہ دکھاسکتا ہے مگر مشینوں کے ذریعہ کوئی کام ظاہری وسائل سے کرنا کسی قسم کا معجزہ نہیں ہوتا اور غیرمسلموں کے جعلی معبودوں کے اختیار میں تو ویسے ہی کچھ بھی نہیں

بدھ، 14 دسمبر، 2022

کیا آپ کے خیال میں اللہ موجود ہے؟ قرآن میں جو کچھ لکھا ہے اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟

اگر مجھے خیالات پر چلنا ہوتا تو دنیا کے بہت سے مذاہب کے درمیان کنفیوزن میں پڑا رہتا کیونکہ خدا کے نام پر دنیا بھر کے انسانوں کو صدیوِں سے بے وقوف بنانے کا دھندا چل رہا ہے جس کے خلاف بولنے اور لکھنے کی ہمت و جرات اکثر انسانوں میں نہیں اور اگر کوئی سچائی بیان کرنے لگے تو اس کے خلاف باطل خداوں کے پیروکار متحد ہوکر دشمنی پر کھڑے ہوجاتے ہیں اپنے جھوٹے اور من گھڑت مذاہب کو ڈیفینڈ کرنے کے لیے اور جن باطل خداوں کے نام پر انہوں نے اپنے مذاہب ایجاد کر رکھے ہیں ان کی اتنی بھی حیثیت اور طاقت نہیں کہ مچھر کا پر بھی بناسکیں۔

مجھے اللہ نے اپنے ذاتی نام کی کھلی نشانیاں آسمان اور زمین کے درمیان دکھائی ہیں۔ اللہ نے مجھے مردے زندہ کرکے دکھائے ہیں۔ اللہ نے مجھے سورج، بادلوں، ہواوں، بارش، آندھی طوفانوں، گرمی، سردی، طوفانوں کے ذریعہ اپنے کھلے معجزات دکھائے ہیں۔ اللہ نے مجھے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر کھلے معجزات دکھائے ہیں۔ اللہ نے مجھے اپنی قدرت اور طاقتوں پر مطئمن کیا ہے۔

ان سب کے ہوتے ہوئے میں اللہ کو صرف خیال کی بنیاد پر نہیں مانتا بلکہ میرے پاس اللہ کے وجود پر کھلم کھلا اور روشن دلائل اور ناقابل شکست ثبوت ہیں جو میری ذاتی ویب سائٹ پر دنیا بھر کے تمام انسانوں کے لیے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ انٹرنیشنل مذہبی پلیٹ فارم  پر بھی اسلام کی سچائی پر غیرجانبدار اور ناقابل شکست قابل مشاہدہ نیچرل ثبوت و شواہد موجود ہیں ان کے لیے جو واقعی سچے دین کی تلاش میں ہیں۔

جہاں تک قرآن کی بات ہے تو یہ کائنات کے بادشاہ کی کتاب ہے۔ اس نے اس کتاب کے اندر جتنے بھی دعوے کیے ہیں ان کے حوالے سے پریکٹیکل وہ اسی فزیکل دنیا میں دکھارہا ہے اور ماضی میں بھی دکھاچکا ہے۔ بے شک اکثر لوگوں کی اس کے کاموں پر کوئی توجہ نہیں ہے۔

اس کے لیے میں صرف ایک چھوٹی سی لیکن بہت پاورفل مثال پیش کروں گا ثبوت کے ساتھ کہ دنیا کا ہر بچہ مسلم پیدا ہوتا ہے اور پیدائشی طور پر "اللہ" کے نام کو جانتا ہے لیکن دنیا کے اکثر انسان اس بات کو نہیں جانتے۔

یہ رہے قرآن میں اللہ کے چند دعوے نومولود بچوں کو ان کی ماوں کی پیٹ میں بنانے کے حوالے سے

3.6 - وه ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے۔ اس کے سواکوئی معبود برحق نہیں وه غالب ہے، حکمت واﻻ ہے۔

16.78 - اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا ہے کہ اس وقت تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے، اسی نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے کہ تم شکر گزاری کرو.

36.77 - کیا انسان کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا ہے؟ پھر یکایک وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھا.

30.30 - پس آپ یک سو ہو کر اپنا منھ دین کی طرف متوجہ کر دیں۔ اللہ تعالیٰ کی وه فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ تعالیٰ کے بنائے کو بدلنا نہیں، یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے.

 اور یہ رہے تین نومود بچے جو ماں کے پیٹ سے نکلنے کے بعد رونے کے بجائے صرف "اللہ" کا نام پکار رہے ہیں




یہ اس لیے کہ اللہ ہی سچا خدا ہے اور حضرت محمدﷺ نے ساتویں صدی میں ہر بچہ کے مسلم پیدا ہونے کے حوالے سے سچ بتادیا تھا۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا: ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی، یا مشرک بناتے ہیں عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! جو اس سے پہلے ہی مر جائے؟  آپ نے فرمایا: اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/الجنائز 92 (1383)، والقدر 3 (6592)، صحیح مسلم/القدر 6 (2658)، سنن ابی داود/ السنة 18 (4714) (تحفة الأشراف: 12476)، و موطا امام مالک/الجنائز 16 (52)، و مسند احمد (2/244، 253، 259، 268، 315، 347، 393، 471، 488، 518) (صحیح)»

اس دور میں کیمرے ایجاد نہیں ہوئے تھے لیکن اکیسویں صدی میں یہ بات واضح اور روشن ہوکر سامنے آچکی ہے کیونکہ بہت سے پیدائشی بچوں نے صرف ایک خدا "اللہ" کا نام پکار کر اپنے منہ سے گواہی دے دی ہے کہ واقعی ہر بچہ صرف مسلم پیدا ہوتا ہے لہذا یہ ثابت ہوگیا کہ ہر بچہ کا دین صرف اسلام ہوتا ہے اور بعد میں اس کے والدین اس کو ہندو، عیسائی، یہودی، مجوسی، مشرک وغیرہ بنادیتے ہیں۔

جب یہ ثابت ہوچکا کہ صرف اللہ ہی سچا خدا ہے اور قرآن اسی اللہ کی کتاب ہے تو اب سوائے اللہ پر ایمان لانے اور حضرت محمدﷺ کو آخری نبی تسلیم کرنے اور اسلام قبول کرنے کے سوا غیرمسلموں کے پاس کوئی اور راستہ نہیں۔ بے شک اللہ کفر کی گندگی ان پر ڈالتا ہے جو اپنی عقل استعمال نہیں کرتے۔

 Quran 10.100

 - حاﻻنکہ کسی شخص کا ایمان ﻻنا اللہ کے حکم کے بغیر ممکن نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ بے عقل لوگوں پر گندگی ڈال دیتا ہے.

کیا مذہبی لوگ مجھے قائل کر سکتے ہیں کہ خدا موجود ہے؟

جس انسان کو سچائی کی تلاش ہوتی ہے اسے کسی کو منوانے اور قائل کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ وہ انسان خود اپنی جستجو اور لگن کے تحت کام کرتے ہوئے سچے خدا کو تلاش کرلیتے ہیں اور خدا ان کی مدد کرتا ہے لہذا مذہبی لوگوں سے یہ امید رکھنا کہ وہ تمہیں قائل کریں حماقت کے سوا کچھ بھی نہیں۔

ہزاروں صدیوں سے دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتا آرہا ہے کہ خدا کے منکروں نے ایک تماشہ لگا رکھا ہے کہ وہ مذہبی لوگوں سے کہتے ہیں کہ وہ انہیں خدا کا وجود ثابت کریں حالانکہ ان انکار کرنے والوں کے سامنے جیتی جاگتی کائنات اور اس میں موجود نیچرل لشکر خود اپنے منہ سے سچے خدا "اللہ" کے نام کی گواہی دیتے رہتے ہیں اور "اللہ" اپنے نا م کو بادلوں ، پرندوں، جانوروں، درختوں، پتوں، پھولوں، پھلوں، سبزیوں وغیرہ کے اوپر لکھ کر دکھاتا رہتا ہے لیکن اس کے باوجود ایسے تمام لوگ جو بہت عقلمند ہونے کے دعویدار ہیں وہ خدا کے معاملے میں انتہائی بودے اور احمق ہی ثابت ہوئے ہیں کہ ان کی اکثریت یہ سب جان لینے اور اپنی آنکھوں سے صرف اللہ کے کھلے معجزات دیکھ لینے کے باوجود کہتی ہے کہ یہ کوئی ثبوت نہیں اور دوسری جانب خود اپنے باطل خداوں کے ایسے اختیارات ثابت کرنے میں سو فیصد ناکام بھی ہیں ہمیشہ کے لیے۔

دنیا کے کسی بھی مذہبی انسان کو خدا کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ خدا نے اپنے وجود کو خود ہی ثابت کردیا ہے۔ اب یہ بات خدا کے منکروں اور باطل خداوں کے پیرکاروں کو بھی سمجھنے کی شدید ضرورت ہے جو دنیا بھر کے پانچ ارب سےزائد انسانوں کو جھوٹی کہانیوں کے ذریعہ صدیوں سے بےوقوف بناکر لوٹ مارکررہے ہیں باطل خداوں کے نام پر حالانکہ اللہ واحد القہار نے ان باطل خداوں اور ان کے باطل مذاہب کے لیے کوئی سند نہیں اتاری اور کبھی جھوٹے خداوں کی پوجا پاٹ کرنے کا حکم نہیں دیا۔

یہ سب دنیاوی کھیل تماشہ اور شہرت پانے کی غرض سے دنیا کے انسانوں کو اپنی غلامی میں رکھنے کا ڈرامہ رچایا گیا ہے جو آج تک جاری و ساری ہے اور مسلمانو ں کے اکثر مذہبی و روحانی پیشواوں میں یہ ہمت و جرات نہیں کہ وہ کھل کر عالم دنیا کے تمام باطل مذاہب کے بڑے بڑے مذہبی و روحانی و جادوئی و سائنسی پیشواوں کے سامنے گلوبل میڈیا پر دبنگ اعلان کرکے یہ کہہ سکیں کہ دنیا کے تمام غیرمسلم باطل اور جھوٹے خداوں کے پجاری ہیں اور سچے خدا اللہ کے مسلم پیروکاروں پر جان بوجھ کر ظلم و ستم کررہے ہیں۔

اگر تمہیں واقعی خدا کی تلاش ہے اور تم اپنی تلاش میں سچے ہو تو اللہ کے حکم سے ظاہر ہونے والے معجزات اور کھلی نشانیاں تمہارے لیے کافی ہیں جو  معجزات سیکشن میں موجود ہیں اور میرے یوٹیوب چینل  پر ان کے حوالے سے بے تحاشہ ویڈیوز بناکر لوڈ کردی گئی ہیں ان کے لیے جو اپنی عقل استعمال کرسکتے ہیں اور اللہ کے مشن کو پورے عالم پر غلبہ دینے کے لیے اپنی بھرپور کوشش کرنا چاہتے ہیں۔

اس کے لیے کسی قسم کی جنگ اور گالی گلو چ کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ صرف ایک روحانی جنگ ہے اور روحانی طاقتوں اور روحانی معجزات کے ذریعہ ہی اللہ کے حکم اور فضل سے کافی ہے جس کا مقابلہ کرنا روئے زمین کے تمام کافروں، منافقوں، مرتدوں، گستاخوں، حاسدوں، باغیوں اور نافرمانوں کے لیے ہمیشہ کے لیے ناممکن ہے۔

Quran Jalana (قرآن جلانا)

یہ ایک بہت ہی حساس ٹاپک ہے اور اکثر جذباتی قسم کے مسلمان اس معاملے میں اپنی عقل استعمال کرنے سے مکمل طور پر قاصر ہیں کیونکہ انہیں اسلام کی مکمل اور صحیح تعلیمات کا علم نہیں لہذا وہ اپنی جہالت  سبب میرے جواب پر ضرور سیخ پا ہوں گے اس لیے میں یہاں پر صحابہ کرام اور علمائے کرام کے حوالے سے ریفرینس سامنے رکھ رہا ہوں۔ انہیں پڑھنے کے بعد خود فیصلہ کرلو کہ قرآنی آیات کا جلانا جائز ہے یا نہیں کیونکہ یہ معاملہ بوسیدہ اوراق سے بھی تعلق رکھتا ہے اور ایسے تعویذات  سے بھی جن میں قرآنی آیات لکھ کر انہیں لاعلاج مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔


تحریری جوابات


ضعیف اوراق قرآن کی حفاظت کیسے کی جائے؟

السلام علیکم اگر کوئی مسلمان قرآن پاک کو جلائے تو کیسا ہے؟ بعض دوسرے مسالک کے لوگ ایسا کرتے بھی ہیں۔ ایسے کافی واقعات سامنے آئے ہیں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب سے آگاہ فرمائیں۔

قرآن مجید و دینی کتابوں کے بوسیدہ اوراق کا کیا جائے؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درمیان اس مسئلہ کے کہ قرآن مجید و دینی کتابوں کے بوسیدہ ناقابلِ استعمال اوراق کا کیا جائے؟ ان اوراق کا جلانا کیسا ہے؟ رہنمائی فرماکر عنداللہ ماجور ہوں ۔


قرآنی آیات پر مشتمل اوراق کو جلانا




ویڈیو جوابات


قرآن کو جلانا، مفتی طارق مسعود


قرآن کے بوسیدہ اوراق کو جلانے کا حکم، مفتی طارق مسعود


 حضرت عثمان غنی نے قرآن کے نسخے جلوادیے تھے، انجینیئر محمد علی مرزا


یا قرآنی صفحات جلادینے چاہیں، ایسا کرنا گناہ تو نہیں؟


 ضعیف قرآن کو جلانا کیسا ہے؟

پرانے قرآن کو جلانا کیسا ہے؟


پھٹے پرانے قرآن کو جلانا کیسا ہے؟


قرآنی صفحات کو آگ لگانا گناہ ہے؟


اخبارات یا قرآنی اوراق کو جلانا کیسا ہے؟


ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ ہنومان ایک طاقتور دیوتا تھا؟

اگر ہنومان طاقت ور دیوتا (خدا) تھا تو اسے موت کس نے دی؟ اگر ہنومان خدا تھا تو اس کی موت کے بعد کائنات کا نظام کون چلارہا ہے؟ جس کا وجود ہی زندہ نہیں وہ خدا کیسے ہوسکتا ہے؟ دنیا کے ہر انسان کو اپنی عقل استعمال کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ ہنومان نہ کبھی خدا تھا اور نہ کبھی خدا ہوگا۔ کیا ہنومان نے اپنی طاقتوں سے یہ ثابت کردیا ہے کہ صرف وہی اکیلا سچا خدا ہے اور پوری کائنات کا نظام کنٹرول کررہا ہے اور آسمان اور زمین کے درمیان تمام لشکر اس کے قبضہ میں ہیں؟ نہیں، نہ وہ ایسا کبھی کرسکا اور نہ کبھی کرسکے گا۔ دنیا کے کسی ایک بھی انسان کے پاس ہنومان کے سچا خدا ہونے پر کوئی ثبوت نہیں ہے کہ وہ زندہ ہے اور کائنات کو کنٹرول کررہا ہے۔ یہاں تک کہ آگ میں جل کر راکھ ہوجانے والے ہندووں کو دوبارہ زندہ سلامت انسان بناکر کھڑا کردینا دنیا کے پانچ ارب سے ذائد غیرمسلموں کے تمام باطل خداوں کے لیے ناممکن ہے جبکہ کائنات کا سچا خدا اللہ اس کام کو کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

اتوار، 11 دسمبر، 2022

بہت سے احمق کیوں یہ مانتے ہیں کہ انہیں کام کرنے کے لیے "خدا" کی ضرورت ہے؟

اگر انسانوں کے ہاتھوں کا بنایا ہوا روبوٹ یہ سوال کرے کہ "بہت سے احمق کیوں یہ مانتے ہیں کہ انہیں کام کرنے کے لیے "انسان" کی ضرورت ہے؟" تو کیا وہ روبوٹ احمق کہلائے گا یا اسے بنانے والے انسان احمق کہلائیں گے؟

اگر تمہاری نظر میں وہ روبوٹ احمق کہلائے گا تو تم عقل استعمال کرسکتے ہو لیکن اگر تمہاری نظر میں روبوٹ بنانے والے انسان احمق کہلائیں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی عقل استعمال نہیں کرسکتے۔

لہذا جو سوال تم خدا کو ماننے والوں پر لگارہے ہو اسے اپنی ذات پر اپلائی کرکے اپنے آپ کو خود ہی جج کرلو تمہیں اپنے اس احمقانہ سوال 'بہت سے احمق کیوں یہ مانتے ہیں کہ انہیں کام کرنے کے لیے "خدا" کی ضرورت ہے؟' کا جواب مل جائے گا۔

امید ہے کہ میری بات سمجھ آگئی ہوگی اگر تم اپنی عقل استعمال کرسکتے ہو
اگر تم اپنی عقل استعمال نہیں کرسکتے تو پھر بے شک جو مرضی کرتے پھرو

اتوار، 27 نومبر، 2022

حضرت محمدﷺ کا نام چمکتے بادلوں کے ذریعہ

۱۷ اکتوبر سنہ ۲۰۲۱، صبح سویرے چھت پر "لیجنڈ آف اللہ " ہونے کا دعوی کرنے کے بعد اللہ کے درخت کے اوپر آسمان پر اللہ کا نام ہوا میں نمودار ہوکر غائب ہوجانے کے بعد اللہ کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام چمکتے بادلوں کے ذریعہ ظاہر ہوا اللہ کے حکم سے