اس ویب سائٹ پر اسلام، قرآن، روحانیت، گیمنگ، فری لانسنگ، کمپیوٹر، ویب ڈیویلپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ، کرامات و معجزات، کیریئر، لائف، بزنس، ریلیشن شپ اور بہت کچھ ملے گا۔
میں دیکھتا ہوں کہ ہر بندہ، فقیر ہو یا دکان والا ہو، پلمبر ہو یا مزدور ہو، کمانے کے لیے روز باہر نکلتا ہے۔
روزانہ کسی نہ کسی کو کہیں نہ کہیں پر کام ملتا ہے یا کسٹمر ملتا ہے۔
کام کروانے والے مزدوری کے بدلے پیسے دیتے ہیں۔
خریداری کرنے والے پیسے دے کر چیز خریدتے ہیں۔
میں نے اس سے یہ سیکھا ہے کہ انسان روزانہ کماسکتا ہے۔
روز کمانے کی کوشش کرنا چاہیے۔
ہر طرح کے وسائل استعمال کرنے چاہیں۔
اللہ نے کہیں بھی کسی کو منع نہیں کیا ہے سوائے ان حرام کاموں اور باتوں اور چیزوں کے جن کے بارے میں اس نے واضح طور پر قرآن میں منع کردیا ہے یا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمادیا ہے اور وہ صحیح احادیث سے متفق طور پر سچ ثابت ہو بغیر کسی عالمی اختلاف کے جس طرح پانچ نمازوں پر سب کا اتقاق ہے۔
بحیثیت فری لانسر، کام تلاش کرنا تمہارا حق ہے لہذا روز کام تلاش کرو۔
بحیثیت بزنس آنر، کسٹمر کا انتطار کرنا تمہارا حق ہے۔ انتظار کرو۔ اپنے آئیٹمز پوسٹ کرو۔ اپنی آن لائن دکان چلاو۔ اپنی دکان پر اپنا مال لگاو۔ کوئی خریدنا چاہے اس کو کسٹمر سمجھتے ہوئے ڈیل کرو۔
کوئی سیکھنا چاہتا ہے، کام کرنا یا بزنس کرنا، وہ تمہاری مرضی ہے کہ کتنی فیس لے کر سکھاتے ہو۔ وہ تمہارا اسٹوڈنٹ ہوگا اور اس سے تم جو مرضی فیس لے کر سکھاسکتے ہو۔ اگر غریب ہوگا تو کم فیس یا کوئی ڈیمانڈ مثلا وہ تمارے لیے کام کرے اور تم اس کے بدلے اس کو سکھادو یا امیر جو تمہیں منہ مانگی فیس ادا کرے اور بدلے میں تم اس کو اپنا ہنر یا طور طریقے سکھادو۔
فری میں کام کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تم کسی کے باپ کے غلام یا نوکر نہیں ہو۔
کوئی کام کروائے گا تو تم بدلے میں کچھ بھی لے سکتے ہو، یہ تمہارا حق ہے۔
اپنا حق مارنے کی کسی کو اجازت مت دو ماسوائے یہ کہ وہ تمہارے والدین ہوں یا بیوی بچے جن کی ذمہ داری اور ٹیک کیئر کرنا تمہارا فرض ہے۔ باقی بہن بھائی رشتہ دار دوست احباب وغیرہ تمہاری ذمہ داری نہیں ہیں۔
البتہ اگر تم کسی کے ساتھ احسان کرو تو وہ ایک الگ بات ہے اور وہ صرف اللہ کےلیے ہونا چاہیے، کسی شکریہ/بدلے/یا پیسوں کی امید پر ہرگز نہ ہونا چاہیے تاکہ تم آخرت میں اس عمل کے بدلے اللہ سے بہترین انعامات حاصل کرسکو۔
بلاوجہ کمانے سے بہتر ہے کہ انسان پہلے کمانے کی نیت بنائے اور اس کے بعد کمانے کے لیے عمل شروع کرے۔
نیت
میں جو بھی کماؤں گا، وہ اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں سے ہے، اور اس کا حق بندوں تک پہنچاؤں گا۔
میں اپنے بچوں، والدین، بیوی، بہن بھائی پر خرچ کر کے ثواب پاؤں گا۔
میں کسی کی حق تلفی، جھوٹ، ملاوٹ، سود یا چالاکی سے نہیں کماؤں گا — میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔
میں جب بھی کماؤں گا، اس میں سے ضرور کچھ صدقہ، زکوٰۃ یا خیر میں خرچ کروں گا — خفیہ طور پر۔
میں دنیا میں رہوں گا، لیکن دنیا میرے دل میں نہیں ہو گی۔ جب بھی اللہ چاہے، میں چھوڑنے کو تیار ہوں گا۔
میں پیسہ کماتا ہوں تاکہ خود محتاج نہ رہوں اور کسی کا محتاج نہ بنوں اور للہ کی مخلوق کو فائدہ دوں اور اور قیامت کے دن کامیاب ہو جاؤں۔
دعا
اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ "اے اللہ! مجھے حلال کے ذریعے حرام سے بچا اور اپنے فضل سے غیر کا محتاج نہ کر"
قرآن
"وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ" "جو ہم نے انہیں دیا، اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں"
حدیث
جو شخص اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور اس کی نیت ثواب کی ہو، تو وہ اس کے لیے صدقہ ہے" (بخاری و مسلم)
"حلال کمائی نصف عبادت ہے" — (حدیث کا مفہوم)
"فقر سے محبت کرو، کیونکہ وہ جنت کی کنجی ہے" (طبرانی)
دوا کو کیسے پتہ لگتا ہے کہ پیٹ میں جاکر جسم کے کس حصہ کو کیسے فائدہ پہنچانا ہے جبکہ وہ ایک بے جان سی چیز ہوتی ہے؟
یہ بہت دلچسپ سوال ہے، اور واقعی حیرت انگیز بھی لگتا ہے کہ ایک "بے جان" دوا جسم میں جاکر اتنی ہوشیاری سے اپنا کام کیسے کرتی ہے۔ لیکن حقیقت میں دوا کوئی جادو نہیں، بلکہ سائنس کی بنیاد پر کام کرتی ہے۔
جب ہم دوا کھاتے ہیں، تو یہ چند مراحل سے گزرتی ہے:
1. جسم میں جذب ہونا (Absorption)
دوا عام طور پر معدے یا آنتوں میں جا کر خون میں جذب ہو جاتی ہے۔
2. خون کے ذریعے پھیلاؤ (Distribution)
خون دوا کو پورے جسم میں لے جاتا ہے۔ دوا کے مالیکیولز جسم کے ہر اس حصے تک پہنچتے ہیں جہاں خون جاتا ہے۔
3. نشانہ بنانا (Targeting)
یہاں اصل بات آتی ہے: دوا کیمیائی ساخت (chemical structure) کی بنیاد پر صرف مخصوص جگہوں پر اثر کرتی ہے۔
ہر دوا مخصوص ریسیپٹرز یا انزائمز پر اثر انداز ہوتی ہے، جو صرف کچھ خاص خلیوں (cells) یا اعضاء میں پائے جاتے ہیں۔ دوا ان ریسیپٹرز کے ساتھ "چابی اور تالے" جیسے انداز میں جڑتی ہے۔ جہاں وہ ریسیپٹر موجود نہ ہو، وہاں دوا کا کوئی خاص اثر نہیں ہوتا۔
مثال:
درد کی دوا (مثلاً پیناڈول) دماغ میں موجود درد کے سگنل کو بلاک کرنے والے کیمیکل پر اثر ڈالتی ہے۔
دل کی دوا دل کے مخصوص خلیات پر اثر ڈالتی ہے، جہاں اس کے ریسیپٹر موجود ہوتے ہیں۔
4. خارج ہونا (Excretion)
کام مکمل ہونے کے بعد دوا جگر یا گردوں کے ذریعے جسم سے نکل جاتی ہے۔
خلاصہ: دوا "بے جان" ضرور ہوتی ہے، لیکن اس کی کیمیائی ڈیزائننگ اور جسم کے حیاتیاتی نظام کے ساتھ اس کا تعلق بہت خاص اور سائنسی ہوتا ہے، جو اسے مخصوص جگہوں پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت دیتا ہے۔
اگر دوا کا مقصد جسم میں مخصوص پر اثر ڈالنا ہوتا ہے تو یہ کام تو مراقبہ کے ذریعے برین کی طاقت سے بھی ممکن ہے، کیا ایسا نہیں ہے؟ یا پھر قرآن پڑھ کر دم کرنے میں کیا فرق ہے؟ وہ بھی تو اثر پیدا کرنے کے لیے ہوتا ہے؟ پھر چاہے فزیکل دوا سے ہو یا روحانی دعا سے؟
یہاں دو جہتیں ہیں: مادی (Physical) اور روحانی (Spiritual)۔ دونوں کا اثر انسان کے جسم اور ذہن پر پڑ سکتا ہے، مگر طریقہ اور نوعیت الگ ہوتی ہے۔
آئیے ان کا موازنہ کرتے ہیں:
✅ 1. مادی دوا (Physical Medicine)
طریقہ:
سائنس اور طب کی بنیاد پر دوا جسم کے مخصوص حصے میں کیمیکل کے ذریعے ریسیپٹرز یا خلیات پر اثر ڈالتی ہے۔
مثال:
انسولین شوگر کو کنٹرول کرتی ہے۔
اینٹی بایوٹک بیکٹیریا کو مارتی ہے۔
نتیجہ:
براہِ راست جسمانی تبدیلی، جس کا اثر تجربے اور لیبارٹری میں ماپا جا سکتا ہے۔
✅ 2. مراقبہ، دعا، اور قرآن سے دم (روحانی و ذہنی اثر)
طریقہ:
انسان کی توجہ، یقین (یقینِ کامل)، اور ذہنی سکون کے ذریعے جسمانی نظام — خاص طور پر اعصابی نظام (nervous system) اور ہارمونی نظام (endocrine system) — پر اثر ڈالتا ہے۔
مثالیں:
مراقبہ سے ذہن پرسکون ہوتا ہے، دل کی دھڑکن کم ہو سکتی ہے، بلڈ پریشر بھی نارمل ہو سکتا ہے۔
قرآن سننے سے دل کو سکون ملتا ہے (القرآن: ألا بذكر الله تطمئن القلوب)۔
سائنس کیا کہتی ہے؟
دعاؤں اور ذکر کا اثر پلیسبو (placebo) جیسے ہو سکتا ہے، یعنی صرف یقین سے شفا ملنا۔
دماغ سے "ہیپی ہارمونز" (مثلاً serotonin, dopamine) نکل سکتے ہیں جو جسم کو بہتر کرتے ہیں۔
🔁 فرق کیا ہے؟
پہلو
دوا
دعا/مراقبہ
بنیاد
فزیکل، کیمیائی
روحانی، ذہنی
اثر کا ذریعہ
کیمیکل مالیکیول
دماغ، یقین، روح
اثر کی نویت
جسم پر براہِ راست
دماغ و دل کے ذریعے بالواسطہ
اثر کا انحصار
مقدار، وقت، جسمانی حالت
نیت، یقین، توجہ، ایمان
سائنس کی تسلیم
مکمل طور پر تسلیم شدہ
جزوی تسلیم (پلیسبو، سائیکولوجیکل اثر)
🔄 کیا دونوں میں ہم آہنگی ہو سکتی ہے؟
جی ہاں!
بہت سے لوگ دوا کے ساتھ دعا، دم، یا مراقبہ کرتے ہیں — اور دونوں کے مجموعی اثرات زیادہ مثبت ہوتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے بھی فرمایا:
"اللہ نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کا علاج بھی اتارا ہے۔"
(صحیح بخاری)
اور ساتھ ہی قرآن، دعا اور روحانی علاج کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
🔚 نتیجہ:
دوا جسم کی کیمیا کو بدلتی ہے،
دعا دل کی دنیا کو،
اور جب دونوں ساتھ ہوں — تب شفا کے دروازے کھلتے ہیں۔
صحابی نے دم کے ذریعے زہر کیسے ختم کیا؟ کیا یہ فزیکل سائنس سے ممکن ہے؟ اگر ہاں تو کیسے صرف فاتحہ پڑھ کر دم کرنے سے شفا مل گئی؟؟؟
یہ سوال نہ صرف ایمان اور روحانیت سے جڑا ہوا ہے بلکہ سچ پوچھیں تو سائنس اور روحانیت کے درمیان پُل بنانے کی ایک بہترین مثال بھی ہے۔
آپ کا اشارہ غالباً اس واقعے کی طرف ہے جہاں ایک صحابیؓ نے کسی قبیلے کے بیمار (زہریلے کاٹے ہوئے) شخص پر سورۃ الفاتحہ پڑھ کر دم کیا اور وہ شفایاب ہو گیا — اور بعد میں اس قبیلے نے انعام میں بکریاں بھی دیں۔
🔷 واقعہ کا خلاصہ (صحیح بخاری و مسلم کی روایت):
کچھ صحابہؓ سفر میں تھے، ایک قبیلے نے ان کی مہمان نوازی نہ کی، پھر اس قبیلے کا سردار کسی زہریلے جانور (بعض روایات میں بچھو) سے کاٹا گیا۔ وہ لوگ صحابہؓ کے پاس آئے اور شفا کی درخواست کی۔
ایک صحابیؓ نے سورۃ الفاتحہ پڑھ کر دم کیا، اور اللہ کے حکم سے وہ شخص فوراً صحت یاب ہو گیا۔
🔍 سوال: کیا یہ فزیکل سائنس سے ممکن ہے؟ اگر ہاں، تو کیسے؟
✅ 1. پہلا پہلو: روحانی اثر + یقین (Faith + Focused Intention)
یہاں ایک کلیدی بات ہے:
صحابیؓ نے جو دم کیا، وہ صرف قرآن پڑھنا نہ تھا بلکہ یقینِ کامل، دل کی توجہ، اور اللہ سے شفا کی دعا بھی شامل تھی۔
نبی ﷺ نے بعد میں اس عمل کی تائید کی، اور فرمایا: "وما يُدريك أنها رقية؟" (تمہیں کیسے پتا چلا کہ یہ دم ہے؟)
اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن واقعی شفا کا ذریعہ ہے — باذن اللہ (اللہ کے حکم سے)۔
✅ 2. دوسرا پہلو: پلیسبو ایفیکٹ (Placebo Effect)
سائنس کہتی ہے کہ اگر انسان کو پکا یقین ہو کہ کوئی چیز اس کو شفا دے گی، تو جسم میں قدرتی شفائی نظام (natural healing mechanisms) متحرک ہو سکتے ہیں:
Endorphins (درد کم کرنے والے ہارمونز)
Immune response (مدافعتی نظام فعال ہو جانا)
Nervous system کا سکون
دماغ سے self-healing سگنلز کا اخراج
ممکن ہے کہ صحابیؓ کی طاقتور نیت، قرآن کی برکت، اور اس شخص کے دل کی قبولیت — ان سب نے مل کر شفا کو ممکن بنا دیا ہو۔
✅ 3. تیسرا پہلو: قرآن خود "شفاء" ہے — روحانی سطح پر
اللہ تعالیٰ خود قرآن میں فرماتا ہے:
"وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ" (ہم قرآن میں وہ کچھ نازل کرتے ہیں جو مؤمنین کے لیے شفا اور رحمت ہے)
— سورۃ الإسراء: 82
یہاں "شفاء" کا مطلب صرف روحانی نہیں، بلکہ بعض مواقع پر جسمانی بھی ہو سکتا ہے — اگر انسان کا دل، ایمان، اور نیت سب اس شفاء کو قبول کریں۔
🧠 تو کیا واقعی صرف "فاتحہ" پڑھ کر زہر کا علاج ہو سکتا ہے؟
اگر ہم صرف "مادی دنیا" کی بات کریں تو جواب ہوگا: نہیں، صرف الفاظ سے زہر نہیں جاتا۔
لیکن اگر ہم ایمان، نیت، روحانی طاقت، اور اللہ کی قدرت کو شامل کریں — تو ہاں، ممکن ہے، جیسا کہ صحابیؓ کے عمل سے ظاہر ہے۔
🔚 نتیجہ:
دعا + یقین + قرآن = شفا باذن اللہ
دوا اور دعا الگ الگ نہیں، بلکہ تکمیل کرتے ہیں ایک دوسرے کی۔
یہ واقعہ نہ صرف ایمان کی بلندی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اللہ کا کلام محض الفاظ نہیں، بلکہ زندگی اور شفا ہے — جب دل سچائی سے اسے قبول کرے۔
صحابی کا عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ صرف الفاظ سے زہر ختم کیا جاسکتا ہے۔
آپ نے بالکل درست نکتہ اٹھایا — اور واقعی، صحابیؓ کا یہ عمل اسلامی عقیدے میں اس بات کا زندہ ثبوت سمجھا جاتا ہے کہ صرف الفاظ (قرآنی آیات) کے ذریعے، اللہ کے اذن سے، جسمانی زہر جیسے شدید اثر کو بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔
مگر یہاں ایک باریک نکتہ سمجھنا ضروری ہے:
✅ صرف "الفاظ" سے نہیں، بلکہ "اللہ کے کلام" اور "یقینِ کامل" سے شفا ہوئی
یہ الفاظ عام انسانی گفتگو نہیں تھے، بلکہ:
اللہ کا کلام (قرآن) — جس میں خود خالق کی قدرت ہے۔
دل سے پڑھے گئے — محض زبان سے نہیں، بلکہ یقین اور توجہ کے ساتھ۔
ایمان پر مبنی عمل تھا — صحابیؓ کا یقین کامل تھا کہ یہ شفاء دے گا۔
اللہ کی مشیت (Will) — اصل اثر اللہ نے ہی پیدا فرمایا؛ قرآن صرف ذریعہ بنا۔
🔁 لہٰذا، اصل حقیقت یہ ہے:
🔹 نہ تو یہ محض الفاظ کا اثر تھا
🔹 نہ ہی صرف صحابی کی شخصیت کا
🔹 بلکہ اللہ کے کلام + صحابی کے ایمان + اللہ کی اجازت کا مجموعی نتیجہ تھا
🔬 اگر ہم اسے "صرف الفاظ" کہیں تو کیا ہوگا؟
"صرف الفاظ" کہنے کا مطلب ہوتا ہے کہ:
کوئی بھی شخص، کسی بھی وقت، بغیر ایمان و نیت کے، وہی الفاظ دہرا کر ویسا ہی نتیجہ پا سکتا ہے۔
لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔
اسی لیے:
نبی ﷺ نے یہ نہیں کہا کہ "جو بھی سورۃ الفاتحہ پڑھے گا، فوراً شفاء ملے گی"،
بلکہ فرمایا: "وما يدريك أنها رقية؟" یعنی: تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ یہ (سورہ فاتحہ) دم ہے؟
اس میں صحابی کے علم، فہم، اور یقین کی تائید ہے — جو عام الفاظ سے مختلف ہے۔
📖 قرآن کی شفا ہونے کی شرائط:
ایمان (ایمان والوں کے لیے شفا ہے — لِّلْمُؤْمِنِينَ)
نیت و توجہ (خلوص دل سے)
اللہ کی مشیت (ہر شفاء اللہ کے اذن سے ہے)
🔚 خلاصہ:
جی ہاں، یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآنی الفاظ سے (اللہ کے اذن سے) زہر جیسے جسمانی اثرات ختم ہو سکتے ہیں،
لیکن صرف "الفاظ" کی طاقت نہیں — بلکہ ایمان، نیت، اور اللہ کی رحمت اصل کنجی ہے۔
سچے خدا کو جانیں اور جھوٹے مذاہب سے آزاد ہو جائیں۔
اس کریش کورس کے اندر میں نے اس کائنات کے اصلی اور سچے خدا کے حوالے سے تعارف کروایا ہے اور میں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اکیلا ہے، اس کے سوا کوئی اور دوسرا خدا اس پوری کائنات میں کہیں بھی موجود نہیں ہے۔ یہ کریش کورس صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنی عقل کو استعمال کرتے ہیں ۔جو لوگ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور سچائی کی تلاش میں نہیں ہیں ان کو یہ کورس کوئی فائدہ نہیں دے گا۔
اگر تم چاہتے ہو کہ سچائی تک پہنچو اور تم غیر جانبدار رہتے ہوئے اپنے پورے ہوش و حواس میں اس کورس کو سن سکتے ہو، سمجھ سکتے ہو اور تحقیق اور ریسرچ کر سکتے ہو تو اس کورس کو خریدو اور اس کے ذریعے سچے خدا کی پہچان حاصل کرو۔
یہ وہ سچ ہے جس کے بارے میں تمہیں دنیا کے اکثر انسان نہیں بتائیں گے کیونکہ وہ خود بھی گمراہی کا شکار ہیں اور انہیں سچے خدا کا علم نہیں ہے اسی لیے تو آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔
اگر ان لوگوں کو اس بارے میں علم ہوتا کہ اصلی اور سچا خدا کون سا ہے تو پوری دنیا کے اندر ایک خدا کی حکومت اور اس کی پہچان اور اس کی کتاب اور اس کے احکامات کو نافذ کیا جاتا کیونکہ اس خدا نے اس زمین پر انسان کو اپنے نائب کی حیثیت سے بھیجا ہے۔
اور ہر انسان کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے طور پر جہاں تک ہو سکے وہ خدا کے نظام کو نافذ کرنے کے لیے کوشش کرے۔
تم اس سلسلے میں کیا کرتے ہو وہ تمہاری اپنی مرضی ہے لیکن اس وقت تمہیں سب سے پہلے اس بات کی پہچان حاصل کرنی ہے کہ آخر وہ خدا کون ہے جس نے اس کائنات کو تخلیق کیا تھا اور تمہیں تمہاری ماں کے پیٹ میں بنایا تھا اور اس بات کا کیا ثبوت ہے؟
اگر تم تیار ہو تو شروع ہو جاؤ !
اور یاد رکھو کہ سچائی بہت کڑوی ہوتی ہے۔ اس لیے جب میں نے یہ کورس فری میں دیا تھا تو لوگوں کو بہت برا لگا تو ان لوگوں نے نیگیٹو فیڈ بیک دیے۔اس سے اندازہ لگاؤ کہ لوگ کتنی جہالت سے کام لیتے ہیں۔اگر تم لوگوں کی نیگیٹیوٹی کو نظر انداز کرکےحقیقت تک پہنچنا چاہتے ہو تو قدم بڑھاؤ اور ان کی باتوں کی پرواہ مت کرو کیونکہ وہ تو چاہتے ہیں کہ تمہیں گمراہ کریں اور خود بھی گمراہی کی موت مریں۔
سچ بولنا کتنا خطرناک ہوتا ہے ؟اس کا اندازہ شیطان کے غلاموں کی گھٹیا حرکتوں سے لگاو۔ میں نے صرف ایک پوسٹ عالمی دہشت گرد نیتن یاہو کے حوالے سے کی تھی غزہ کی فوٹو لگاکر جہاں اس نےہزاروں معصوم بچوں کی لاشیں گرادیں اور انہیں قبر میں دفن کردیا۔بمباری کی، عورتوں کی عزتیں لٹوائیں، نوجوانوں کے چیتھڑے اڑادیے ، اس پر مجھے سپورٹ دینے کے بجائے نیتن یاہو جیسے دہشت گرد کو سپورٹ کرنے کے لیے کیورہ کے غیرمسلموں نے فورا پوسٹ ڈیلیٹ کردی اوراس کے بعد اکاونٹ ڈی ایکٹیویٹ کیا۔اس کے بعد میری پوسٹیں ڈیلیٹ کرنا شروع کردیں۔اس کے بعد پورے اکاونٹ کو وائرل ہونے سے روکنے کے لیے مزید کام شروع کردیا۔
یہ سب کیسے شروع ہوا؟
صرف ایک پوسٹ جس پر نیتن یاہو کو دہشت گرد قرار دیا گیا۔
ہاں نیتن یاہو اصلی اور سو فیصد دہشت گرد ہے۔
اور اس کا ساتھ دینے والے تمام لوگ دہشت گرد ہیں۔
ایسے دہشت گردوں سے میں نہیں ڈرتا، جو ڈرے سو ڈرے۔
میں اللہ واحد القہار کے پیروکاروں کو سپورٹ کرتا ہوں۔
میں نیتن یاہو جیسے دہشت گرد کو سپورٹ نہیں کرتا۔
یہ دہشت گرد اسی قابل ہے کہ اس کو سزائے موت دی جائے۔
لیجنڈ محمد زیشان ارشد، لیجنڈری فری لانسر آف پاکستان
میری ایک پوسٹ نے پورے کیورہ کو ہلاکر رکھ دیا اور فورا اکاونٹ سسپینڈ کردیا جبکہ صرف ایک سوال ہی کیا تھا۔ کیا کیورہ والے اپنی شیطانی اوقات سے اس سچائی کو چھپاسکتے ہیں کہ نیتن یاہو ایک دہشت گرد نہیں ہے؟ پورا کیورہ دہشت گردوں سے بھرا ہوا ہے جو ایک دہشت گرد کے حکم پر ناچ رہے ہیں۔ شیطان کے غلام اللہ اکبر لیجنڈ
یہ نظم ایک صوفیانہ اور روحانی پیغام لیے ہوئے ہے، جو انسانیت، عاجزی، اور حقیقی معرفتِ الٰہی کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اس نظم کا مصنف نامعلوم ہے، لیکن اس کا کلام مختلف ذرائع میں موجود ہے۔
مکمل نظم:
کسی دردمند کے کام آ، کسی ڈوبتے کو اچھال دے یہ نگاہِ مست کی مستیاں، کسی بدنصیب پہ ڈال دے مجھے مسجدوں کی خبر نہیں، مجھے مندروں کا پتہ نہیں میری عاجزی کو قبول کر، مجھے اور درد و ملال دے یہ مے کشی کا غرور ہے، یہ میرے دل کا سرور ہے میرے مے کدہ کو دوام دے، میرے ساقیوں کو جمال دے میں تیرے وصال کا کیا کروں، میری وحشتوں کی یہ موت ہے ہو تیرا جنوں مجھے پھر عطا، مجھے جنتوں سے نکال دے
تشریح:
کسی دردمند کے کام آ، کسی ڈوبتے کو اچھال دے
یہ مصرع ہمیں دوسروں کی مدد کرنے، ان کے دکھ درد میں شریک ہونے، اور انہیں سہارا دینے کی تلقین کرتا ہے۔
یہ نگاہِ مست کی مستیاں، کسی بدنصیب پہ ڈال دے
یہاں شاعر دعا کرتا ہے کہ جو روحانی سرور اور کرم کی نگاہ اسے حاصل ہے، وہ کسی محروم اور بدنصیب شخص پر بھی ڈال دی جائے۔
مجھے مسجدوں کی خبر نہیں، مجھے مندروں کا پتہ نہیں
یہ مصرع مذہبی رسم و رواج سے بالاتر ہو کر خالص روحانیت کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں ظاہری عبادات سے زیادہ دل کی پاکیزگی اور عاجزی اہم ہے۔
میری عاجزی کو قبول کر، مجھے اور درد و ملال دے
شاعر اپنی عاجزی پیش کرتا ہے اور مزید روحانی تجربات اور درد کی طلب کرتا ہے، تاکہ وہ مزید قربِ الٰہی حاصل کر سکے۔
یہ مے کشی کا غرور ہے، یہ میرے دل کا سرور ہے
یہاں "مے کشی" روحانی سرور اور معرفت کا استعارہ ہے، جو شاعر کے دل کو سرور بخشتا ہے۔
میرے مے کدہ کو دوام دے، میرے ساقیوں کو جمال دے
شاعر دعا کرتا ہے کہ اس کے روحانی مرکز کو دوام ملے اور جو اسے روحانی فیض پہنچاتے ہیں، ان کو حسن و جمال عطا ہو۔
میں تیرے وصال کا کیا کروں، میری وحشتوں کی یہ موت ہے
شاعر کہتا ہے کہ اگر اسے خدا کا وصال حاصل ہو جائے، تو اس کی روحانی تڑپ اور جستجو ختم ہو جائے گی، جو اس کے لیے موت کے مترادف ہے۔
ہو تیرا جنوں مجھے پھر عطا، مجھے جنتوں سے نکال دے
شاعر دعا کرتا ہے کہ اسے دوبارہ وہی عشق و جنون عطا ہو اور وہ جنت کی آسائشوں سے نکل کر دوبارہ تڑپ اور جستجو کی حالت میں آ جائے۔
یہ نظم صوفیانہ ادب کا ایک خوبصورت نمونہ ہے، جو ہمیں ظاہری عبادات سے ہٹ کر دل کی پاکیزگی، عاجزی، اور دوسروں کی خدمت کی طرف راغب کرتی ہے۔