جمعرات، 7 نومبر، 2019

جب انسان خود ہی غصہ میں ہو تو

 جب ایک انسان اپنی بری کارگردی کے سبب زمانے سے مار کھاکر زخمی ہوتا ہے تب اس کے اندر غصہ بھرا ہوتا ہے۔ایسی صورتحال میں وہ کسی کے اچھے کام کی بھی تعریف نہیں کرتا۔بلکہ اگر اس کے سامنے کوئی اچھا کام کرنے والا ہو تو اس سے مزید جلتا ہے اور غصہ کھاتا ہے کیونکہ وہ اپنے طور پر ناکام ہورہا ہوتا ہے اور اس کے سامنے دوسرا کامیاب ہورہا ہوتا ہے۔

یہاں تک کہ ایسے انسان کے سامنے اگر کامیاب ہوتا ہوا انسان گر جائے یا کسی عمل میں نتائج نہ لا سکے تو غصہ کرنے والے کی خوشی میں اضافہ ہوتا ہے کہ اچھا ہوا دوسرے کا بھی نقصان ہوا۔

اتوار، 2 جولائی، 2017

مسلمان الحاد کے مقابلے میں کمزور اور ناکام کیوں ہیں؟

ایک مسلمان صاحب فیس بک پر کہہ رہے تھے کہ ’جر من ملحدتھیوڈونولڈیکے کا یہ اشکال کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں تھا بلکہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنایا تھا بالکل لغو ہے۔اس کے خلاف اچھے خاصے قرآئن موجود ہیں۔‘ اس کے بعد انہوں نے کچھ واقعات پیش کرکے مثالیں دیں۔جس پر بہت سے مسلمانوں نے ملحدوں کا مذاق اڑایا اور انہیں بے وقوف سمجھا۔

ایسے کئی مسلمانوں کی تحریریں میں پڑھتا دیکھتا رہتا ہوں۔یہاں تک کہ ایک مشہور و معروف مسلم اسکالر سے ہزاروں لوگوں کے سامنے جب کسی ملحد نے سوال کیا  کہ ’اللہ نظر کیوں نہیں آتا ، باتیں کیوں نہیں کرتا، ساتھ کیوں محسوس نہیں ہوتا وغیرہ‘ (یعنی وہ ملحد چاہتا تھا کہ اسے اللہ کا وجود ثابت کیا جائے ) تو وہ اسکالر اسے مطمئن کرنے میں میری نظر میں ناکام ہوئے۔کیونکہ ملحد اپنے اطمینان کیلئے اللہ کے وجود پر ثبوت چاہتا تھا جبکہ اسکالر صاحب قرآن کی آیات اور منطق سے اسے مطمئن کرنے میں لگے رہے ۔ظاہر ہے وہ ملحد زیادہ بات نہیں کرسکا کیونکہ اسے موقع نہیں دیا گیا (جبکہ وہ شک میں گرفتار رہا)۔

اس لیے میں بس اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ ہم مسلمان اپنے آپ کو جھوٹی تسلی دے سکتے ہیں مگر چونکہ اپنی گلی میں کتا بھی شیر ہوتا ہے اس لئے ہم اپنے حلقہ احباب میں ملحدین کو دین اسلام کیلئے مطمئن کرنے کی حقیقی کوشش کئے بغیر انہیں جتنا مرضی برا بھلا کہتے یا سمجھتے رہیں وہ فضول ہے۔

اسی طر ح ہندو ، عیسائی وغیرہ بھی مسلمانوں کیلئے بہت سی باتیں کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ بھی مسلمانوں کی طرح یہی چاہتے ہیں کہ ان کی باتوں کو سچا مان کر ان کا مذہب قبول کرلیا جائے۔

ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں قصے کہانیاں، مناظرے اور بحث اچھی لگتی تھیں مگر یہ سائنس و ٹیکنالوجی کا دور ہے۔لاکھوں کروڑوں انسان اپنے اپنے خداوں اور مذاہب کے معاملے پر شک میں گرفتار ہیں۔الحاد بھی دنیا میں پھیل رہا ہے۔بہت سے مذاہب کی جڑ یں اکھڑ رہی ہیں۔لوگ سوالات اٹھاتے ہیں مگر مطمئن نہیں ہوتے۔چند لوگ اگر مسلمان سے ہندو ہوجائیں یا عیسائیت چھوڑ کر مسلمان ہوجائیں تو کیا یہ بہت بڑ ا کام ہوگیا جبکہ دنیا میں پانچ ارب انسان اس وقت بھی غیرمسلم ہیں؟

اب آپ صرف کہانیاں سناکراکیسویں صدی کے انسانوں کو  یقین نہیں کرواسکتے۔آپ کو دکھانا پڑے گا، منوانا پڑے گا، آپ کو ثابت کرنا پڑے گا پریکٹکل اور ناقابل شکست ثبوتوں  کے ساتھ جن کے سامنے تمام غیرمسلم ذہنی و روحانی طور پر بے بس اور لاچار ہوجائیں اپنی تمام تر سائنس اور ٹیکنالوجی کے باوجود۔

ہم مسلمان پیدا ہوگئے تو یہ ہمارا کوئی کمال نہیں۔ہم ہندو یا عیسائی  یا ملحد گھرانے میں پیدا ہوتے تو ہمارے لئے بھی قرآن کی اہمیت نہ ہوتی۔ یہ ذمہ داری تو ہم مسلمانوں پر بنتی ہے کہ ہم جس اللہ کے وجود اور اس کی قدرت کے دعوے کرتے ہیں اس کا کوئی عملی ثبوت  غیرمسلموں کے سامنے پیش کریں۔ہم جس نبی کو سچا اور آخری کہتے ہیں ان کی سچائی پر کوئی عملی ثبوت بھی پیش کریں غیرمسلموں کے سامنے۔ہم جس دین کو سچا کہتے ہیں اس دین کی سچائی پر عملی ثبوت پیش کریں غیرمسلموں کے سامنے۔ہم جس قرآن کو کلام الٰہی کہتے ہیں اس کی سچائی پر کوئی عملی ثبوت پیش کریں غیرمسلموں کے سامنے۔

مثال کے طور پر ملحدوں کے نزدیک قرآن اللہ کا کلام ہے ہی نہیں۔وہ اسے سچا نہیں مانتے۔تو۔۔۔

۱) جب ملحد وں کیلئے قرآن ہی سچا نہیں تو وہ مسلمانوں کی دیگر کتابوں پر کیوں کریقین کرلیں؟سب باتیں کتابوں کی باتیں ہی ہیں۔اس لئے بطور ثبوت قابل قبول نہیں ہوسکتیں ورنہ دیگر مذاہب میں بھی بہت قصے کہانیاں موجود ہیں۔

۲) قرآنی آیات سے ملحدوں کو یقین دلانے کی کوشش کرنا ایسا ہی ہے جیسے ریاضی کے پرچے میں غالب کے اشعار سے استدلال کرنا۔ جس چیز کو کوئی مانتا ہی نہیں اسے اپنے موقف کیلئے اسی سے دلائل دے کر نتیجہ کی امید رکھنا استہزائی طریقہ ہے اور جب ملحدقرآنی آیات پر یقین نہیں کرتے تو ان کا مذاق اڑاناہم مسلمانوں کا انتہائی نامعقول سلوک ہے۔حقیقت یہ ہے کہ  بہت سے مسلمان ملحدوں کے سامنے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو سچا  اور آخری نبی ثابت کرنے میں ناکام ہیں۔ ایسے مسلم  چاہتے ہیں کہ ملحدین صرف ان کی باتیں سن کر فوراً ایمان لے آئیں ورنہ بے شک جہنم میں جائیں۔ مسلمانوں کا ایسا طرز عمل اور طریقہ کار درست نہیں۔

۳) اگر کوئی ملحد اپنے اصولوں کی روشنی میں خدا کے انکار پردلائل لائے گا تو آپ اسے سورہ اخلاص سناکر قائل نہیں کرسکتے۔اس کیلئے آپ کواسی کی زبان اور اصولوں کو بطور ہتھیار و دلیل استعمال کرنا ہوگا اسی کے خلاف۔

آخر میں ایک سوال بھی پوچھتا ہوں کہ کیا آپ جذباتی پن اختیار کرنے کے بجائے مجھے کوئی ایک ناقابل شکست ثبوت پیش کرسکتے ہیں  جس سے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو سچا اور آخری نبی ثابت کیا جاسکے دنیا کی کوئی بھی کتاب استعمال کیے بغیر؟

اگر  آپ مسلمان ہوکر مجھے ایسا کوئی پریکٹیکل اور ناقابل شکت ثبوت نہیں دے سکتے تو پھر ملحد بھی اپنی جگہ اپنے دعوے میں صحیح    ہیں کہ انہیں معجزہ  بطور ثبوت دکھایا جائے ۔ 

اس لئے میں آپ سمیت تمام مسلمانوں سے صرف اتنا کہوں گا کہ یا تو  غیرمسلموں کو ایسے ثبوت مہیا کریں جن کے ذریعہ ان کے دل و دماغ میں موجود شک و شبہات ختم ہوسکیں اور اگر ایسا کرنے میں آپ عاجز ہیں تو پھر ہمارے ناقابل شکست ثبوتوں کو بطور ہتھیار استعمال کریں اور دنیا بھر کے ملحدین و غیرمسلموں تک پہنچانا شروع کریں تاکہ وہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوسکیں  اللہ کے حکم سے۔

اس طرح مسلم الحاد کے مقابلہ پرکامیاب اور فتح یاب ہوں گے انشاء اللہ۔ لیکن اگر آپ ہمارے ثبوت استعمال نہ کریں اور مسلم ہونے کے باوجود کافروں پر فتح حاصل کرنے میں ناکام ہوجائیں تو خود سمجھ لیں کہ دیگر مسلمان بھی الحاد کے مقابلے میں کمزور اور ناکام کیوں ہیں۔

جمعہ، 23 جون، 2017

اللہ کے مخلص مومن بندےمعاشرے میں نظر کیوں نہیں آتے؟

میں اللہ کے کام کرنے کےکچھ  طریقے اپنے علم کے مطابق خوب جانتا ہوں۔اگر اللہ کو دنیا میں خود ہی سب کچھ کرنا ہوتا تو آن کی آن میں ساری دنیا کی کایا پلٹ سکتا ہے۔مگر وہ ایسا نہیں کرے گا کیونکہ اس کام کیلئے اس نے انسان کو اپنا نائب بناکر بھیجا ہے اور یہ امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمانوں پر ایک بہت بھاری ڈیوٹی ہے کیونکہ دنیا کے غیر مسلموں کے ہاتھوں اکیسویں صد ی میں  گلوبل ولیج بناکر اللہ نے مسلمانوں پر ظاہری وسائل اور ٹیکنالوجی فراہم کرکے بہت بڑا احسان کیا ہے کہ وہ آسانی سے گھر بیٹھے ہی دنیا بھر کے کفار و مشرکین کے سامنے دین اسلام کے معجزاتی دلائل اور روشن نشانیاں پہنچانے کی کوشش کرسکیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ فرقوں میں بٹے اکثر مسلمان دین اسلام کو کیا خاک غالب کرینگے بلکہ اکثر فرقہ پرست مسلمان تو ایک دوسرے کو ہی کافر و مشرک بنانے کی ڈیوٹی سر انجام دینے میں مصروف ہیں  اور معمولی مسائل پر لڑرہے ہیں۔

اس لیے دین اسلام کے حقیقی کام کو سمجھنا اور اس پر کام کرنا کم از کم کسی فرقی مسلمان کے بس کی بات ہرگز نہیں کیونکہ وہ پہلے یہ دیکھتا ہے کہ کیاکوئی مسلم اس کی جماعت سے تعلق رکھتا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو نفرت سے نظرانداز کردے گا ۔

اس طرح مخلص مومن بندے کو اکثریت کی جانب سے نظرانداز ہونا اور تنہا رہ جانے کا تجربہ ہوتا ہے تو وہ بھلا معاشرے میں کیسے نظر آئے گا ؟

 رہ گئے  دنیا دار مسلمان جنہیں مذہب سے خاص لگاو نہیں تو ان سے اسلام غالب کروانے میں ساتھ ہوجانے کی امید میں محنت کرنے کے بعد تاحال مجھے بھی کوئی سپورٹ حاصل نہیں ہوئی  تو کیا  یہ لوگ کسی مخلص مومن بندے کو سپورٹ کریں گے جو حق اور سچ بغیر ملاوٹ کے بولتا ہو اور کھلم کھلا اعلان کرتا ہو کہ تمام غیرمسلم ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائیں گے ، تمام غیرمسلموں کے تمام معبود باطل ہیں اور اکثر مسلم جھوٹے اور دھوکہ بازی کرنے والے ہیں؟ 

نہیں۔ ایسا نہیں ہوتا۔تو جب سپورٹ نہیں ملے گی تو وہ بھلا معاشرے میں کیسے نظر آئیں گے؟

اللہ جس کو چاہے اپنے دین اسلام کیلئے استعمال کرسکتا ہے اس لیے میں بھی اپنے طور پر غیرمسلموں تک دین اسلام کی سچائی پر ناقابل شکست ثبوتوں کو پہنچانے کی کوشش کرتا رہتا ہوں لیکن فرقہ پرست مسلمانوں اور دنیا دار مسلمانوں سے ہٹ کر جتنے بھی دیگر مسلمان کسی سیاسی یا دیگر جماعتوں سے وابستہ ہیں ان کی جماعتیں دنیا میں کچھ خاص کام نہیں کرسکیں اور نہ کر پارہی ہیں کیونکہ وہ اتنا ہی آگے بڑھ سکتے ہیں جتنا غیر مسلم قوتیں چاہتی ہیں یعنی کہ ابلیس کے پیروکار۔ اسی لیے یہ جماعتیں صرف احتجاج ، رونا پیٹنا، تقاریر وغیرہ کرکے لوگوں سے ہمدری اور مال بٹور سکتی ہیں مگر دین اسلام غالب کرنا یا دنیا کے مظلوم مسلمانوں کو کفار کے ظلم و ستم سےعملی طور پر نجات دلانا ان کے بس کی بات نہیں ہوتی کیونکہ ان کے پاس اس کا سو فیصد حل موجود ہی نہیں ہے، نہ مادی قوت، نہ روحانی قوت ۔ اس لئے ناکام ہیں۔

اب وہ چند فیصد جماعتیں جو بالکل ہی غیر سیاسی بن کر صرف اللہ ہو ، سنتیں اور تبلیغ کے نام پر کام کرتی ہیں تو ان کے کام اسی لئے جاری و ساری ہیں کہ یہ لوگ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی طرز پر کام نہیں  کررہے ورنہ ان کا ٹکراو ظلم کے نظام کے خلاف نظر آتا۔یہ لوگ تو اس سوچ کے تحت چلتے ہیں کہ اپنا عقیدہ چھوڑو نہیں اور کسی کا عقیدہ چھیڑو نہیں۔اس لئے مذہبی اور غیر سیاسی جماعتوں کی اکثریت کے باوجود ٹیپو سلطان، محمد بن قاسم، شیر شاہ سوری، عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ، امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ، عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسی طرز پر معاشرے میں مسلمان نظر نہیں آرہے۔

 آخر میں وہ مجاہدین اسلام جو اللہ کیلئے مخلص ہیں اور اللہ کی مدد کے سہارے اپنا کام کررہے ہیں تو ان کے خلاف غیرمسلموں کا میڈیا چلتا ہے اور دنیا بھر کامیڈیا یہودیوں کے اشاروں کا غلام ہے ۔

یہودی بہت شاطر قوم ہے وہ صرف جنگوں کے ذریعے لڑائی نہیں کرتے بلکہ انہوں نے عورتوں کے ذریعے بھی نوجوان مسلمانوں کو اس قابل نہیں چھوڑا کہ یہ کافروں کے خلاف عملی طور پر  کچھ کرسکیں لہذا یہ اخلاقی و معاشی طور پر تباہ ہوچکے ہیں تو مومن بندے  بھلا معاشرے میں کیسے نظر آئیں گے  ؟

ایسے حالات میں اگر کوئی مسلمان یہ کائناتی سوچ رکھے کہ وہ اکیلا حضرت محمدصلی اللہ علیہ کی امت کیلئے عالمی سطح پر کچھ کرے تو اس کا ٹکراو مخلص مجاہدین اسلام کے علاوہ باقی تمام طبقات کے انسانوں اور جنات سے لازمی طور پر ہوگا  لیکن وہ یاد رکھے کہ اکثر مسلم اپنے دنیاوی مفادات، موت کے خوف یا 

جمعرات، 22 جون، 2017

اکثر لوگ اللہ تک کیوں نہیں پہنچ پاتے؟

غیر مسلم کا اللہ تک پہنچنے کا سوال اس لیے پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تک پہنچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ اور حجاب ان کے لیے خود کفر ہے جبکہ مسلمان کا عقیدہ کسی دلیل کے تحت ہوتا ہےاور ایک مسلم اپنا کوئی بھی عقیدہ اختیار کرکے اسی پر اعتماد کرکے بیٹھ جاتا ہے ۔

اگر یہ عقیدہ اسے علم و دلائل کے تحت حاصل ہوا تو پھر بہت ہی مشکل ہوتا ہے کہ وہ اس عقیدے کو چھوڑ سکے۔پھر یہی عقیدہ زندگی بھر اس کا یقین بنا رہتا ہے خواہ وہ باطل عقیدہ ہی کیوں نہ ہو کیونکہ وہ اپنے عقیدے پر یقین کرکے بیٹھ جاتا ہے اور عمل، تجربہ اور نتیجہ کے میدان میں اتر ہی نہیں پاتا۔

اسی لئے دین اسلام کے وہ حقائق جو علم الیقین سے عین الیقین اور پھر حق الیقین تک لے کر جاتے ہیں اس کیلئے کوئی معنی نہیں رکھتے۔یہ بہت سخت نقصان دہ بات ہے کیونکہ ایسے عقیدہ والے مسلمان کیلئے اسلام صرف زبانی کلامی اور چند مخصوص اعمال کا مجموعہ بن کر رہ جاتا ہے جو کہ درحقیقت ایسا ہی ہے جیسا کہ دوسرے مذاہب والے پیروکاروں کا اپنے باطل اور تصوراتی خداوں کو حقیقی خدا سمجھ کر ان کی عبادت اور پوجا کرتے رہنا کیونکہ یہی عقیدہ ان کے دل و دماغ میں بچپن سے ان کے والدین نے سکھاکر بٹھادیا ہوتا ہے۔

لہذا صرف کتابوں کے سہارے لفاظی کرنے والے اکثر مسلمان اور علماء کبھی بھی کسی غیر مسلم کو  پریکٹیکل کے ذریعہ اللہ کے وجود اور ذات حقیقی تک پہنچنے اور ماننے پر یقین کامل نہیں دلواسکتےکیونکہ وہ خود بھی اس سے محروم ہیں اور جب شریعت کے مطابق عمل نہ کیا جائے تو روحانیت کیسے حاصل ہوگی؟

اور جب روحانیت یعنی طریقت  کا استاد بھی کوئی نہ ہو تو حقیقت کیسے حاصل ہوگی؟

اور جب حقیقت حاصل نہ ہو تو سو فیصد یقین کامل کیسے حاصل ہوگا؟

اور سو فیصد یقین کامل تو اللہ کے فضل سے ہی حاصل ہوتا ہے اور اللہ تک رسائی بھی محض اللہ کی توفیق سے ہی نصیب ہوسکتی ہے، محض اپنی کوشش کے ذریعہ نہیں ۔

لہذا اکثر لوگ اسی لیے اللہ تک نہیں پہنچ پاتے کیونکہ اکثر لوگوں کا مائنڈسیٹ اور فوکس اللہ کی ذات نہیں بلکہ اپنی خواہشات نفسانی اور دنیا کی ہوس ہوتی ہے اس لیے خواہش کے باوجود ان کے لیے اللہ تک پہنچ جانے کی منزل تک رسائی ناممکن ہوتی ہے۔

بدھ، 21 جون، 2017

دنیا بھر کے مسلمان اکیسویں صدی میں عالمی طاقت کیوں نہیں بن پارہے ؟

 میرے علم ، فراست اور دنیا پر نظر کے مطابق فرقہ پرست مسلمانوں کی اکثریت نے اپنی کوششیں اپنے فرقوں کی ترقی اوردیگر فرقوں کو کافر و مشرک قرار دینے تک محدود کرلی ہیں جبکہ  دنیا کی طرف ذیادہ رجحان اور لگاو رکھنے والے اکثر مسلمانوں کو دین اسلام  تمام باطل ادیان و مذاہب پر غالب کرنے سے کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے لہذا روئے زمین پر تقریبا ستر فیصد غیرمسلموں کے سامنے مسلمانوں کی تقریبا پچیس فیصد آبادی ناکارہ ہوچکی ہے۔ باقی کے پانچ فیصد مسلمانوں میں سے کتنے فیصد سو فیصد اخلاص کے ساتھ غلبہ اسلام کے لیے کوششیں کررہے ہیں وہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔

اسی لیے عملی طور پر مسلمان اکیسویں صدی میں عالمی طاقت نہیں بن پارہے   نیز میں بغیر کوشش کے خالی دعاوں کا قطعی قائل نہیں۔یہ انبیاء کرام کا طریقہ نہیں اور نہ ہی اللہ کا ۔اگر ایسا ہوتا تو  تقریبا دو ارب مسلمانوں کی صرف دعاوں سے دنیا کی کایا پلٹ چکی ہوتی اللہ کے حکم سے۔ 

اگر اللہ کے وعدے پر بغیر کوشش کیے ہی بیٹھنا اسلام کی حقیقی تعلیمات ہوتیں تو حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہ کرام عملی طور پر جنگوں کے میدان کے بجائے مصلے بچھاکر دعاوں کے ذریعہ معجزات و کرامات کے بل بوتے پر سارے کارنامے سرانجام دیتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔یہاں تک کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد  حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی عملی طور پراسلام کو غالب کرنے میں مصروف رہےاور مسلم دنیا جانتی ہے کہ انہوں نے اسلام کو کس قدر غالب کیا تھا اللہ کی مدد اور حکم سے  تو  کیا یہ سارے کام صرف دعاوں سے ہوئے ؟

آج اکیسویں صدی میں رہنے والے مسلمانوں کی اکثریت سے   آپ اسلام غالب ہوجانے کی امید لگائیں گے؟

ان کا مقصد اپنے اپنے فرقوں ، جماعتوں، تنظیموں ، اداروں وغیرہ کی تبلیغ اور چودہراہٹ قائم کرنا، مخالفین کو کافر و مشرک قرار دینا، علمی اختلاف کرنے والے کو دشمن اسلام سمجھ کر اس کے خلاف جھوٹے  بیانات اور سازشیں کرنا اور اپنے ہاتھ میں قرآن و حدیث لے کر خود کو اسلام کا ٹھیکے دار ثابت کرکے چندہ، خیرات و   صدقات کے ذریعہ عوام کو دھوکے میں رکھنا ہے۔

علمائے حق تو آج بھی موجود ہیں لیکن مجموعی طور پر فرقہ پرستی کے زہر میں ڈوبے  فرقی مسلمانوں میں نفرت کی آگ اس قدر بھیانک طریقے سے بھڑک رہی ہوتی ہے کہ یہ دوسرے فرقے کے مسلمان کو برداشت کرنا تو بہت دور کی بات ہے، اسے مسلمان ہی نہیں مانتے اسی لیے اس کو دوبارہ مسلمان کرکے اپنے فرقے میں گھسیٹنے کے لیے کوششیں کررہے ہوتے ہیں تو یہ اپنی توجہ غلبہ اسلام پر کدھر سے لے کر جائیں گے؟

امید ہے کہ اب آپ کو سمجھ آگئی ہوگی کہ دنیا بھر کے مسلمان اکیسویں صدی میں عالمی طاقت کیوں نہیں بن پارہے ؟   ایسے حالات میں دنیا میں تبدیلی دیکھنے کے خواہشمند اکثر مسلم صرف خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں اور یہ حقیقت ہمارے لیے ایک زناٹے دار تمانچہ ہے۔