جمعرات، 24 اپریل، 2025

دہشت گرد نیتن یاہو

 سچ بولنا کتنا خطرناک ہوتا ہے ؟اس کا اندازہ شیطان کے غلاموں کی گھٹیا حرکتوں سے لگاو۔ میں نے صرف ایک پوسٹ عالمی دہشت گرد نیتن یاہو کے حوالے سے کی تھی غزہ کی فوٹو لگاکر جہاں اس نےہزاروں معصوم بچوں کی لاشیں گرادیں اور انہیں قبر میں دفن کردیا۔بمباری کی، عورتوں کی عزتیں لٹوائیں، نوجوانوں کے چیتھڑے اڑادیے ، اس پر مجھے سپورٹ دینے کے بجائے نیتن یاہو جیسے دہشت گرد کو سپورٹ کرنے کے لیے کیورہ کے غیرمسلموں نے فورا پوسٹ ڈیلیٹ کردی اوراس کے بعد اکاونٹ ڈی ایکٹیویٹ کیا۔اس کے بعد میری پوسٹیں ڈیلیٹ کرنا شروع کردیں۔اس کے بعد پورے اکاونٹ کو وائرل ہونے سے روکنے کے لیے مزید کام شروع کردیا۔


یہ سب کیسے شروع ہوا؟

صرف ایک پوسٹ جس پر نیتن یاہو کو دہشت گرد قرار دیا گیا۔

ہاں نیتن یاہو اصلی اور سو فیصد دہشت گرد ہے۔

اور اس کا ساتھ دینے والے تمام لوگ دہشت گرد ہیں۔

ایسے دہشت گردوں سے میں نہیں ڈرتا، جو ڈرے سو ڈرے۔

میں اللہ واحد القہار کے پیروکاروں کو سپورٹ کرتا ہوں۔

میں نیتن یاہو جیسے دہشت گرد کو سپورٹ نہیں کرتا۔



یہ دہشت گرد اسی قابل ہے کہ اس کو سزائے موت دی جائے۔

لیجنڈ محمد زیشان ارشد، لیجنڈری فری لانسر آف پاکستان

یہودی نیتن یاہو ایک دہشت گرد ہے

میری ایک پوسٹ نے پورے کیورہ کو ہلاکر رکھ دیا اور فورا اکاونٹ سسپینڈ کردیا جبکہ صرف ایک سوال ہی کیا تھا۔ کیا کیورہ والے اپنی شیطانی اوقات سے اس سچائی کو چھپاسکتے ہیں کہ نیتن یاہو ایک دہشت گرد نہیں ہے؟ پورا کیورہ دہشت گردوں سے بھرا ہوا ہے جو ایک دہشت گرد کے حکم پر ناچ رہے ہیں۔ شیطان کے غلام
اللہ اکبر
لیجنڈ




جمعہ، 18 اپریل، 2025

کسی درد مند کے کام آ کسی ڈوبتے کو اچھال دے (وضاحت)

یہ نظم ایک صوفیانہ اور روحانی پیغام لیے ہوئے ہے، جو انسانیت، عاجزی، اور حقیقی معرفتِ الٰہی کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اس نظم کا مصنف نامعلوم ہے، لیکن اس کا کلام مختلف ذرائع میں موجود ہے۔

مکمل نظم:

کسی دردمند کے کام آ، کسی ڈوبتے کو اچھال دے
یہ نگاہِ مست کی مستیاں، کسی بدنصیب پہ ڈال دے
مجھے مسجدوں کی خبر نہیں، مجھے مندروں کا پتہ نہیں
میری عاجزی کو قبول کر، مجھے اور درد و ملال دے
یہ مے کشی کا غرور ہے، یہ میرے دل کا سرور ہے
میرے مے کدہ کو دوام دے، میرے ساقیوں کو جمال دے
میں تیرے وصال کا کیا کروں، میری وحشتوں کی یہ موت ہے
ہو تیرا جنوں مجھے پھر عطا، مجھے جنتوں سے نکال دے

تشریح:

  1. کسی دردمند کے کام آ، کسی ڈوبتے کو اچھال دے
    یہ مصرع ہمیں دوسروں کی مدد کرنے، ان کے دکھ درد میں شریک ہونے، اور انہیں سہارا دینے کی تلقین کرتا ہے۔

  2. یہ نگاہِ مست کی مستیاں، کسی بدنصیب پہ ڈال دے
    یہاں شاعر دعا کرتا ہے کہ جو روحانی سرور اور کرم کی نگاہ اسے حاصل ہے، وہ کسی محروم اور بدنصیب شخص پر بھی ڈال دی جائے۔

  3. مجھے مسجدوں کی خبر نہیں، مجھے مندروں کا پتہ نہیں
    یہ مصرع مذہبی رسم و رواج سے بالاتر ہو کر خالص روحانیت کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں ظاہری عبادات سے زیادہ دل کی پاکیزگی اور عاجزی اہم ہے۔

  4. میری عاجزی کو قبول کر، مجھے اور درد و ملال دے
    شاعر اپنی عاجزی پیش کرتا ہے اور مزید روحانی تجربات اور درد کی طلب کرتا ہے، تاکہ وہ مزید قربِ الٰہی حاصل کر سکے۔

  5. یہ مے کشی کا غرور ہے، یہ میرے دل کا سرور ہے
    یہاں "مے کشی" روحانی سرور اور معرفت کا استعارہ ہے، جو شاعر کے دل کو سرور بخشتا ہے۔

  6. میرے مے کدہ کو دوام دے، میرے ساقیوں کو جمال دے
    شاعر دعا کرتا ہے کہ اس کے روحانی مرکز کو دوام ملے اور جو اسے روحانی فیض پہنچاتے ہیں، ان کو حسن و جمال عطا ہو۔

  7. میں تیرے وصال کا کیا کروں، میری وحشتوں کی یہ موت ہے
    شاعر کہتا ہے کہ اگر اسے خدا کا وصال حاصل ہو جائے، تو اس کی روحانی تڑپ اور جستجو ختم ہو جائے گی، جو اس کے لیے موت کے مترادف ہے۔

  8. ہو تیرا جنوں مجھے پھر عطا، مجھے جنتوں سے نکال دے
    شاعر دعا کرتا ہے کہ اسے دوبارہ وہی عشق و جنون عطا ہو اور وہ جنت کی آسائشوں سے نکل کر دوبارہ تڑپ اور جستجو کی حالت میں آ جائے۔

یہ نظم صوفیانہ ادب کا ایک خوبصورت نمونہ ہے، جو ہمیں ظاہری عبادات سے ہٹ کر دل کی پاکیزگی، عاجزی، اور دوسروں کی خدمت کی طرف راغب کرتی ہے۔

نیتن یاہو کی موت اللہ کے حکم سے عنقریب ذلت کے ساتھ (ان شاء اللہ)

 اے اللہ، نیتن یاہو کو بدترین موت دے۔


اگر اللہ نے چاہا تو نیتن یاہو بدترین عذاب کا شکار ہوکر ذلت کی موت مرےگا اور جہنم واصل ہوکر ہمیشہ کے دردناک عذاب میں گرفتار ہوگا۔ قتل کی سزا قتل ہے۔ہزاروں معصوم بچوں کے قاتل کو معاف نہیں کیا جاسکتا۔میں نیتن یاہو کے خلاف بددعا کرچکا ہوں۔ اب اگر اللہ چاہے گا وہ کتے کی موت مارا جائے گا۔ کب کہاں اور کیسے؟ یہ آنے والا وقت بتائےگا کہ اللہ اب خود کیا کرتا ہے۔اس کا باپ اور اس کی آرمی بھی اسے اللہ کے عذاب اور اذیت سے نہیں بچاسکیں گے۔

اللہ اکبر

لیجنڈ آف اللہ واحد القہار

لیجنڈری فری لانسر آف پاکستان

Let See What Happens! by ALLAH

April 18, 2025 Friday - Karachi - Pakistan

کراچی: کورنگی کریک پر لگی آگ کس طرح بجھی؟ (راز بے نقاب)

جب میں کراچی شہر آیا تو میں نے نوٹ کیا کہ کورنگی کے علاقے میں یہ آگ اچانک سے نمودار ہوئی۔ میں تب ہی سمجھ گیا تھا کہ اس کے اگ کے نمودار ہونے کا کوئی خاص مقصد ہے۔


لیکن میں نے اس وقت کوئی خاص توجہ نہیں دی اور میں دیکھتا رہا کہ میڈیا والے اور فائر برگیڈ والے اور یہ سائنس پڑھنے والے کیا تیر ماریں گے؟


ایک ہفتے تک یہ لوگ اپنی تمام تر کوششیں کر کے تھک کر چکے تب میں نے ارادہ کیا کہ اب میں نے بھی اپنی کوشش کرکے دیکھتا ہوں۔


مجھے اللہ سے امید بھی تھی اور تھوڑا تردد بھی کہ اگر ایسا نہ ہوسکا تو؟ 


مگر ذہن میں ایک بات یاد آئی کہ "what if?" مطلب اگر ہوگیا تو؟


میں نے اس کیس پر غائبانہ (بغیر وہاں وزٹ کیے) کام شروع کردیا۔ دعا وغیرہ جو کچھ تھا وہ کیا۔ اللہ کو بتادیا کس نیت سے یہ کام کرنا ہے۔ اپنے تمام فوٹیج تیار کیے۔


ایک ہفتہ کا چیلنج تھا۔


جمعہ کے دن میں اپنے گھر سے کورنگی فائر لوکیشن پر گیا اور وہاں جا کر میں نے میڈیا کی گاڑی دیکھی، چوکیدار تھا، لوگ تھے، لیکن مجھے سیکیوریٹی والوں نے اگے جانے نہیں دیا۔


وہ لوگ سمجھے کہ کوئی ٹک ٹاکر آگیا ہے لیکن بہرحال میں تو اپنا کام کرنے گیا تھا۔ میں نے وہاں پہ جا کر ویڈیو ریکارڈنگ کی اور بتا دیا کہ اگر اللہ چاہے گا تو وہ اس آگ کو بجھادے گا۔


جب میں اپنی ریکارڈنگ فوٹیج بنا رہا تھا تب اللہ کا نام آسمان پر نمودار ہوا عین اس آگ کے اوپر والی لوکیشن کی جانب۔


اس کے بعد جب میں گھر آگیا ہوں تو اللہ نے وہ آگ بجھا دی۔


یہ سفر کل ملاکر کچھ 4 گھنٹے پر مشتمل تھا۔


میڈیا والوں اور تمام ماہرین کو بھی یہ سب سمجھ نہیں آیا کہ یہ آگ کیسے بجھ گئی؟ انہوں نے صرف یہی رپورٹنگ کی کہ آگ خود بخود بجھ گئی حالانکہ آگ خود نہیں بجھی تھی بلکہ اللہ نے اس آگ کو بجھایا تھا۔


یہ تھی اس پورے کیس کی اصل کہانی جس کو میڈیا نے چھپایا ہے کیونکہ میڈیا کو خود نہیں پتا۔ حالانکہ میں وہاں پہ موجود چوکیدار کو اور میڈیا کے ڈرائیور کو بتا کر آیا تھا کہ اس آگ میں اللہ کی نشانی ہے لیکن ان لوگوں نے عوام کو نہیں بتایا۔


حقیقت یہ ہے کہ آگ خود نہیں بجھی تھی بلکہ اللہ نے بجھائی تھی۔


یہ  ان لوگوں کے لیے بھی ایک نشانی ہے جو کہتے ہیں کیمروں کے دور میں معجزات کیوں نہیں ہوتے اور یہ ایک زناٹے دار طمانچہ بھی ہے سائنسی کتابیں پڑھ کر اولیاء اللہ کا مذاق اڑانے والوں کے خلاف کیونکہ اگر میں نہیں جاتا تو یہ آگ نہ بجھتی۔


اور اس کا ثبوت میڈیا کی اپنی گواہیوں اور بیانات کے مطابق ماہرین کی تمام تر کوششوں کے بعد سو فیصد ناکامی ہے۔ اسی لیے تو یہ لوگ امریکی ماہرین سے مدد لینے کے لیے ایک لاکھ ڈالر پر تخمینیہ لگوارہے تھے یا جائزہ کی فیس ادا کرنے جارہے تھے۔ جو کہ شاید اب تک کر بھی چکے ہوں گے۔ یہ ہے ان کی رپورٹنگ کا حال۔


اب یہ ایک تاریخی واقعہ بن چکا ہے ویڈیو فوٹیجز کے ساتھ اور اب اسے کوئی عقلمند نہیں جھٹلا سکتا سوائے یہ کہ کوئی انسان ذہنی مریض اور پاگل ہوچکا ہو۔ لہذا نفسیاتی مریضوں کے جھٹلانے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔


ایمان والے سمجھ لیں گے کہ یہ واقعہ اللہ کی ایک نشانی تھی۔ اللہ نے اپنی قدرت کا اظہار اپنے ایک بندے کے ذریعہ کیا اور ایک بار پھر ثابت کردیا کہ "ان اللہ علی کل شئی قدیر" ۔ بغیر وسائل اور اسباب کہ اللہ اس طرح کام کرتا ہے۔


آج پھر جمعہ ہے۔ مگر اب میرا وہاں جانے کا کوئی ارادہ نہیں کیونکہ میڈیا والوں کی جہالت کا اندازہ مجھے اسلام آباد میں اللہ کے حکم سے آنے والی تباہی اور غصہ کا اظہار دیکھ کر ہوچکا کہ اسے بھی قدرت آفت یا موسم کی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔


ایسے جاہلوں سے کیا بحث کرنی جو "اللہ" کو بھی کوئی کریڈٹ دینا پسند نہ کریں؟


میں تو تم غیرمسلموں کو بتارہا ہوں کہ اللہ سچا خدا ہے اور دیکھ لو کہ جب اس کا لیجنڈ کسی کام کا ارادہ کرلیتا ہے اور اللہ چاہے کہ ویسا ہوجائے تو بس "کن فیکون" وہ ہوجاتا ہے۔


لیجنڈ محمد ذیشان ارشد(18 اپریل 2025)

بدھ، 16 اپریل، 2025

فضول باتیں کون کونسی ہوتی ہیں؟ (پریکٹیکل لائف کی مثالوں سے جواب)

فضول باتیں وہ ہوتی ہیں جو نہ کسی کو فائدہ دیتی ہیں، نہ ہی ان سے کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ باتیں اکثر وقت برباد کرتی ہیں اور دل دکھاتی ہیں۔


🎯 پریکٹیکل لائف کی آسان مثالیں:

1. کسی کا مذاق اُڑانا:

جب بچے کسی دوسرے بچے کے رنگ، قد، یا کپڑوں پر ہنسیں تو یہ فضول اور غلط بات ہوتی ہے۔
مثال: "دیکھو اس کے جوتے کتنے پرانے ہیں!"
یہ بات نہ اچھی ہے، نہ ضروری، اور کسی کو دُکھ  دے سکتی ہے۔


2. جھوٹ بول کر کھیل جیتنا:

جب کوئی بچہ کھیل میں دھوکہ دے کر جیتنے کی کوشش کرے، تو یہ فضول حرکت ہے۔
مثال: "میں نے پہلے کہا تھا! میری باری ہے!" (حالانکہ ایسا نہ ہو)


3. جھگڑا بڑھانا یا تکرار کرنا:

جب کسی بات پر معمولی سی بحث ہو، تو اسے ختم کرنے کے بجائے بار بار لڑنا۔
مثال: "بس! اب میں تم سے دوستی نہیں رکھوں گا!" صرف اس لیے کہ کسی نے کھلونا نہ دیا۔


4. غیبت یا چغلی کرنا:

کسی کے پیچھے اس کی برائیاں کرنا یا اس کی بات دوسروں کو بتانا۔
مثال: "تمہیں پتہ ہے وہ لڑکی کیسے بات کرتی ہے؟"


5. بار بار شکایت کرنا:

اگر کوئی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہر وقت شکایت کرے، جیسے: "اس نے مجھے دیکھا کیوں؟" یا "اس نے مجھے سلام نہیں کیا!"
یہ باتیں دلوں میں نفرت پیدا کرتی ہیں، اس لیے فضول ہیں۔


اچھی باتیں کون سی ہیں؟

  • دوسروں کی مدد اور رہنمائی کرنا

  • ہمت بڑھانے والی باتیں کرنا

  • کچھ سکھانے والی باتیں کرنا

  • کسی کوسچ بول کر خوش کرنا


✨ آخر میں سبق:

ہمیں چاہیے کہ ہم ایسی باتوں میں وقت نہ ضائع کریں جو کسی کو تکلیف دیں یا ہمیں غصہ دلائیں۔ اگر بات فائدے کی نہیں ہے، تو بہتر ہے کہ خاموشی اختیار کریں یا بات کو بدل دیں۔

عقل مند بچہ وہ ہوتا ہے جو اچھا بولتا ہے، اور بیکار باتوں سے بچتا ہے۔ 😊

گدھے کی لات کا جواب

 "اگر ایک گدھا مجھے لات مارے، تو کیا مجھے اسے واپس لات مارنی چاہیے؟"

یہ بات سننے میں تو مزاحیہ لگتی ہے، لیکن اس میں ایک بہت اچھی بات چھپی ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ جب کوئی ہمیں برا بولے یا ہمارے ساتھ بدتمیزی کرے، تو ہمیں بھی ویسا نہیں کرنا چاہیے۔

اگر کوئی آپ سے جھگڑا کرنا چاہے یا آپ کو غصہ دلانا چاہے، تو آپ کو چاہیے کہ آپ پرسکون رہیں۔ اگر آپ بھی چیخنے لگیں یا لڑنے لگیں، تو پھر آپ میں اور اس میں کیا فرق رہ جائے گا؟

عقل مند لوگ جانتے ہیں کہ کب بولنا ہے اور کب خاموش رہنا ہے۔ خاموشی کمزوری نہیں ہوتی، بلکہ یہ طاقت کی نشانی ہوتی ہے۔

کچھ لوگ بہت شور مچاتے ہیں، لیکن وہ ہمیشہ صحیح نہیں ہوتے۔ اچھے لوگ آرام سے، نرمی سے بات کرتے ہیں۔

اگر کوئی صرف آپ کو غصہ دلانے کے لیے بات کرے، تو بہتر ہے کہ آپ اس کا جواب نہ دیں۔ مسکرا دیں، اور آگے بڑھ جائیں۔

یاد رکھیں: ہر لڑائی لڑنا ضروری نہیں ہوتا۔ آپ تب ہی سچے بہادر ہوتے ہیں جب آپ دل بڑا رکھ کر معاف کر دیتے ہیں یا خاموشی سے ہٹ جاتے ہیں۔

عقل مند وہی ہے جو صبر کرے، نرمی سے بات کرے، اور فضول باتوں پر اپنا وقت ضائع نہ کرے۔