جمعہ، 20 ستمبر، 2024

ماں کے پیٹ سے زمین کے پیٹ میں

جب انسان ایک ٹپکایا ہوا قطرہ ہوتا ہے تو وہ ایک عورت کے پیٹ میں پہنچتا ہے ایک جرثومے کی شکل میں جسے میڈیکل سائنس کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ہوتی ہے انسان کی اصلیت یعنی کہ اصلی شکل


اس شکل سے اللہ اسے تبدیل کر کے جمے ہوئے خون میں بدلتا ہے۔


پھر جمے ہوئے خون کو گوشت کے لوتھڑے میں تبدیل کرتا ہے۔




پھر اس گوشت کے لوتھڑے کو ہڈی میں بدل دیتا ہے۔


پھر اس ہڈی کے اوپر گوشت کا لباس پہنا دیتا ہے۔



پھر اس کے بعد اسے مختلف شکلوں کے اندر تبدیل کرنا شروع کرتا ہے پھر اس کے اندر ہاتھ نکالتا ہے پاؤں نکالتا ہے آنکھیں لگاتا ہے کان لگاتا ہے دل بناتا ہے پھیپھڑے اگاتا ہے۔ نسیں بناتا ہے خون جاری کرتا ہے سب کچھ لگاتا ہے لیکن ماں کے پیٹ میں وہ بے جان حالت میں پڑا ہوا ہوتا ہے یہ سب تب ہو رہا ہوتا ہے۔ 


سوچنے کی بات ہے کہ یہ بے جان قسم کی حالت کی ایک چیز ایک عورت کے پیٹ کے اندر رکھی ہوئی ہے اور کوئی اس کو حرکت دینے والا نظر بھی نہیں آرہا، اس کو الٹ پلٹ کرنے والا بھی نظر نہیں آرہا، اس کے اوپر کاریگری دکھانے والا بھی نظر نہیں آرہا پھر بھی وہ الٹ پلٹ ہوتا ہے۔ اس کے اندر چیزیں تیار ہو رہی ہوتی ہیں۔ پتہ لگا کہ اللہ جس طریقے سے کام کرتا ہے اس کے لیے اسے ماں کے پیٹ کے اندر آنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ صرف اپنے ارادے کرتا ہے اور اس کے ارادے کے مطابق چیز اس زمین پر بننا شروع ہو جاتی ہے۔ وہ جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو بس کہتا ہے "کن" اور فیکون ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

پھر وہ اپنی ماں کے پیٹ کے اندر سے نکل کے باہر آتا ہے تو اس بچے کے ہاتھ کے اوپر ڈیزائن بھی اللہ کے نام کا بنا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے پیروں میں بھی اللہ کے نام کا ڈیزائن بنا ہوتا ہے۔ اس کی نسوں میں اور دیگر بہت سی جگہوں پر اللہ کے نام چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ دیکھنے والے خوب جانتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ بہت سے نومولود بچے ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی رونے کے بجائے اللہ اللہ کہنا شروع کر دیتے ہیں۔

کسی بھی عقل استعمال کرنے والے انسان کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ کتابوں کی بحث میں پڑنے کے بجائے کلمہ پڑھ کے اسلام میں داخل ہو جائے کیونکہ اگر وہ کفر پہ مر جائے تو پھر ماں کے پیٹ سے نکلنے کے بعد دنیا کے انسانوں کے ہاتھوں گمراہ ہونے پر کفر کی موت پہ مرنے کی وجہ سے جب اسے زمین میں دفن کر دیا جاتا ہے تو وہ ماں کے پیٹ سے نکل کے زمین میں دفن ہو جاتا ہے یعنی کہ زمین کے پیٹ میں پہنچ جاتا ہے۔

اس زمین کے پیٹ میں پہنچنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟ جس طرح ماں کے پیٹ کے اندر وہ ایک ٹپکائے ہوئے قطرے سے انسان کی شکل میں تبدیل ہوتا ہے بس اسی طریقے سے وہ انسان کی شکل سے واپس ایک ہڈی کی صورت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

اس کے جسم کے سارے اعضاء سڑنا گلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ٹوٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ کیڑے مکوڑے کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ بدبو آنا شروع ہو جاتی ہے۔ اسے ڈیکم پوزیشن پراسیس کہا جاتا ہے اور آخر کار وہ انسان ایسا ہو جاتا ہے جیسے وہ کبھی موجود ہی نہیں تھا۔ بے نام و نشان! قبر کی جگہ بھی خراب ہو جاتی ہے۔ مٹ جاتے ہیں نام۔ ختم ہو جاتے ہیں سارے بدنام۔ رہ جاتا ہے بس اللہ کا نام۔ اسی کی بڑائی اسی کی خدائی۔ وہی سب سے بڑا ہے وہی عالیشان ہے اور وہی اصل ذی شان ہے۔


لیکن وہ زمین کے پیٹ میں پہنچنے والے جسموں کے اندر اتنا کنٹرول رکھتا ہے کہ جب زمین کے اندر اس کے نیک پیروکاروں کی لاشوں کو دفن کر دیا جاتا ہے تو وہ ان کو وہاں پر بھی تازہ خون سمیت تروتازہ حالت میں محفوظ رکھتا ہے اور سلامت رکھتا ہے اور وہ یہ کام اپنی قدرت سے کرتا ہے۔ جس طرح وہ ماں کے پیٹ میں اپنی قدرت سے ایک ٹپکائے ہوئے قطرے کو انسان کی شکل میں تبدیل کر دیتا ہے بس وہی اللہ اپنی قدرت سے زمین کے پیٹ کے اندر موجود لاکھوں کروڑوں لاشوں کو اپنی قدرت سے محفوظ رکھتا ہے۔


اور اللہ کے لیے یہ بہت ہی معمولی سا کام ہے۔ بے شک اللہ جو چاہے سو کر سکتا ہے۔ ان اللہ علی کل شی قدیر۔ پوری کائنات میرے اللہ کی قدرت سے چل رہی ہے۔ وہ سارے علوم کا شہنشاہ اکیلا ہی ہے اپنے نام کا اور اپنے کام کا۔ اللہ اکبر

لیجنڈ محمد ذیشان ارشد