جمعہ، 11 اکتوبر، 2024

تحفہ رد کیا جاسکتا ہے

تحفہ کے حوالے سے سوسائٹی میں یہ رسم پالی گئی ہے جو دل چاہے کسی کو تحفہ دے اور جب دل چاہے اس کے دل کو روند کر رکھ دے۔ ایسے جاہلوں سے میرا اپنی زندگی میں بہت واسطہ پڑچکا ہے اور میں نے فیصلہ کررکھا ہے کہ کس سے تحفے قبول کرنے ہیں اور کن لوگوں سے تحفے قبول نہیں کرنے۔

اس حوالے سے سیدھا سا فارمولا ہے کہ جو لوگ تحفہ دینے کے بعد احسان جتائیں کہ انہیں نے ہم پر فلاں فلاں رقم خرچ کی ہے، یا فلاں چیز فلاں وقت تحفہ میں دی تھی یا تحفہ دینے کے بعد یہ جتائیں کہ یہ ان کی چیزیں ہیں اورانہیں واپس چاہیں، تو یہ ایسے لوگ ہیں جن سے کبھی تحفہ غلطی سے بھی قبول نہیں کرنا چاہیے۔یہ دنیا پرست لالچی اور بےغیرت قسم کے لوگ ہیں جو کسی کی عزت نفس کا خیال نہیں کرتے اور اس کو اپنے احسانات تلے دبانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

انہیں کبھی برداشت نہیں ہوتا کہ کوئی دوسرا ان سے آگے نکل جائے۔یہ بیماری زیادہ تر پڑھے لکھے جاہلوں میں نظر آتی ہے جن کے پاس چار پیسے زیادہ ہوجاتے ہیں اور وہ دوسروں کو ترس کھاکر مدد کرنے کو حاتم طائی کی قبر پر لات مارنا اور اپنا احسان عظیم سمجھتےہیں جبکہ اللہ نے انہیں اس قابل کیا ہوتا ہے کہ انہیں دولت دے کر آزمائے مگر یہ نرے احمق اور جاہل گنوار لوگ اپنی جہالت کو اپنی عظیم عقلمندی سمجھ کر اپنی آخرت تباہ کرلیتے ہیں کیونکہ جس پر احسان کرکے جتارہے ہوتے ہیں اور اس کے دل کے ٹکڑے کررہے ہوتے ہیں اس پر تو نرم بات کہہ دینا بہتر ہے اس صدقہ سے جس کے بعد دل آزاری کی جائے۔

یہ ہے دین اسلام مگر لوگوں کا اسلام سے دور دور تک واسطہ پریکٹیکل دنیا میں مجھے تو اب نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ میں اب لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کرچکا ہوں اور اپنے کام سے کام رکھتا ہوں۔جس کو مرنا ہے مرجائے، جس کو خودکشی کرنی ہے شوق سے کرے، جسے گناہ کرنے کے چسکے لگے ہیں وہ اپنا کام جاری رکھے اور جس کا دل چاہے وہ تقوی اختیار کرلے۔

نہ میں لوگوں پر داروغہ ہوں اور نہ میں کوئی نبی یا رسول ہوں کہ جس کے ذمہ ساری دنیا کو سدھارنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ میں ایک انسان ہوں اور اللہ کا تیار کردہ بندہ ہوں جس کے ذمہ بس اتنا ہی کافی ہے کہ وہ دین اسلام کی سچائی ہمیشہ کے لیے انٹرنیٹ کے ذریعہ ثابت کرچکا ہے اور اگر میرے ان کاموں کو دیکھ کر کوئی مجھے تحفہ تحائف دینے کی کوشش کرے گا تو یہ بھی میرے لیے میری آخرت خراب کرنے کا سبب ہوگا کیونکہ اسلام کی سچائی کے کام میں نے خالص اللہ کے لیے کیے ہیں اور انسانوں میں کسی سے بھی مجھے اس کے بدلے شکریہ، واہ واہ یا تعریفوں کے تمغے نہیں چاہیں۔

جہاں تک عام روایتی زندگی کی بات ہے تو اس حوالے سے ہمارا آپس میں کیا سلوک ہونا چاہیے؟ اس پر میں نے چیٹ جی پی ٹی سے ایک مضمون تحریر کروایا ہے جو اس کی زبان میں زیر خدمت ہے۔۔۔

**تحفہ رد کرنے کے جواز پر مضمون**

تحائف کا تبادلہ ایک خوبصورت اور خوشگوار سماجی رسم ہے، جو افراد کے درمیان محبت، خلوص، اور تعاون کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ دین اسلام میں بھی تحائف دینے کی ترغیب دی گئی ہے، کیونکہ یہ دلوں میں انس و محبت پیدا کرتا ہے اور رشتوں کو مضبوط بناتا ہے۔ تاہم، تحائف کا مقصد ہمیشہ خالص نیت اور اللہ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ دنیاوی مفاد یا توقعات کے پیش نظر۔

### تحفے کی نیت اور مقاصد

تحائف دینے کا بنیادی مقصد دوسرے شخص کو خوشی دینا، اس کی مدد کرنا، یا تعلقات کو مزید گہرا کرنا ہوتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ "تحفے دیا کرو، اس سے محبت بڑھتی ہے۔" لیکن ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ تحفہ دینے والے یا لینے والے کی نیت صرف اللہ کی رضا اور محبت ہو، نہ کہ کوئی مادی یا مالی فائدہ۔

### تحفہ اور توقعات کا تعلق

بعض اوقات تحائف دینے والے لوگ یہ توقع رکھتے ہیں کہ انہیں بدلے میں اسی قدر یا اس سے زیادہ قیمتی تحفہ ملے گا۔ یہ رویہ تحفے کی اصل روح کے خلاف ہے۔ تحفہ تو بے لوث محبت اور خلوص کی علامت ہے، اور اس میں کسی قسم کی مالی یا مادی توقعات رکھنا مناسب نہیں۔ اس لیے جہاں یہ اندیشہ ہو کہ تحفہ دینے والے کی نیت خالص نہیں ہے یا وہ بدلے میں کچھ حاصل کرنے کی توقع رکھتا ہے، وہاں تحفہ قبول نہ کرنا ایک مناسب قدم ہوسکتا ہے۔

### تحفہ رد کرنے کا جواز

اسلامی تعلیمات میں یہ بات واضح ہے کہ تحفے کے تبادلے میں خلوص نیت اور خالص محبت ضروری ہے۔ اگر کسی تحفے کے پیچھے دنیاوی یا مالی مفادات وابستہ ہوں، یا تحفہ دینے والا بدلے میں کسی خاص فائدے کی توقع رکھے، تو ایسے تحفے کو رد کرنا جائز اور بعض صورتوں میں ضروری بھی ہو جاتا ہے۔ اس طرح کا تحفہ قبول کرنے سے نہ صرف دین کے احکام کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ اس سے انسانی تعلقات میں بھی بگاڑ پیدا ہوسکتا ہے۔

مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص تحفہ اس نیت سے دے کہ وہ بدلے میں زیادہ قیمتی یا مساوی مالیت کا تحفہ لے گا، یا وہ تحفہ قبول نہ کرنے کی صورت میں ناراضگی کا اظہار کرے گا، تو یہ رویہ تحفہ دینے کی اصل نیت کو خراب کرتا ہے۔ ایسے مواقع پر تحفہ قبول کرنے سے بہتر یہ ہے کہ اس کو رد کردیا جائے، تاکہ دونوں طرف سے نیت صاف اور خلوص پر مبنی رہے۔

### مالی تعاون اور تحائف کا فرق

تحائف کا مقصد محبت اور اخلاص ہوتا ہے جبکہ مالی تعاون کا مقصد کسی ضرورت کو پورا کرنا یا کسی کی مدد کرنا ہوتا ہے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ تحفے کے بدلے میں کوئی توقع نہیں رکھی جاتی جبکہ مالی تعاون میں یہ توقع ہو سکتی ہے کہ مدد لینے والا کسی وقت مدد واپس کرے گا۔ جہاں تک مالی تعاون کا تعلق ہے، اگر کوئی شخص اس نیت سے تحفہ دیتا ہے کہ وہ بدلے میں کچھ حاصل کرے گا، تو یہ تحفے کی تعریف میں نہیں آتا اور اسے رد کرنے کا جواز موجود ہوتا ہے۔

### جھگڑے کی صورت میں تحفہ رد کرنا

تحفہ دینے اور قبول کرنے میں خلوص اور رضا کا عنصر بہت اہم ہوتا ہے۔ اگر تحفہ قبول نہ کرنے یا بدلے میں کچھ نہ دینے پر جھگڑا یا ناراضگی پیدا ہو تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحفہ دینے والے کی نیت خالص نہیں تھی۔ ایسے حالات میں تحفے کو قبول کرنا بہتر نہیں، بلکہ اسے رد کرنا زیادہ مناسب ہو سکتا ہے تاکہ رشتہ کشیدہ نہ ہو اور نیتوں میں صفائی قائم رہے۔

### نتیجہ

تحفہ دینا اور لینا ایک اہم اور خوبصورت عمل ہے، جو سماجی تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم، اس میں نیت کی صفائی اور محبت کا خالص ہونا لازمی ہے۔ جہاں تحفے کے پیچھے دنیاوی مفادات یا بدلے کی توقعات ہوں، وہاں اسے قبول کرنے کی بجائے رد کرنا زیادہ مناسب ہے۔ اس سے نہ صرف دین کے اصولوں کی پیروی کی جاتی ہے بلکہ رشتوں میں بھی سچائی اور خلوص کو برقرار رکھا جاتا ہے۔

نوٹ: مشینی بوٹس انسانوں کی رائٹنگ کا مقابلہ نہیں کرسکتے کیونکہ یہ ہماری طرح جذبات و احساسات سے عاری مشینیں ہیں لہذا ان کی ہر بات کو قرآن و حدیث سمجھ کر یقین کرنے کے بجائے انسان کو اپنی عقل استعمال کرنا چاہیے اور ان کے لکھے ہوئے مضامین میں سے بھی جو بات صحیح لگے اسے قبول کیا جائے اور جو غلط معلوم ہو اسے رد کردینا چاہیے۔