پیر، 13 جنوری، 2025

غریب کی طرح خریدو اور امیر کی طرف بیچو

جب انسان غریب کی طرح سوچتا ہے اور خریدتا ہے تو سستا خریدتا ہے۔ ایسی مارکیٹس تلاش کرتا ہے جہاں مال سستا ملے لیکن جب بیچنے کی باری آجائے تو اسے چاہیے کہ امیروں میں جاکر بیچے تاکہ مہنگے داموں اس کو آمدنی حاصل ہو اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ دین اسلام میں مال کمانے کے نفع پر کوئی پابندی نہیں ہے ایسی چیزوں پر جو لوگوں کو روزمرہ معاملات میں "ضرورت" کے تحت استعمال نہیں ہوتیں۔

مثال کے طور پر آٹا، گھی، چینی، نمک وغیرہ مگر۔۔۔اگر ان چیزوں کی روانی ہو اور کوئی خصوصی دال چینی، آٹا، گھی، نمک لاکر بیچے یعنی کہ روحانی آٹا، روحانی چینی، روحانی اگربتی وغیرہ تو وہ اس کے بدلے مہنگی قیمت وصول کرسکتا ہے اپنی برانڈ کے تحت جیسا کہ میں لیجنڈری فری لانسر ویب سائٹ پر ایسی روحانی پراڈکٹس اور سروسز فراہم کرتا ہوں جو عام طور پر دستیاب نہیں ہوتیں اور ان چیزوں کو استعمال کرنے پر لوگوں کو اللہ کے حکم سے شفا ملنے کا دعوی بھی کرتا ہوں کیونکہ انسان خواہ کوئی بھی دوا استعمال کرلے یا دعا کرلے، اپنی تمام تر کوششوں کے بعد نتیجہ اللہ کے حکم سے ملنے کا انتظار کرنا چاہیے۔

یہ بات یاد رہے کہ شفا اللہ کے حکم سے بغیر مل ہی نہیں سکتی۔لہذا دھندا کوئی بھی ہو اسلامی اصولوں کے مطابق ہو تو بہتر ہے۔ باقی جہاں تک غریب بن کر سوچنا اور بیچنا ہے تو وہ بات اس لیے ہے تاکہ فری لانسر ز اپنے فری لانسنگ بزنس میں سروسز کے ساتھ ساتھ پراڈکٹس بیچ کر بھی اپنی آمدنی میں اضافہ کرسکیں اور اپنی ویب سائٹ پر سب کچھ بیچنے کے لیے لگادیں۔

جب تک کسٹمر کو معلوم نہ ہوگا کہ آپ کیا بیچ رہے ہیں تو وہ خریدے گا کیسے؟

لہذا ایک فری لانسر چونکہ چلتا پھرتا بزنس مین ہوتا ہے اس لیے اسے لازمی ہے کہ ایک بزنس مین بن کر سوچے۔ مال کہاں سے سستا ملے ؟ اسے بھی نظر میں رکھے اور مال کدھر مہنگا کرکے بہچنا ہے، اس پر بھی نظر رکھے۔

ایک کلائںٹ جب چاہے امریکہ میں رہتے ہوئے کسی پاکستانی فری لانسر سے کام کرواسکتا ہے سستے ریٹ پر یا کسی انڈین فری لانسر سے کام کرواسکتا ہے مگر جب چاہے کسی امریکی فری لانسر کو بھی مہنگے داموں ہائر کرکے کام کرواسکتا ہے۔ تو فرق کس بات کا ہے؟ یہی کہ اسے بھی معلوم ہے کہ پاکستانی یا انڈین فری لانسرز سستے ریٹ پرسستی کوالٹی کا کام کرتے ہیں اور امریکی فری لانسر مہنگے ریٹ پرہائی کوالٹی کا کام کرتا ہے۔

لیکن اگر کسی امریکی کلائنٹ کو اچھا اور کوالٹی کام کرنے والا پاکستانی فری لانسر حاصل ہوجائے اور کم قیمت پر بہترین کام کرکے دے تو؟ تو ایسی صورت میں ظاہر سی بات ہے کہ وہ اسی کو بار بار ہائر کرے گا اور اپنے کام کروائے گا۔

اسی طرح اگر آپ کو اپنا فری لانسنگ بزنس کرتے ہوئے ایسے کاموں میں کسی سے کام کروانے کی ضرورت پڑجائے جو سستے داموں اپنی سروس بیچ رہا ہے تو آپ کو خریدنے میں ہرج ہی کیا ہے؟ یہ اس کے ریٹ ہین، آپ کے ریٹ نہیں۔آپ اس کو ہائر کریں، سستے داموں کام کروائیں اور اپنے بزنس کو آگے بڑھائیں۔

باقی جہاں تک پراڈکٹس کی بات ہے تو پاکستان میں کئی ایسی مارکیٹس ہیں جہاں سے سستے داموں مال ملتا ہے۔ آپ کو جو بھی پراڈکٹس خریدنی ہیں، وہاں سے خرید کر انٹرنیشنل مارکیٹس میں انگریزوں کو بیچنا شروع کردیں۔ ان کے پاس دولت ہے، وہ خرید کر آپ کو نفع دیں گے ان شاء اللہ۔

آپ کو کسی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ آپ مال کہاں سے خریدکر لاتے ہیں۔ یہ آپ کا بزنس سیکریٹ ہونا چاہیے۔جو آپ کے اسٹوڈنٹس بننا چاہیں اور آپ کو فیس ادا کریں، یہ باتیں آپ صرف انہیں کو سکھائیں تاکہ آپ کے مقابلہ پر ہر کوئی کھڑا ہونے کی جرات نہ کرسکے۔

یاد رکھیں، کوئی بھی برانڈ والا، اپنے بزنس سیکریٹس کسی اور کو نہیں دیتا۔ جب آپ اپنے نام سے کام کریں یا کسی برانڈ کے نام سے پہچان بنائیں تو اس چیز کا خیال رکھیں کہ آپ سستے ہرگز نہیں ہیں۔

ایک تجربہ کار فری لانسر ایک بزنس مین ہوتا ہے۔وہ اپنی پراڈکٹس اور سروسز کے ذریعے پیسہ کماتا ہے۔ڈالرز کماتا ہے۔ یورو کماتا ہے۔انڈین روپے کماتا ہے۔ پاکستانی روپے کماتا ہے۔اس کے پاس بہت ساری کرنسی ہوتی ہیں بلکل ایک ویڈیو گیم کی طرح جس میں مختلف کرنسی کماکر ایک گیمنگ کریکٹر اپنے لیے بہت سے فائدے حاصل کرتا ہے اور جس کرنسی میں جو مال ملے اسے خرید کر لاتا ہے یا فروخت کرتا ہے۔

آپ کہاں سے کمائیں گے؟ یہ آپ فیصلہ کریں۔

مگر آپ کہاں سے خریدیں گے؟ یہ میں آپ کو بتاچکا ہوں۔

غریب بن کر سوچیں، غریبوں کی طرح سستا خریدیں مگر اس کے بعد؟

امیر بن کر سوچیں اور امیروں کی طرح بزنس کرنا سیکھیں اپنے کسٹمرز کے ساتھ ایک برانڈ بناکر۔

لیجنڈری فری لانسر ذیشان ارشد