ہفتہ، 8 مارچ، 2025

صحابہ ؓنے مریض کو دم کرنے کی اجرت 30بکریاں لیں

روحانی علاج کرنے والوں کے خلاف، دم کرنے والوں کے خلاف اور قرآن پڑھانے سکھانے والوں کے خلاف جاہل لوگوں نے ایک محاظ کھول رکھا ہے کہ تم لوگ اپنے کام پر پیسہ کیوں لیتے ہو؟

یہاں میں ان حدیثوں اور دلائل کو جمع کررہا ہوں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے قرآن پر پیسہ لینا جائز ہے لہذا کسی بھی جاہل کی باتوں کی پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اگر کوئی تمہاری قدر نہ کرے صرف اس لیے کہ تم اسلام کے لیے کام کررہے ہو اور قرآن پڑھاکر یا قرآن کے ذریعے علاج کررہے ہو تو تمہیں پورا حق ہے کہ تم ایسے ناقدرے لوگوں سے اپنی پوری فیس وصول کرو اور ڈنکے کی چوٹ پر وصول کرو اور بغیر شرم کیے اور بغیر ڈرے وصول کرو۔

اگر کسی جاہل کو اعتراض ہو تو اس کے سامنے میری یہ پوسٹ پیش کردو۔

یہ لوگ اسکول، کالج، یونیورسٹیوں میں جاکر پروفیسرز کو لاکھوں روپے فیس آنکھ بند کرکے ایک اشارے پر جمع کروادیتے ہیں اپنے دنیاوی مفاد کے لیے، یہ لوگ ہسپتالوں میں جاکر ایک ڈاکٹر کے کہنے پر لاکھوں روپے فیس کا فوری انتظام کردیتے ہیں مریض کے آپریشن کے لیے چاہے انہیں کسی سے ادھار یا قرض ہی لینا پڑے لیکن جب بات روحانی علاج کی آتی ہے تو یہ ناقدرے اور دین سے جاہل لوگ تم پر اعتراض کرتے ہیں کہ تم پیسے کیوں لیتے ہو؟

ان کے باپ کا راج چل رہا ہے کیا؟

بے شک یہ دین سے جاہل ہیں لہذا تم اپنے فری لانسنگ بزنس میں اپنے کام کا پورا معاوضہ وصول کرو جتنا تم چاہو۔ چاہے تیس بکریاں لو، چاہے ان کا گھر بدلے میں لے لو، چاہے ان کی کار لو یا بائک لو، یہ تم فیصلہ کرو گے کہ تم نے علاج کے بدلے اور انہیں ان کی تکلیف سے نجات دلانے کے واسطے کیا وصول کرنا ہے۔ 

 ’’صحابہ ؓنے مریض کو دم کرنے کی اجرت 30بکریاں لیں، نبی کریمﷺ بہت خوش ہوئے فرمایا میرا حصہ مجھے دو ‘‘آپ دین سکھانے کے پیسے کیوں لیتے ہیں؟ معروف عالم دین عبدل حمید چشتی نے سوال پوچھنے پرحیران کن بات کہہ دی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف عالم دین و مقرر عبدالحمید چشتی ایک تقریب میں تقریر کیلئے مدعو تھے کہ اسی دوران انہیں تقریبات میں شرکت اور تقاریر کیلئے پیسوں کا تقاضہ کرنے پر ایک پرچی پر سوال پوچھا گیا جس پر انہیں تقریب کے میزبان سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اس سوال کی ایسی توجیہہ پیش کر دی کہ سب حیران رہ گئے۔عبدالحمید چشتی سے پرچی کے ذریعے

سوال کیا گیا جو انہوں نے سب کے سامنے پڑھ کر سنایا کہ ’’چشتی صاحب یہ کیسا دین آپ ہمیں سمجھا رہے ہیں ، ہم آپ کی بہت قدر کرتے تھےجو کہ اب ذرا برابر بھی نہیں ہو گی، کیا نبی کریمﷺ سے دین سکھانے کے عوض رقم لینا ثابت ہے اگر کوئی ایسی بات ہے تو قرآن و حدیث سے ثابت کریں ، آپ جیسے علما نے ہماری جماعت کو بدنام کر دیا ہے؟پرچی پر لکھا سوال پڑھنے کے بعد اس کا جواب دیتے ہوئے عبدالحمید چشتی کا کہنا تھا کہ مہمانوں کو بلا کر اس طرح بے عزتی کی گئی ہے، لیکن میں اس سوال کا جواب اور دلیل ضرور دیکر جائوں گا۔ عبدالحمید چشتی نے اس موقع پر کہا کہ بخاری شریف میں حدیث موجود ہے ، میں حدیث پاک پڑھ رہاہوں اور میں اس کا ذمہ دار ہوں، 03006895065میرا موبائل نمبر ہے جس کو اس حوالے سے اعتراض ہے تو وہ مجھ سے رابطہ کر سکتا ہے۔ عبدالحمید چشتی نے حدیث سناتے ہوئے کہا کہ حضور پاکؐ کے غلام صحابہ کرامؓ ایک بستی میں پہنچے جہاں ان کی قدر اور مہمان نوازی نہ کی گئی ، جب وہ وہاں سے واپس آنے لگے تو اس بستی کے سردار کوبچھو نے کاٹ لیا، وہ شدید تکلیف میں تڑپتے ہوئے کہتا کہ مجھے اس تکلیف سے نجات دلوائو، جس پر بستی والوں نے اسے مشورہ دیا کہ یہ جو نورانی چہرے والے صحابہ کرامؓ ہیں اگر یہ کوئی دم کریں تو تم ٹھیک ہو سکتے ہو جس پرانہوں نے ان سے درخواست کرنے کا فیصلہ کیا اوران سے

کہا کہ ہمارا بزرگ تکلیف میں مبتلا ہے ؟ اس کا علاج کریں اور کوئی دم کر دیں جس پر صحابہ کرامؓ نے انہیں جواب دیا کہ تم بے قدرے لوگ ہو تم نے پہلے بھی کچھ نہیں دیا اب تم 30بکریاں ہمیں دو گے تو ہم اس کو دم کرینگے۔ انہوں نے صحابہ کرامؓ کی یہ شرط مان لی اور 30بکریوں پر دم کرنے کے عوض معاملہ طے پا گیا۔ عبدالحمید چشتی کا کہنا تھا کہ صحابہ کرامؓ نے اس بستی

والوں سے کہا کہ ہم شرط رکھ کر دم کرینگے اور انہوں نے 30بکریاں لیں اور دم کیا جس پر مریض بھلا چنگا ہو گیا ۔ صحابہ کرامؓ وہ بکریاں لیکر واپس مدینہ چل پڑے اور راستے میں انہوں نے ان بکریوں کو نہ تو ذبح کیا اور نہ ہی ان کا دودھ پیا ، جب صحابہ کرامؓمدینہ پہنچے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس حوالے سے نبی کریمؐ سے مسئلہ دریافت کرینگےکہ ہم نے دم کے عوض بکریاں لیں

اور وہ بھی دم کرنے سے پہلے لیں کیا ہم نے درست کیا؟جب صحابہ کرامؓ رسول کریمؐ کے پاس پہنچے اور مسئلہ دریافت کیا کہ حضورؐ ہم فلاں بستی میں گئے تھے جہاں کے لوگ قدر کرنا نہ جانتے تھے اور ہم نے دم کرنے کے عوض ان سے بکریاں لی ہیں اور وہ بھی دم کرنے سے پہلے اور پھر ہمارے دم سے مریض ٹھیک ہو گیا۔ جس پر سرکارؐ بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ تمہیں کس نے

بتایا کہ’ الحمد‘میں رب نے شفا رکھی ۔ اس موقع پر عبدالحمید چشتی نے پرچی پر سوال کرنے والے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب سنو آگے ، تمہارا یہ رقعہ میں تبرک کے طور پر اپنے پاس رکھوں گا۔ اب آگے سنو سرکارؐ نے فرمایا کہ وہ جو دم کے عوض اجرت لی ہے اس میں سے میرا حصہ مجھے دو۔ اس موقع پر عبدالحمید چشتی نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ چور چوری کرے تو اس کے ہاتھ کاٹ دو، مولوی جھوٹ بولے تو اس کی زبان کاٹ دی جائے، اگر یہ حدیث نہ ہو تو میں اپنی زبان کٹوانے کیلئے تیار ہوں۔ عبدالحمید چشتی کا کہنا تھا کہ رسول کریمؐ کے ساتھ سونے کے پہاڑ چلے مگر آپ نے کچھ نہ لیا ، صحابہ کرامؓ سے بکریاں اس لئے لیں تاکہ پتہ چلے کہ یہ حرام نہیں ہے۔

Ref: https://javedch.com/pakistan/2018/11/22/524839

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 2276

کتاب: اجرت کے مسائل کا بیان باب : سورہ فاتحہ پڑھ کر عربوں پر پھونکنا اور اس پر اجرت لے لینا ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے بیان کیا، ان سے ابوالمتوکل نے بیان کیا، اور ان سے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم سفر میں تھے۔ دوران سفر میں وہ عرب کے ایک قبیلہ پر اترے۔ صحابہ نے چاہا کہ قبیلہ والے انہیں اپنا مہمان بنالیں، لیکن انہوں نے مہمانی نہیں کی، بلکہ صاف انکار کر دیا۔ اتفاق سے اسی قبیلہ کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا، قبیلہ والوں نے ہر طرح کی کوشش کر ڈالی، لیکن ان کا سردار اچھا نہ ہوا۔ ان کے کسی آدمی نے کہا کہ چلو ان لوگوں سے بھی پوچھیں جو یہاں آکر اترے ہیں۔ ممکن ہے کوئی دم جھاڑنے کی چیز ان کے پاس ہو۔ چنانچہ قبیلہ والے ان کے پاس آئے اور کہا کہ بھائیو ! ہمارے سردار کو سانپ نے ڈس لیا ہے۔ اس کے لیے ہم نے ہر قسم کی کوشش کر ڈالی لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا۔ کیا تمہارے پا س کوئی چیز دم کرنے کی ہے؟ ایک صحابی نے کہا کہ قسم اللہ کی میں اسے جھاڑ دوں گا لیکن ہم نے تم سے میزبانی کے لیے کہا تھا اور تم نے اس سے انکار کر دیا۔ اس لیے اب میں بھی اجرت کے بغیر نہیں جھاڑ سکتا، آخر بکریوں کے ایک گلے پر ان کا معاملہ طے ہوا۔ وہ صحابی وہاں گئے اور الحمد للہ رب العالمین پڑھ پڑھ کر دم کیا۔ ایسا معلوم ہوا جیسے کسی کی رسی کھول دی گئی۔ وہ سردار اٹھ کر چلنے لگا، تکلیف و درد کا نام و نشان بھی باقی نہیں تھا۔ بیان کیا کہ پھر انہوں نے طے شدہ اجرت صحابہ کو ادا کردی۔ کسی نے کہا کہ اسے تقسیم کرلو، لیکن جنہوں نے جھاڑا تھا، وہ بولے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پہلے ہم آپ سے اس کا ذکر کر لیں۔ اس کے بعد دیکھیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا حکم دیتے ہیں۔ چنانچہ سب حضرات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدمت میں حاضر ہوئے اورآپ سے اس کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا یہ تم کو کیسے معلوم ہوا کہ سورۃ فاتحہ بھی ایک رقیہ ہے؟ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ تم نے ٹھیک کیا۔ اسے تقسیم کر لو اور ایک میرا حصہ بھی لگاؤ۔ یہ فرما کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔ شعبہ نے کہا کہ ابوالبشر نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے ابوالمتوکل سے ایسا ہی سنا۔

تشریح : مجتہد مطلق، امام المحدثین حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ا س باب اور روایت کردہ حدیث کے تحت بہت سے مسائل جمع فرما دیئے ہیں۔ اصحاب نبوی چوں کہ سفر میں تھے اور اس زمانے میں ہوٹلوں کا کوئی دستور نہ تھا۔ عربو ںمیں مہمان نوازی ہی سب سے بڑی خوبی تھی۔ اسی لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک رات کی مہمانی کے لیے قبیلہ والوں سے درخواست کی مگر انہوں نے انکار کر دیا اور یہ اتفاق کی بات ہے کہ اسی اثنا میں ان قبیلے والوں کا سردار سانپ یا بچھو سے کاٹا گیا۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے ایک قول نقل کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سردار کی عقل میں فتور آگیا تھا۔ بہرحال جو بھی صورت ہو وہ قبیلہ والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پا س آکر دم جھاڑ کے لیے متمنی ہوئے اور حدیث ہذا کے راوی حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے آمادگی ظاہر فرمائی اور اجرت میں تیس بکریوں پر معاملہ طے ہوا۔ چنانچہ انہوں نے اس سردار پر سات بار یا تین بار سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کیا۔ اور وہ سردار اللہ کے حکم سے تندرست ہو گیا اور قبیلہ والوں نے بکریاں پیش کر دیں جن کی اطلاع صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تائید فرمائی اور ساتھ ہی ان کی دلجوئی کے لیے بکریوں کی تقسیم میں اپنا حصہ مقرر کرنے کا بھی ارشاد فرمایا۔ شعبہ کی روایت کو ترمذی نے وصل کیا ہے اس لفظ کے ساتھ۔ اور حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی طب میں عنعنہ کے ساتھ ذکرکیا ہے۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قرآن مجید کی آیتوں اوراسی طرح دیگر اذکار و ادعیہ ماثورہ کے ساتھ دم کرنا درست ہے۔ دیگر روایت میں صاف مذکور ہے لا باس بالرقی مالم یکن فیہ شرک شرکیہ الفاظ نہ ہوں تو دم جھاڑا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ مگر جو لوگ شرکیہ لفظوں سے اور پیروں فقیروں کے نام سے منتر جنتر کرتے ہیں، وہ عند اللہ مشرک ہیں۔ ایک موحد مسلمان کو ہرگز ایسے ڈھکوسلوں میں نہ آنا چاہئے اور ایسے مشرک و مکار تعویذ و منتر والوں سے دور رہنا چاہئے کہ آج کل ایسے لوگوں کے ہتھکنڈے بہت کثرت کے ساتھ چل رہے ہیں۔ اس حدیث سے بعض علماءنے تعلیم قرآن پر اجرت لینے کا جواز ثابت کیا ہے۔ صاحب المہذب لکھتے ہیں : و من ادلۃ الجواز حدیث عمر المتقدم فی کتاب الزکوٰۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لہ ما اتاک من ہذا المال من غیر مسئلۃ و لا اشراف نفس فخذہ و من ادلۃ الجواز حدیث الرقیۃ المشہور الذی اخرجہ البخاری عن ابی عباس و فیہ ان احق ما اخذتم علیہ اجرا کتاب اللہ ( ص 268 ) اور جواز کے دلائل میں سے حدیث عمر رضی اللہ عنہ ہے جو کتاب الزکوۃ میں گزر چکی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ اس مال میں سے جو تمہارے پاس بغیر سوال کئے اور بغیر تانکے جھانکے خود آئے، اس کو قبول کرلو اور جواز کی دلیل وہ حدیث بھی ہے جس میں دم کرنے کا واقعہ مذکور ہے جس کو امام بخاری نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نکالا ہے اوراس میں یہ بھی ہے کہ بلاشک جس پر تم بطور اجر لینے کا حق رکھتے ہو وہ اللہ کی کتاب ہے۔ صاحب لمعات لکھتے ہیں و فیہ دلیل علی ان الرقیۃ بالقران و اخذ الاجرۃ علیہا جائز بلا شبھۃ یعنی اس میں اس پر دلیل ہے کہ قرآن مجید کے ساتھ دم کرنا اور اس پر اجرت لینا بلاشبہ جائز ہے۔ ایسا ہی واقعہ مسند امام احمد اور ابوداؤد میں خارجۃ بن صلت عن عمہ کی روایت سے مذکور ہے راوی کہتے ہیں اقبلنا من عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ ولسم فاتینا علی حی من العرب فقالوا نا انبئنا انکم قد جئتم من عند ہذا الرجل بخیر فہل عندکم من دواء اور قیۃ فان عندنا معتوہا فی القیود فقلنا نعم فجاوا بمعتوہ فی القیود فقرات علیہ بفاتحۃ الکتاب ثلاثۃ ایام غدوۃ و عشیۃ اجمع بزاقی ثم اتفل قال فکانما انشط من عقال فاعطونی جعلا فقلت لا حتی اسال النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال کل فلعمری لمن اکل برقیۃ باطل لقد اکلت برقیۃ حق ( رواہ احمد و ابوداود ) مختصر مطلب یہ ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے جدا ہو کر ایک عرب قبیلہ پر سے گزرے۔ ان لوگوں نے ہم سے کہا کہ ہم کو معلوم ہوا ہے کہ تم اس آدمی کے پاس سے کچھ نہ کچھ خیر لے کر آئے ہو۔ یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن مجید اور ذکر اللہ سیکھ کر آئے ہو۔ ہمارے ہاں ایک دیوانہ بیڑیوں میں مقید ہے۔ تمہارے پاس کوئی دوا یا دم جھاڑ ہو تو مہربانی کرو۔ ہم نے کہا کہ ہاں ! ہم موجود ہیں۔ پس وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ایک آدمی کو لائے اور میں نے ا س پر صبح و شام تین روز تک برابر سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کیا۔ میں یہ سورۃ پڑھ پرھ کر اپنے منہ میں تھوک جمع کرکے اس پر دم کرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ مریض اتنا آزاد ہو گیا کہ جتنا اونٹ اس کی رسی کھولنے سے آزاد ہوجاتاہے یعنی وہ تندرست ہو گیا۔ پس ان قبیلہ والوں نے مجھ کو اجرت دینا چاہی تو میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی۔ آپ نے فرمایا کہ لوگ تو جھوٹ موٹ فریب دے کر دم جھاڑا سے لوگوں کا مال کھاتے ہیں، تم نے تو حق اور سچا دم کیا ہے جس پر کھانا حق ہے جو حلال ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جھاڑ پھونک کے بہانہ سے غلط قسم کے لوگوں کی کثرت بھی پہلے ہی سے چلی آرہی ہے۔ اور بہت سے نادان لوگ اپنی طبعی کمزوری کی بناءپر ایسے لوگوں کا شکار بنتے چلے آرہے ہیں۔ تاریخ میں اقوام قدیم کلدانیوں، مصریوں، سامیو ںوغیرہ وغیرہ کے حالات پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ وہ لوگ بیشتر تعداد میں دم، جھاڑ، پھونک پھانک منتر، جنتر کرنے والو ںکے زبردست معتقد ہوتے تھے۔ اکثر تو موت و حیات تک کو ایسے ہی مکار دم جھاڑ کرنے والو ںکے ہاتھوں میں جانتے تھے۔ صد افسوس کہ امت مسلمہ بھی ان بیماریوں سے نہ بچ سکی اور ان میں بھی منتر جنتر کے ناموں پر کتنے ہی شرکیہ طور طریقے جاری ہو گئے۔ اور اب بھی بکثرت عوام ایسے ہی مکار لوگوں کا شکار ہیں۔ کتنے ہیں نقش و تعویذ لکھنے والے صرف ہندسوں سے کام چلاتے ہیں۔ جن کو خود ان ہندسوں کی حقیقت کا بھی کوئی علم نہیں ہوتا۔ کتنے ہی صرف پیروں، درویشوں، فوت شدہ بزرگوں کے نالکھ کر دے دیتے ہیں۔ کتنے یا جبرئیل، یا میکائیل یا عزرائیل لکھ کر استعمال کراتے ہیں۔ کتنے من گھڑت شرکیہ دعائیں لکھ کر خود مشرک بنتے اور دوسروں کو مشرک بناتے ہیں کتنے حضرت پیر بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے نام کی دہائی لکھ کر لوگوں کو بہکاتے رہتے ہیں۔ الغرض مسلمانوںکی ایک کثیر تعداد ایسے ہتھکنڈوں کی شکار ہے، پھر ان تعویذ گنڈہ کرنے والے اور لوگوں کا مال اس دھوکہ فریب سے کھانے والے غور کریں کہ وہ اللہ اورا س کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کے دن کیا منہ دکھلائیں گے۔ آج 29 ذی الحجہ1389ھ کو مقام ابراہیم کے قریب بوقت مغرب یہ نوٹ لکھا گیا۔ اور بعونہ تعالیٰ2 صفر1390ھ کو مدینہ منورہ مسجد نبوی میں اصحاب صفہ کے چپوترہ پر بیٹھ کر نظر ثانی کی گئی۔ مجتہد مطلق، امام المحدثین حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ا س باب اور روایت کردہ حدیث کے تحت بہت سے مسائل جمع فرما دیئے ہیں۔ اصحاب نبوی چوں کہ سفر میں تھے اور اس زمانے میں ہوٹلوں کا کوئی دستور نہ تھا۔ عربو ںمیں مہمان نوازی ہی سب سے بڑی خوبی تھی۔ اسی لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک رات کی مہمانی کے لیے قبیلہ والوں سے درخواست کی مگر انہوں نے انکار کر دیا اور یہ اتفاق کی بات ہے کہ اسی اثنا میں ان قبیلے والوں کا سردار سانپ یا بچھو سے کاٹا گیا۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے ایک قول نقل کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سردار کی عقل میں فتور آگیا تھا۔ بہرحال جو بھی صورت ہو وہ قبیلہ والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پا س آکر دم جھاڑ کے لیے متمنی ہوئے اور حدیث ہذا کے راوی حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے آمادگی ظاہر فرمائی اور اجرت میں تیس بکریوں پر معاملہ طے ہوا۔ چنانچہ انہوں نے اس سردار پر سات بار یا تین بار سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کیا۔ اور وہ سردار اللہ کے حکم سے تندرست ہو گیا اور قبیلہ والوں نے بکریاں پیش کر دیں جن کی اطلاع صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تائید فرمائی اور ساتھ ہی ان کی دلجوئی کے لیے بکریوں کی تقسیم میں اپنا حصہ مقرر کرنے کا بھی ارشاد فرمایا۔ شعبہ کی روایت کو ترمذی نے وصل کیا ہے اس لفظ کے ساتھ۔ اور حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی طب میں عنعنہ کے ساتھ ذکرکیا ہے۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قرآن مجید کی آیتوں اوراسی طرح دیگر اذکار و ادعیہ ماثورہ کے ساتھ دم کرنا درست ہے۔ دیگر روایت میں صاف مذکور ہے لا باس بالرقی مالم یکن فیہ شرک شرکیہ الفاظ نہ ہوں تو دم جھاڑا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ مگر جو لوگ شرکیہ لفظوں سے اور پیروں فقیروں کے نام سے منتر جنتر کرتے ہیں، وہ عند اللہ مشرک ہیں۔ ایک موحد مسلمان کو ہرگز ایسے ڈھکوسلوں میں نہ آنا چاہئے اور ایسے مشرک و مکار تعویذ و منتر والوں سے دور رہنا چاہئے کہ آج کل ایسے لوگوں کے ہتھکنڈے بہت کثرت کے ساتھ چل رہے ہیں۔ اس حدیث سے بعض علماءنے تعلیم قرآن پر اجرت لینے کا جواز ثابت کیا ہے۔ صاحب المہذب لکھتے ہیں : و من ادلۃ الجواز حدیث عمر المتقدم فی کتاب الزکوٰۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لہ ما اتاک من ہذا المال من غیر مسئلۃ و لا اشراف نفس فخذہ و من ادلۃ الجواز حدیث الرقیۃ المشہور الذی اخرجہ البخاری عن ابی عباس و فیہ ان احق ما اخذتم علیہ اجرا کتاب اللہ ( ص 268 ) اور جواز کے دلائل میں سے حدیث عمر رضی اللہ عنہ ہے جو کتاب الزکوۃ میں گزر چکی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ اس مال میں سے جو تمہارے پاس بغیر سوال کئے اور بغیر تانکے جھانکے خود آئے، اس کو قبول کرلو اور جواز کی دلیل وہ حدیث بھی ہے جس میں دم کرنے کا واقعہ مذکور ہے جس کو امام بخاری نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نکالا ہے اوراس میں یہ بھی ہے کہ بلاشک جس پر تم بطور اجر لینے کا حق رکھتے ہو وہ اللہ کی کتاب ہے۔ صاحب لمعات لکھتے ہیں و فیہ دلیل علی ان الرقیۃ بالقران و اخذ الاجرۃ علیہا جائز بلا شبھۃ یعنی اس میں اس پر دلیل ہے کہ قرآن مجید کے ساتھ دم کرنا اور اس پر اجرت لینا بلاشبہ جائز ہے۔ ایسا ہی واقعہ مسند امام احمد اور ابوداؤد میں خارجۃ بن صلت عن عمہ کی روایت سے مذکور ہے راوی کہتے ہیں اقبلنا من عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ ولسم فاتینا علی حی من العرب فقالوا نا انبئنا انکم قد جئتم من عند ہذا الرجل بخیر فہل عندکم من دواء اور قیۃ فان عندنا معتوہا فی القیود فقلنا نعم فجاوا بمعتوہ فی القیود فقرات علیہ بفاتحۃ الکتاب ثلاثۃ ایام غدوۃ و عشیۃ اجمع بزاقی ثم اتفل قال فکانما انشط من عقال فاعطونی جعلا فقلت لا حتی اسال النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال کل فلعمری لمن اکل برقیۃ باطل لقد اکلت برقیۃ حق ( رواہ احمد و ابوداود ) مختصر مطلب یہ ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے جدا ہو کر ایک عرب قبیلہ پر سے گزرے۔ ان لوگوں نے ہم سے کہا کہ ہم کو معلوم ہوا ہے کہ تم اس آدمی کے پاس سے کچھ نہ کچھ خیر لے کر آئے ہو۔ یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن مجید اور ذکر اللہ سیکھ کر آئے ہو۔ ہمارے ہاں ایک دیوانہ بیڑیوں میں مقید ہے۔ تمہارے پاس کوئی دوا یا دم جھاڑ ہو تو مہربانی کرو۔ ہم نے کہا کہ ہاں ! ہم موجود ہیں۔ پس وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ایک آدمی کو لائے اور میں نے ا س پر صبح و شام تین روز تک برابر سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کیا۔ میں یہ سورۃ پڑھ پرھ کر اپنے منہ میں تھوک جمع کرکے اس پر دم کرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ مریض اتنا آزاد ہو گیا کہ جتنا اونٹ اس کی رسی کھولنے سے آزاد ہوجاتاہے یعنی وہ تندرست ہو گیا۔ پس ان قبیلہ والوں نے مجھ کو اجرت دینا چاہی تو میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی۔ آپ نے فرمایا کہ لوگ تو جھوٹ موٹ فریب دے کر دم جھاڑا سے لوگوں کا مال کھاتے ہیں، تم نے تو حق اور سچا دم کیا ہے جس پر کھانا حق ہے جو حلال ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جھاڑ پھونک کے بہانہ سے غلط قسم کے لوگوں کی کثرت بھی پہلے ہی سے چلی آرہی ہے۔ اور بہت سے نادان لوگ اپنی طبعی کمزوری کی بناءپر ایسے لوگوں کا شکار بنتے چلے آرہے ہیں۔ تاریخ میں اقوام قدیم کلدانیوں، مصریوں، سامیو ںوغیرہ وغیرہ کے حالات پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ وہ لوگ بیشتر تعداد میں دم، جھاڑ، پھونک پھانک منتر، جنتر کرنے والو ںکے زبردست معتقد ہوتے تھے۔ اکثر تو موت و حیات تک کو ایسے ہی مکار دم جھاڑ کرنے والو ںکے ہاتھوں میں جانتے تھے۔ صد افسوس کہ امت مسلمہ بھی ان بیماریوں سے نہ بچ سکی اور ان میں بھی منتر جنتر کے ناموں پر کتنے ہی شرکیہ طور طریقے جاری ہو گئے۔ اور اب بھی بکثرت عوام ایسے ہی مکار لوگوں کا شکار ہیں۔ کتنے ہیں نقش و تعویذ لکھنے والے صرف ہندسوں سے کام چلاتے ہیں۔ جن کو خود ان ہندسوں کی حقیقت کا بھی کوئی علم نہیں ہوتا۔ کتنے ہی صرف پیروں، درویشوں، فوت شدہ بزرگوں کے نالکھ کر دے دیتے ہیں۔ کتنے یا جبرئیل، یا میکائیل یا عزرائیل لکھ کر استعمال کراتے ہیں۔ کتنے من گھڑت شرکیہ دعائیں لکھ کر خود مشرک بنتے اور دوسروں کو مشرک بناتے ہیں کتنے حضرت پیر بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے نام کی دہائی لکھ کر لوگوں کو بہکاتے رہتے ہیں۔ الغرض مسلمانوںکی ایک کثیر تعداد ایسے ہتھکنڈوں کی شکار ہے، پھر ان تعویذ گنڈہ کرنے والے اور لوگوں کا مال اس دھوکہ فریب سے کھانے والے غور کریں کہ وہ اللہ اورا س کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کے دن کیا منہ دکھلائیں گے۔ آج 29 ذی الحجہ1389ھ کو مقام ابراہیم کے قریب بوقت مغرب یہ نوٹ لکھا گیا۔ اور بعونہ تعالیٰ2 صفر1390ھ کو مدینہ منورہ مسجد نبوی میں اصحاب صفہ کے چپوترہ پر بیٹھ کر نظر ثانی کی گئی۔

Ref: https://shamilaurdu.com/hadith/bukhari/2276/

سورۃ الفاتحہ سے دم جھاڑ کرنے میں (بکریاں لینے کی) شرط لگانا

حدیث نمبر: 5737

 چند صحابہ ایک پانی سے گزرے جس کے پاس کے قبیلہ میں بچھو کا کاٹا ہوا (لدیغ یا سلیم راوی کو ان دونوں الفاظ کے متعلق شبہ تھا) ایک شخص تھا۔ قبیلہ کا ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کیا آپ لوگوں میں کوئی دم جھاڑ کرنے والا ہے۔ ہمارے قبیلہ میں ایک شخص کو بچھو نے کاٹ لیا ہے چنانچہ صحابہ کی اس جماعت میں سے ایک صحابی اس شخص کے ساتھ گئے اور چند بکریوں کی شرط کے ساتھ اس شخص پر سورۃ فاتحہ پڑھی، اس سے وہ اچھا ہو گیا وہ صاحب شرط کے مطابق بکریاں اپنے ساتھیوں کے پاس لائے تو انہوں نے اسے قبول کر لینا پسند نہیں کیا اور کہا کہ اللہ کی کتاب پر تم نے اجرت لے لی۔ آخر جب سب لوگ مدینہ آئے تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ان صاحب نے اللہ کی کتاب پر اجرت لے لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن چیزوں پر تم اجرت لے سکتے ہو ان میں سے زیادہ اس کی مستحق اللہ کی کتاب ہی ہے۔

 Ref: https://islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?bookid=1&hadith_number=5737

 سورۃ فاتحہ پڑھ کر عربوں پر پھونکنا اور اس پر اجرت لے لینا۔

حدیث نمبر: 2276

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم سفر میں تھے۔ دوران سفر میں وہ عرب کے ایک قبیلہ پر اترے۔ صحابہ نے چاہا کہ قبیلہ والے انہیں اپنا مہمان بنا لیں، لیکن انہوں نے مہمانی نہیں کی، بلکہ صاف انکار کر دیا۔ اتفاق سے اسی قبیلہ کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا، قبیلہ والوں نے ہر طرح کی کوشش کر ڈالی، لیکن ان کا سردار اچھا نہ ہوا۔ ان کے کسی آدمی نے کہا کہ چلو ان لوگوں سے بھی پوچھیں جو یہاں آ کر اترے ہیں۔ ممکن ہے کوئی دم جھاڑنے کی چیز ان کے پاس ہو۔ چنانچہ قبیلہ والے ان کے پاس آئے اور کہا کہ بھائیو! ہمارے سردار کو سانپ نے ڈس لیا ہے۔ اس کے لیے ہم نے ہر قسم کی کوشش کر ڈالی لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا۔ کیا تمہارے پاس کوئی چیز دم کرنے کی ہے؟ ایک صحابی نے کہا کہ قسم اللہ کی میں اسے جھاڑ دوں گا لیکن ہم نے تم سے میزبانی کے لیے کہا تھا اور تم نے اس سے انکار کر دیا۔ اس لیے اب میں بھی اجرت کے بغیر نہیں جھاڑ سکتا، آخر بکریوں کے ایک گلے پر ان کا معاملہ طے ہوا۔ وہ صحابی وہاں گئے اور «الحمد لله رب العالمين» پڑھ پڑھ کر دم کیا۔ ایسا معلوم ہوا جیسے کسی کی رسی کھول دی گئی ہو۔ وہ سردار اٹھ کر چلنے لگا، تکلیف و درد کا نام و نشان بھی باقی نہیں تھا۔ بیان کیا کہ پھر انہوں نے طے شدہ اجرت صحابہ کو ادا کر دی۔ کسی نے کہا کہ اسے تقسیم کر لو، لیکن جنہوں نے جھاڑا تھا، وہ بولے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پہلے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کر لیں۔ اس کے بعد دیکھیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا حکم دیتے ہیں۔ چنانچہ سب حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تم کو کیسے معلوم ہوا کہ سورۃ فاتحہ بھی ایک رقیہ ہے؟ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے ٹھیک کیا۔ اسے تقسیم کر لو اور ایک میرا حصہ بھی لگاؤ۔ یہ فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔ شعبہ نے کہا کہ ابوالبشر نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے ابوالمتوکل سے ایسا ہی سنا۔

حدیث نمبر: 5007

 ہم ایک فوجی سفر میں تھے (رات میں) ہم نے ایک قبیلہ کے نزدیک پڑاؤ کیا۔ پھر ایک لونڈی آئی اور کہا کہ قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا ہے اور ہمارے قبیلے کے مرد موجود نہیں ہیں، کیا تم میں کوئی بچھو کا جھاڑ پھونک کرنے والا ہے؟ ایک صحابی (خود ابوسعید) اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے، ہم کو معلوم تھا کہ وہ جھاڑ پھونک نہیں جانتے لیکن انہوں نے قبیلہ کے سردار کو جھاڑا تو اسے صحت ہو گئی۔ اس نے اس کے شکرانے میں تیس بکریاں دینے کا حکم دیا اور ہمیں دودھ پلایا۔ جب وہ جھاڑ پھونک کر کے واپس آئے تو ہم نے ان سے پوچھا کیا تم واقعی کوئی منتر جانتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں میں نے تو صرف سورۃ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کر دیا تھا۔ ہم نے کہا کہ اچھا جب تک ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق نہ پوچھ لیں ان بکریوں کے بارے میں اپنی طرف سے کچھ نہ کہو۔ چنانچہ ہم نے مدینہ پہنچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے کیسے جانا کہ سورۃ فاتحہ منتر بھی ہے۔ (جاؤ یہ مال حلال ہے) اسے تقسیم کر لو اور اس میں میرا بھی حصہ لگانا۔

حدیث نمبر: 5736

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ در حالت سفر عرب کے ایک قبیلہ پر گزرے۔ قبیلہ والوں نے ان کی ضیافت نہیں کی کچھ دیر بعد اس قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا، اب قبیلہ والوں نے ان صحابہ سے کہا کہ آپ لوگوں کے پاس کوئی دوا یا کوئی جھاڑنے والا ہے۔ صحابہ نے کہا کہ تم لوگوں نے ہمیں مہمان نہیں بنایا اور اب ہم اس وقت تک دم نہیں کریں گے جب تک تم ہمارے لیے اس کی مزدوری نہ مقرر کر دو۔ چنانچہ ان لوگوں نے چند بکریاں دینی منظور کر لیں پھر (ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ) سورۃ فاتحہ پڑھنے لگے اور اس پر دم کرنے میں منہ کا تھوک بھی اس جگہ پر ڈالنے لگے۔ اس سے وہ شخص اچھا ہو گیا۔ چنانچہ قبیلہ والے بکریاں لے کر آئے لیکن صحابہ نے کہا کہ جب تک ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لیں یہ بکریاں نہیں لے سکتے پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ مسکرائے اور فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہو گیا تھا کہ سورۃ فاتحہ سے دم بھی کیا جا سکتا ہے، ان بکریوں کو لے لو اور اس میں میرا بھی حصہ لگاؤ۔

حدیث نمبر: 5749

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ (300 نفر) ایک سفر کے لیے روانہ ہوئے جسے انہیں طے کرنا تھا راستے میں انہوں نے عرب کے ایک قبیلہ میں پڑاؤ کیا اور چاہا کہ قبیلہ والے ان کی مہمانی کریں لیکن انہوں نے انکار کیا، پھر اس قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا اسے اچھا کرنے کی ہر طرح کی کوشش انہوں نے کر ڈالی لیکن کسی سے کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ آخر انہیں میں سے کسی نے کہا کہ یہ لوگ جنہوں نے تمہارے قبیلہ میں پڑاؤ کر رکھا ہے ان کے پاس بھی چلو، ممکن ہے ان میں سے کسی کے پاس کوئی منتر ہو۔ چنانچہ وہ صحابہ کے پاس آئے اور کہا لوگو! ہمارے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا ہے ہم نے ہر طرح کی بہت کوشش اس کے لیے کر ڈالی لیکن کسی سے کوئی فائدہ نہیں ہوا کیا تم لوگوں میں سے کسی کے پاس اس کے لیے منتر ہے؟ صحابہ میں سے ایک صاحب (ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ ہاں واللہ میں جھاڑنا جانتا ہوں لیکن ہم نے تم سے کہا تھا کہ ہماری مہمانی کرو (ہم مسافر ہیں) تو تم نے انکار کر دیا تھا اس لیے میں بھی اس وقت تک نہیں جھاڑوں گا جب تک تم میرے لیے اس کی مزدوری نہ ٹھہرا دو۔ چنانچہ ان لوگوں نے کچھ بکریوں (30) پر معاملہ کر لیا۔ اب یہ صحابی روانہ ہوئے۔ یہ زمین پر تھوکتے جاتے اور «‏‏‏‏الحمد لله رب العالمين» ‏‏‏‏ پڑھتے جاتے اس کی برکت سے وہ ایسا ہو گیا جیسے اس کی رسی کھل گئی ہو اور وہ اس طرح چلنے لگا جیسے اسے کوئی تکلیف ہی نہ رہی ہو۔ بیان کیا کہ پھر وعدہ کے مطابق قبیلہ والوں نے ان صحابی کی مزدوری (30 بکریاں) ادا کر دی بعض لوگوں نے کہا کہ ان کو تقسیم کر لو لیکن جنہوں نے جھاڑا تھا انہوں نے کہا کہ ابھی نہیں، پہلے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں پوری صورت حال آپ کے سامنے بیان کر دیں پھر دیکھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں۔ چنانچہ سب لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے اس کا ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہو گیا تھا کہ اس سے دم کیا جا سکتا ہے؟ تم نے اچھا کیا جاؤ ان کو تقسیم کر لو اور میرا بھی اپنے ساتھ ایک حصہ لگاؤ۔

Ref: https://islamicurdubooks.com/hadith/mukarrat-.php?hadith_number=2276&bookid=1

اگر قرآن کی تلاوت   بطور دم کسی بیمار پر کی جائے  اور وہ قاری کو    کچھ رقم دے دے تو قاری کے لیے  یہ رقم شرعا جائز  ہے یا نہیں؟

قرآن کریم یا ادعیہ مسنونہ کسی بیمار پر پڑھ کر دم کرنے اور  اس کے عوض لینے دینے کی بھی گنجائش ہے، جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے بیمار کو دم کرنے پر تیس بکریوں کا ریوڑ مقرر کیا تھا، اور حضور ﷺ نے  اس سے انکار نہیں فرمایا۔

Ref: https://www.banuri.edu.pk/readquestion/dum-karny-pr-ujrat-lena-144205201450/12-01-2021

دم کرنا اور اس پر معاوضہ لینا جائز ہے یا نہیں؟کیا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے کسی کو دم کرکے معاوضہ لیا تھا؟ کتاب و سنت کی روشنی میں وضاحت کریں۔

شریعت مطہرہ کی روشنی میں دم کرنا اور کروانا دونوں جائز ہیں، جبکہ مندرجہ ذیل شرائط پائی جائیں۔

٭  دم شرکیہ الفا ظ پر مشتمل نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی کلام، اس کے اسمائے گرامی اور صفات عالیہ سے ہو۔

٭  بامعنی عربی زبان میں ہو ، جادو، ٹونے اور ناجائز عبارات پر مشتمل نہ ہو ۔

٭  نجس حالات، یعنی جنابت اور قضائے حاجت کے دوران نہ کیا جائے۔

٭  دم کرنے اور کرانے والا یہ عقیدہ رکھے کہ ذاتی طور پر دم فائدہ مند نہیں، بلکہ مؤثر حقیقی صرف اللہ کی ذات ہے۔دم کے جواز کے متعلق روایات کتب حدیث سے مروی ہیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے خود اپنے آپ کو دم کیا۔ حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہا  کا بیان ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر آرام کرنے کے لئے تشریف لاتے تو معوذات پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونک مارتے، پھر جہاں تک ممکن ہوتا اپنے چہرے اور جسم پر انہیں پھیرتے۔     [بخاری، الطب:۵۷۵۰]

دوسروں پر بھی دم کرتے، جیسا کہ حضرت ابن عباس  رضی اللہ عنہما  کا بیان ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما  پر دم کیا کرتے تھے۔     [بخاری، الانبیاء:۳۳۷۱]

دوسروں کو دم کرنے کا حکم بھی دیتے تھے، جیسا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک دفعہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا  کے گھر ایک لونڈی کا چہرہ زرد رنگ کا دیکھا تو فرمایا: ’’اسے دم کرو کیونکہ اسے نظر بد لگی ہوئی ہے۔‘‘     [بخاری، الطب:۵۷۳۹]

دم کرکے اجرت لینا بھی جائز ہے، جیسا کہ مخصوص حالات کے پیش نظر حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ  نے ایک سردار پر سورۂ فاتحہ سے دم کرنے کی اجرت طے کی تھی۔ پھر دم کرکے فیس وصول کی، جسے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے برقرار رکھا، بلکہ حوصلہ افزائی کے طور پر فرمایا: ’’اس میں میرا بھی حصہ رکھو۔‘‘     [بخاری، الطب:۵۷۴۹]

Ref: https://urdufatwa.com/view/1/12474

سلامتی اور صحت کابیان

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کے چند صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سفر میں تھے عرب کے قبائل میں سے کسی قبیلے کے سامنے سے ان کا گزر ہوا انھوں نے ان ( قبیلے والے ) لوگوں سے چاہا کہ وہ انھیں اپنا مہمان بنائیں ۔ انھوں نے مہمان بنانے سے انکا ر کر دیا ، پھر انھوں نے کہا : کیا تم میں کو ئی دم کرنے والا ہے کیونکہ قوم کے سردار کو کسی چیز نے ڈس لیا ہے یا اسے کو ئی بیماری لا حق ہو گئی ہے ۔ ان ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) میں سے ایک آدمی نے کہا : ہاں پھر وہ اس کے قریب آئے اور اسے فاتحہ الکتاب سے دم کر دیا ۔ وہ آدمی ٹھیک ہو گیا تو اس ( دم کرنے والے ) کو بکریوں کاا یک ریوڑ ( تیس بکریاں ) پیش کی گئیں ۔ اس نے انھیں ( فوری طور پر ) قبول کرنے ( کا م میں لا نے ) سے انکا ر کر دیا اور کہا : یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کو ماجرا سنادوں ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کی خدمت میں حا ضر ہوا اور سارا ماجرا آپ کو سنایا اور کہا اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !!میں فاتحہ الکتاب کے علاوہ اور کو ئی دم نہیں کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرما یا : " تمھیں کیسے پتہ چلا کہ وہ دم ( بھی ) ہے؟ " پھر انھیں لے لو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھو ۔ "

شرح و تفصیل

حافظ ابويحييٰ نورپوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 5007  موجودہ دور میں ایک خاص فکر کے حاملین دینی امور پر اجرت کے مسئلے کو بڑھا چڑھا کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک خواہ دم پر اجرت لی جائے، خواہ قرآنی و دینی تعلیم پر و ظیفہ و معاوضہ قبول کیا جائے سب ناجائز و حرام ہے۔ حالانکہ قرآن کریم اور دینی امور پر اجرت دو طرح سے ہو سکتی ہے۔ (1) دم کی اجرت: اس کے جواز پر تمام اہل عل کا اتفاق ہے۔ (2) قرآن کریم کی تعلیم اور دیگر دینی امور پر اجرت: اسے امت میں سے صرف متقدمین احناف نے ناجائز قرار دیا، لیکن ان کے گھر ہی سے اس فتوے کو رد کر دیا گیا۔ خود بعد والے احناف نے اس شاذ فتوے کو قیاس کے ذریعے رد کرتے ہوئے دینی امور پر اجرت کو جائز قرار دیا۔ یاد رہے کہ امام ابوحنیفہ سے دینی امور پر اجرت کا ناجائز ہونا ثابت نہیں ہے۔ محض بعض احناف کا اس کی نسبت امام صاحب کی طرف کر دینا، اس کے ثبوت کی دلیل نہیں ہے۔ یوں مسلمانوں کے نزدیک شرعی دلائل کی روشنی میں قرآن مجید کی تعلیم اور دینی امور پر اجرت شرعا جائز ہے۔ اس میں کسی قسم کی کوئی قباحت نہیں۔ ➊ فقیہ الامت، امام بخاری رحمہ اللہ (۱۹۴-۲۵۶ھ) نے اس حدیث کو ”کتاب الا جارۃ“ (اُجرت کے بیان) اور ”کتاب الطبّ“ (علاج کے بیان) میں ذکر کر کے یہ ثابت کیا یہ کہ قرآن کریم اور دینی امور پر اجرت لینا جائز ہے۔ ٭ شارح صحیح بخاری، علامہ ابوالحسن، علی بن خلف، ابن بطال رحمہ اللہ (م: ۴۴۹ھ) اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: «ولا فرق بين الأجرة على الرقَى، وعلى تعليم القرآن ؛ لأن ذلك كله منفعة . وقوله عليه السلام: ”إن أحق ما أخذتم عليه أجرًا ؛ كتاب الله“ هو عام يدخل فيه إباحة التعليم وغيره.» ”دم کے معاوضے اور قرآن کریم کی تعلیم پر اجرت میں کوئی فرق نہیں کیونکہ دونوں معاملات منفعت پر مبنی ہیں، نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اجرت لینے کے حوالے سے سب سے بہترین چیز کتاب اللہ ہے، یہ فرمان عام ہے اور اسں میں تعلیم وغیرہ پر اجرت کا جواز بھی شامل ہے۔“ [شرح صحیح البخاری: 6/ 406، مکتبة الرشد، الریاض، 2003ء] ٭مشہور حنفی، علامہ ابو محمد، محمود بن احمد، عینی (۷۶۲۔۸۵۵ھ) صحیح بخاری کی شرح میں لکھتے ہیں: «مطابقته للترجمة من حيث إن فيه جواز الأجرة لقرائة القرآن، وللتعليم أيضا، وللرقيا به أيضا لعموم اللفظ.» ”اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس طرح سے ہے کہ اس میں قرآن کریم پڑھ کر، اس کی تعلیم دے کر اور اس کا دم کر کے اجرت لینے کا جواز ہے، کیونکہ حدیث کے الفاظ میں عموم ہے۔“ [عمدة القاري شرح صحيح البخاري:95/12، دار إحياء التراث العربي، بيروت] ٭علامہ محمد بن اسماعیل، امیر صنعانی رحمہ اللہ (۱۰۹۹۔۱۱۸۲ھ) لکھتے ہیں: «وذكر البخاري لهذه القصة فى هذا الباب وإن لم تكن من الأجرة على التعليم وإنما فيها دلالة على جواز أخذ العوض فى مقابلة قراءة القرآن لتأييد جواز أخذ الأجرة على قراءة القرآن تعليماً أو غيره إذ لا فرق بين قراءته للتعليم وقراءته للطب.» ”امام بخاری رحمہ اللہ نے اس قصہ کو قرآن کریم پر اجرت کے بیان میں ذکر کیا ہے۔ اگرچہ اس حدیث میں تعلیم پر اجرت کا بیان نہیں ہوا، لیکن اس میں قرآن کریم پڑھنے کے بدلے معاوضہ لینے کا ذکر ضرور ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے تعلیم یا کسی دوسرے مقصد (علاج) کے لیے قرآن کریم کی قرأت پر اجرت جائز قرار دینے کے لیے اس حدیث کو بیان کیا ہے، کیوں کہ تعلیم یا علاج کے لیے قرآن کریم پڑھنے میں کوئی فرق نہیں۔“ [سبل السلام في شرح بلوغ المرام: 117/2، دارالحديث] ➋ اہل سنت کے سرتاج، امام شافعی رحمہ اللہ (۱۵۰-۲۰۴ھ) سے نقل کرتے ہوئے امام ترمذی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: «ورخص الشافعي للمعلم أن يأخذ على تعليم القرآن أجرا، ويري له أن يشترط على ذلك، واجتج بهذا الحديث.» ”امام شافعی رحمہ اللہ نے مُعَلِّم کے لیے رخصت دی ہے کہ وہ قرآن کریم کی تعلیم کے عوض اجرت لے سکتا ہے۔ وہ اس کے لیے (پیشگی) طے کرنا بھی جائز سمجھتے ہیں۔ امام صاحب نے اسی حدیث سے استدلال فرماتے ہے۔ [سنن الترمذی، تحت الحدیث: 2063] ➌ فقیہہ و محدث، حافظ، ابو سلیمان، حمد بن محمد خطابی رحمہ اللہ (۳۱۹۔۳۸۸ھ) لکھتے ہیں: اس حدیث سے قرآن کریم کی تعلیم پر اجرت لینے کا جواز بیان ہوا ہے۔ اگر یہ حرام ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو یہ بکریاں واپس کرنے کا حکم فرماتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس فعل کو درست قرار دیا اور فرمایا کہ تم نے اچھا کیا ہے، نیز اس اجرت کو بھی پسند فرمایا جو انہوں نے لی تھی، مزید یہ بھی فرمایا کہ اپنے ساتھ میرا حصہ بھی نکالو، تو ان سب باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ دینی امور پر اُجرت بہر صورت جائز ہے۔ [معالم السنن:101/3، المطبعة العلمیّة، حلب، 1932ء] ➍ امام ابن حبان رحمہ اللہ (م:۳۵۴ھ) نے اس حدیث پر یوں باب قائم کیا ہے: «ذكر الإخبار عن إباحة المرء الأجرة على كتاب الله جل وعلا.» ”کتاب اللہ پر اجرت لینے کے جواز پر دلالت کرنے والی حدیث کا بیان۔“ [صحيح ابن حبان:546/11، قبل الحديث:5146، مؤسسة الرسالة، بيروت،1993ء] ➎ حافظ علی بن احمد بن سعید، ابن حزم رحمہ اللہ (۳۸۴-۴۵۶ھ) فرماتے ہیں: ”قرآن کریم اور حدیث کی تعلیم پر ماہانہ یا یک مشت اجرت لینا سب جائز ہے۔ نیز دم کرنے، مصاحف (قرآن کریم) لکھنے اور کتب احادیث کی کتابت کرنے کی اجرت بھی جائز ہے، کیوں کہ اس سے ممانعت کی کوئی دلیل (وحی الٰہی میں) وارد نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس اس کا جواز ثابت ہے، جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی سند سے ہمیں بیان کیا گیا ہے۔“ [المحلّٰی بالآثار:18/7، دارالفکر، بیروت] ➏ امام بیہقی رحمہ اللہ (۳۸۴-۴۵۸ھ) کی باب بندی کے الفاظ یہ ہیں: «باب أخذ الأجر علی كتاب الله تعالیٰ.» کتاب اللہ پر اجرت لینے کا بیان۔ [السنن الکبریٰ:397/7، دارالکتب العلمیة، بیروت، 2003ء] ٭نیز ایک مقام پر یوں رقم طراز ہیں: «باب أخذ الأجرة علی تعليم القرآن والرقية به.» ”قرآن کریم کی تعلیم اور دم پر اجرت لینے کا بیان۔“ [ایضاً: 205/6] ➐حافظ ابو محمد، حسین بن مسعود بغوی رحمہ اللہ (م: ۵۱۶ھ) فرماتے ہیں: اس حدیث میں دلیل ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم پر اجرت لینا اور اسے طے کرنا جائز ہے۔ امام عطاء بن ابو رباح اور امام حکم بن عتیبہ کا یہی مذہب ہے۔ امام مالک، امام شافعی اور ابو ثور رحمہم اللہ یہی فرماتے ہیں۔ امام حکم تو فرماتے ہیں: میں نے کسی بھی فقیہ کو دینی امور پر اجرت کو مکروہ کہتے نہیں سنا۔ اس حدیث میں یہ دلیل بھی ہے کہ قرآن کریم اور ذکر الٰہی کے ساتھ دم کیا جا سکتا ہے اور اس پر اجرت لینا بھی جائز ہے۔ [شرح السنة:268/8، المكتب الإسلامي، بيروت، 1983] ➑ شارح صحیح مسلم، حافظ ابو زکریا، یحییٰ بن شرف نووی رحمہ اللہ (۶۳۱۔۶۷۶ھ) اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ان سے بکریاں لے لو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ نکالو، اس بات میں صریح ہے کہ سورہ فاتحہ اور ذکر الہیٰ کے ذریعے دم کرنے کی اجرت لینا جائز و حلال ہے، اس میں کوئی کراہت نہیں۔ یہی حکم قرآن کریم کی تعلیم کا بھی ہے۔ امام شافعی، امام مالک، امام احمد، امام اسحاق بن راہویہ، امام ابوثور، دیگر اسلاف اور بعد میں آنے والے اہل علم کا یہی مذہب تھا۔ ہاں، امام ابو حنیفہ نے قرآن کریم کی تعلیم پر اجرت سے منع کیا ہے،البتہ دم پر اجرت کی انہوں نے بھی اجازت دی ہے۔“ [المنھاج شرح مسلم بن الحجاج:188/14، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1392ھ] ➒ مشہور مفسر، علامہ، ابو عبداللہ، محمد بن احمد قرطبی رحمہ اللہ (۶۰۰-۶۷۱ھ) لکھتے ہیں: ”قرآنی تعلیم پر اجرت لینے کو امام مالک، شافعی، احمد بن حنبل، ابوثور اور اکثر علما جائز قرار دیتے ہیں، کیوں کہ صحیح بخاری میں مذکور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی دم والی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مذکور ہے کہ سب سے بہترین اجرت وہ ہے جو کتاب اللہ پر لی جائے۔ یہ فرمان نبوی نص ہے، جو اختلاف کو ختم کر رہی ہے، لہٰذا اس پر اعتماد کرنا ضروری ہے۔“ [الجامع الأحكام القرآن تفسير القرطبي:335/1، دارالكتب المصرية، القاھرة،1964ء] کیا یہ حق ضیافت تھا؟ بعض لوگ اس حدیث سے صریحاً ثابت ہونے والے مسئلے کا انکار کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ بکریاں دم کی اجرت کے طور پر نہیں بلکہ حق ضیافت کے طور پر لی گئی تھیں، کیونکہ انہوں نے ضیافت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ٭پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسا کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح الفاظ کے صریحا خلاف ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صریح الفاظ میں نہ صرف قرآن کریم کی اجرت کہا، بلکہ اسے بہترین اجرت بھی قرار دیا۔ ٭دوسری بات یہ ہے کہ اس حدیث کے کسی بھی طریق میں ایسا کوئی لفظ موجود نہیں جس سے صحابہ کرام کا حق ضیافت کے طور پر بکریاں لینا ثابت ہوتا ہو۔ اسلاف امت میں سے بھی کسی نے کوئی ایسی بات نہیں کی۔ ٭تیسری بات یہ ہے کہ اسلاف امت اور فقہائے اسلام نے اسے دم کی اجرت ہی قرار دیا ہے، حق ضیافت نہیں۔ ٭ اصل بات یہ ہے کہ اگرچہ ان لوگوں نے حق ضیافت دینے سے انکار کیا تھا، لیکن صحابہ کرام نے ان سے حق ضیافت نہیں، بلکہ دم کا معاوضہ لیا تھا۔ ایک حدیث سے استدلال: بعض لوگ اس حدیث کو پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إن نزلتم بقوم فامر لكم بما ينبغي للضيف فاقبلوا فإن لم يفعلوا فخذوا منهم حق الضيف.» ”اگر تم کسی قوم کے پاس پڑاؤ ڈالو اور تمہیں مہمان کے شایان شان ضیافت مل جائے تو قبول کر لو، اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان سے حق مہمان (زبردستی) لو۔“ [صحيح بخاري:2461] اس حدیث سے استدلال کر کے کہا جاتا ہے کہ اس حدیث کے پیشِ نظر مذکورہ واقعہ میں صحابہ کرام نے بکریاں وصول کیں۔ لیکن ایسا کہنا سراسر غلط ہے، کیوں کہ: ➊ اس حدیث پر عمل کی صورت میں تو صحابہ کرام، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مبارک پر عمل کرتے ہوئے ان لوگون سے فوراً اور زبردستی حق ضیافت وصول کرتے۔ اس کے لیے دم کر کے بکریاں لینے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ اگر ان کے سردار کو موذی چیز نہ ڈستی تو کیا صحابہ کرام مذکورہ بالا فرمان نبوی کی (معاذ اللہ) مخالفت ہی کرتے! ➋ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ صحابہ کرام نے حق ضیافت ہی لیا تھا، قرآن کریم کی اجرت نہیں، تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا کیا مطلب ہو گا، جو آپ نے یہ واقعہ سننے کے بعد ارشاد کیا کہ قرآن کریم پر لی جانے والی اجرت سب سے بہترین ہوتی ہے؟ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے قرآن کی اجرت قرار دے رہے ہیں تو کسی امتی کا اسے حق ضیافت قرار دینا کیسے درست ہو سکتا ہے؟ ➌ ویسے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی عام ہے اور یہ واقعہ خاص۔ اگر بالفرض بکریاں حق ضیافت بھی تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان قرآن کریم کی اجرت کو جائز قرار دے رہا ہے، جو کہ ہمارے لیے واضح دلیل ہے۔ ٭ حافظ ابوعبداللہ، محمد بن احمد بن عثمان ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے بعض اصحاب نے اس حدیث کا جواب یہ دیا ہے کہ۔۔۔ حق ضیافت فرض تھا، لیکن انہوں نے ضیافت نہ کی۔۔۔ میں کہتا ہوں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمومی فرمان پر عمل کریں گے، نہ کہ خاص سبب پر۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (عمومی طور پر) فرمایا: بلاشبہ سب سے بہترین چیز جس پر تم اجرت لے سکتے ہو، وہ کتاب اللہ ہے۔ [تنقيح التحقيق في أحاديث التعليق:132/2، دارالوطن، الرياض،2000ء] اگر عدل و انصاف کا خون اور اسلاف امت کی تکذیب کرتے ہوئے بزور تاویل اس حدیث میں معاوضے کو حق ضیافت قرار دے بھی لیا جائے تو سیدنا علاقہ بن صحار رضی اللہ عنہ کی حدیث کا کیا ہو گا؟ انہوں نے بھی دم کے معاوضے میں ایک سو بکریاں لیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کیا تو آپ نے اسے دم ہی کی اجرت قرار دیتے ہوئے خلعت جواز پہنائی۔ انہوں نے نہ تو حق ضیافت طلب کیا نہ لوگوں نے انہیں دینے سے انکار کیا! کتابت مصاحف اور ان کی خرید و فروخت: دور قدیم میں مصاحف کی نقول تیار کرنے کے لیے کتابت کروائی جاتی تھی، موجودہ دور میں ایک دفعہ کتابت اور پھر طباعت کروائی جاتی ہے۔ اس میں بھی اجرت دینی لینی پڑتی ہے، جب کہ نقول تیار ہونے کے بعد بھی خرید و فروخت کے مرحلے سے گزر کر ہی عوام الناس تک پہنچتی ہیں۔ اس اجرت کے جواز پر صحیح بخاری و صحیح مسلم کی مذکورہ احادیث سے دلیل لیتے ہوئے: ◈ معروف فقیہ و محدث، حافظ، ابو سلیمان، حمد بن محمد، خطابی رحمہ اللہ (319۔388ھ) فرماتے ہیں: «وفي الحديث دليل علي جواز بيع المصاحف واخذ الاجرة علي كتبها، وفيه اباحة الرقية بذكر الله في اسمائه، وفيه اباحة اجر الطبيب والمعالج، وذلك ان القرائة والرقية والنفث فعل من الافعال المباحة، وقد اباح له اخذ الاجرة عليها، فكذلك ما يفعله الطبيب من قول ووصف وعلاج، فعل لا فرق بينها۔» ”اس (دم پر بکریاں لینے والی) حدیث میں یہ دلیل ہے کہ مصاحف کی خرید و فروخت اور ان کی کتابت پر اجرت لینا جائز ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بابرکت ناموں کو پڑھ کر دم کرنا جائز ہے، نیز طبیب و معالج کی اجرت کا بھی جواز ہے، کیوں کہ قراءت، دم اور پھونک جائز ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کاموں پر اجرت کو جائز قرار دیا ہے۔ اسی طرح طبیب جو مشورے (بیماری کی) تفصیلات اور علاج تجویز کرتے ہیں، وہ بھی فعل ہیں۔ اس فعل اور ان افعال میں کوئی فرق نہیں، جن پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجرت کو جائز قرار دیا۔“ [معالم السنن:101/3، المطبعة العلميّة، حلب، 1932ء] صحابہ و تابعین کی متفقہ رائے: ◈ امام شعبہ بن حجاج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: «سألت معاوية عن أجر المعلم، فقال: أري له أجرا، قال شعبة: وسألت الحكم، فقال: لم أسمع أحدا يكرهه.» ”میں نے معاویہ بن قرہ تابعی رحمہ اللہ سے معلم کی اجرت کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے فرمایا: میں اس کے لیے اجرت کو جائز سمجھتا ہوں۔ میں (شعبہ) نے حکم بن عتیبہ تابعی سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں نے کسی بھی (صحابی یا تابعی) فقیہ کو اسے ناپسندیدہ کہتے نہیں سنا۔“ [مسند على بن الجعد، الرقم:1103۔1105، موسسة نادر، بيروت، 1990، و سنده صحيح] ◈ خالد حذا تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: «سألت أبا قلابة عن المعلم يعلم، ويأخذ أجرا، فلم يربه بأسا.» ”میں نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید تابعی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ ایک معلم تعلیم دے کر اجرت لیتا ہے، تو (یہ ناجائز ہے؟)، لیکن انہوں نے اس میں کوئی حرج خیال نہیں کیا۔“ [المصنف فى الأحاديث ولآثار:340/4، الرقم:20831، مكتبة الرشد، الرياض 1409ه، وسنده صحيح] ↰ بعض اہل علم نے اجرت نہ لینے کو اختیار کیا، تو اسے حرام سمجھنے کی وجہ سے نہیں، بلکہ نہ لینے کو بہتر سمجھنے کی وجہ سے۔ البتہ اسے حرام قرار دینے کا نظریہ صحابہ و تابعین میں سے کسی ایک نے بھی اختیار نہیں کیا۔ قارئین ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ اہل سنت اتفاقی طور پر دینی امور پر اجرت کو جائز کہتے ہیں۔ صرف متقدمین احناف اس کو ناجائز کہتے ہیں۔ ◈ شارح صحیح بخاری، حافظ، ابوالفضل، احمد بن علی بن محمد، ابن حجر، عسقلانی رحمہ اللہ (773۔852ھ) فرماتے ہیں: «وقد نقل عياض جواز الاستئجار لتعليم القرآن عن العلماء كافة، إلا الحنفية.» ”قاضی عیاض رحمہ اللہ نے قرآن کریم کی تعلیم پر اجرت کا جائز ہونا تمام علمائے کرام سے نقل کیا ہے، سوائے احناف کے۔“ [فتح الباري شرح صحيح البخاري:213/9، دار المعرفة، بيروت، 1379ه] اور یہ متقدمین احناف بھی قرآنی دم کی اجرت لینا جائز سمجھتے ہیں، جیسا کہ: ◈ علامہ، ابو جعفر، احمد بن محمد بن سلامہ، طحاوی رحمہ اللہ (238۔ 321ھ) سے نقل کرتے ہوئے علامہ، عینی حنفی (762۔855ھ) لکھتے ہیں: «وقال الطحاوي: ويجوز الأجر على الرقى، وإن كان يدخل فى بعضه القرآن.» ”امام طحاوی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دم کی اجرت لینا جائز ہے، اگرچہ بعض دم قرآن کریم پر مشتمل ہوتے ہیں۔“ [عمدة القاري شرح صحيح بخاري 96/12، دار احياء التراث العربي، بيروت]    ماہنامہ السنہ جہلم، شمارہ 79، حدیث\صفحہ نمبر: 13

Ref: https://al-hadees.com/muslim/5733

لیذا دم کرنا اور اس پر اجرت (فیس) لینا جائز ہے۔ محمد رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر چہ کسی صحابی پر دم کرکے معاوضہ وغیرہ نہیں لیا، تاہم دم کے عوض طے شدہ فیس کے متعلق یہ ضرور فرمایا تھا کہ میرا بھی اس  میں حصہ رکھو، جیسا کہ ثبوتوں سے ثابت کیا جاچکا ہے۔

اب جاو اور جاکر کانفیڈینس کے ساتھ اپنا فری لانسنگ بزنس شروع کرو اور ہوسکے تو ان احادیث کے نمبرز یا متن کو یاد کرلو واقعات کے طور پر تاکہ یاد رکھ سکو اور منہ توڑ جواب دے سکو ان جاہلوں کو جو تم پر اعتراض کرنے سامنے آئیں۔

لیجنڈری فری لانسر ذیشان ارشد