ہفتہ، 12 اپریل، 2025

کیا اسرائیلی پراڈکٹ کا بائیکاٹ کرنا درست عمل ہے؟

"بائیکاٹ: غیرت یا جذباتی خودفریبی؟"

جب ہم کہتے ہیں کہ "ہم اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کر رہے ہیں", تو کیا ہم واقعی ظلم کے خلاف کھڑے ہیں — یا صرف سوشل میڈیا پر نعرے مار کر دل کو تسلی دے رہے ہیں؟

1. بائیکاٹ — سنت کے مزاج میں ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنو نضیر کے درخت کاٹے، ان کے معاشی غرور کو توڑا — یہ صرف جنگی چال نہیں تھی، یہ ایک پیغام تھا:
"جو ظلم کرے گا، ہم اس کے نظام کو چیلنج کریں گے۔"

تو جی ہاں — ظالم کا معاشی بائیکاٹ سنت کے مزاج میں ہے — اگر وہ شعور، اتحاد اور قربانی کے ساتھ ہو۔


2. مگر صرف کھانے کا بائیکاٹ کیوں؟

یہ سوال ہر شعور والے دل میں آتا ہے:

  • کوک، میکڈونلڈز، نیسلے — ہاں، ان کا بائیکاٹ!

  • مگر...

    • آئی فون کیوں نہیں چھوڑا؟

    • گوگل، یوٹیوب، فیس بک کیوں استعمال ہو رہے ہیں؟

    • اسرائیلی ٹیکنالوجی پر بنی ویکسینز، چپس، سافٹ ویئر کیوں چل رہے ہیں؟

یہ دو نمبری نہیں تو کیا ہے؟

بائیکاٹ اگر غیرت ہے، تو صرف من پسند چیزیں چھوڑنا غیرت نہیں — نفاق ہے۔


3. بائیکاٹ کیسے ہو؟

  • صرف جذباتی نہیں — معلوماتی بائیکاٹ ہو۔

  • صرف آسان چیزیں نہیں — تکلیف دہ چیزیں بھی چھوڑنے کا حوصلہ ہو۔

  • صرف "وہ نہ کھاؤ" نہ کہا جائے — بلکہ "یہ مت سوچو، یہ مت پہنو، یہ مت دیکھو" بھی کہا جائے۔

  • صرف بائیکاٹ نہ کرو — متبادل پیدا کرو۔


4. نتیجہ:

اگر تم صرف کوک نہ پینے کو اپنی غیرت سمجھتے ہو، مگر اسرائیلی موبائل، سافٹ ویئر، برین واشنگ کلچر کو سینے سے لگائے رکھتے ہو —
تو یہ غیرت نہیں، خودفریبی ہے۔

امت کو بیدار کرو — مگر پورے سسٹم کے خلاف۔
صرف روٹی نہیں، سوچ بھی آزاد کرو۔


#BoycottWithIqra #امت_جاگ_اٹھو #سنت_مقابلہ_نظام_ظلم #مسلمشعور #FakeNonFakeBoycott