منگل، 10 جون، 2025

FOUT SHUDA Auliya Say MADAD Mangna? | MARNAY Kay Baad TAQAT Barh Jati Hai? | Mufti Kamran Shahzad

یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے۔ قرآن سے دلیل مانگنا اور اسے قبول کرنا ایک عقل والے انسان کے لیے ہی ممکن ہے۔ اللہ نے اپنی راہ میں قتل ہوجانے والوں کو "زندہ" declare کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اللہ نے دعوی کیا ہے کہ تمہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ البقرہ اور آل عمران میں یہ دونوں آیات موجود ہیں شہدائے اسلام کے حوالے سے۔ ان کی زندگی کا شعور ہر اس انسان کو حاصل نہیں جسے شعور نہیں۔ جو شعور رکھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ موت کے بعد بھی انہیں زندہ declare کرنے کے کوئی reasons ہیں۔ اس کی اعلی مثال شاہ یقیق بابا المعروف روحانی سرجن کی روح ہے جو عالم برزخ میں ہونے کے باوجود اسی physical world میں تصرفات کرتی ہے اور لاعلاج مریضوں کا علاج اور آپریشن سرجریاں کررہی ہے۔ کسی بھی کافر کی روح ایسا نہیں کرپارہی کیونکہ تمام کفار موت کے بعد عذاب میں گرفتار ہیں۔ یہ ہوتا ہے فرق ایک کافر اور مومن کی روح میں۔ اللہ نے یہ اختیار شاہ یقیق بابا کو دیا ہے۔ وہ ایسا کرنے پر قادر ہیں۔

اب سنو اگلی پھکی۔۔۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرنے کے لیے حضرت موسی علیہ السلام عالم برزخ سے کیسے آگئے تھے آسمانوں پر جبکہ ایک انتقال شدہ نبی تھا اور ایک زندہ نبی تھا؟ اور سنو۔۔۔ وہ تمام انبیاء مسجد اقصی میں نماز باجماعت ادا کرنے کیسے پہنچ گئے تھے جبکہ وہ تو مردہ تھے؟ (سوائے حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کے جنہیں اللہ نے زندہ رکھا ہو) کیا مردے بھی زندہ انسان کی قیادت میں نماز ادا کرتے ہیں کسی مسجد میں کھڑے ہوکر؟ یا ایک زندہ انسان روحوں کی جمات کرواسکتا ہے؟ قرآن میں بہت سے واقعات ہیں جو عقل سے خارج ہیں۔ اگر physical resources رکھنے والا انسان موبائل فون ہاتھ میں لے کر کسی سے مدد مانگ سکتا ہے تو وہ شخص جو spiritual resources رکھتا ہو وہ اپنی ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی روح سے بات چیت کرکے مدد مانگ سکتا ہے۔ یہ کوئی ایسی مشکل بات نہیں جسے سمجھنا مشکل ہو۔ اور ہاں جس انسان کے پاس نہ فزیکل ریسورسز ہوں اور نہ اسپریچوئل ریسورسز ہوں وہ بہتر ہے کہ صرف اللہ ہی سے مدد مانگے کیونکہ وہ مجبور ہے۔ اور کون کتنا مجبور اور بے بس ہے یہ اس کے حالات پر depend کرتا ہے۔ جس کے پاس نہیں ہے وہ مدد نہیں مانگ سکتا، جس کے پاس ہے، وہ مدد مانگ سکتا ہے۔ یہ فزیکل اور اسپریچوئل صرف سمجھانے کے لیے ہے۔ مطلقا صرف اللہ سے مدد ہی سب سے بہتر ہے اور پھر اللہ جس کے ذریعے چاہے کام کروادیتا ہے، چاہے انسانوں کے ذریعے/چاہے جنات کے ذریعے/چاہے فرشتوں کے ذریعے/چاہے پوری کائنات میں جس چیز کو چاہے استعمال کرنے کے ذریعے یا پھر براہ راست اپنی طاقت اور قدرت سے کام کردے۔ یہ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔
ڈاکٹر لیجنڈ محمد ذیشان ارشد