بدھ، 16 ستمبر، 2026

چار پرندوں کا قیمہ یا ذہنی تربیت کا سائنسی طریقہ؟

 یہ پوسٹ دراصل قرآنی نص اور مسلمہ مفسرین کے اجماع سے فرار کا ایک ایسا بھونڈا نمونہ ہے جسے عقل و تدبر کا نام دے کر دراصل قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں کا خون کیا گیا ہے۔ اس نام نہاد "جدید تحقیق" اور علم کی چادر اوڑھے ہوئے شخص کی پوسٹ کی دھجیاں اڑانے کے لیے اس کے دعووں کا پوسٹ مارٹم ملاحظہ فرمائیں:


1. لغتِ عرب اور لفظ "فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ" کا جھوٹا مفہوم

موصوف نے سورۃ البقرہ (آیت 260) کے الفاظ "فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ" کا مطلب "مانوس کرنا اور تربیت دینا" بتایا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس کا مطلب ذبح کرنا یا ٹکڑے کرنا ہرگز نہیں۔

حقیقت: قرآن کی بنیادی لغت اور عربی کے معتبر لغوی مآخذ (جیسے المنجد، لسان العرب اور تاج العروس) اٹھا کر دیکھ لیں؛ "صَارَ - يَصُورُ" یا "صَرَا - يَصْرُو" کا ایک معروف معنی کاٹنا، ٹکڑے کرنا اور اپنی طرف کھینچنا بھی ہے۔ امام ابنِ عباس، مجاہد، عکرمہ، قتادہ اور امام سدی سمیت تمام جلیل القدر سلف مفسرین کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہاں اس کا مطلب پرندوں کو ذبح کرنا، ان کے ٹکڑے کرنا اور انہیں آپس میں خلط ملط کرنا ہی ہے۔ خود قرآن کے اگلے ہی الفاظ اس کی گواہی دے رہے ہیں: "ثُمَّ اجْعَلْ عَلَىٰ كُلِّ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْءًا" (پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک حصہ رکھ دو)۔ اگر یہ صرف "تربیت" تھی تو گوشت اور ٹکڑے کرنے کا حکم کہاں گیا؟ کیا کوئی عقل کا اندھا بھی یہ مان سکتا ہے کہ پرندوں کو زندہ پہاڑوں پر چھوڑ کر آنا "ٹکڑے کرنے" کے زمرے میں آتا ہے؟

2. معجزات کا انکار اور مادی قوانین کی غلامی

موصوف کا اصل درد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مادی قوانین کو معطل کیسے کر سکتا ہے؟ وہ یہ ہضم نہیں کر پا رہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ معجزات کو "جادو" اور "خرافات" کہہ کر دراصل مغربی مادیّت (Materialism) کے سامنے سرنگوں ہو چکے ہیں۔

حقیقت: اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مردوں کے زندہ کرنے کا جو طریقہ دکھایا وہ کوئی مادی تجربہ نہیں بلکہ ایک کھلا معجزہ تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سوال ہی یہ تھا: "رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ" (اے میرے رب! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے؟)۔ اللہ نے فرمایا: "أَوَلَمْ تُؤْمِنْ" (کیا تم ایمان نہیں لائے؟) تو انہوں نے عرض کیا: "بَلَىٰ وَلَٰكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي" (ایمان تو ہے، لیکن قلب کا اطمینان مقصود ہے)۔ اب بتائیے! اگر یہ صرف پرندوں کو مانوس کرنے کا ایک عام سا "پراجیکٹ" یا "ٹریننگ سیشن" تھا، تو اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل کو مردوں کے زندہ ہونے کا کیا اطمینان ملتا؟ کیا روزمرہ کی ٹریننگ سے کوئی مردہ زندہ ہو کر دکھ سکتا ہے؟ یہ عقل نہیں بلکہ کھلی حماقت ہے جو معجزے کے تصور کو ہی مسخ کر رہی ہے۔

3. فرضی سیاسی و سماجی فلسفہ اور تحریفِ معنوی

موصوف نے اس آیت کو گھسیٹ کر "مری ہوئی قوموں کی سیاسی اور نظریاتی تربیت" کا درس بنا ڈالا ہے تاکہ اپنے قاریئرز کو کوئی نیا "روشن خیال" فلسفہ بیچ سکیں۔

حقیقت: قرآن کے واضح بیانات کو اپنے خود ساختہ نظریات کے تابع کرنا صریح تحریف ہے۔ آیاتِ قرآنی کا سیاق و سباق صاف کہتا ہے کہ بات موت کے بعد حشر اور جسموں کے دوبارہ زندہ ہونے کی ہو رہی ہے، جسے مادی پرستوں اور منکرینِ آخرت کے لیے ایک محسوس مثال سے سمجھایا گیا۔ پرندوں کے قیمے کو آپس میں خلط ملط کر کے پہاڑوں پر رکھنے اور پھر آواز دینے سے ان کے اجزاء کا دوبارہ جمع ہو کر آنا، قیامت کے دن روحوں کا اپنے جسموں کی طرف پلٹنے کی ایک عملی تمثیل (Demonstration) تھی۔ اسے "قوموں کی ٹریننگ" بنا دینا قرآنی فہم کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔

4. سلفِ صالحین پر تہمت اور فکری سرقات

ان حضرات کا پسندیدہ شیوہ یہ ہوتا ہے کہ ہر اس روایت کو جو ان کے عقل کے محدود پیمانے پر پوری نہ اترے، اسے "ایرانی مجوسیوں اور اسرائیلی روایات" کا نام دے کر مسترد کر دو۔

حقیقت: کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین بھی "مجوسی" تھے جو اس آیت کی تفسیر پرندوں کے ذبح ہونے اور گوشت ملانے کے طور پر کرتے رہے ہیں؟ یہ نام نہاد "جدید محقق" دراصل مغرب سے درآمد شدہ انکارِ معجزات کے فکری فضلات کو خوبصورت عربی الفاظ اور ماڈرن ٹرمینالوجی میں لپٹی کر اپنے سادہ لوح ریڈرز کو بیچ رہے ہیں تا کہ وہ خود کو بہت بڑا "فکرِ نو" کا علمبردار ثابت کر سکیں۔

نتیجہ (اس جاہل کا اصل چہرہ)

جس شخص نے یہ پوسٹ لکھی ہے وہ نہ تو عربی زبان کی بنیادی گرامر اور لغت سے واقف ہے اور نہ ہی اسے قرآنی سیاق و سباق کی کوئی تمیز ہے۔ یہ محض عقل پرستی کی وہ بیمار لہر ہے جو دین کو اپنی عقل کے طویل صوفے پر بٹھا کر کاٹ چھانٹ کرنا چاہتی ہے۔ جو شخص مادی قوانین کے خوف میں مبتلا ہو کر انبیاء کے معجزات کو جھٹلائے اور قرآنی نصوص کو من مانے معنی پہنائے، اس سے بڑا جاہل اور فکری یتیم اس دور میں کوئی نہیں ہو سکتا۔ اس کے ریڈرز کو چاہیے کہ اس کی اس علمی دجل و فریب سے ہوشیار رہیں اور دین کو ان نیم خواندہ "محققین" کے بجائے مستند مفسرین سے سمجھیں۔