منگل، 10 نومبر، 2020

چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ آنا،،، ایک نفسیاتی بیماری ہے؟

یہ ہرگز کوئی بیماری نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ڈس آرڈر ہے۔ ایک انسان کو جب چاروں طرف سے زہریلے طنز و تنقید کے تیر چلا چلاکر ذخمی کیا جائے گا تو وہ ضرور بولے گا۔

اس ٹائپ کے لوگ ذہین ترین اور غور و فکر کرنے والے ہوتے ہیں جنہیں سوسائٹی کے بہت سے بودے لوگ سمجھنے سے محروم ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنی عقل استعمال کرنے کے بجائے روایتی زندگی گزارنے کے شوقین ہوتے ہیں کہ کھالیا، پی لیا، سو لیا اور مزے کرکے مرگئے۔

معاشرے کے بودے لوگ ذہین لوگوں کو سکون سے بھی نہیں رہنے دیتے اور ان کی باتوں کو سن کر انہیں الٹا نفسیاتی قرار دیتے رہتے ہیں۔

اصل نفسیاتی تو سوسائٹی میں وہ سب ہیں جو خاموش طبعت لوگوں کو دبا کر، ملیامیٹ کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں اور پھر شرم بھی نہیں آتی کہ انہیں ذہنی مریض قرار دے کر پاگل کہتے ہیں۔

بند کرو یہ تماشہ ذہین لوگوں کے خلاف۔

بدھ، 18 مارچ، 2020

محمدﷺ کا وجود

 12 ربیع الاول  کے دن یہ ویڈیو لیکچر دنیا کے تمام انسانوں کے سردار اور محبوب رب العالمین جناب محمد رسول اعظم ﷺ کی عظمت، بڑائی، شان، سچائی ، وجود اور کردار کے حوالے سے ایک بہترین ویڈیو لیکچر ہے جس میں ان کے دنیا میں آنے اور وجود پر شک و شبہات پیدا کرنے والے دشمن اسلام کو منہ توڑ جواب دیا گیا ہے۔

اس ویڈیو میں حضرت محمد ﷺکے وجود پر ناقابل شکست ثبوت بیان کیے گئے ہیں جنہیں کبھی شکست نہیں دی جا سکتی۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رسالت پر اللہ کے فضل سے ایسی دلیل جسے ابلیس بھی شکست نہیں دے سکتا اور دنیا کا بڑے سے بڑا جادوگر یا جھوٹی نبوت کا دعویدار اور اس کے تمام پیروکار ملکر بھی اس پریکٹیکل ثبوت کو شکست نہیں دے سکتے۔

حضور نبی کریم ﷺؤ کی پیدائش اور انتقال ہوجانے کے حوالے سے بھی اس ویڈیو میں بات کی گئی ہے۔ یہ ویڈیو میلاد النبی 2019 کے دن اللہ کے فضل و کرم سے  بنائی گئی ہے۔

جمعرات، 12 مارچ، 2020

خدا کی تلاش

 
اس ویڈیو میں غیر جانبدار، فطری، ناقابل تردید اور قابل مشاہدہ ثبوتوں کے حوالے سے نظام کائنات، اس کے حقیقی خالق اور اس کے حقیقی مذہب سے پردہ فاش کیا جارہا ہے۔ یہ ویڈیو لیکچر بچے کی پیدائش سے لے کر انسانوں کی موت اور موت کے بعد کے نتائج تک کی مکمل رہنمائی  کے لیے ہے۔ یہ خدا کے وجود پر بہترین ویڈیو لیکچر ہے۔

ہماری جدید نسل اور نوجوان خالق کائنات سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور وہ مذہب کے بغیر مادیت پسند زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف عقلمند ہونے کے دعویدار اور سچائی کے متلاشی نوجوان زندگی میں سچے خدا کے وجود پر ثبوت تلاش کرنے میں الجھے ہوئے ہیں کیونکہ اس وقت دنیا میں بہت سے ادیان و مذاہب موجود ہیں اور ایک عام آدمی کے لیے مذہبی کتابوں کی خاک چھان کر سچے خدا کو تلاش کرنا بہت زیادہ مشکل ہے کیونکہ کتابوں میں حد سے بڑھ کر جھوٹے خداوں کے نام پر جھوٹی سچی کہانیاں مکس کرکے لوگوں کو صدیوں سے بےوقوف بنایا گیا ہے۔

ملحدین یہ دعویٰ کر تے ہیں کہ کوئی خدا موجود نہیں جبکہ مذہبی پیروکار اپنے اپنے خداؤں کے ناموں پر ایک دوسرے سے صدیوں سے جنگیں لڑ رہے ہیں۔بہت سے روحانی پیشواوں کا حال یہ ہے کہ دعوی کرتے ہیں کہ یہی نیچر دراصل خدا ہے اور کائنات میں خدا نام کی کوئی ہستی موجود نہیں ہے۔

دوسری جانب بہت سے مسلمان اللہ کے وجود، حضرت محمد ﷺ کی رسالت، دین اسلام کی سچائی اور قرآن کی حقیقت کے حوالے سے گمراہ ہوچکے ہیں۔

اب یہ میرے اسٹوڈنٹس کی ذمہ داری ہے  کہ وہ دنیا کے غیرمسلموں کو کائنات کے بادشاہ کے حوالے سے متعارف کرواکر دین اسلام میں داخل کرنے کے لیے اپنی کوشش کریں تاکہ وہ تمام غیرمسلم جو حق کی تلاش میں ہیں وہ کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوجائیں۔

اس ویڈیو میں خدا اور سائنس کے حوالے سے بھی جانکاردی دی گئی ہے۔ 

الحمدللہ رب العالمین
اللہ اکبر، اللہ واحد القہار

جمعہ، 17 جنوری، 2020

اکثر مسلم غیرمسلموں سے خوف ذدہ ہیں

چونکہ اکثر مسلم مذہبی پیشوا اور ان کے پیروکار اپنی بداعمالیوں کو خوب جانتے ہیں اس لیے وہ  اس یقین کامل سے محروم ہیں کہ اللہ آج بھی مردہ زندہ کرسکتا ہے، چاند دو ٹکڑے کرسکتا ہے، سمندر پھاڑ سکتا ہے، پہاڑ بلند کرسکتا ہے، آگ بے اثر کرسکتا ہے، سورج روک سکتا ہےوغیرہ وغیرہ۔

اسی لیے وہ ماضی کی کہانیوں کا سہارا لیتے ہیں۔ اندر سے ڈرتے ہیں اور غیرمسلموں کو معجزات پر چیلنج کرنے کےلیے انتظامات نہیں کرواتے بلکہ الٹا  ہماری مخالفت کرتے اور مذاق اڑاتے ہیں۔ بے شک یہ لوگ خود ہی ایمان کے کمزور اور بزدل ہیں۔

ہفتہ، 14 دسمبر، 2019

عمل کا دارومدار نیت پر ہے اس میں تکبر کیسا؟

 ایسا ہوتا ہی ہے جب ہم خود کو بہت بڑی چیز سمجھ لیتے ہیں اور کسی غرض کے سبب مدد کرتے ہیں۔ 

 چونکہ عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔ جس کی نیت سو فیصد اللہ کو خوش کرنے کے لیے ہو اور عمل کو اس کی توفیق سمجھے وہ ابلیس و نفس کی اس خفیہ چال میں نہیں پھنستا کہ کسی نے "میری، مجھے، میں" کو کیا سمجھا یا نہ سمجھا۔ نہ وہ خود سے اختلاف کرنے والے کو حقارت سے دیکھتا ہے نہ وہ ان کی تعریف و برائی کی خاص پرواہ کرتا ہے۔ وہ بے نیاز ہی رہتا ہے۔ خالق سے لیتا ہے مخلوق میں بانٹ دیتا ہے۔

جب ہم دوسروں کی مدد اپنی اہمیت منوانے کے لیے کرتے ہیں (اور یہ ہمیں خوب علم ہوتا ہے کہ ہمارا نفس کیا چاہتا ہے خواہ  تب یہ احساس نفس میں رہتا ہے کہ میری مدد سے یہ فلاں فلاں کام  کرگیا، یا فلاں فلاں رتبہ حاصل کرگیا اور مجھے ہی اہمیت نہیں دیتا۔ یہ نفس کی خباثت اور چال ہے جسے اکثر مدد کرنے والے گمان کرتے ہیں گویا انہوں نے کمزوروں و مسکینوں پر احسان کردیا۔

جبکہ یہ احسان اللہ  کرتا ہے کہ کسی متکبر کو ذریعہ بنادیتا ہے دوسروں تک مدد کروانے کا۔۔ پھر اس متکبر کی گردن توڑ کر اسے زمین پر رکھواتا ہے تاکہ اسے یہ احساس کروادے کہ اس کی اوقات کچھ بھی نہیں تھی۔ اگر یہ کمزور، مسکین، جاہل اور برے لوگ نہ ہوں تو کوئی نیک، امیر، عالم اس قابل نہ ریے کہ اللہ کو خوش کرسکے بنا اس کی ایسی مخلوق کو فائدہ پہنچائے بغیر۔ بے شک بہت کم لوگ ہی شکر کرتے ہیں اور خود کو مخلوق کا دنیاوی خدا سمجھ بیٹھتے ہ,یں۔

جمعرات، 7 نومبر، 2019

جب انسان خود ہی غصہ میں ہو تو

 جب ایک انسان اپنی بری کارگردی کے سبب زمانے سے مار کھاکر زخمی ہوتا ہے تب اس کے اندر غصہ بھرا ہوتا ہے۔ایسی صورتحال میں وہ کسی کے اچھے کام کی بھی تعریف نہیں کرتا۔بلکہ اگر اس کے سامنے کوئی اچھا کام کرنے والا ہو تو اس سے مزید جلتا ہے اور غصہ کھاتا ہے کیونکہ وہ اپنے طور پر ناکام ہورہا ہوتا ہے اور اس کے سامنے دوسرا کامیاب ہورہا ہوتا ہے۔

یہاں تک کہ ایسے انسان کے سامنے اگر کامیاب ہوتا ہوا انسان گر جائے یا کسی عمل میں نتائج نہ لا سکے تو غصہ کرنے والے کی خوشی میں اضافہ ہوتا ہے کہ اچھا ہوا دوسرے کا بھی نقصان ہوا۔

اتوار، 2 جولائی، 2017

مسلمان الحاد کے مقابلے میں کمزور اور ناکام کیوں ہیں؟

ایک مسلمان صاحب فیس بک پر کہہ رہے تھے کہ ’جر من ملحدتھیوڈونولڈیکے کا یہ اشکال کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں تھا بلکہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنایا تھا بالکل لغو ہے۔اس کے خلاف اچھے خاصے قرآئن موجود ہیں۔‘ اس کے بعد انہوں نے کچھ واقعات پیش کرکے مثالیں دیں۔جس پر بہت سے مسلمانوں نے ملحدوں کا مذاق اڑایا اور انہیں بے وقوف سمجھا۔

ایسے کئی مسلمانوں کی تحریریں میں پڑھتا دیکھتا رہتا ہوں۔یہاں تک کہ ایک مشہور و معروف مسلم اسکالر سے ہزاروں لوگوں کے سامنے جب کسی ملحد نے سوال کیا  کہ ’اللہ نظر کیوں نہیں آتا ، باتیں کیوں نہیں کرتا، ساتھ کیوں محسوس نہیں ہوتا وغیرہ‘ (یعنی وہ ملحد چاہتا تھا کہ اسے اللہ کا وجود ثابت کیا جائے ) تو وہ اسکالر اسے مطمئن کرنے میں میری نظر میں ناکام ہوئے۔کیونکہ ملحد اپنے اطمینان کیلئے اللہ کے وجود پر ثبوت چاہتا تھا جبکہ اسکالر صاحب قرآن کی آیات اور منطق سے اسے مطمئن کرنے میں لگے رہے ۔ظاہر ہے وہ ملحد زیادہ بات نہیں کرسکا کیونکہ اسے موقع نہیں دیا گیا (جبکہ وہ شک میں گرفتار رہا)۔

اس لیے میں بس اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ ہم مسلمان اپنے آپ کو جھوٹی تسلی دے سکتے ہیں مگر چونکہ اپنی گلی میں کتا بھی شیر ہوتا ہے اس لئے ہم اپنے حلقہ احباب میں ملحدین کو دین اسلام کیلئے مطمئن کرنے کی حقیقی کوشش کئے بغیر انہیں جتنا مرضی برا بھلا کہتے یا سمجھتے رہیں وہ فضول ہے۔

اسی طر ح ہندو ، عیسائی وغیرہ بھی مسلمانوں کیلئے بہت سی باتیں کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ بھی مسلمانوں کی طرح یہی چاہتے ہیں کہ ان کی باتوں کو سچا مان کر ان کا مذہب قبول کرلیا جائے۔

ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں قصے کہانیاں، مناظرے اور بحث اچھی لگتی تھیں مگر یہ سائنس و ٹیکنالوجی کا دور ہے۔لاکھوں کروڑوں انسان اپنے اپنے خداوں اور مذاہب کے معاملے پر شک میں گرفتار ہیں۔الحاد بھی دنیا میں پھیل رہا ہے۔بہت سے مذاہب کی جڑ یں اکھڑ رہی ہیں۔لوگ سوالات اٹھاتے ہیں مگر مطمئن نہیں ہوتے۔چند لوگ اگر مسلمان سے ہندو ہوجائیں یا عیسائیت چھوڑ کر مسلمان ہوجائیں تو کیا یہ بہت بڑ ا کام ہوگیا جبکہ دنیا میں پانچ ارب انسان اس وقت بھی غیرمسلم ہیں؟

اب آپ صرف کہانیاں سناکراکیسویں صدی کے انسانوں کو  یقین نہیں کرواسکتے۔آپ کو دکھانا پڑے گا، منوانا پڑے گا، آپ کو ثابت کرنا پڑے گا پریکٹکل اور ناقابل شکست ثبوتوں  کے ساتھ جن کے سامنے تمام غیرمسلم ذہنی و روحانی طور پر بے بس اور لاچار ہوجائیں اپنی تمام تر سائنس اور ٹیکنالوجی کے باوجود۔

ہم مسلمان پیدا ہوگئے تو یہ ہمارا کوئی کمال نہیں۔ہم ہندو یا عیسائی  یا ملحد گھرانے میں پیدا ہوتے تو ہمارے لئے بھی قرآن کی اہمیت نہ ہوتی۔ یہ ذمہ داری تو ہم مسلمانوں پر بنتی ہے کہ ہم جس اللہ کے وجود اور اس کی قدرت کے دعوے کرتے ہیں اس کا کوئی عملی ثبوت  غیرمسلموں کے سامنے پیش کریں۔ہم جس نبی کو سچا اور آخری کہتے ہیں ان کی سچائی پر کوئی عملی ثبوت بھی پیش کریں غیرمسلموں کے سامنے۔ہم جس دین کو سچا کہتے ہیں اس دین کی سچائی پر عملی ثبوت پیش کریں غیرمسلموں کے سامنے۔ہم جس قرآن کو کلام الٰہی کہتے ہیں اس کی سچائی پر کوئی عملی ثبوت پیش کریں غیرمسلموں کے سامنے۔

مثال کے طور پر ملحدوں کے نزدیک قرآن اللہ کا کلام ہے ہی نہیں۔وہ اسے سچا نہیں مانتے۔تو۔۔۔

۱) جب ملحد وں کیلئے قرآن ہی سچا نہیں تو وہ مسلمانوں کی دیگر کتابوں پر کیوں کریقین کرلیں؟سب باتیں کتابوں کی باتیں ہی ہیں۔اس لئے بطور ثبوت قابل قبول نہیں ہوسکتیں ورنہ دیگر مذاہب میں بھی بہت قصے کہانیاں موجود ہیں۔

۲) قرآنی آیات سے ملحدوں کو یقین دلانے کی کوشش کرنا ایسا ہی ہے جیسے ریاضی کے پرچے میں غالب کے اشعار سے استدلال کرنا۔ جس چیز کو کوئی مانتا ہی نہیں اسے اپنے موقف کیلئے اسی سے دلائل دے کر نتیجہ کی امید رکھنا استہزائی طریقہ ہے اور جب ملحدقرآنی آیات پر یقین نہیں کرتے تو ان کا مذاق اڑاناہم مسلمانوں کا انتہائی نامعقول سلوک ہے۔حقیقت یہ ہے کہ  بہت سے مسلمان ملحدوں کے سامنے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو سچا  اور آخری نبی ثابت کرنے میں ناکام ہیں۔ ایسے مسلم  چاہتے ہیں کہ ملحدین صرف ان کی باتیں سن کر فوراً ایمان لے آئیں ورنہ بے شک جہنم میں جائیں۔ مسلمانوں کا ایسا طرز عمل اور طریقہ کار درست نہیں۔

۳) اگر کوئی ملحد اپنے اصولوں کی روشنی میں خدا کے انکار پردلائل لائے گا تو آپ اسے سورہ اخلاص سناکر قائل نہیں کرسکتے۔اس کیلئے آپ کواسی کی زبان اور اصولوں کو بطور ہتھیار و دلیل استعمال کرنا ہوگا اسی کے خلاف۔

آخر میں ایک سوال بھی پوچھتا ہوں کہ کیا آپ جذباتی پن اختیار کرنے کے بجائے مجھے کوئی ایک ناقابل شکست ثبوت پیش کرسکتے ہیں  جس سے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو سچا اور آخری نبی ثابت کیا جاسکے دنیا کی کوئی بھی کتاب استعمال کیے بغیر؟

اگر  آپ مسلمان ہوکر مجھے ایسا کوئی پریکٹیکل اور ناقابل شکت ثبوت نہیں دے سکتے تو پھر ملحد بھی اپنی جگہ اپنے دعوے میں صحیح    ہیں کہ انہیں معجزہ  بطور ثبوت دکھایا جائے ۔ 

اس لئے میں آپ سمیت تمام مسلمانوں سے صرف اتنا کہوں گا کہ یا تو  غیرمسلموں کو ایسے ثبوت مہیا کریں جن کے ذریعہ ان کے دل و دماغ میں موجود شک و شبہات ختم ہوسکیں اور اگر ایسا کرنے میں آپ عاجز ہیں تو پھر ہمارے ناقابل شکست ثبوتوں کو بطور ہتھیار استعمال کریں اور دنیا بھر کے ملحدین و غیرمسلموں تک پہنچانا شروع کریں تاکہ وہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوسکیں  اللہ کے حکم سے۔

اس طرح مسلم الحاد کے مقابلہ پرکامیاب اور فتح یاب ہوں گے انشاء اللہ۔ لیکن اگر آپ ہمارے ثبوت استعمال نہ کریں اور مسلم ہونے کے باوجود کافروں پر فتح حاصل کرنے میں ناکام ہوجائیں تو خود سمجھ لیں کہ دیگر مسلمان بھی الحاد کے مقابلے میں کمزور اور ناکام کیوں ہیں۔