جمعہ، 6 ستمبر، 2024

رائٹنگ کے ذریعے تبلیغ اسلام

اسلام کی تبلیغ ہر دور میں اہم رہی ہے، اور آج کے ڈیجیٹل دور میں یہ عمل اور بھی ضروری اور مؤثر ہو چکا ہے۔ انٹرنیٹ کی دنیا نے انسانوں کے مابین فاصلے مٹا دیے ہیں اور معلومات کی فراہمی کو تیز تر اور وسیع پیمانے پر ممکن بنا دیا ہے۔ اس دور میں ایک رائٹر (مصنف) کے پاس یہ بہترین موقع ہے کہ وہ اپنی تحریروں کے ذریعے اسلام کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچا سکے۔ 

اسلامی تعلیمات کو مختلف زبانوں، اقوام اور مختلف طبقوں تک پہنچانے میں تحریر ایک اہم ذریعہ ہے، اور یہ کام نئے انداز اور تخلیقی طریقوں سے کیا جا سکتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اسلام کا پیغام موثر انداز میں پہنچایا جا سکے۔

 رائٹنگ کے ذریعے تبلیغ کے فوائد
1. **وسعتِ رسائی:** انٹرنیٹ پر تحریر شائع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر میں کسی بھی جگہ، کسی بھی وقت اسے پڑھا جا سکتا ہے۔
2. **تاثیر:** ایک اچھی تحریر قاری کے ذہن پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے اور اس کے خیالات و نظریات کو بدل سکتی ہے۔
3. **تسلسل:** ایک بار تحریر انٹرنیٹ پر موجود ہو جائے، تو یہ مستقل طور پر وہاں رہتی ہے اور وقتاً فوقتاً نئے قارئین تک پہنچتی رہتی ہے۔
4. **تنوع:** مختلف مضامین، بلاگز، سوشل میڈیا پوسٹس، اور ای-بکس جیسے ذرائع استعمال کرکے مختلف موضوعات پر اسلامی تعلیمات کو عام کیا جا سکتا ہے۔

رائٹنگ کے ذریعے تبلیغ اسلام کے لیے نئے نئے آئیڈیاز

بلاگنگ اور اسلامی بلاگز کا قیام
بلاگنگ ایک مقبول اور موثر ذریعہ ہے جس کے ذریعے لکھنے والے اپنی سوچ اور اسلامی تعلیمات کو عام کر سکتے ہیں۔ ایک رائٹر مختلف موضوعات پر اسلامی بلاگز لکھ سکتا ہے:
- اسلام کے عقائد اور بنیادی اصولوں پر تفصیل سے روشنی ڈالنا۔
- موجودہ معاشرتی مسائل پر اسلامی نقطہ نظر پیش کرنا۔
- قرآنی آیات کی تشریح اور ان کے جدید دور میں اطلاق کو بیان کرنا۔
- مختلف فرقوں اور مکاتب فکر کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر۔
- نئے مسلمان ہونے والوں کی کہانیاں اور ان کے تجربات شیئر کرنا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال
آج کے دور میں سوشل میڈیا دنیا کے ہر حصے میں لوگوں کو جوڑنے کا سب سے تیز اور وسیع ذریعہ ہے۔ ایک رائٹر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مختلف قسم کی تحریریں شائع کر سکتا ہے:
- مختصر اسلامی اقوال اور احادیث کو گرافک پوسٹس کے ذریعے پیش کرنا۔
- ویڈیوز اور آرٹیکلز کے ذریعے اسلام کے مختلف پہلوؤں کو مختصر اور جامع انداز میں بیان کرنا۔
- سوشل میڈیا کمیونٹیز میں اسلام پر مبنی مباحثے شروع کرنا اور لوگوں کے سوالات کا جواب دینا۔

ای-بکس اور اسلامی کتابیں
انٹرنیٹ پر ای-بکس کے ذریعے بڑی تعداد میں قارئین تک پہنچنا ممکن ہے۔ ایک رائٹر اسلامی موضوعات پر ای-بکس لکھ کر انہیں مفت یا سستے داموں انٹرنیٹ پر شائع کر سکتا ہے۔ کچھ اہم موضوعات ہو سکتے ہیں:
- اسلام کے پانچ ارکان پر تفصیلی ای-بک۔
- اسلام اور جدید سائنس کے موضوع پر تحقیقی مضامین۔
- غیر مسلموں کے لیے اسلام کا تعارف۔
- اسلامی شخصیات کی سیرت اور ان کی کامیابیاں۔

فری لانس رائٹنگ اور اسلامی ویب سائٹس پر مواد فراہم کرنا
فری لانس رائٹنگ کے ذریعے رائٹر مختلف اسلامی ویب سائٹس کے لیے کام کر سکتا ہے۔ بہت سی اسلامی ویب سائٹس مضامین اور بلاگز کی اشاعت کرتی ہیں، اور ایک رائٹر یہاں اپنی خدمات فراہم کر کے اسلام کی تبلیغ میں حصہ ڈال سکتا ہے۔

پوڈکاسٹ اور سکرپٹ رائٹنگ
پوڈکاسٹ آج کل بہت مقبول ہو چکے ہیں۔ ایک رائٹر اسلامی پوڈکاسٹ کے لیے سکرپٹ لکھ سکتا ہے، جس میں دینی مسائل پر بحث کی جا سکتی ہے، یا سوالات و جوابات کے سیشن رکھے جا سکتے ہیں۔ یہ پوڈکاسٹ عالمی سطح پر سنی جا سکتی ہیں۔

اسلامی ٹرینڈز پر مضامین اور تجزیے
رائٹرز مختلف جدید مسائل اور ٹرینڈز کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر سے لکھ سکتے ہیں:
- ماحولیات، سوشل جسٹس، اور ہیومن رائٹس پر اسلام کا مؤقف۔
- جدید ٹیکنالوجی اور اسلام کے اصولوں کا تقابل۔
- فیملی سسٹم، حقوق نسواں، اور مساوات کے بارے میں اسلامی تعلیمات۔

اسلامی شارٹ اسٹوریز اور ناولز
فکشن کی دنیا میں بھی اسلامی پیغام کو مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکتا ہے۔ ایک رائٹر اسلامی شارٹ اسٹوریز، افسانے، یا ناول لکھ سکتا ہے جن میں اسلام کی تعلیمات کو خوبصورت کہانیوں کے ذریعے پیش کیا جا سکے۔

آن لائن فورمز اور کمیونٹی پلیٹ فارمز پر مباحثے
انٹرنیٹ پر بہت سے فورمز اور کمیونٹی پلیٹ فارمز ہیں جہاں لوگ مختلف موضوعات پر بحث کرتے ہیں۔ رائٹرز ان فورمز پر اسلام کے بارے میں علمی و تحقیقی گفتگو کر سکتے ہیں اور لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کے جوابات دے سکتے ہیں۔

یوٹیوب چینلز کے لیے سکرپٹ لکھنا
یوٹیوب ویڈیوز کے لیے تحریر ایک اہم حصہ ہوتی ہے۔ اسلامی موضوعات پر سکرپٹ لکھ کر رائٹرز ویڈیو کریئیٹرز کو مدد فراہم کر سکتے ہیں جو ان ویڈیوز کے ذریعے اسلام کا پیغام لاکھوں لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔

نیوز لیٹرز اور اسلامی میلنگ لسٹس
رائٹرز اسلامی مواد پر مبنی نیوز لیٹرز بنا سکتے ہیں جو ہفتہ وار یا ماہانہ مختلف لوگوں کو بھیجی جا سکتی ہیں۔ یہ نیوز لیٹرز اسلامی تعلیمات، احادیث، قرآنی آیات، اور جدید مسائل پر اسلامی تجزیے پر مبنی ہو سکتی ہیں۔

 خلاصہ
رائٹنگ کے ذریعے تبلیغ اسلام کا میدان بہت وسیع ہے، اور ایک رائٹر انٹرنیٹ کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے اسلام کے پیغام کو دنیا کے ہر کونے میں پہنچا سکتا ہے۔ تحریریں، بلاگز، سوشل میڈیا پوسٹس، ای-بکس، اور ویڈیوز کے ذریعے ایک رائٹر تیزی سے غلبہ اسلام کے لیے کام کر سکتا ہے۔ تحریر کی دنیا میں تخلیقی طریقے اور نئے آئیڈیاز اپنا کر یہ مشن اور بھی زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔
ChatGPT

اللہ کے ذکر کرنے کی حقیقت

اللہ کا ذکر کرنا منہ سے اللہ اللہ اللہ کرنا ہے یا اللہ کا ذکر کرنے سے مراد اللہ کے بارے میں غیرمسلموں کو بتانا اور اس کے بارے میں تعارف کروانا ہے؟ اللہ کے ذکر کی بہت تعریفیں سنی ہیں میں نے۔۔۔اللہ کا ذکر کرنے کی حقیقت کیا ہے؟

اللہ کا ذکر کرنا ایک بہت وسیع اور عمیق مفہوم رکھتا ہے، اور یہ مختلف طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔ “ذکر” عربی زبان میں یاد کرنے اور یاد دہانی کے معنی میں آتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، ذکرِ الٰہی کا مقصد اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا، اس کی حمد و ثناء بیان کرنا، اور اپنے دل کو اللہ کی محبت اور خشیت سے معمور رکھنا ہے۔

اللہ کے ذکر کی دو اہم اقسام ہیں:

لسانی ذکر (زبانی ذکر):

یہ ذکر زبان کے ذریعے کیا جاتا ہے، جیسے “اللہ، اللہ” کہنا، “سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ” وغیرہ۔ یہ ایک روحانی عمل ہے جس سے دل کو اللہ کی یاد سے معمور کیا جاتا ہے اور ایمان کو تازہ کیا جاتا ہے۔ اس قسم کا ذکر آسان اور عام ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی بہت فضیلت بیان فرمائی ہے۔

مثال کے طور پر، قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
 “فاذکرونی اذکرکم” 
(سورۃ البقرہ: 152) 
 “پس تم میرا ذکر کرو، میں تمہیں یاد کروں گا۔”

قلبی ذکر (دل کا ذکر):
یہ ذکر دل کے ساتھ اللہ کی یاد میں مشغول رہنے کو کہتے ہیں، یعنی ہر کام میں اللہ کی رضا کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے قریب ہونے کی کوشش کرنا۔ یہ ذکر دل کی گہرائیوں میں ہوتا ہے، اور اس کا مقصد اپنے دل کو دنیاوی علائق سے ہٹا کر اللہ کی محبت میں مشغول کرنا ہے۔

ذکر کا دوسرا پہلو: اللہ کی معرفت اور دعوت
ذکر کا ایک اور معنی ہے کہ اللہ کی معرفت اور اس کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچایا جائے، یعنی غیر مسلموں کو اللہ کے بارے میں بتانا، اس کی وحدانیت اور صفات کا تعارف کروانا۔ یہ بھی ذکر کی ایک صورت ہے، کیونکہ جب ہم دوسروں کو اللہ کے بارے میں بتاتے ہیں، تو دراصل ہم اللہ کی یاد کو ان تک پہنچا رہے ہوتے ہیں۔

 ذکر کی حقیقت اور اہمیت:
ذکر الٰہی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک قریبی اور خالص تعلق قائم کرنا ہے۔ ذکر کا تعلق صرف زبان سے نہیں، بلکہ دل، عقل اور عمل سے بھی ہے۔ ذکر سے مراد یہ بھی ہے کہ انسان ہر حال میں اللہ کو یاد رکھے، اس کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کرے، اور دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے اس کی رہنمائی کے مطابق زندگی گزارے۔

حضرت محمد ﷺ نے ذکر کی اہمیت پر بہت زور دیا ہے، اور ایک حدیث میں فرمایا:
 “وہ شخص جو اللہ کا ذکر کرتا ہے اور جو نہیں کرتا، ان کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔” 
(صحیح بخاری)

 خلاصہ:
اللہ کا ذکر صرف زبان سے “اللہ اللہ” کہنا نہیں، بلکہ دل سے اللہ کو یاد کرنا، اس کی عبادت کرنا، اس کی صفات کو سمجھنا، اور اس کی رضا کے مطابق زندگی گزارنا ہے۔ اور ساتھ ہی اللہ کی وحدانیت اور اس کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچانا بھی ذکر کی ایک اہم صورت ہے۔
ChatGPT

جمعرات، 7 دسمبر، 2023

انجینیئر محمد علی مرزا کے نعرے بابے تے شہ کوئی نہیں پر منہ توڑ جواب

 حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک امتی روحانی ڈاکٹر مولانا ابرار عالم اکیسویں صدی کے ایک نایاب غیر جانبدار سنی مسلم اسکالر اور روحانی معالج ہیں جو دین اسلام کے علمبردار بھی ہیں اور روحانی طاقتوں کے حامل بزرگ بھی ہیں۔

مولانا ابرار عالم لاعلاج مریضوں کو روحانی طاقت سے ٹھیک کرنے کا 20 سالہ تجربہ رکھتے ہیں اور انہوں نے میرے ساتھ ملکر میرے روحانی بزنس میں میرے کچھ کلائنٹس کے کیسز پر کام کرکے اپنی روحانی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے بغیر ملاقات کے ان کا علاج کیا اور اللہ کے حکم سے میرے کلائنٹس کی حالت میں بہتری آنا شروع ہوگئی جس کے ثبوت میرے یوٹیوب چینل لیجنڈری فری لانسر پر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر انجینئر محمد علی مرزا کے اندر یہ طاقت ہے تو وہ بھی ایسا کر کے دکھائے پھر بولے کہ بابے تے شہ کوئی نہیں۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اور امتی روحانی سرجن شاہ عقیق بابا شہید سنی مسلم کی روح گزشتہ 500 سال سے پاکستان کے شہر ٹھٹہ کے اندر چوہڑ جمالی گاؤں میں اپنے مزار پہ آنے والے لاعلاج مریضوں کا روحانی علاج کررہی ہے۔ شاہ یقیق بابا کی روح کو یہ کمال حاصل ہے کہ وہ بغیر سامنے ظاہر ہوئے صرف اپنی روح کے ذریعہ لاعلاج مریضوں کا بغیر سائنسی آلات استعمال کیے میڈیکل آپریشن اور سرجریاں کردیتے ہیں اللہ کی اجازت اور حکم سے۔ اس بات کی خبر بی بی سی اردو نیوز سمیت پاکستان کے کئی آفیشل میڈیا نیوز چینلز اور روذنامہ امت نے پبلش کر رکھی ہے۔ اگر انجینئر محمد علی مرزا اپنی موت کے بعد ایسا کر کے دکھا سکتا ہے تو وہ شوق سے کہے کہ باب تے شہ کوئی نہیں۔

اور اگر انجینئر محمد علی مرزا ایسا نہیں کر سکتا جو کہ وہ ہرگز نہ کر سکے گا تو اپنی گستاخانہ باتوں سے باز آجائے ورنہ اس کے لیے دردناک عذاب تیار ہے۔

انجینیئر محمد علی مرزا اللہ سے معافی مانگے اور آئندہ میرا مضمون پڑھ لینے کے بعد اولیاء کرام اور صحابہ کرام اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثاروں سمیت کسی بھی اسلام ہے سچے پیروکار کے خلاف بدزبانی اور بدتہذیبی سے گریز کرے ورنہ پھر میں اس کے خلاف قیامت کے دن گواہی دوں گا اور بھرپور ایکشن لوں گا کہ یہ اس دنیا میں کتنا بڑا گستاخ تھا۔

انجینیئر محمد علی مرزا کے نقش قدم پر چلنے والے تمام گستاخ بھی باز آجائیں یہی ان سب کے حق میں بہتر ہے۔

لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

انجینیئر محمد علی مرزا مناظرے کے لئے سامنے کیوں نہیں آتا؟

غیر مسلم مل کر مسلمانوں کی بچیوں کو بچوں کو نوجوانوں کو میزائلوں کے ذریعے مار رہے ہیں اور یہ بیٹھ کے مناظروں کے اندر اپنے وقت ضائع کر کے چسکے لے رہے ہیں۔

اگر ان لوگوں میں ذرا سی بھی عقل ہوتی جسے یہ صحیح سے استعمال کر سکتے تو اس وقت دنیا کے سارے غیر مسلموں کو اسلام میں داخل کرنے کے لیے کام کرتے اور ان نشانیوں کو غیر مسلموں کو دکھاتے جو اللہ کے حکم سے 21ویں صدی میں ظاہر ہوئی ہیں کہ جنگل کے درندے آسمانوں کے پرندے اور گھروں میں پیدا ہونے والے نومولود بچے اور جنگلوں کے اندر اگنے والے درختوں اور سمندر کے اندر پیدا ہونے والی مچھلیوں اور ہواؤں کے اندر تیرنے والے بادلوں کے اوپر کائنات کے بادشاہ اللہ کے نام ظاہر ہوئے ہیں اور نیچرل مخلوقات نے اللہ کے نام کو اپنے منہ سے بول کر سنایا ہے



مگر دنیا کے اکثر مسلمان ان نشانیوں سے غافل ہیں اور فضول حرکتوں میں پڑے ہوئے ہیں اور عنقریب اللہ جب اپنا عذاب نازل کرے گا تو انہیں اللہ کے عذاب سے بچانے والا بھی نہیں ملے گا ان کے کرتوتوں کے سبب کیونکہ انہیں ہوش نہیں ہے کہ یہ فضول کاموں میں وقت برباد کر رہے ہیں اور اس وقت اسلام کو مدد کی ضرورت ہے جس سے یہ غفلت میں پڑے ہیں

جمعہ، 1 دسمبر، 2023

ڈپریشن سے کیسے نجات حاصل کریں؟

اپنے ادھورے خوابوں کو مکمل کرلو یا انہیں اپنی زندگی سے بے دخل کردو یعنی ختم کردو، تم ڈپریشن سے آزاد ہوتے چلے جاو گے۔ اب یہ تمہارے اوپر ہے کہ تمہارے ادھورے خواب یا خواہشات ایک ہیں یا بہت سے، جتنے زیادہ ہوں گے اتنا بوجھ تمہارے اوپر ہوگا اور جتنا کم کرتے جاو گے اتنا تم اپنے ہی بوجھ سے خود کو آزاد اور ہلکا کرتے چلے جاو گے۔ اگر کوئی شک ہے تو کسی بھی ایک خواہش/ادھورے خواب سے آزماکر دیکھ لو، آزمائش شرط ہے۔

لیجنڈری فری لانسر ذیشان ارشد

فری لانسنگ کلائنٹس فیس بک گروپس پر کیسے حاصل کریں؟

فری لانسنگ کے لیے کلائنٹس حاصل کرنا ہو تو فیس بک گروپس میں ان لوگوں کے کمنٹس اور پوسٹ پر توجہ دو جو اپنی پریشانیوں کا ذکر کررہے ہیں وہ سب تمہارے کلائنٹس بن سکتے ہیں اگر تم ان سے بات کرو اور انہیں یہ یقین دلا سکو کہ تم اپنی صلاحیتوں اور اسکلز کے ذریعے انہیں ان کے مسائل سے نجات دلاسکتے ہو۔ یقین کرلو کہ کلائنٹس بھی تمہاری طرح کے انسان ہوتے ہیں بس ان کی پرابلم کو سمجھنے والا ہونا چاہیے پھر پیسہ ملنا کوئی بڑی بات نہیں ہوتی، اگلے کو بھی انسان سمجھو اور خود کو بھی انسان سمجھو، پھر اپنی گفتگو کے ذریعے انہیں قائل کرلو مگر محنت، ایمانداری، اخلاص اور وعدہ کی پابندی کا خیال رکھو کیونکہ دھوکہ بازی کرنے اور جھوٹ بول کر دھندا کرنے کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔

اللہ اکبر

جمعرات، 30 نومبر، 2023

ذہنی اذیت، تنہائی کا شکار، خود کو بےکار سمجھنے لگا ہوں، اپنے وجود سے نفرت ہوگئی ہے

 السلام علیکم میرا درد سمجھ کر مجھے مشورہ دینا تنقید نہ کرنا میرا رشتہ نہیں ہو رہا تین چار جگہ سے ریجکٹ ہوگیا رشتہ کوئی کیا نقص نکالتا کوئی کیا کوئی شکل و صورت کا کوئی قد کا کوئی رنگ اور کوئی جاب کا اس وجہ مجھے بہت تکلیف ہے زہنی تکلیف بہت تنہائی کا شکار ہوں خود کو بےکار سمجھنے لگا ہوں اپنے وجود سے نفرت ہوگئی ہے سوچ سوچ کر سر درد ہوتا نہ نیند اتی نہ دن کو کسی چیز میں دل لگتا غصہ اتا چیزیں توڑ دیتا اس کا علاج بتادیں پلیز

وعلیکم السلام

جو لوگ تمہیں ریجیکٹ کررہے ہیں اور تنقید کررہے ہیں یہ ان کی اپنی سوچ ہے اس کا تمہاری حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہے لہذا سب سے پہلے یہ بات اپنے دماغ میں بٹھالو۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تم خوبصورت اور پرفیکٹ نہیں ہو مگر جب ان کے خلاف دشمنوں نے نفرت اپنے دل میں پالی تھی تب ان پر جادوگر ہونے اور جھوٹا ہونے تک کے الزامات لگائے تھے یہاں تک کہ انہیں قتل کرنے کے لیے سازشیں بھی کرڈالیں۔ کیا تم پر ایسی کوئی آفت نازل ہوئی ہے؟

کیا تمہاری ذہنی کنڈیشن اور اذیت اس بات سے ذیادہ ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے کام کرنے کے دوران دی گئیں تھیں؟

کیا انہوں نے خود کو بےکار سمجھ کر اللہ کا کام کرنا چھوڑ دیا تھا؟

کیا انہیں لوگوں کی باتوں کی وجہ سے اپنے وجود سے نفرت ہوگئی تھی؟

کیا وہ تنہائی کا شکار ہوکر کام اور مشن ترک کر بیٹھے تھے؟

کیا وہ غصہ کرکے چیزیں توڑا کرتے تھے؟

اگر ان سب سوالات کے جوابات تمہارے پاس "ہاں" میں ہیں تو بے شک اپنا کام جاری رکھو بصورت دیگر غور کرو کہ تم لوگوں کو کنٹرل کرنا چاہتے ہو کہ وہ ویسا کریں جیسا تم چاہتے ہو ویسا سوچیں جیسا تم سوچتے ہو جو کہ ممکن نہیں ہے۔

جس طرح تمہیں خود پر پابندی پسند نہیں اسی طرح دوسرے انسانوں کو بھی خود پر پابندی پسند نہیں۔

ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار خود ہے اور تم بھی۔

لہذا لوگوں کو سوچنے دو جو وہ تمہارے بارے میں سوچتے ہیں اور تم وہ کرو اپنی زندگی میں جو تم کرنا چاہتے ہو۔

Your Value Does Not Decrease by Criticism of People Your Value Does Not Increase by Praises of People

You Are Always You - the Beautiful Human Made by ALLAH (اللہ)

ایک سڑک پر بلی جارہی ہو لوگ ہزار باتیں بنائیں گے مگر وہ بلی نہ اونچی ہوجائے گی اور نہ نیچے سوائے اپنے دماغ میں سوچتے رہنے سے اگر اس کو لوگوں کی باتیں سمجھ آنا شروع ہوجائیں کہ لوگ اس کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں۔

کیا سمجھے؟

تم لوگوں کے ایکشن کو نظرانداز کرو خصوصا ان کی باتوں کو جو تمہارے خلاف کرتے ہیں۔

تم سے سوال نہ ہوگا، ان سے اللہ خود نمٹ لے گا ان کے کالے گھٹیا کرتوتوں کے سبب لہذا خوشی مناو کہ ان کے تمہارے ساتھ برا سلوک کرنے کے بدلے تمہیں جنت میں کار، بنگلے، لگزری لائف اسٹائل، باغات، لیپ ٹاپ، موبائل فون وغیرہ مفت ملیں گے۔

کیا یہ انعام کافی نہیں ہے تمہارے صبر کرنے کے بدلے کہ چیزیں توڑ کر اپنا نقصان کررہے ہو؟

وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً ۗ اَتَصْبِرُوْنَۚ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيْرًا

 ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنا دیا ہے کیا تم صبر کرتے ہو؟ تمہارا رب سب کچھ دیکھتا ہے