جمعرات، 12 ستمبر، 2024

کافروں کی چمچہ گیری کرنے والے منافقین

کافروں کی چمچمہ گیری کرنے والے اٹھائی گیرے ایسے ہوتے ہیں۔ اپنی ذات کی اس کو اتنی فکر ہے کہ جاہل بیغیرت کو ملحدین کی جانب سے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے خلاف بداخلاقی سے بھرپور پوسٹیں اور گالی گلوچ نظر نہیں آتیں؟ ایسے ہی منافقوں اور کفار کے دوستوں سے یہ دنیا بھری پڑی ہے اور اللہ انہیں غارت کرے ان کی گمراہ کن بدنیتوں کے سبب


حضرت امام حسین نے گرفتاری کیوں نہیں دی تھی؟

 حضرت امام حسین نے گرفتاری کیوں نہیں دی تھی اور مخالفین سے جنگ کیوں کی تھی جب کہ وہ نہتے تھے اور صرف اپنی فیملی کے ساتھ تھے؟ اگر وہ چاہتے تو گرفتاری دیکر اپنی اور اپنی فیملی کی جان بھی بچاسکتے تھے تو جان بوجھ کر شہادت یا قتل میں ملوث ہوئے یا یہ کیا ماجرہ ہے؟ علماء تو سکھاتے ہیں کہ مجبوری میں کلمہ کفر بھی بولنا پڑے تو حالت جنگ میں جائز ہے کفار کے مقابلہ پر ان کی قید میں جانے کے بعد جان بچانے کی خاطر۔ کیا حضرت امام حسین ایسا کچھ نہیں کرسکتے تھے؟

حضرت امام حسین علیہ السلام کا کربلا میں قیام اور یزیدی افواج کے سامنے جنگ کا فیصلہ محض ایک سیاسی یا ذاتی معاملہ نہیں تھا بلکہ یہ اسلام کی بقاء اور اس کے اصولوں کے تحفظ کے لیے تھا۔ امام حسین علیہ السلام نے یزید کی بیعت سے انکار اس لیے کیا کیونکہ یزید کی خلافت اسلام کے حقیقی اصولوں کے خلاف تھی۔ یزید کا طرز حکومت اور اس کی زندگی کے طور طریقے اسلامی شریعت کے مطابق نہیں تھے، اور اگر امام حسین علیہ السلام اس کی بیعت کر لیتے تو یہ اسلام کی اصل تعلیمات کے ساتھ خیانت ہوتی۔

1. **حق و باطل کی جنگ**: امام حسین علیہ السلام نے اپنے قیام کے ذریعے حق و باطل کی جنگ کو دنیا کے سامنے واضح کیا۔ اگر وہ یزید کی بیعت کر لیتے تو یہ دنیا کے سامنے یہ پیغام جاتا کہ یزید کا طرزِ حکومت اسلام کے مطابق ہے، جس سے دین کی اصل روح ختم ہو جاتی۔

2. **بیعت اور ظالم کا ساتھ**: امام حسین علیہ السلام جانتے تھے کہ یزید کی بیعت کرنا اس کی ظالم حکومت کو جائز قرار دینا ہے، جس سے اسلام کے اصولوں کی پامالی ہوتی۔ امام حسین علیہ السلام نے ظالم کے آگے جھکنے کے بجائے حق کی حفاظت کو ترجیح دی۔

3. **شہادت اور قربانی کا تصور**: اسلام میں شہادت کا ایک اعلیٰ مقام ہے، اور امام حسین علیہ السلام نے اپنی اور اپنے خاندان کی جانوں کو قربان کر کے اسلام کے اصولوں کی حفاظت کی۔ ان کا یہ عمل ایک مثال بن گیا کہ حق کی راہ میں جان دینے سے بڑی کوئی قربانی نہیں۔

4. **گرفتاری اور ظالم کے آگے جھکنا**: اگر امام حسین علیہ السلام گرفتاری دے دیتے اور یزید کی بیعت کر لیتے تو یہ ظالم کے سامنے جھکنے کے مترادف ہوتا۔ اسلام میں اصولوں کی حفاظت کے لیے جان دینا بہتر سمجھا جاتا ہے، جیسا کہ امام حسین علیہ السلام نے کیا۔

5. **مجبوری میں کلمہ کفر کی اجازت**: علماء نے جو اجازت دی ہے وہ عام حالات کے لیے ہے جہاں ایک مسلمان اپنی جان بچانے کے لیے وقتی طور پر کلمہ کفر بول سکتا ہے، لیکن امام حسین علیہ السلام کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔ یہاں بات صرف ان کی ذاتی جان کی نہیں بلکہ اسلام کی بقاء کی تھی۔

نتیجتاً، امام حسین علیہ السلام نے اپنی اور اپنے خاندان کی جانیں قربان کر کے اسلام کے حقیقی اصولوں کی حفاظت کی اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ حق کے لیے ہر قیمت پر کھڑا ہونا چاہیے، چاہے اس کے لیے اپنی جان بھی کیوں نہ دینی پڑے۔ ان کا یہ عمل آج بھی مسلمانوں کے لیے حق کی راہ پر چلنے کی ایک مثال اور رہنمائی کا ذریعہ ہے۔

از چیٹ جی پی ٹی  

آن لائن کام ڈھونڈ رہا ہوں مجھے کیا کرنا چاہیے؟


جب سیل کرنے کی اسکل اور تجربہ ہو تو انسان کچھ بھی بیچ سکتا ہے۔ یہ بات بالکل بے تکی ہے کہ “آن لائن کام ڈھونڈ رہا ہوں مجھے کیا کرنا چاہیے؟” اس لیے کہ آن لائن کام کرنے والے بزنس مین کو یہ سوال کرنا بنتا ہی نہیں ہے۔

اپنی فیس بک ایڈز چلانے کی اسکل + سیل کلوزنگ اسکل، دونوں کو استعمال کرتے ہوئے بیچنا شروع کردیا جائے۔

جب اپنا آن لائن بزنس چلا رہا ہے تو کاہے کو “کام” ڈھونڈنا ہے؟ کام تو خود انسان کررہا ہے اور سیلز کرچکا ہے تو بس اسی میں اضافہ کردیا جائے تو مزید آمدنی بڑھائی جائے۔

لیجنڈری فری لانسر ذیشان ارشد

بچیوں، لڑکیوں اور عورتوں کے ساتھ زنا کے واقعات پاکستان میں کیوں بڑھ رہے ہیں؟


جس معاشرے کے بچے، نوجوان لڑکے اور مرد حضرات اور خصوصیت کے ساتھ بوڑھے لوگ رات رات بھر ننگی عورتیں دیکھیں گے، پورن فلمیں چلائیں گے، سوشل میڈیا پر نیم برہنہ عورتوں کے دیدار کریں گے، ہالی وڈ کے نام پر ننگی عورتوں کو ڈانس کے مجرے کرتے دیکھیں گے، کھلی لٹکتی چھاتیاں ابھار سمیت مٹکتے دیکھیں گے، سینہ کے کٹ سامنے دیکھیں گے، عورتوں کے کھلے بدن ننگی ٹرانسپیرینٹ بازاروں میں دیکھیں گے وہاں یہ سب ہونا بہت معمولی بات ہے۔


جب سامنے گوشت پوست کی لڑکی، بچی یا جوان عورت یا پھر کفن شدہ دفن لاش ہی عورت کی کیوں نہ آجائے۔۔۔یا پھر ہسپتال ہی سہی، جدھر جس کا بس چل رہا ہے وہ "زنا" کررہا ہے۔

گدھے اور کتوں سے بھی بدتر انسانوں کا معاشرہ بن چکا ہے۔محض شکل سے چلتے پھرتے انسان نظر آتے ہیں ورنہ اندر سے ناجانے کتنے ہی مرد اور عورتیں شیطان کے پجاری بن چکے ہیں۔

غریب علاقوں کی خواتین آن لائن کیا کرسکتی ہیں؟


آن لائن ٹیوشن پڑھائی جاسکتی ہے بذریعہ اسکائپ میٹنگ یا واٹس ایپ گروپ بناکر (اپنا واٹس ایپ نمبر اسی کو دیں جو فیس ادا کرکے باقائدہ اسٹوڈنٹ بنا تاکہ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا تنگ نہ کرسکے اور اگر کوئی تنگ کرے تو نمبر بلاک کردیا جائے یا آن لائن سائبر کرائم والوں کو اس کی رپورٹ کردی جائے)

بحیثیت فری لانس ٹیچر اپنی ٹیچنگ سروسز (خدمات) فراہم کی جاسکتی ہیں کسی بھی پرائیوٹ ادارے، اسکول یا اکیڈمی والوں کو اور بدلے میں ان سے اپنی مرضی کے ریٹ طے کرکے باقائدہ پیمنٹ ایڈوانس یا یکمشت لی جاسکتی ہیں (پیسوں کا لین دین آن لائن بینکنگ سسٹم یا فری لانسنگ ویب سائٹس کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے)

اپنا یوٹیوب چینل بناکر مہارت والے ٹاپک پر اسٹوڈنٹس کو پڑھایا سکھایا جاسکتا ہے ۔ سوالات کے جوابات دیے جاسکتے ہیں، مشکل اشوز حل کرنے کے حوالے سے رہنمائی کی جاسکتی ہے۔ اگر یوٹیوب چینل چل پڑے تو ایڈسینس کے ذریعہ ڈالرز میں آمدنی ممکن ہے۔ اپنے چینل پر اپنی ویڈیوز کے ذریعہ اپنی آن لائن اکیڈمی کا اشتہار دیا جاسکتا ہے تاکہ جو اسٹوڈنٹس پرائیوٹ کوچنگ لینا چاہیں وہ رابطہ کریں

فری لانسنگ ویب سائٹس پر جاکر اپنی ٹیچنگ سروسز فراہم کی جاسکتی ہیں۔

اپنے متعلقہ سبجیکٹ سے تعلق رکھنے والے فیس بک گروپس میں جاکر اپنی ٹیچنگ کا تعارف اور خدمات کا اشتہار دیا جاسکتا ہے۔

اپنے گھر کے باہر گیٹ پر یا دیوار پر پینا فلیکس بورڈ یا کاغذ یا مارکر وغیرہ سے لکھ کر اشتہار بنایا جاسکتا ہے مثلا لیجنڈری اکیڈمی، لیجنڈری اسکول، لیجنڈری کالج، لیجنڈری یونیورسٹی، لیجنڈری ٹیوشن سینٹر، لیجنڈری ریسٹورنٹ، لیجنڈری ہوم میڈ بریانی/دال چاول/قورمہ/صبح کا ناشتہ وغیرہ

یہ سارے کام آن لائن یا آف لائن کرنا ممکن ہے۔ ان میں سے جو بہتر لگے اسے آزماکر دیکھا جاسکتا ہے۔ جس کے نصیب میں جس طرح سے آمدنی میں اضافہ ہوجائے وہ اسی کے حق میں اللہ کے فضل سے ہوگا۔

لیجنڈری فری لانسر ذیشان ارشد (30 اگست 2024)

سیلف ڈیفنس کے لیے کمزور جسم والا لڑکا کیا کرے؟





استاد کیسے کماسکتا ہے؟

رائٹر: طیبہ حمید

ٹیچنگ یعنی کہ پڑھانے کے علاوہ کوئی سکل سیکھے بغیر ( سکل ہوتا ہےلیکن ٹیچرز کو علم نہیں ہوتا) کیسے فری لانسنگ کی جا سکتی ہے۔۔۔۔۔۔

پڑھانے کے لیے تو بہت سی سائٹس ہیں جن پہ ٹیچرز اپنی پروفائل بنا کر دوسرے ممالک میں ٹیوشن والی باجی بن سکتی ہیں لیکن پڑھانے کے علاوہ بھی بہت سی سروسز دی جا سکتی ہیں ۔

اساتذہ کے پاس منفرد مہارتوں کا ایک مجموعہ ہوتا ہے جو روایتی تدریس کے علاوہ مختلف فری لانس مارکیٹ پلیسز مپر قیمتی ثابت ہو سکتا ہے۔


Curriculum Design:

اساتذہ تعلیمی اداروں، آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز، یا انفرادی کلائنٹس کے لیے نصاب تیار کرنے کی خدمات پیش کر سکتے ہیں


Subject related Worksheet:

اپنی مہارت کے مطابق آنلائن سکولز اور مختلف ویب سائٹس کے لیے ورک شیٹس بنا سکتے ہیں۔


Content Creation:

اساتذہ اپنی مہارت کا استعمال کرتے ہوئے تعلیمی مضامین، بلاگ پوسٹس، ای-بکس، یا تعلیمی ویب سائٹس، اشاعتی کمپنیوں، یا فری لانس پلیٹ فارمز کے لیے اسباق کے منصوبے لکھ سکتے ہیں.


Course Creation:

اساتذہ Udemy، Teachable، یا Coursera جیسے پلیٹ فارمز پر اپنے آن لائن کورسز بنا کر فروخت کر سکتے ہیں


Counseling:

اساتذہ اسکولوں، تعلیمی تنظیموں، یا ایڈ-ٹیک کمپنیوں کو نصاب کے ڈیزائن، اساتذہ کی تربیت، یا تعلیمی ٹیکنالوجی کے انضمام پر مشاورتی خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔


Proofreading and editing:

اساتذہ تعلیمی مواد، تعلیمی مقالے، یا تعلیمی ویب سائٹس کے لیے پروف ریڈنگ اور ایڈیٹنگ کی خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔

Instructional Desgin:

اساتذہ بطور انسٹرکشنل ڈیزائنرز کام کر سکتے ہیں تاکہ آن لائن کورسز، کارپوریٹ تربیتی پروگراموں، یا تعلیمی ایپس کے لیے دلچسپ اور مؤثر سیکھنے کے تجربات تخلیق کر سکیں.

Virtual Assistants:

اساتذہ تعلیم سے متعلقہ کاروبار کے لیے ورچوئل اسسٹنٹ کے طور پر کام کر سکتے ہیں، جیسے ای میل مینجمنٹ، سوشل میڈیا مینجمنٹ، یا کورس ایڈمنسٹریشن۔


Online Grading:

اساتذہ تعلیمی اداروں یا آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز کے لیے آن لائن گریڈنگ کی خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔


Teachers' training:

تجربہ کار اساتذہ نئے اساتذہ یا تدریسی مہارتوں کو بہتر بنانے کے خواہاں معلمین کے لیے تربیتی ورکشاپس، ویبینارز، یا ایک آن لائن کوچنگ فراہم کر سکتے ہیں۔


Voiceover:

اساتذہ اپنی آواز کو تعلیمی آڈیو بکس، ای لرننگ کورسز، یا تعلیمی ویڈیوز کے لیے استعمال کر سکتے ہیں.


Graphic Desgining:

اساتذہ جن کے پاس ڈیزائن کی مہارت ہے، تعلیمی مواد، پریزنٹیشنز، یا آن لائن کورسز کے لیے گرافک ڈیزائن کی خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔


فری لانس مارکیٹ پلیسز ایسی جابز سے بھری پڑی ہیں، لیکن یا تو ٹیچرز کو علم نہیں یا پھر مہارت ایکسپرٹ لیول کی نہیں ۔ اساتذہ پڑھانے کے علاوہ اپنی دیگر سروسز دے کر ڈالرز میں اچھا کما سکتے ہیں