جمعہ، 20 ستمبر، 2024

Kya Muhammad Aakhri Nabi Hain?

محمد اللہ کے آخری نبی ہیں ۔اللہ نے ان کا نام "محمد" بادلوں، درختوں، جانوروں، پرندوں اور دیگر قدرتی مخلوقات پر عربی میں لکھا ہوا ہے۔ یہ معجزات اللہ کی عظمت کو ظاہر کرتے ہیں اور اس یوٹیوب چینل پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ لنک دیکھیں: https://www.youtube.com/@prophetofnature/playlists

جھوٹے خدا نیچر کی مخلوق پر اللہ کی طرح کوئی نام نہیں لکھ سکتے کیونکہ اللہ کے سوا پوری کائنات میں کوئی دوسرا سچا خدا موجود نہیں ہے۔ تمام انسانوں کو چاہیے کہ اسلام میں داخل ہوجائیں اور آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گستاخیوں سے باز آجائیں۔اللہ نے 21ویں صدی میں اپنے معجزات کے ذریعے محمدﷺ کے آخری نبی ہونے پر گواہی دے کر ان کی رسالت کی سچائی کو ہمیشہ کے لیے ثابت کردیا ہے۔

تمام غیرمسلم اللہ سے ڈریں اور اسلام کی سچائی کو قبول کریں اور تکبر اور ہٹ دھرمی سے باز آجائیں اور اسلام قبول کرکے خود کو جہنم میں ہمیشہ کے لیے جاکر برباد ہونے سے بچالیں۔

وما علینا الاالبلاغ المبین
لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

ہاجرہ روحانی علاج سینٹر کا تعرف

 اس خدا کے نام سے جس نے انسانوں کو پیدا کیا:

اکیسویں صدی کا روحانی ہاسپٹل

حاجرہ روحانی علاج سینٹر اکیسویں صدی میں ایک نئی طرز کا آن لائن روحانی ہسپتال ہے جو پاکستان سے اکیسویں صدی کے عالمی روحانی ڈاکٹر جناب مولانا ابرار عالم صاحب چلا رہے ہیں۔

روحانی ڈاکٹر مولانا ابرار عالم لاعلاج مریضوں کو بغیر کسی ملاقات کے صرف اللہ کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے دور سے علاج کرنے میں ایکسپرٹ ہیں۔ دنیا میں کہیں سے بھی لاعلاج مریض اپنے علاج کے لیے مولانا ابرار عالم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

جناب مولانا ابرار عالم صاحب انٹرنیشنل ویب سائٹ رائٹ فل ریلیجن ڈاٹ کام  کے بانی ہیں (دین اسلام کی سچائی پر اپنی نوعیت کی ایک نایاب ویب سائٹ) نیز مذہبی اقوام متحدہ پاکستان کے چیئرمین بھی ہیں جو دنیا میں بغیر گالی گلوچ اور بغیر جنگوں کے امن کے قیام کے لیے کام کررہے ہیں۔

پاکستان کے مشہور و معروف مفتی جناب جسٹس محمد تقی عثمانی صاحب سے بیعت اور تین اردو کتابوں کے مصنف (قرآن اور شیطان، احادیث اور شیطان، اسلام اور جادو) کے ساتھ ساتھ شہدائے اسلام کی تروتازہ لاشوں پر شاندار تحقیقات اور عالمی امن فارمولت کے ساتھ اپنی نوعیت کے جید عالم دین اور عارف باللہ

مولانا ابرار عالم صاحب گزشتہ 20 سال سے لاعلاج مریضوں کا روحانی علاج کررہے ہیں اور اب روحانی آپریشن کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں اللہ کے فضل و کرم سے۔ جدید طرز علاج اور نت نئی ریسرچ کرنے والوں کے لیے جناب مولانا ابرار عالم صاحب کی شخصیت بہت انمول ہے اگر وہ ان کے علوم سے فائدہ اٹھانا چاہیں۔

جنات اور فرشتوں کی آرمی کے ساتھ تیار عالم دین، روحانی ڈاکٹر اور ریسرچ ایکسپرٹ کے فاسٹ رزلٹ اللہ کی طاقت اور حکم سے

 - آئی سی یو میں موجود مریضہ 7 گھنٹوں میں اسٹیبل ہوگئی (لاہور کیس)5

 - 24 گھنٹے میں خراب گردے بحال ہوگئے (پشاور کیس)

 7 دن میں لاعلاج کورونا مریض صحت یاب ہوگیا (کراچی کیس)

 - 30 دن میں برین ڈیمج مریض کی حالت میں 50 فیصد بہتری (لاہور کیس)

 3 دن مفت روحانی علاج کا تجربہ کریں:

فزیکل ملاقات کی ضرورت نہیں۔  اپنے گھر بیٹھے روحانی علاج کروائیں۔

 ابھی رابطہ کریں

00923332100668

0093452215476

00923149943699

00923202755994

جمعرات، 19 ستمبر، 2024

اللہ کے فضل اور عذاب میں فرق

 کافروں کے پاس دولت شہرت عزت طاقت سب کچھ ہے۔ کیسے پتہ لگے کس کے اوپر اللہ کا فضل ہے یا عذاب تک مہلت ہے؟

یہ سوال ایک اہم دینی موضوع سے متعلق ہے اور اس کا جواب اسلام کی گہری فہم اور حکمت پر مبنی ہے۔ کافروں کے پاس دولت، شہرت، عزت اور طاقت ہونا اس بات کی نشانی نہیں کہ ان پر اللہ کا فضل ہے یا وہ اللہ کے قریب ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح کیا ہے کہ دنیاوی مال و دولت کی فراوانی ہمیشہ اللہ کے فضل یا راضی ہونے کی نشانی نہیں ہوتی۔

### اللہ کے فضل اور عذاب کے درمیان فرق کیسے کیا جائے؟

1. **اللہ کا فضل:**

   - **ایمان اور عمل صالح:** اللہ کا سب سے بڑا فضل یہ ہے کہ کسی کو ایمان اور نیک اعمال کی توفیق ملے۔ اگر کسی کے پاس ایمان، تقویٰ، اللہ سے قربت اور آخرت کی فکر ہو، تو یہ اللہ کے فضل کی بڑی نشانی ہے۔

   - **قناعت اور سکون:** اللہ کے فضل سے وہ دل مطمئن ہوتا ہے اور دنیاوی چیزوں کی طرف حرص و لالچ نہیں رکھتا۔ وہ انسان قناعت پسند ہوتا ہے اور اپنی زندگی میں سکون اور خوشی محسوس کرتا ہے۔

2. **عذاب کے لیے مہلت (استدراج):**

   - **دنیاوی فراوانی اور غفلت:** بعض اوقات اللہ کافروں یا گناہگاروں کو زیادہ دولت، شہرت، یا طاقت دیتا ہے تاکہ انہیں آزمائے یا انہیں عذاب کے قریب لائے۔ یہ حالت **استدراج** کہلاتی ہے، جس میں اللہ کسی کو مہلت دیتا ہے، لیکن وہ اپنی غلطیوں سے باز نہیں آتا اور مزید گمراہی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

   - **غفلت اور ناشکری:** اگر کسی کے پاس دنیاوی نعمتیں ہوں، لیکن وہ اللہ کو یاد نہ کرے، حق کو رد کرے اور گناہوں میں مبتلا ہو، تو یہ مہلت ہے جو اللہ دیتا ہے، تاکہ انسان کو اپنی غلطیوں کا احساس ہو، مگر جب وہ نہیں سمجھتا تو پھر اللہ کا عذاب نازل ہو سکتا ہے۔

### نتیجہ:

اللہ کے فضل اور مہلت میں فرق یہ ہے کہ اللہ کا فضل ایمان، نیکی اور اللہ سے قربت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے، جبکہ مہلت (استدراج) کی صورت میں انسان دنیاوی نعمتوں میں مبتلا ہو کر اللہ اور آخرت سے غافل ہو جاتا ہے۔ دنیاوی مال و دولت کی بہتات کو کبھی بھی حتمی طور پر اللہ کے فضل کی نشانی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اصل کامیابی ایمان، نیک اعمال اور اللہ کی خوشنودی میں ہے۔

بدھ، 18 ستمبر، 2024

تبلیغ چلے لوٹے کا نام نہیں

 تبلیغ اسلام لوٹا پکڑ کر پھرنے، چلے لگانے، تسبیح ٹوپی کا نام نہیں، جب کردار گھٹیا شیطانی ہو تو وہی تمہاری چلتی پھرتی تبلیغ شیطانی ہے جسے تم تبلیغ اسلامی سمجھ رہے ہو۔ یہ بات آجکل کے لاکھوں کروڑوں نوجوانوں کو ان کے بکاو مولوی کبھی نہیں سمجھائیں گے ورنہ چندہ خیرات کون دے گا؟ بکرے کی کھالیں کون دے گا؟ پیشواؤں کی غلامی کون کرے گا؟ بازاروں میں میٹھے تبلیغی اور گھروں میں فرعون کے باپ بنے پھرتے ہیں، یہ ہیں منافق عرف تبلیغی

معاشرے کا حال بتارہا ہے تمام اسلامی جماعتیں فیل ہوچکی ہیں مکمل طور پر

لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

ہفتہ، 14 ستمبر، 2024

ہوا سے پانی بنانے والی مشین (انڈیا)

 

انسان اگر کچھ کرنے کا سوچ لے تو کیا کچھ ممکن ہے؟ اس کا ایک نظارہ اس مشین کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح ہوا سے پانی بناکر انسانوں کو دیا جارہا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جسے کوئی احمق ہی جھٹلاسکتا ہے کیونکہ کمپیوٹر سے بنی فیک ویڈیو اور فزیکل ورلڈ میں بنی حقیقی ویڈیو کو دیکھ کر ہی فرق معلوم ہوجاتا ہے۔

ایک فیک اشتہار اور حقیقی دنیا کے پروفیسرز، ڈاکٹرز، سائنسدانوں کے تجربات کی ویڈیوز میں بھی زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے جسے ایک عقلمند انسان بخوبی سمجھ سکتا ہے۔ اب اس ویڈیو سے یہ ثابت ہوگیا کہ انسان اگر ہوا سے پانی بنانا چاہے تو بناسکتا ہے۔

میں سوچتا تھا کہ غریب آبادیوں میں پانی کا بڑا مسئلہ ہوتا ہے اور اگر کہیں پانی نہ ملے تو انسان کیا کرے؟ کیسے زندگی گزارے؟ کیونکہ کھانا پینا تو چل جاتا ہے مگر نہانے، وضو کرنے، پاک ہونے وغیرہ کا مسئلہ بڑھ جاتا ہے لہذا پانی بہت ضروری ہے کہ کسی زیرزمین بورنگ کروائے بغیر جنریٹ ہوسکے یعنی ہوا سے پانی بن جائے کیونکہ ہوا چوبیس گھنٹہ دستیاب ہوتی ہے اور اس ویڈیو کو دیکھ کر مجھے امید کی ایک نئی کرن روشن ہوگئی ہے کہ الحمدللہ اس بات میں یہ لوگ کامیاب ہوچکے ہیں۔

یہ تو اللہ کا فضل ہے کہ وہ اپنے بندوں کی مدد کرتا رہتا ہے جو وہ کرنا چاہیں اور کوشش کریں۔ مجھے اس سے غرض نہیں کہ یہ مشین بنانے میں میں کامیاب ہوا یا کوئی اور مگر ایسا ہے کہ کوئی اور کامیاب ہوا تو گویا میرا مقصد پورا ہوگیا کیونکہ اگر یہ لوگ مشینیں بناکر فروخت کررہے ہیں اور عام عوام کے لیے بھی میٹھا پینے کا پانی فراہم ہوسکتا ہے تو پھر بہتر ہے کہ اب ان کے بارے میں لوگوں کو بتایا جائے اور اسی طرح کے جو دیگر کام کرنے والے لوگ مشینیں بنارہے ہیں ان کے بارے میں عام عوام کو بتایا جائے تاکہ لوگ ان سے رابطے کرکے فائدے حاصل کریں۔

اسی طرح دنیا کے تمام انسانوں، چرند پرند چرند اور دیگر مخلوقات کا فائدہ ممکن ہے۔ ویسے تو میرے پاس قیاامت کے دن تک آسمان سے بے تحاشہ پانی برسوانے اور زمین کے اندر سے بے شمار پھل فروٹ سبزیاں وغیرہ اگوانے کا فارمولہ ہے جو مجھے قرآن کے ذریعے اللہ کے فضل و کرم سے حاصل ہوا مگر اس کے لیے شرط تقوی، ایمان اور نیک اعمال کرتے رہنا ضروری ہے کیونکہ اس کا تعلق براہ راست اللہ واحد القہار کی خوشی سے ہے اور اگر اللہ ناراض ہوگا تو وہ طریقہ کام نہ کرسکے گا اور وہ تو بے شمار انسانوں کو بیک وقت فائدہ پہنچانے والا طریقہ ہے۔

اس طریقے کے حوالے سے میں نے اس ویڈیو میں بہت کچھ بتادیا ہے۔ جسے ضرورت ہو وہ سن سکتا ہے۔


موسم تبدیل کرنے کے حوالے سے اور بارشیں برسانے اور روک دینے کے اوپر میرے بہت سے کارنامے یوٹیوب پلے لسٹ کی صورت میں ترتیب دے کر یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کردیے گئے ہیں۔ جسے ضرورت ہو وہ انہیں بھی دیکھ سکتا ہے۔

Channel Link: Legend Muhammad Zeeshan Arshad 

جمعہ، 13 ستمبر، 2024

محمدﷺ کے سچے دعوے

ایک کافر ملحد نے محمدﷺ کے خلاف سوشل میڈیا پر بھونک کر مجھے موقع دیا کہ میں اسے کے الفاظ کو پلٹ کر ان کفار کی جانب الہامی تیروں کے لشکر بناکر حملہ کروں اور اللہ کے فضل سے میں اس کام میں کامیاب ہوا (الحمدللہ)


“میں اللّٰہ کا پیغمبر ہوں اللّٰہ مجھ سے باتیں کرتا ہے، ایک فرشتہ مجھ تک اللّٰہ کا پیغام لے کر آتا ہے” 

ایسے ہی سچے دعوے کیا کرتے تھے

مسلمانوں کے لاڈلے اور پیارے نبی محمدﷺ

جب محمدﷺ کے سچے دعوے  سُن سُن کر مکّہ کے

لوگوں کے کان پک گئے تو آخر کار انہوں نے سوال کیا

“ اگر فرشتہ تمہارے پاس آتا ہے، تو یہ فرشتہ ہمیں بھی دکھاؤ،ہم بھی دیکھنا چاہتے ہیں،

ایسا کرو ، ایک کھلی جگہ، ایک میدان میں لوگوں کو

جمع کرو اور اس فرشتے کی ملاقات ہم سے بھی کرواؤ”

تم اللّٰہ کو نہیں دکھا سکتے ٹھیک ہے،۔۔۔۔

مگر فرشتہ تو مخلوق ہے۔۔۔ اسکو دکھاؤ
ہم انسان ہیں ہم بھی مخلوق ہیں،

ہم اس فرشتے کو کیوں نہیں دیکھ سکتے؟

یہ مکہ والوں کا مطالبہ تھا۔۔۔
اور قرآن میں یہ مطالبے آئے ہیں بار بار۔۔۔

آپ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں۔۔۔

کیا مکّہ والوں کا یہ مطالبہ غلط تھا، نا جائز تھا؟

بے شک ناجائز تھا کیونکہ

جس شخص سے مطالبہ تھا

وہ شخص مکہ کا صادق و امین تھا

کوئی بھی شعور رکھنے والا شخص سچے دعووں پر

ایمان ضرور لاتا جیسے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہہ

مکہ کے کفار اپنی زبان میں یہ کلام سن رہے تھے

جسے قرآن کہا جا رہا تھا

اور وہ کلام بھی سن رہے تھے جو
محمدﷺ کی زبان مبارک سے نکل رہا تھا

تو  ان کو لگ رہا تھا کہ اس میں کوئی ایسی attraction نہیں ہے

جبکہ وہ جاہل دونوں کلاموں میں فرق کرنے سے قاصر تھے
جبکہ دونوں کلام ایک ہی انسان کے منہ سے سن رہے تھے

حالانکہ عربی زبان کے ماہر بنے پھرتے تھے

تب بھی کہتے تھے کہ

اس میں کوئی ایسی نئی بات نہیں ہے

ہم چاہیں تو ایسی باتیں ہم بھی کہہ سکتے ہیں

تھے نا جاہل کے جاہل؟

یہ بات بھی قرآن میں آئی ہے۔۔۔۔

محمدﷺ جب ان لوگوں سے ایمان کا مطالبہ کر رہے تھے تو

یہ کفار کی ذِمّہ داری تھی کہ سب ملکر انہیں شکست دیتے

فرشتے کو دکھانے میں کیا کمال تھا؟

فرشتہ تو انسانی شکل میں آیا جایا کرتا تھا

لہذا کفار کا مطالبہ ہی غلط اور فضول قسم کا تھا

محمدﷺ  نے دکھادیے کئی سو نیچرل معجزات

کیونکہ اللہ واحد القہار تھا ان کی سپورٹ پر

فرشتے بھی حاظر تھے۔۔۔ سب کچھ ہی سچ تھا

سب سچے دعوے تھے 💪

اب چونکہ اس وقت کے لوگوں میں

بہت سے جھوٹے خداؤں کے تصور عام تھے

جنہیں وہ کفار پوجا کرتے رہتے تھے

تو ان لوگوں نے اپنے جھوٹے خداؤں سے فریاد کی

اے خداوں اگر یہ شخص جھوٹا اور جادوگر ہے
اور تمام کارنامے جادو کے ذریعے دکھاتا پھررہا ہے

تو پھر اس پر پتھروں کی بارش برسادو
مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوسکا 👎

اور ان کے تمام جھوٹے خداؤں کی مٹی پلید ہوگئی (اللہ اکبر)

حقیقت یہی ہے کہ محمدﷺ اور قرآن سو فیصد سچے ہیں

یہی وجہ ہے کہ مکہ کے دور میں عقلمند لوگ تو مسلمان ہوگئے
اور بعد میں بہت سے عقلمند  کفار بھی فورا مسلمان ہوگئے

مگر اللہ کے دھتکارے ہوئے تمام لوگ کافر ہی رہ گئے
اور  لعنت زدہ رہ کر اپنے غلیظ کرتوتوں کے سبب

جہنم میں جاکر ہمیشہ کے لیے
نیست و نابود ہوئے (اللہ اکبر)

اور سنو!

جب مدینہ ہجرت کے بعد جنگیں شروع ہوئیں
تب بھی کفار اپنے جعلی معبودوں سمیت نامراد ہوئے

جنگوں میں مجاہدین اسلام کے ہاتھوں جہنم واصل ہوئے

دنیا کے لالچ میں مزید کفار انکے ساتھ شامل ہوئے
اور سب کے سب مرکر جہنم میں جاکر دفع ہوئے

ویسے تو مکہ مدینہ میں اسلام پھیلنے کی اصل وجہ
محمدﷺ کا اخلاق و کردار ہی تھا

مگر کفار کی ہٹ دھرمیوں کے سبب
تلواریں اٹھانا بھی ضروری تھا (اللہ کے حکم و اجازت سے)

کوئی جھوٹ نہیں۔۔۔ بالکل سچ!

لہذا ایسے جاہل شیطانی ناسوروں سے
خود کو بھی دور رکھو
اور اپنے بال بچوں کو بھی علم سکھاو

یہ خود بھی کفر پر ڈوبیں گے
اور تمہیں بھی برباد کریں گے

وما علینا الاالبلاغ المبین
لیجنڈ آف اللہ واحد القہار


اللہ کے خلاف بھونکنے والے بےچارے ملحدین کی اوقات اور حیثیت

چودہ سو سال بعد بھی کافروں کو اس زمین پر موجود اللہ کی نشانیوں کا علم نہیں ہے۔ لوگ ان بے چاروں سے خدا کے بارے میں سیکھ رہے ہیں؟