بدھ، 27 نومبر، 2024

لاعلاج بیماریوں سے نجات حاصل کرسکیں (فری کریش کورس)

لیجنڈری روحانی ڈاکٹر مولانا ابرار عالم پاکستانی نے اردو زبان میں اس ٹیکنیک اور بہترین اسکل کو دنیا کے تمام انسانوں کی بھلائی کے لیے عام کردیا ہے جو کہ ان کی زندگی بھر کی کمائی کی ایک بہترین اسکل تھی۔اب یہ اسکل عام کردی گئی ہے تاکہ دنیا کے تمام انسان، خصوصا غریب لوگ  گھر بیٹھے اپنا روحانی علاج کرسکیں، اپنے جادو جنات کو جلاکر بھسم کرسکیں، لاعلاج بیماریوں سے نجات حاصل کرسکیں، روحانی سکون پاسکیں اور اپنے بیوی بچوں، والدین  اور رشتہ دار وغیرہ کا بھی روحانی علاج کرسکیں۔

انشاء اللہ، اس روحانی علاج کے طریقے کو استعمال کرنے کے ذریعے مولانا ابرار عالم گھر بیٹھے روحانی وائرلیس سسٹم کے تحت دنیا بھر میں کہیں بھی موجود لاعلاج مریضوں کا روحانی علاج کرتے ہیں لہذا یہ کوئی معمولی اسکل نہیں ہے بلکہ ایک بہت ہی قیمتی اسکل ہے جس کا صحیح  استعمال کرنے سے میڈیکل ڈاکٹرز اپنے اپنے ہسپتالوں، کلینک، میڈیکل سینٹرز، ہیلنگ کیمپس، عوامی بھلائی وغیرہ کی جگہوں پر فری روحانی علاج  شروع کرسکتے ہیں اور انہیں اللہ کی طاقت سے ٹھیک کرسکتے ہیں۔

اس میں کسی قسم کی میڈیسن استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے  بلکہ روز مرہ معمولات میں استعمال ہونے والی چند چیزیں استعمال کرنی ہیں مگر پھر بھی میڈیکل ڈاکٹرز اپنی دواوں اور دعاوں کو بھی استعمال کرسکتےہیں۔ان کی چیزوں کے فائدوں سے بھی کوئی انکار نہیں ہے اور انہیں استعمال کرنا بھی توکل کے خلاف ہرگز نہیں ہے۔

طریقہ کوئی بھی ہو، شفا اللہ کے حکم سے ہی ملتی ہے۔ انسان کا کام ہے کہ وہ اپنے اور دوسروں کے فائدے کے لیے ہر جائز طریقہ کار کو بھرپور طریقے سے استعمال کرے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ کی طرف سے آنے والی بھلائی کی طرف امید نہیں بلکہ پورا یقین رکھے، یہی ایمان ہے۔اپنا کام پورے یقین کے ساتھ کیا جائے صحیح طریقے سے۔

اگر اللہ نے چاہا تو صرف چند دنوں کے اندر اور بعض کیسز میں صرف چوبیس گھنٹوں کے اندر لاعلاج مریض کی حالت بہتر ہونا شروع ہوجائے گی اللہ  کے حکم سے بشرطیکہ علاج کرنے والا ایک نیک ،متقی اور پرہیزگار مسلمان ہو جو اولیاء اللہ، صحابہ کرام اور انبیاء کرام کا ادب اور احترام کرنے والا بھی ہو یعنی کہ ایک پریکٹیکل سنی مسلم ہو۔

میں اس کریش کورس کے ذریعے ایمانداری سے  مولانا ابرار عالم کے سکھائے ہوئے طریقے کو سکھاچکا ہوں اور سمجھا دیا ہے۔اسے سیکھیں، پریکٹس کریں اور ایکسپرٹ بنیں۔اس کے بعد چاہے دوسروں کا فری روحانی علاج کریں یا ایک کامیاب روحانی فری لانسر بن کر روحانی علاج معالجہ کا بزنس شروع کریں، وہ آپ کی اپنی مرضی ہے۔

بس یاد رکھیں کہ لالچ بہت بری بلا ہے جب کہ آپ کی آنکھوں کے سامنے دوسرے لوگ بیماری سے مررہے ہوں اور آپ ان کی جان بچانے کے لیے کچھ کرنے کے قابل ہوں اور آنکھیں بند کرلیں صرف اپنے ذاتی فائدے کے لیے تو یہ انسانیت نہیں ۔

ہم مسلمان، دنیا بھر کے انسانوں کی ہدایت کے لیے کام کرنے کے لیے چنے گئے ہیں اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہمارے ذریعے لوگوں کی اسلام کی سچائی کا بھی علم ہو اور انہیں اللہ کی طاقت کے کارناموں کے بارے میں بھی آگاہی ملے ۔ ان شاء اللہ

لیجنڈری فری لانسر پاکستان

ڈاکٹر لیجنڈ محمد ذیشان ارشد

بدھ، 20 نومبر، 2024

لیجنڈ کی آمد لاہور کا اسموگ غائب

یہ تو اللہ کی ایک نشانی ہے کہ لیجنڈ لاہور پہنچتا ہے اور اس کی آمد سے پہلے ہی لاہور شہر کا موسم تبدیل ہونا شروع ہوجاتا ہے اور لیجنڈ کی آمد پر لاہور شہر کا اسموگ ایسے غائب جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔یہ اللہ کے وجود پر ایک کھلی نشانی نہیں تو اور کیا ہے کہ اس کا پرچار کرنے والا جس شہر میں جاتا ہے وہاں کا نظام موسم درہم برہم ہوجاتا ہے اللہ کے حکم سے اور محکمہ موسمیات والوں سمیت میڈیا اینکرز، رپورٹرز اور جرنلسٹس وغیرہ کی نیوز رپورٹس اور دعوے زمین پر بکھر کر دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں؟ بے شک اللہ جو چاہے سو کرسکتا ہے اپنے لیجنڈ کے لیے مگر اکثر لوگ اپنی عقل سے کام نہیں لیتے۔ اللہ اکبر

اللہ کی طاقت سے لاعلاج بلی کے بچے کا علاج

 اللہ واحد القہار کی طاقت سے کام لیتے ہوئے ایک بلی کے بچے کو دوبارہ ٹھیک کرکے چلنے پھرنے کے قابل بنادیا اور اس کے بعد وہ بچہ اللہ ہی کے حکم پر مرکر اس دنیا سے واپس چلا گیا۔ اس کیس کے دوران کئی عجیب و غریب سین رونما ہوئے جو اس بات پر ایک جیتی جاگتی نشانی ہے کہ اللہ جب چاہے جہاں چاہے کسی بھی لاعلاج مریض کو دوبارہ چلنے پھرنے کے قابل بناسکتا ہے۔دوبارہ ہیلنگ کرسکتا ہے اور وہ کوئی مصنوعی خدا نہیں ہے۔

جمعرات، 7 نومبر، 2024

بزنس اور اسلام کے لیے کام ایک ساتھ کرنے کا طریقہ اور آئیڈیاز

اسلامی فلاحی کاموں کے لیے پیسہ کمانا ایک بہت بڑا اور اہم مسئلہ ہے، خاص طور پر جب اس کا مقصد صرف اور صرف دین اسلام کی خدمت ہو۔ اس مضمون میں ہم بات کریں گے کہ کس طرح ہم دین اسلام کے لیے پیسہ کما سکتے ہیں، بغیر کسی ذاتی مفاد یا دنیاوی مقصد کے۔  

کیا آپ دین اسلام کے لیے پیسہ کمانا چاہتے ہیں؟

اگر آپ ایک مذہبی رہنما، روحانی پیشوا یا کسی ایسے فرد ہیں جو اسلام کے کاموں میں شریک ہو کر دین کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، تو آپ کو پیسہ کمانے کے حوالے سے چند اہم اصولوں پر دھیان دینا ضروری ہے۔

 پیسہ صرف اسلام کی خدمت کے لیے

سب سے پہلے یہ بات سمجھنی ضروری ہے کہ پیسہ صرف اسلام کے فلاحی کاموں کے لیے استعمال ہوگا۔ اس پیسے کا کوئی ذاتی مقصد یا دنیاوی فائدہ نہیں ہوگا۔ چاہے آپ کسی کاروبار سے پیسہ کمائیں، سروس فراہم کریں یا پراڈکٹ بیچیں، اس کا واحد مقصد دین اسلام کی خدمت ہوگا۔ 

 ذاتی مفاد کو اسلام کے کام سے الگ رکھیں

پیسہ کمانے کا مقصد کبھی بھی ذاتی مفاد یا دنیاوی خواہشات کا حصول نہیں ہونا چاہیے۔ جب آپ اسلام کی خدمت کے لیے پیسہ کمائیں گے، تو اس پیسے کا ہر جزو صرف دین کے کاموں میں خرچ کیا جائے گا۔ اگر آپ اپنی ذاتی زندگی یا کاروباری معاملات میں اس پیسے کا استعمال کریں گے، تو اس سے اسلامی مشن میں خلل آ سکتا ہے، اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں اکثر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

 پیسہ کمانے کا طریقہ شفاف اور اصولی ہو

پیسہ کمانا ایک باوقار اور اصولی عمل ہونا چاہیے۔ اس عمل میں شفافیت اور ایمانداری کا ہونا ضروری ہے۔ جب آپ دین اسلام کے لیے پیسہ کماتے ہیں، تو آپ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہر قدم درست طریقے سے اٹھایا جائے تاکہ پیسہ کسی غیر اسلامی مقصد کے لیے استعمال نہ ہو۔

سروس یا پراڈکٹ سے کلائنٹ کا اطمینان حاصل کریں

اسلامی مشن میں پیسہ کمانے کا ایک اہم جزو یہ ہے کہ آپ کی فراہم کردہ سروس یا پراڈکٹ کلائنٹ کے لیے مفید ہو اور وہ اس سے مکمل طور پر مطمئن ہو۔ جب کلائنٹ مکمل طور پر مطمئن ہو، تو اس کے بعد ہی پیسہ اسلامی کاموں میں خرچ کیا جائے گا۔ 

 پیسہ کا مکمل انتظام اور لین دین ایک شخص کے ذریعے ہو

پیسہ کا انتظام اور لین دین ہمیشہ ایک شخص کے ذریعے ہو تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی یا مسائل کا سامنا نہ ہو۔ اس شخص کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ پیسہ اسلامی کاموں کے لیے مختص کرے اور اس کا ہر حصہ شفاف طریقے سے استعمال کرے۔

معاہدے اور تحریری طور پر ذمہ داریوں کا تعین

پیسہ کمانے کا عمل اس وقت تک مکمل نہیں سمجھا جائے گا جب تک کہ اس کے بارے میں تمام ذمہ داریاں اور اصول تحریری طور پر واضح نہ ہوں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ اور آپ کے شراکت داروں کے درمیان ایک معاہدہ ہو جس میں پیسہ کے استعمال اور ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہو۔

ذاتی اختلافات اور کاروباری معاملات کو علیحدہ رکھیں

ہمیں اپنے ذاتی اختلافات، فیملی مسائل اور کاروباری معاملات کو اسلامی مشن سے علیحدہ رکھنا چاہیے۔ اگر آپ چاہیں کہ اس مشن میں کامیاب ہوں، تو ذاتی اور مذہبی کاموں کو الگ رکھنا ضروری ہے تاکہ کسی بھی قسم کی پیچیدگیاں یا جھگڑے پیدا نہ ہوں۔

 غلبہ اسلام کا مقصد سب سے اہم اور اول نمبر پر ہونا چاہیے

یہ تمام اصول اور اقدامات اس لیے ضروری ہیں تاکہ ہم اسلام کے مشن کو ہر قیمت پر کامیاب بنائیں۔ پیسہ کمانا، کاروبار کرنا یا سروس فراہم کرنا، ان سب کا مقصد دین اسلام کی خدمت ہونا چاہیے۔ اس طرح ہم نہ صرف اسلام کی خدمت کریں گے بلکہ اس مشن کو بھی آگے بڑھائیں گے۔

آپ کے لیے کیا ہے؟

اگر آپ دین اسلام کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں اور اس مشن میں شامل ہونے کی خواہش رکھتے ہیں، تو آپ کو پہلے ان اصولوں کو سمجھنا ہوگا اور اس پر عمل کرنا ہوگا۔ آپ کے لیے یہ موقع ہے کہ آپ اپنے کاروبار یا سروس کے ذریعے پیسہ کمائیں اور اسے اسلام کی خدمت میں لگائیں۔

خلاصہ

پیسہ کمانا اور دین اسلام کے لیے اس کا استعمال ایک عظیم مقصد ہے۔ ہمیں اپنی نیت صاف رکھنی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہمارا ہر قدم دین اسلام کی خدمت کے لیے ہو۔ جب تک ہم اس بات پر عمل کرتے ہیں، ہم اس مشن میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور دنیا و آخرت میں اس کا فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔

اللہ ہمیں اپنے مشن کو پورا کرنے کی توفیق دے۔

جمعرات، 24 اکتوبر، 2024

شیخ عبدالقادر جیلانی کی 100 کرامات کی فہرست

1. درختوں کا جھکنا  

2. مردوں کا زندہ ہونا  

3. پانی پر چلنا  

4. غیب سے رزق کا آنا  

5. بچپن کی کرامت  

6. حضور ﷺ کی زیارت  

7. شیطان کا شکست کھانا  

8. خدا کا دیدار  

9. خفیہ رازوں کا علم  

10. دشمنوں کا توبہ کرنا  

11. بیماروں کا شفاء پانا  

12. دشمنوں کی نابودی  

13. دلوں کا حال جاننا  

14. قید سے رہائی دلانا  

15. بارش کی دعا قبول ہونا  

16. مریضوں کا شفاء پانا  

17. غائب لوگوں کی خبر دینا  

18. جنات کا قابو میں آنا  

19. دعا سے رزق میں برکت  

20. دعا سے نیک اولاد کا پیدا ہونا  

21. شیطان کی چالوں کا ناکام ہونا  

22. دشمنوں کے دلوں میں محبت پیدا ہونا  

23. حاجات پوری ہونا  

24. اللہ کی محبت حاصل کرنا  

25. کشتیوں کا محفوظ رہنا  

26. جنات کا مسلمان ہونا  

27. صحابہ کرام کی زیارت  

28. لوگوں کو نیکی کی راہ پر چلانا  

29. دلوں کا نورانی ہونا  

30. گمشدہ چیزوں کا ملنا  

31. مسافروں کا حفاظت سے واپس آنا  

32. علم کی روشنی پھیلانا  

33. فقرا کو دنیاوی وسائل دینا  

34. مریدوں کے حالات بدلنا  

35. اولیاء اللہ کی صحبت  

36. دین کے دشمنوں کا ہدایت پانا  

37. رات کو دن جیسا روشن کر دینا  

38. ظالموں کا تباہ ہونا  

39. فقیری میں بادشاہی  

40. روحانی طاقت کا ظہور  

41. غموں کا دور ہونا  

42. متقی لوگوں کا آپ سے فیض حاصل کرنا  

43. جاہلوں کا علم حاصل کرنا  

44. چوروں کا توبہ کرنا  

45. جنگل میں پانی ظاہر ہونا  

46. ہواؤں کا قابو میں آنا  

47. جانوروں کا آپ کا ادب کرنا  

48. مخلوق کا آپ کے ساتھ محبت کرنا  

49. دشمنوں کا عاجز ہو جانا  

50. اللہ کی طرف سے بے پناہ انعامات  

51. شیطانوں کا عاجز آنا  

52. کفار کا آپ کے ہاتھوں ایمان لانا  

53. خوابوں کی سچائی  

54. حکمرانوں کی اطاعت  

55. ولیوں کا آپ کی تعظیم کرنا  

56. بچوں کی دعا سے تندرستی  

57. نیک لوگوں کا قرب  

58. دشمنوں کا خود سپردگی کرنا  

59. فقیروں کا عزت پانا  

60. عالموں کا آپ کی صحبت میں علم حاصل کرنا  

61. جوانی میں تقویٰ  

62. فقر میں خوشحالی  

63. غیر مرئی مخلوقات کا ادب  

64. مشکلوں کا حل  

65. زبان کی طاقت  

66. دعا کی قبولیت  

67. بیک وقت کئی مقامات پر موجودگی  

68. دشمنوں کی سازشوں کا ناکام ہونا  

69. اللہ کی قدرت کا مظاہرہ  

70. سخت دلوں کا نرم ہونا  

71. درختوں کا پھل دینا  

72. پانی کے چشمے کا پھوٹنا  

73. لوگوں کے گناہوں کی معافی  

74. عذاب کا ٹلنا  

75. زمین کا اپنے خزانے ظاہر کرنا  

76. پرندوں کا آپ کی زیارت کرنا  

77. دریا کے جانوروں کا آپ کے حکم پر آنا  

78. مرادوں کا پورا ہونا  

79. گناہوں کا معاف ہونا  

80. اہل علم کی عزت  

81. اللہ کے ولیوں کا فیض پانا  

82. دعا سے آسمانوں کا در کھلنا  

83. چمکنے والے ستاروں کا نظر آنا  

84. علماء کا آپ کی خدمت میں حاضر ہونا  

85. رشتہ داروں کا آپ کے زیر اثر آنا  

86. دشمنوں کا آپ کی بات ماننا  

87. چوری سے بچنا  

88. مسلمانوں کا دین میں مضبوط ہونا  

89. نیکی کے کاموں میں کامیابی  

90. والدین کی عزت  

91. اللہ کی قدرت کا مشاہدہ  

92. دشمنوں کا ایمان لانا  

93. دین کا پھیلنا  

94. لوگوں کا آپ سے فیض پانا  

95. آپ کی دعا سے جنت میں داخلہ  

96. دشمنوں کی منصوبہ بندی کا ناکام ہونا  

97. مرنے والوں کا ایمان پر ہونا  

98. آپ کی دعا سے شیطان کا بھاگنا  

99. لوگوں کا روحانی فیض پانا  

100. زمین کی دوریوں کا ختم ہونا

پیر، 21 اکتوبر، 2024

بائیک پر آلو بیچنے کے لیے آئیڈیا

 اپنی بائیک لے کر کسی بھی سڑک پر جہاں ٹریفک بہت ہو یعنی چنچی رکشہ وغیرہ چلتے ہوں، عام عوام چلتی پھرتی ہو، وہاں بائک لے کر انسان کھڑا ہو جائے اور آلو سبزی منڈی سے لاکر بیچنا شروع کردے۔

تولنے کے لیے ایک چوکور والا ترازو ساتھ رکھے۔

ایمانداری کے ساتھ تولے اور کم ریٹ یعنی کم منافع پر بیچے۔

انشاء اللہ بہترین منافع ہوگا کیونکہ جلدی بکیں گے اور لوگ بعد میں پھر اسی جگہ خریداری کے لیے پہنچیں گے کیونکہ جو ایک بار گاہک بن جائے وہ بار بار آتا ہے اگر اسے چیز صحیح قیمت پر سستی اور اچھی ملے۔

انسان اسی دکاندار / سیلر سے دور بھاگتا ہے جو لوٹتا ہے۔

دکان والے اگر آلو 80 روپے کلو بیچ رہے ہیں اور انہیں مارکیٹ ریٹ 50 روپے کلو مل رہا ہے تو اپ 55 روپے یا 60 روپے کلو پر بیچ کر دکانداروں سے زیادہ سیل کرکے زیادہ پرافٹ کماسکیں گے۔

مثال کے طور پر

ایک دکان پر آلو لگاکر کسی نے 80 کلو ریٹ لکھا ہوا ہے۔

اگر آپ 60 روپے کلو بیچ رہے ہیں تو کسٹمر آپ کی جانب راغب ہوں گے۔

کوئی سوچ سکتا ہے کہ سستے ہیں تو خراب ہوں گے مگر آپ اس کے لیے شک ختم کرنے کی خاطر اپنے کوئی پیپر لکھ کر آلو کی بوری پر لگا سکتے ہیں جس پر واضح الفاظ میں لکھا ہو کہ "سستا مگر اعلی معیار کا آلو مناسب قیمت پر خریدیں۔

اس سے لوگوں کو ایک دعوی ملے گا اور آپ کے آلو کی کوالٹی بہترین ہوگی تو ایمانداری کے سبب لوگ بار بار خریدنے آئیں گے۔

آپ کو زیادہ آرڈر ملنے کا مطلب ہے کہ زیادہ سیل

زیادہ سیل مطلب زیادہ پرافٹ

اب 80 روپے والے کے دس کلو آلو بکے، اس نے کمائے 800 روپے

اگر 50 کے حساب سے اس نے خریدا تھا تو 500 روپے پر اس نے کمایا 300 روپے پرافٹ

آپ نے 60 روپے کے حساب سے بیچا اور لوگوں نے آپ کے دو بورے خرید لیے یعنی 20 کلو آلو بک گئے تو 60 کے حساب سے 1200 روپے بنے

اس میں سے 500 روپے فی بوری ہوگی 1000 روپے میں

تو 1000 روپے میں خرید کر آپ کو 1200 میں بیچ کر 200 روپے پرافٹ ہوا

لیکن یہ ایک مثال ہے

اگلے دن اس کے 800 بنے مگر آپ کے چار بوری آلو بک گئے

آپ کے بنے 800 پرافٹ جبکہ اس کا پرافٹ وہی 300 روپے بنا۔

فرق کیا تھا؟

یہی کہ وہ زیادہ پرافٹ کے چکر میں کم بیچ رہا ہے اور آپ کم پرافٹ رکھ کر زیادہ بیچ رہے ہیں۔

آپ کسی رکشہ یا چنچی والے کو آرڈر دے سکتے ہیں کہ فلاں سبزی منڈی سے چار یا سات یا جتنے مرضی آلو کی بوری خرید کر لائے اور آپ اسے بیچیں۔

اس کا بھی روزگار

آپ کا بھی روزگار

یہ صرف شروع کرنے کے لیے آئیڈیا ہے۔

آپ ایک باریک اور ایک بوری سے شروع کرسکتے ہیں اور جب زیادہ سیل ہو جائے تو اسی جگہ ایک تخت کے کر ڈال سکتے ہیں۔

آرام سے بیچیں۔

اللہ متکبر ہے

اللہ کے "متکبر" ہونے کو سمجھنے کے لیے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ یہ صفت انسانوں کی تکبر والی کیفیت سے بالکل مختلف ہے۔ انسانی تکبر ایک کمزوری ہے، جو محدودیت، خوف، یا عدم تحفظ سے پیدا ہوتی ہے۔ مگر اللہ کا متکبر ہونا اس کی عظمت اور کمال کی نشانی ہے۔

اللہ کا متکبر ہونا:

اللہ متکبر ہے، یعنی وہ اپنے جلال، قدرت، اور عظمت میں منفرد ہے۔ وہ ایسا بادشاہ ہے جس کی بادشاہت میں کوئی شریک نہیں، وہ ایسی ہستی ہے جو ہر چیز پر مکمل اختیار رکھتی ہے۔ اس کی شان اتنی بلند ہے کہ اسے کسی سے موازنہ کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ جیسے کائنات کی ہر شے، ستارے، سیارے، کہکشائیں، اور جو کچھ ہم دیکھتے اور نہیں دیکھتے، سب اس کی تخلیق ہیں اور سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ وہ اپنی ذات میں کامل اور بے نیاز ہے۔ 

تصور کرو کہ تم ایک ایسے گیمر ہو جو اپنی گیم میں ہر چیز پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ تمہاری مرضی کے بغیر کوئی حرکت بھی نہیں کر سکتا، اور تمہارے پاس ایسی طاقت ہے کہ تم جس لمحے جو چاہو، ویسا ہی ہو جائے۔ کوئی تمہارے برابر آنے کی طاقت نہیں رکھتا، اور تمہاری ہر کامیابی تمہاری ذاتی صلاحیتوں کی بدولت ہے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ یہ تمہاری تخلیق کردہ دنیا میں ہے، اور وہ ایک محدود دنیا ہے۔ اللہ کی تخلیق پوری کائنات ہے، اور وہ نہ صرف اس کا خالق ہے بلکہ اس پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے، ہمیشہ سے اور ہمیشہ تک۔

اللہ کی بڑائیاں:

1. بے انتہا قدرت: 

   اللہ کی طاقت کی کوئی حد نہیں۔ وہ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے، بس کہہ دیتا ہے "ہو جا" اور وہ ہو جاتی ہے۔ اس کی طاقت کو کوئی کم نہیں کر سکتا، اور وہ جو چاہے کر سکتا ہے، چاہے انسانوں کی سوچ سے باہر ہو۔

2. علم کی وسعت:

   اللہ کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ ماضی، حال، مستقبل، ہر لمحے کا علم اس کے پاس ہے۔ وہ تمہارے دل کی گہرائیوں میں چھپی باتوں کو جانتا ہے، تمہارے خیالات اور ارادوں کو تم سے بہتر سمجھتا ہے۔ اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے، کائنات کے ہر راز سے واقف۔

3. بے نیاز:

   اللہ کسی کا محتاج نہیں، نہ کسی تعریف کا، نہ کسی خدمت کا۔ انسان کمزور ہوتا ہے، دوسروں کی مدد کا محتاج ہوتا ہے، مگر اللہ بے نیاز ہے۔ وہ چاہتا ہے تو انسان کو عطا کرتا ہے، اور چاہے تو واپس لے لیتا ہے، اور پھر بھی اس کی بادشاہت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

4. ہر چیز پر حاکمیت:

   دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے، وہ اللہ کی مرضی کے بغیر نہیں ہوتا۔ ہر شخص، ہر شے اس کے حکم کے تابع ہے۔ کوئی طاقت، کوئی ہستی، کوئی ملک یا قوم اس کے حکم کے بغیر کچھ نہیں کر سکتی۔

5. محبت اور انصاف:  

   وہ اپنے بندوں کے لیے بے انتہا محبت رکھنے والا ہے، مگر وہ انصاف کرنے والا بھی ہے۔ اس کی عظمت اس بات میں ہے کہ وہ ہر عمل کا حساب رکھتا ہے اور قیامت کے دن ہر کسی کو انصاف فراہم کرے گا۔

اللہ کا "متکبر" ہونا اس بات کا اعلان ہے کہ وہ عظیم ترین ہے، سب سے برتر ہے، اور اس جیسا کوئی نہیں ہے۔ وہ اپنی ذات میں مکمل اور بے نیاز ہے، اور اس کی شان اتنی بلند ہے کہ کسی مخلوق کی اس سے موازنہ کرنے کی گنجائش ہی نہیں۔

محسوس کرو:  

جب تم کائنات کی وسعت کو دیکھتے ہو، ستاروں کی روشنی، زمین کی خوبصورتی، اور ہر چیز کو ایک ترتیب میں چلتا ہوا دیکھتے ہو، تو یہ سب اللہ کی قدرت اور عظمت کا مظہر ہیں۔ تم جو کچھ بھی حاصل کرتے ہو، وہ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے، اور جو تمہیں نہیں ملتا، وہ بھی اس کی حکمت کا حصہ ہے۔ اس کی بڑائی کو سمجھنا اس احساس کے ساتھ جڑا ہوا ہے کہ ہم سب اس کے محتاج ہیں، اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔