اس ویب سائٹ پر اسلام، قرآن، روحانیت، گیمنگ، فری لانسنگ، کمپیوٹر، ویب ڈیویلپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ، کرامات و معجزات، کیریئر، لائف، بزنس، ریلیشن شپ اور بہت کچھ ملے گا۔
جمعرات، 22 مئی، 2025
آن لائن سبزیاں سپلائی کرنے کا بزنس
مضبوط بنو لیکن بدتمیز نہیں
کہانی 1: طاقتور بادشاہ اور نرم دل
ایک بادشاہ بہت طاقتور تھا، لیکن کبھی بھی اپنے رعایا کے ساتھ بدتمیزی نہیں کرتا تھا۔
جب کوئی اس سے غلطی کرتا، وہ غصہ ضرور ہوتا مگر اپنے الفاظ میں نرمی رکھتا۔ اس کی طاقت میں نرمی ہی اس کی سب سے بڑی پہچان تھی۔
کہانی 2: استاد اور شاگرد
ایک استاد سخت اصول رکھتا تھا، مگر کبھی شاگردوں سے بدتمیزی نہیں کرتا تھا۔
ایک دن شاگردوں نے پوچھا،
"سر، آپ سخت کیوں ہیں؟"
استاد نے جواب دیا،
"میں مضبوط ہوں تاکہ تم بہتر بنو، لیکن بدتمیزی کرنے والا نہیں تاکہ تمہیں دکھ نہ پہنچے۔"
کہانی 3: فوجی اور شہری
فوجی نے میدان جنگ میں بہت مضبوطی دکھائی، مگر جب شہر واپس آیا تو تمام شہریوں کے ساتھ نرم دلی سے پیش آیا۔
اس نے سمجھا کہ طاقت کا مطلب دوسروں کو گھٹانا نہیں، بلکہ ان کی عزت کرنا بھی ہے۔
کہانی 4: بیٹا اور والد
بیٹے نے کہا،
"ابا، آپ کبھی کبھار بہت سخت ہو جاتے ہیں۔"
والد نے کہا،
"بیٹا، مضبوط ہونا ضروری ہے، مگر بدتمیزی کرنا نہیں۔ طاقتور وہی ہوتا ہے جو عزت سے بات کرے۔"
کہانی 5: دو دوست
دو دوست تھے، ایک مضبوط لیکن بدتمیز تھا، دوسرا نرم دل مگر کمزور۔
دوسرے نے کہا،
"طاقت میں نرمی ضروری ہے، بدتمیزی سے کوئی چیز نہیں بنتی۔"
پہلا دوست سیکھ گیا کہ طاقت کے ساتھ ادب بھی ضروری ہے۔
کہانی 6: خاتون اور بازار
خاتون نے دکاندار سے خریداری میں سخت بات کی، مگر بدتمیزی نہیں کی۔
دکاندار نے کہا،
"آپ کی بات میں طاقت بھی ہے اور نرمی بھی، یہی عزت کی بات ہے۔"
کہانی 7: حکمران اور رعایا
حکمران نے سخت قانون نافذ کیا، مگر عوام کے ساتھ ہمیشہ شائستہ رویہ رکھا۔
لوگ اس کی طاقت اور ادب دونوں کی تعریف کرتے۔
کہانی 8: نوجوان اور استاد
نوجوان نے استاد کی باتوں پر اختلاف کیا، مگر نرمی سے اپنا موقف پیش کیا۔
استاد نے کہا،
"یہی مضبوطی ہے، بدتمیزی سے نہیں۔"
کہانی 9: شاعر اور ناقد
شاعر نے ناقد کی سخت تنقید برداشت کی، مگر کبھی بدتمیزی نہیں کی۔
اس نے جواب دیا،
"طاقت دل کی ہوتی ہے، زبان کی نہیں۔"
کہانی 10: بھائی اور بہن
بھائی نے بہن کی بات پر سختی دکھائی، مگر بدتمیزی سے بچا۔
بہن نے کہا،
"آپ کی طاقت میں ادب کی جھلک نظر آتی ہے۔"
خلاصہ:
مضبوطی اور طاقت ضروری ہیں،
لیکن بدتمیزی آپ کی عزت کو کمزور کرتی ہے۔
اصل طاقت احترام اور شائستگی میں ہے۔
مہربان بنو لیکن کمزور نہیں
کہانی 1: شیر اور خرگوش
ایک دن جنگل میں شیر کو اپنے زور پر بہت فخر تھا۔ وہ سب جانوروں پر راج کرتا تھا۔ لیکن ایک دن خرگوش نے شیر سے کہا،
"آپ جتنا طاقتور ہو، اتنے ہی مہربان بھی ہو۔"
شیر نے پہلی بار غور کیا اور اپنے غرور کو کم کیا۔ اب وہ نہ صرف طاقتور تھا بلکہ سب کے ساتھ شفقت سے پیش آتا تھا۔
جب کسی جانور کو مشکل پیش آتی تو شیر مدد کرتا، مگر جب کوئی اس کے یا جنگل کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا تو سختی سے قابو پاتا۔
شیر کی مہربانی اسے کمزور نہیں بلکہ سب سے زیادہ طاقتور بناتی تھی۔
کہانی 2: نیک استاد
ایک استاد اپنے شاگردوں سے بہت محبت کرتا تھا۔ وہ ان کی غلطیوں پر نرمی سے سمجھاتا، مگر اگر کوئی نظم و ضبط خراب کرتا تو سختی سے سبق سکھاتا۔
ایک دن ایک شاگرد نے استاد کو بتایا کہ وہ استاد کو سخت سمجھتا ہے۔ استاد نے مسکرا کر کہا،
"میں تم سے محبت کرتا ہوں، اسی لیے تمہیں صحیح راستہ دکھاتا ہوں۔ محبت کا مطلب کمزوری نہیں، بلکہ مضبوط رہنا بھی ہے۔"
شاگرد نے سمجھا کہ استاد کی مہربانی اور سختی دونوں اس کی محبت کا حصہ ہیں۔
کہانی 3: باپ اور بیٹا
ایک بیٹا اپنے والد سے کہنے لگا،
"ابا، آپ بہت سخت کیوں ہوتے ہیں؟"
والد نے کہا،
"بیٹا، میں تم سے محبت کرتا ہوں، اس لیے کبھی کبھی سخت ہونا پڑتا ہے تاکہ تم غلط راستے نہ جاؤ۔ محبت کا مطلب تمہاری کمزوری برداشت کرنا نہیں ہوتا۔"
بیٹے نے سمجھا کہ والد کی محبت میں جرات اور مضبوطی بھی شامل ہے۔
کہانی 4: بہادر لڑکی
ایک چھوٹی لڑکی اپنی گلی کے دوسرے بچوں کے ساتھ بہت مہربان تھی۔ وہ سب کی مدد کرتی اور ہر کسی کا خیال رکھتی۔
ایک دن کچھ بچے اس کی مہربانی کا غلط فائدہ اٹھانے لگے۔ لڑکی نے اپنی بات واضح کر دی کہ وہ مہربان ضرور ہے، مگر کمزور نہیں۔
وہ نہ صرف محبت سے بات کرتی بلکہ اپنی عزت کے لیے بھی کھڑی ہوتی۔
اسی دن گلی کے سب بچے اس کی عزت کرنے لگے کیونکہ وہ مہربان بھی تھی اور مضبوط بھی۔
کہانی 5: بادشاہ اور رعایا
ایک بادشاہ اپنے لوگوں سے بہت مہربان تھا۔ وہ ان کی مشکلات سنتا اور حل کرتا۔
لیکن جب کوئی ظلم یا زیادتی کرتا تو بادشاہ سختی سے اسے روکتا اور قانون کا نفاذ کرتا۔
لوگ کہتے،
"بادشاہ کی مہربانی ہمیں خوش رکھتی ہے اور اس کی مضبوطی ہمیں محفوظ۔"
بادشاہ کی یہ خوبی اسے ایک بہترین حکمران بناتی تھی۔
یہ کہانیاں ہمیں بتاتی ہیں کہ:
-
مہربانی دل کو نرم اور رشتے مضبوط کرتی ہے،
-
مگر کمزوری کبھی برداشت نہیں کرنی چاہیے،
-
جرات اور مضبوطی کے بغیر مہربانی مکمل نہیں ہوتی۔
فخر کرو مگر تکبر نہیں
یہاں دس مختصر مثالیں اور چھوٹے قصے ہیں جو فرق واضح کریں کہ فخر کرنا (حق کا اظہار اور اپنی کامیابی پر خوش ہونا) کیا ہے، اور تکبر (غرور اور دوسروں کو نیچا سمجھنا) کیا ہوتا ہے۔ ہر مثال میں فخر کے ساتھ ساتھ عاجزی بھی دکھائی گئی ہے۔
1. نبی ﷺ کا فخر
نبی ﷺ نے اپنی امت کی اصلاح کے لیے کام کیا۔ جب لوگ ان کی باتوں پر فخر کرتے تو وہ مسکرا کر کہتے،
"فخر کرو کہ تم اللہ کی راہ پر ہو، لیکن کبھی تکبر نہ کرنا۔"
وہ خود کبھی دوسروں کو نیچا نہ سمجھتے اور ہمیشہ عاجزی سے پیش آتے۔
2. حضرت علیؓ اور غلام
حضرت علیؓ اپنے علم اور بہادری پر فخر محسوس کر رہے تھے۔ ایک دن انہوں نے اپنے غلام کو دیکھا جو محنت کر رہا تھا۔
انہوں نے کہا، "میری طاقت اور علم اہم ہیں، مگر تمہاری محنت بھی بہت قیمتی ہے۔"
اس دن حضرت علیؓ نے سیکھا کہ فخر ہو سکتا ہے، مگر تکبر نہیں۔
3. بادشاہ اور کسان
ایک بادشاہ اپنے محل پر بہت فخر کرتا تھا۔ ایک دن وہ کسان کے کھیت پر گیا۔ کسان نے کہا،
"آپ کا محل خوبصورت ہے، مگر میری محنت کے بغیر یہ کچھ نہیں۔"
بادشاہ نے سر جھکا کر کہا، "تمہاری محنت کے بغیر میرا محل کچھ بھی نہیں۔ فخر تو محنت کا ہے، تکبر نہیں۔"
4. استاد اور شاگرد
ایک استاد اپنے شاگردوں کی کامیابی پر خوش تھا۔ اس نے کہا،
"یہ تمہاری محنت ہے، میں صرف رہنما ہوں۔ اپنی کامیابی پر فخر کرو، لیکن کبھی دوسروں کو کم مت سمجھو۔"
5. دو دوست
دو دوست تھے، ایک اپنی کامیابی پر فخر کرتا اور دوسرے کو نظر انداز کرتا۔ ایک دن دوسرے نے کہا،
"ہم سب کے اپنے راستے ہیں، تمہاری کامیابی کی خوشی مجھے بھی ہے۔"
پہلا دوست سمجھ گیا کہ فخر کرنا اچھا ہے، مگر تکبر برا ہے۔"
6. شاعر اور مرید
ایک شاعر اپنی شاعری پر بہت فخر کرتا تھا، مگر اپنے مریدوں کی عزت بھی کرتا۔ وہ کہتا،
"میری شاعری کا حق تم سب پر بھی ہے۔ ہم سب کا فخر مل کر بنتا ہے، تکبر سے بچو۔"
7. عالم دین اور تائب
ایک عالم دین اپنی تعلیم پر فخر محسوس کرتا تھا، مگر جب ایک تائب شخص آیا، تو اس نے عاجزی سے کہا،
"علم سے بڑا تقویٰ ہے۔ فخر کرو اپنی نیکیوں پر، تکبر نہیں۔"
8. کھیل کا کھلاڑی
کھیل کا کھلاڑی جیت کر خوش تھا۔ اس نے ہارنے والے سے کہا،
"ہم سب نے محنت کی ہے، کامیابی کا مطلب یہ نہیں کہ تم کم ہو۔ فخر کر، مگر تکبر نہ کر۔"
9. امیر اور محتاج
ایک امیر نے اپنی دولت پر فخر کیا، لیکن جب محتاج آیا تو اس نے اپنی دولت بانٹ دی اور کہا،
"یہ دولت اللہ کی نعمت ہے، اسے دوسروں کی خدمت میں لگانا فخر ہے، تکبر نہیں۔"
10. قلمکار اور قارئین
ایک قلمکار اپنی تحریر پر فخر کرتا تھا، لیکن اپنے قارئین کو ہمیشہ عزت دیتا۔
"میری کامیابی تمہاری محبت کی وجہ سے ہے، فخر تو اللہ کا ہے، تکبر سے بچو۔"
یہ کہانیاں یاد دلاتی ہیں کہ:
-
فخر اپنی کامیابی اور اللہ کی نعمتوں پر خوش ہونا ہے،
-
تکبر دوسروں کو کمتر سمجھنا اور اپنی برتری ظاہر کرنا ہے۔
جرات مند بنو مگر بدمعاش نہیں
1. حضرت ابوبکر صدیقؓ
جب کفر کے سرداروں نے نبی ﷺ کو نقصان پہنچانے کی سازش کی، حضرت ابوبکرؓ نے جرات دکھائی اور نبی ﷺ کے ساتھ ہجرت کی۔ مگر وہ کبھی ظلم یا بدتمیزی نہیں کرتے تھے، ہمیشہ اخلاق سے پیش آتے تھے۔
2. شیر اور لومڑی
ایک جنگل میں شیر جرات مند تھا، مگر اپنی طاقت کے باوجود کبھی بدمعاشی نہیں کرتا تھا۔ وہ دوسروں کا حق مارتا نہیں تھا بلکہ انصاف سے حکومت کرتا تھا۔
3. بچہ اور استاد
ایک طالب علم نے اپنے استاد کے سامنے غلطی کی نشاندہی جرات سے کی، لیکن نہ بدمعاشی کی، نہ گستاخی، بلکہ ادب سے بات کی۔
4. خاتون اور دکاندار
ایک عورت نے دکاندار سے جرات مند ہوکر کہا کہ اس نے غلط سامان دیا ہے، مگر وہ نہ بڑائی کی نہ بدتمیزی، بس حق کی بات کی۔
5. فوجی اور عام آدمی
فوجی نے دشمن کے خلاف بہادری دکھائی، مگر کبھی بے وجہ کسی کو نقصان نہیں پہنچایا، وہ جرات مند تھا مگر بدمعاش نہیں۔
6. طالب علم اور کلاس فیلو
کسی نے طالب علم کو چھیڑا، تو اس نے جرات سے مقابلہ کیا، لیکن بدتمیزی سے گریز کیا اور صرف اپنے حق کا دفاع کیا۔
7. والد اور بیٹا
والد نے بیٹے کو سمجھایا،
"بیٹے! جرات دکھاؤ، مگر اپنے اخلاق کبھی خراب نہ کرو۔ جرات اور بدمعاشی میں فرق ہوتا ہے۔"
8. کاروباری اور گاہک
کاروباری نے گاہک کی شکایت جرات سے سنی اور مسئلہ حل کیا، مگر نہ گالم گلوچ کی، نہ دھمکی دی۔
9. حکمران اور رعایا
حکمران نے اپنی رعایا کی بھلائی کے لیے فیصلے جرات سے کیے، مگر ظلم و زیادتی سے ہمیشہ پرہیز کیا۔
10. نوجوان اور سوشل میڈیا
نوجوان نے سوشل میڈیا پر غلط معلومات کے خلاف جرات دکھائی، لیکن کبھی دوسروں کا مذاق نہیں اڑایا اور نہ ہی گالی دی۔
خلاصہ:
جرات مند وہ ہوتا ہے جو حق پر ڈٹا رہے، خوف نہ کرے، لیکن دوسروں کی عزت اور اخلاق کا خیال رکھے۔
بدمعاشی وہ ہے جو طاقت یا جرات کو غلط استعمال کرے اور دوسروں کو تکلیف دے۔
پیر، 19 مئی، 2025
نیتن یاہو پر اللہ کا عذاب اور اس کے ثبوت
اس ویڈیو کے اندر میں نے اسرائیل میں لگنے والی اگ کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ کیوں لگی تھی، کس نے لگائی تھی اور اس کی وجہ کیا تھی؟ اگر نتن یاہو نے مزید دہشت گردی کی تو اس کے ساتھ اس سے بھی برا ہوگا اور وہ اپنے نتائج کا خود ذمہ دار ہوگا اس لیے بہتر ہے کہ وہ مظلوم مسلمانوں پر ظلم کرنا بند کر دے اور اپنی بے غیرتی دکھانے سے باز آ جائے کیونکہ وہ اللہ کو شکست نہیں دے سکتا اور اس کے جھوٹے خدا اس کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتے۔
ہفتہ، 17 مئی، 2025
لاعلاج بیماریوں سے نجات کے لیے روحانی علاج اسکلز
- ہماری تلاوت سنیں بیماری کی حالت میں
- ہر قسم کی بیماری سے نجات حاصل کریں
- وینٹیلیٹر مریض کے علاج کے لیے
- دعا، دوا اور صدقہ سے لاعلاج بیماریوں کا علاج
- ہر قسم کے جادوئی اثرات کو ختم کرنے والی بتی
- ہر مرض جادو اور شیطان سے نجات کا عمل
- انڈہ، لیموں، گوشت اور بیر کی پتی کے ذریعےجادو جنات اور لاعلاج بیماریوں کا علاج