قطر سے یورپ جانا پاکستان سے زیادہ آسان ہے!
اس ویب سائٹ پر اسلام، قرآن، روحانیت، گیمنگ، فری لانسنگ، کمپیوٹر، ویب ڈیویلپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ، کرامات و معجزات، کیریئر، لائف، بزنس، ریلیشن شپ اور بہت کچھ ملے گا۔
پیر، 10 نومبر، 2025
قطر سے یورپ جانا پاکستان سے زیادہ آسان ہے!
جمعہ، 7 نومبر، 2025
🌸 اسلام میں عورت کا عورت سے شرمگاہ کے بال صاف کروانا — ایک اصلاحی پیغام
🌸 اسلام میں عورت کا عورت سے شرمگاہ کے بال صاف کروانا — ایک اصلاحی پیغام
اللہ تعالیٰ نے اسلام کو حیاء اور پاکیزگی کا دین بنایا ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"الحياء شعبة من الإيمان"
یعنی حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے۔
(صحیح بخاری: 9)
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ پردہ صرف مرد و عورت کے درمیان نہیں،
بلکہ عورت اور عورت کے درمیان بھی ایک حد ہے۔
🔹 اسلامی حکم کیا ہے؟
فقہاء کے نزدیک عورت کے لیے عورت کے سامنے ناف سے گھٹنے تک کا حصہ ستر (یعنی چھپانے والا حصہ) ہے۔
یعنی اس حصے کو بلا ضرورت نہ دیکھنا جائز ہے، نہ کسی کو دکھانا۔
فقہی ماخذ:
الدر المختار مع رد المحتار (1/405)
الفتاویٰ الهندیة (5/357)
حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار (ص 43)
ان تمام کتب میں یہی اصول بیان کیا گیا ہے کہ:
"لا يجوز للمرأة أن تنظر إلى ما بين سرة امرأة وركبتها إلا لضرورة."
(یعنی عورت کے لیے عورت کی ناف سے گھٹنے تک دیکھنا جائز نہیں، سوائے ضرورت کے۔)
⚖️ بلا ضرورت یہ عمل حرام ہے
اگر کوئی عورت کسی دوسری عورت سے محض عادتاً، آرام کے لیے، یا فیشن کے طور پر
اپنی شرمگاہ کے بال صاف کرواتی ہے —
تو یہ ناجائز اور گناہ ہے،
کیونکہ اس میں پردہ کی خلاف ورزی اور حیاء کا نقصان ہے۔
ایسا عمل انسان کو اللہ کی ناراضی اور قیامت کے دن شرمندگی میں ڈال سکتا ہے۔
⚕️ کب گنجائش ہے؟
اسلام میں اگر کوئی سخت مجبوری یا طبی ضرورت پیش آ جائے،
تو صرف اتنا حصہ ظاہر کیا جا سکتا ہے جتنی واقعی ضرورت ہو۔
ایسی مجبوریوں کی مثالیں:
عورت بیمار یا معذور ہو اور خود صفائی نہ کر سکے۔
حمل یا زچگی کے آخری مراحل میں جھکنا ممکن نہ ہو۔
آپریشن یا زخم ہو جس سے نقصان کا خطرہ ہو۔
بزرگ عورت جس سے خود صفائی ممکن نہ ہو۔
طبی معائنہ (جیسے نرس یا ڈاکٹر) — تب بھی صرف ضرورت کے مطابق۔
فقہی اصول:
"الضرورات تبيح المحظورات"
(ضرورت بعض ممنوع چیزوں کو جائز کر دیتی ہے)
— [قواعد الفقه الكبرى للسيوطي، ص 88]
🌺 ڈاکٹرز اور نرسوں کے لیے خصوصی نصیحت:
اللہ نے آپ کو شفا دینے کا ذریعہ بنایا ہے،
لیکن شفا کا کام بھی پردہ اور حیاء کے دائرے میں رہ کر ہونا چاہیے۔
جو عورت خود صفائی کر سکتی ہے،
اس کی شرمگاہ کے بال کسی دوسری عورت کا صاف کرنا شرعاً حرام ہے۔
اور اگر وہ مجبوری میں ایسا کر رہی ہے،
تو صرف ضرورت کے مطابق اور پردہ کے اہتمام کے ساتھ۔
💔 یاد رکھو بہن:
یہ وہ اعضاء ہیں جنہیں نبی ﷺ نے شرمگاہ کہا —
ان کا ظاہر کرنا بھی گناہ ہے اور دیکھنا بھی۔
ایسی غلط عادتیں اگر عام ہو جائیں تو امت کی حیاء ختم ہو جاتی ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"إذا لم تستحِ فاصنع ما شئت"
جب تم میں سے حیاء ختم ہو جائے تو پھر جو چاہو کرو۔
(بخاری: 3483)
🌷 نتیجہ:
❌ عام حالات میں: عورت کا عورت سے شرمگاہ کے بال صاف کروانا حرام ہے۔
✅ صرف سخت مجبوری یا طبی ضرورت میں: اجازت ہے، وہ بھی محدود حد تک۔
🎥 ویڈیوز
عورت کا دوسری عورت کی شرمگاہ کے بال صاف کرنا
https://www.youtube.com/watch?v=6PeMV5lShOs
💫 دعا کے ساتھ اختتام:
اللہ ہمیں حیاء، طہارت اور حدودِ شرعیہ کا پاس رکھنے والا بنائے،
اور جنہیں یہ بات پہنچے وہ عمل کرنے والی بن جائیں۔
آمین
بدھ، 5 نومبر، 2025
دولت کی شکلیں
سوشل میڈیا پر دولت کے حوالے سے ایک اچھی تحریر ملی جو شیئر کررہا ہوں کیونکہ اس حوالے سے انسان کا مائنڈسیٹ دولت کو موازنہ نہیں کرتا۔ زیادہ تر لوگ دولت کو "پیسوں کے نظریے" سے دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں۔
تحریر ملاحظہ کیجئے:
دولت کی کئی شکلیں ہیں اور اللہ تعالی نے دنیا میں سب کو دولت دی ہے دولت کی ایک شکل مٹیریل اور کرنسی ہے جو لوگوں کے پاس ہوتی ہے دوسری شکل اچھی صحت ہے ....اچھے ماں باپ ہیں ....خونی رشتے ہیں.... جو اپ کے پاس ہیں.... دولت کی دوسری شکل اپ کے پاس ہے..., اچھے سے کبھی اسپتال کا وزٹ کریں تو پتہ چلے گا ... یہ جو اچھی صحت کی دولت اپ کے پاس ہے ....اس کو جینے کے لیے کتنے نوجوان ارزو کرتے ہیں کسی 25 سال کے نوجوان کو معدے کا کینسر ہے وہ منہ سے اپنی خوراک نہیں لے سکتا ...کسی کو پیر کا کوئی مسئلہ ہے وہ چل نہیں سکتا اپ کی طرح کوئی نوجوان جوانی میں گردے کے مسئلے میں ہے پھیپھڑوں کے مسئلے میں کڈنی کے مسئلے میں مبتلا ہو گیا ۔۔۔۔وہ زندگی کو اس طرح سے انجوائے نہیں کر سکتا وہ نارمل کام بھی نہیں کر سکتے اور دوسروں کے محتاج پڑے ہوئے ہیں اور صرف اپ کی جیسی صحت والی زندگی جینا چاہتے ہیں اپنی تمام دولت دے کر بھی کچھ لوگوں کے پاس اپ جیسی صحت نہیں ہے اپ جیسے خونی رشتے نہیں ہیں ان کے ماں باپ بھی نہیں ہیں جو ان کو دعائیں دیتے ہیں جو ان کے کام کو اپریشیٹ کرتے ہیں جو ان سے پوچھتے ہیں کہ بیٹا اج کھانا کھایا ہے یا نہیں اج تھا کہ وہ تو نہیں ہو کچھ لوگوں کے پاس بہن بھائی جیسی دولت نہیں ہے جو ان کا خیال کرتی ہے جو ان کے ساتھ کھیلتی اور انگنت نعمتیں ہیں اللہ تعالی کی جو اب گننا شروع کر دے تو صبح سے شام ہو جائے وہ نعمتیں ختم نہ ہوں وہ دولتیں ختم نہ ہو میرے بھائی چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں چھوٹی چھوٹی نعمتوں میں اپنی خوشی تلاش کرے ماں باپ کا سر پہ دست شفقت ہونا ہی کافی ہے کیا گاڑی ضروری تو نہیں ہے ان بنگلوں میں ان پراپرٹی رکھنے والوں کے پاس ان اونچی اونچی گاڑیوں میں بیٹھنے والوں کے پاس ان کے پاس کتنے بڑے بڑے دکھ ہیں یہ کسی کو پتہ نہیں ہے تو اس بات کو حضرت نہ بنائیں خواہش ضرور ہونی چاہیے انسان کے خواب ضرور ہونا چاہیے تاکہ وہ اس پہ محنت کر سکے لیکن اس خواہش کو حسرت اور غم کی صورت نہ بنائے باقی اللہ تعالی اپ کے خواب پورے کرے امین
جمعہ، 31 اکتوبر، 2025
ایک امید کی آہٹ خوفزدہ عزت دار عورتوں کے لیے
یہ پوسٹ سوشل میڈیا سے ملی ہے۔ پہلے اسے پڑھو پھر میرا کمنٹ پڑھو اگر تم بھی معاشرے کے ہوس زدہ مردوں کے ہاتھوں ڈر اور خوف کا شکار بن چکی ہو۔
دن بدن بڑھتے ہوئے اس فعل کو روکنے کے لیے کون کون میرے ساتھ ہے
— ایک راز دارانہ حوالہ
یہ کہانی مجھے میرے ایک جاننے والے نے دی، جو تفتیشی شعبے/خفیہ ادارے سے منسلک ہے۔ اُس نے کہا کہ یہ ایک خاتون کی اصل رپورٹ تھی — ثبوت کے ساتھ۔ وہی الفاظ میں تمہارے سامنے رکھ رہی ہوں۔ اور اب نادیہ خود کہتی ہے:
---
میرا نام نادیہ ہے۔
میں لاہور کے ایک عام سے محلے میں رہتی ہوں۔ گھر میں کچن، بچوں کی دیکھ بھال، ساری روزمرہ کی چھوٹی بڑی ذمّہ داریاں میری ہی ہیں۔ میں نے اب تک بہت کچھ سہا ہے—شکایت کم، برداشت زیادہ۔ مگر آج تمہیں وہ دن بتاؤں گی جب میرا ایک عام سا دن میرے لیے ایک پورا بوجھ بن گیا۔
. میں نے بچوں کے ناشتے کے بعد بیٹے کے لیے اسکول کا لنچ تیار کیا، گھر کے برتن دھوئے، اور چیک کیا کہ کھانا پکانے کے لیے گھر میں لانے والے سامان میں سے کس چیز کی کمی ہے دکانوں پر آج کچھ سامان لینا ہے یا ایسے ہی گزارا ہو جائے گا۔ صبح کے یہ چھوٹے چھوٹے کام کسی بھی عام ماں کی طرح میرے لیے معمول تھے۔ میں نے بچوں کو اسکول بھیجا، پھر رکشہ پکڑا اور قریبی مارکیٹ کی طرف نکل گئی۔
بازار میں رش تھا۔ عورتیں، بچے، دکاندار، گاڑیاں—سب کا اپنا اپنا کام۔ میں ایک سبزی کی دکان کے پاس رک گئی اور کمِ قیمت والی سبزیاں لینے لگی۔ اچانک مجھے لگا کسی کی نظر میرے پیچھے جم گئی ہے۔ میں نے سیدھا منہ نہیں موڑا، بس ہاتھ آگے بڑھا کر پلاسٹک بیگ مضبوط کیا۔ —نہ ہی کوئی زور سے کوشش تھی—بس ایک ہاتھ سا گرد ہوتے ہوئے میرے کندھے کے قریب سے چھو کر گیا، پھر ہنسی کی طرح ہوا میں کھو گیا۔ میں نے سوچا شاید بیگ پکڑتے ہوئے کسی کا ہاتھ مس کر گیا ہو😔 ، مگر وہ نظر پھر بھی پیچھے کھڑی تھی—ایک آدمی، جو ہنستے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا اور میرے پاس سے گزرا۔ اس کے چہرے پر وہی اطمینان تھا جو مجھ جیسی عورت کے خوف پر مبنی ہوتا ہے۔
میں نے اندر کھنچ کر سانس لی، مگر دِل کے اندر ایک چِبھن سی رہ گئی۔ یہ بات ایک لمحے کی بھی سہی، مگر تب سے میرا دماغ تھرتھرا رہا تھا۔ میں نے اپنے آپ کو منایا: "چلو، کام کر کے واپس آتی ہوں"۔
اسکول پک اپ اور بڑھتی ہوئی بے آرامی
دوسرا واقعہ شام کو ہوا، جب میں بچے کو اسکول سے لینے گئی۔ بچے کے ساتھ چلنا کوئی کمال کا کام نہیں، مگر شہر کی سڑکیں عموماً ایسی ہوتی ہیں کہ ایک ماں کی نظر اپنے بچے پر ہی ہوتی ہے۔ اسکول کے باہر ایک بندہ بار بار میری طرف عجیب نظروں سے دیکھتا ہوا ا رہا تھا—پہلے دور، پھر قریب۔ اس نے کسی بھی شکل میں ہاتھ بڑھایا نہیں مگر اس کی نظریں بتا رہی تھیں کہ وہ ایک نقشہ بنا رہا ہے: کون سی گلی سے میں جاؤں گی، کون سی بس میں بیٹھوں گی۔ جب ہم بس کے قریب پہنچے تو اسی آدمی نے بس کے اندر ہاتھ رکھ کر آگے سے مجھے ٹکرایا😔 — اتنا معمولی کہ لوگ نہ سمجھیں، مگر اتنا کافی کہ میرے بازو میں کانپ سی آگئی۔ بچے نے پوچھا، " ماما، کچھ ہوا؟" میں نے ہنستے ہوئے کہا، "نہیں بیٹا، کچھ نہیں"—لیکن اندر کا خوف بڑھتا گیا۔
میں نے سوچا—کیا میں سیکڑوں چیزیں برداشت کرتی رہوں؟ مگر گھر کے حالات، بچوں کی ذمہ داریاں، اور لوگوں کا وہ سوال—"کیا تم نے کچھ کہہ دیا؟"—یہ سب مل کر مجھے چپ کرا دیتے ہیں۔ پھر بھی، اپنے اندر ایک نگاہ تھی جو کہتی تھی کہ یہ ٹھیک نہیں۔
ہم سے دو گلیاں چھوڑ کر ہمارے ایک رشتہ دار کا گھر تھا انہوں نے ہمیں اپنے گھر دعوت پر مدو کیا تھا چونکہ گرنزدیک تھا اور ماشاءاللہ سے ایک بائک پر سب بچوں کا اور میرا پورا انا مشکل تھا تو ہسبینڈ الگ ایک بچے کو بٹھا کر چلے گئے اور واپسی پر میں اپنے تین بچوں کے ساتھ پیدل ارہی تھی — رشتہ دار کے گھر سے واپسی اور وہ لمحہ
رات کو میں اپنے رشتہ دار کے گھر سے واپس آ رہی تھی۔ ۔ راستہ سنسان تھا مگر گھر والوں کا خیال تھا کہ رات کے اس وقت جانا خطرناک نہیں کیونکہ ہمارا گھر کوئی ویران جگہ پر نہیں تھا چہل پہل والا علاقہ تھا۔ ، بیگ ہاتھ میں تھا، اور فون بیگ میں بند تھا۔ اسی دوران ایک دو لڑکے ایک موٹر سائیکل پر آئے دیکھنے میں اچھے گھر کے نوجوان لڑکے تھے—پہلے وہ معمولی سی آوازیں نکال رہے تھے، پھر انہوں نے آہستہ آہستہ پاس سے گزرتے ہوئے میری طرف 😔بدتمیزی کرنے کی کوشش کی۔ اس دفعہ ایک نے ہاتھ بڑھایا—بہت ہلکے سے، مگر جان بوجھ کر—اور میرا جسم سنبھل گیا۔ بچے کا خیال تھا کہ یہ وہی عام شہر کی باتیں ہیں، مگر میرے اندر ایک سیڑھی سی ٹوٹ گئی۔
میں نے اپنی آواز دبا کر چپ ساتھ لی لیکن انکھیں انسوں سے بھر گئی—بچوں کی وجہ سے، آئندہ سوچ کر، اور ایک عورت کی وہ دیرینہ عادت کہ ’بولنے سے مسائل بڑھیں گے۔‘ میں نے خود سے کہا، "بس، آئندہ میں ایسا نہیں ہونے دوں گی"—مگر ان الفاظ کی قوت کم تھی، کیونکہ کس کے سامنے، کس طرح؟
میں نے جب گھر پہنچ کر سوچا تو رات بھر وہ منظر آنکھوں سے نہیں گئے ہاتھ لگا کر جانے والوں میں کچھ لوگ ایسے بھی بارش تھے جن کو دیکھ کر انسان ادب سے انکھیں اور سر جھکا لے کچھ بچے تھے کہ جن کو ہم اپنی اولاد کہہ سکیں ہمارے بچوں جتنے بچے میں بہت ٹوٹ چکی تھی لیکن چونکہ ٹوٹنے کے بعد انسان میں سنبھلنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے میں نے بہت سوچا پھر میں نے کوئی فیصلہ کیا۔ میں نے اپنے پاس موجود چھوٹے چھوٹے نوٹس، وقت، جگہ، اور اگر کوئی تھا تو گاڑی کی تفصیل نوٹ کی۔ پھر میں نے ایک جاننے والے کو فون کیا جو واقعی تفتیشی ادارے میں کام کرتا ہے۔ اس نے بڑے صبر سے میری کہانی سنی اور کہا، "یہ چھوٹی چیزیں ہی بعد میں بڑا مسئلہ بن جاتی ہیں۔ ثبوت جمع کرو، ہم دیکھیں گے۔"
میں نے ہمت کی اور پولیس اسٹیشن جا کر رپورٹ درج کروائی—میں نے جتنا بتا سکتی تھی اتنا بتایا۔ مگر میں جانتی تھی کہ شاید فوراََ کوئی کارروائی نہ ہو۔ اسی لیے میں نے اپنے پاس جو بھی ثبوت جمع کرنے شروع کیے کیونکہ یہ کام کوئی ایک دن کا تو تھا نہیں اور جب موبائل کھولتی تو ہر دوسری خبر پر یہی کچھ چل رہا ہوتا تھا—
سی سی ٹی وی فوٹیج —
کچھ دن بعد وہ جاننے والا جس نے میری بات سنی تھی، مجھے ایک ویڈیو دکھانے آیا۔ وہ ویڈیو بازار کے ایک کیمرے کی تھی—ساتھ میں ایک دکان کے مالک کی گواہی بھی تھی۔ اس ویڈیو میں وہی موٹر سائیکل چلانے والے دو آدمی صاف نظر آئے، جن کی ایک ادائیگی، وہی نظریں، اور وہی حرکتیں تھیں۔ ویڈیو میں واضح تھا کہ انہوں نے کس وقت کہاں سے گزرا، کون سے راستے اختیار کیے، اور کس لمحے ایک نے میری طرف ہاتھ بڑھایا۔
جب میں نے وہ فوٹیج دیکھی تو میرا دل ایک ہی سانس میں بیٹھ گیا—دکھ کے ساتھ ایک عجیب سی طاقت بھی محسوس ہوئی۔ دل نے کہا، "دیکھا؛ تم نے ثابت کر دکھایا"۔ مگر وہی خوف بھی تھا کہ اگر لڑکے پکڑے گئے تو کون سی سزا ملے گی؟ کیا یہ دوبارہ ہوگا؟ مگر میں نے فیصلہ کیا کہ میں اس کو خاموشی میں نہیں چھوڑوں گی۔
— کچھ نے کہا کہ اگر تم بھی اپنے اپ کو ڈھانپ کر نکلو تو کسی کی جرات نہیں کہ تمہیں ہاتھ لگا سکے کچھ نے کہا کہ تم جتنا بھی اپنے اپ کو کور کر لو کہ جب تک اگلوں کی انکھوں میں حیا اور عزت نہیں ائے گی تب تک کچھ نہیں ہوگا کچھ نے ساتھ دیا، کچھ خاموش رہے
جب میں نے یہ باتیں اپنے محلے والوں کو بتائیں تو مختلف ردعمل ملا۔ کچھ لوگوں نے کہا، "یہ تو نارمل ہوتا جا رہا ہے"، کچھ نے ہمدردی دکھائی اور ساتھ کھڑے ہوئے، اور کچھ نے طنزیہ تبصرے کیے۔ میرے خاندان میں بھی مختلف آوازیں آئیں—کسی نے کہا "شرمندگی نہیں"، کسی نے کہا "اب جتھہ بنانا خطرناک ہے"۔ مگر میں جانتی تھی کہ سب سے بڑا سوال یہی ہے: اگر آپ خود اپنی آنکھ سے غیر اخلاقی حرکت دیکھیں تو کیا کریں گے؟
— نادیہ کی آواز سے پکار
میں تم سے براہِ راست کہتی ہوں—جو بھی یہ پڑھ رہا ہے: اگر تمہیں کبھی اپنی آنکھوں سے ایسا کچھ نظر آئے تو رک جاؤ۔ ویڈیو بناؤ، موبائل نکالو اور ریکارڈ کرو، اور فوراً پولیس یا قریبی دکان داروں کو بتا کر اس شخص کو پابند کرو۔ بہت سی بار یہی ویڈیو اور فوراً کی گئی گرفتیں بعد میں ثبوت کا کام دیتی ہیں۔ خاموشی اس ظلم کو فروغ دیتی ہے۔
میرے پاس یہ طاقت اس لیے آئی کہ میرے پاس ثبوت تھے—اور ایک جاننے والے کی مدد تھی۔ مگر ہر عورت کے پاس یہ موقع نہیں ہوتا ہے۔ اسی لیے میں تم سے کہتی ہوں:
جب بھی تم کسی غیر اخلاقی حرکت دیکھو، ریکارڈ کر لو؛
اگر ممکن ہو تو ملحقہ دکان داروں یا مردوں کو آواز دو کہ آ کر دیکھیں؛
فوراً پولیس کو اطلاع دو اور موقع پر موجود لوگوں سے گواہی لو؛
اگر بچے یا دوسری عورتیں وہاں ہوں تو پہلے اُن کی حفاظت کر لو؛
اور اگر تم خود ایسی چیز کا شکار ہو تو شرمندگی مت کرو—تم خود قصوروار نہیں ہو۔
— ایک امید کی آہٹ
میں یہ سب اس لیے لکھ رہی ہوں کیونکہ میرے اندر وہ دن پھر ابھر آتا ہے—ہر چھوٹی حرکت، ہر سرگوشی، ہر رات کی تنہائی۔ مگر آج جب میں یہ الفاظ لکھ رہی ہوں تو میں چاہتی ہوں کہ ہماری گلیاں، ہماری مارکیٹیں، ہمارے راستے—سب امن کی طرف جائیں۔ اور تم جو یہ پڑھ رہی ہو، تم بھی ایک چھوٹی سی روشنی بن سکتی ہو: ایک ویڈیو، اور اگر یہ تحریر اس انسان نے پڑھی ہے جو راستوں پہ پھرتے ہوئے چہرے سے شریف لگتا ہے لیکن حرکتیں ایسی کرتا ہے تو ان کو میں بتا دوں کہ ان کے گھر میں جو ان کی بیوی ماں بہن بیٹی ہے وہ سب بھی ویسے ہی دکھتی ہے اس کا جسم بھی ویسا ہی ہے جیسا ایک راہ چلتی دوسرے کی بیوی بہن اور بیٹی کا ہے ایک آواز، ایک گرفت—یہ سب کافی ہیں۔
یہ کہانی مجھے میرے ایک جاننے والے نے ثبوت کے ساتھ دی تھی—اور میں نے اُس کی زبان میں وہی الفاظ آپ کے سامنے رکھ دیے۔ اگر تم نے کبھی کچھ دیکھا تو خاموش مت رہنا؛ ویڈیو بناؤ، مدد کرو، اور ذرا سی ہمت دکھاؤ۔ یہ شہر، ہماری سڑکیں، ہم سب کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔
— نادیہ
اب میرا کمنٹ پڑھو
میں نے تو بسوں میں سفر کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کہ میں تنگ آچکا تھا ان لڑائی جھگڑوں سے اور عورتوں کی خاموشی سے۔ پوری بس میں اکیلا چیخ رہا ہوتا تھا، ڈیفینڈ کررہا ہوتا تھا، اس مردود کے خلاف بولتا تھا جو غلط حرکات کرتا تھا اور میں نوٹس کرتا تھا مگر پوری بس کے مرد حضرات شکل دیکھ رہے ہوتے تھے اور میں، وہ چھوٹا سا ایک بچہ تب کا، سمجھتا تھا شاید کہ میں ہی غلط ہوں۔ جب خواتین ہی چپ سادھ لیں اور ان کے لیے بولنے والے پر بھی کھڑی نہ ہوسکیں اور جس کے لیے آواز اٹھاو وہی بزدلی کی چادر تان لے تو مجھ جیسا اس وقت کا بچہ کس کس سے لڑے گا؟
آج الحمدللہ، جان چھڑاچکا ہوں اس معاشرے کی ان غلاظتوں سے اور ان راستوں سے اور ان بسوں سے مگر میں جانتا ہوں کہ آج میری جوانی کے دور میں، وہ راستے وہ بسیں اور وہ بازار پہلے سے زیادہ عبرتناک ہوچکے ہیں جس کا اندازہ مجھے میڈیا پر خبروں سے ہوتا رہتا ہے۔
میں جانتا ہوں ان لوگوں کو کیسے لگام ڈالی جاسکتی ہے۔ میں چاہوں تو ایسے ایسے جال بچھادوں کہ یہ لوگ اپنی موت آپ مرجائیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ ادارے والے ہی اگر کچھ نہ کرنا چاہیں تو پھر کون کیا کرے؟
جب پولیس کا ملازم کسی عورت کا ریپ کرتا ہے
جب ڈاکٹر اپنی نرس کا ریپ کرتا ہے
جب جج کسی کا ریپ کرتا ہے
جب وکیل کسی کا ریپ کرتا ہے
جب آرمی آفیسر کسی کا ریپ کرتا ہے
جب حکمران کسی کا ریپ کرتا ہے
تب کوئی آواز اٹھانے کی جرات کرسکے گا؟
انہیں تو اللہ ہی ذلت کی موت دے گا
تب جاکر ہوش ٹھکانے لگیں گے کہ اللہ کا عذاب کیا چیز ہے۔
عورتیں - بس "ہمت" سے بولنا سیکھِیں، اسلام کے مطابق ہر نامحرم سے "میٹھی آواز" میں بات کرنا بند کردیں۔ کام کی بات کریں ورنہ راستہ صاف کریں ۔ کوئی آگے بڑھے تو پتھر اٹھاکر سر پر ماریں، بے غیرت کو ڈر بہت ہوتا ہے ۔ کیمرے سے ڈرتا ہے - پلاننگ خوب کرتا ہے - پولیس سے ڈرتا ہے - ثبوتوں سے جان جاتی ہے - اپنے اپنے پاس خفیہ کیمرہ ریکارڈر ایپ موبائل میں انسٹال کرو - جب کسی سے ملنے جاو، تنہائی، آفس، باس وغیرہ تب موبائل سائلنٹ موڈ پر اسکرین آف کرکے ریکارڈر آن رکھو - ثبوت خود بنتے چلے جائیں گے۔ بعد میں اس کی ایسی تیسی کروادو۔
اس کے رشتہ داروں کو بتاو، لوگوں کو بتاو، عوام کو بتاو، اداروں کو بتاو مگر خود کو بھی مضبوط بناو - چپ رہو گی تو ماری جاو گی۔
عزت کی موت ذلت کی غلامی سے بہتر ہے۔
جمعرات، 30 اکتوبر، 2025
اسلام میں لونڈیوں کی اجازت
بدھ، 17 ستمبر، 2025
محکمہ موسمیات کے دعوے اور حقیقت: اللہ کی تدبیر کے سامنے سائنس کی بے بسی
ستمبر 2025 کے درمیانی دنوں میں محکمہ موسمیات اور میڈیا نے بارش اور موسم کے متعلق کئی دعوے کیے، لیکن اللہ نے ان کے دعووں کو جھوٹا ثابت کردیا۔ یہ واقعات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ انسان کتنا ہی ترقی کرلے، کائنات کا سارا نظام صرف اور صرف اللہ کے قبضے میں ہے۔
🌧️ 15 ستمبر 2025
سما نیوز پر دعوی کیا گیا کہ "مون سون کا 11 واں اسپیل، کل سے بارشوں کی پیشگوئی"
ریفرنس: ویڈیو دیکھیں
☀️ 16 ستمبر 2025
اگلے ہی دن دعویٰ بدل گیا اور کہا گیا کہ "پنجاب میں نیا مون سون اسپیل آج سے شروع ہونے کی پیشگوئی"
ریفرنس: ویڈیو دیکھیں
🔥 17 ستمبر 2025
اے آر وائی نیوز پر دعوی کیا گیا کہ "آئندہ چند روز تک گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگا، محکمہ موسمیات"
ریفرنس: ویڈیو دیکھیں
🌡️ 18 ستمبر 2025
میڈیا والے مان گئے کہ لاہور کا موسم آج گزشتہ دنوں کے مقابلہ میں خاصا گرم ہے
انہوں نے قبول کرلیا کہ یہ مون سون نہیں ہے
یہ بھِی مان لیا ہے کہ مون سون کا سلسلہ تھم چکا ہے
یہ دعوی بھی کررہے ہیں کہ بارش کا امکان ہے جبکہ گزشتہ دن اگلے تین دن گرمی بڑھنے کا دعوی کررہے تھے
گیارواں مون سون اسپیل کدھر گیا؟ کہاں غائب ہوگیا؟
ایسے کیسے چلتا برستامون سون اسپیل پاکستان سے غائب ہوسکتا ہے؟
کیا ایک انسان اتنا سب کچھ کرسکتا ہے؟
کیا خدا کے بغیر بھی یہ سب کچھ کرنا ممکن ہے؟
کیا کہتے ہیں سائنس کے ماہرین اور جدید علوم کے ماہرین؟
ریفرنس: ویڈیو دیکھیں
⚡ سائنس کے دعووں کی حقیقت
حیرت کی بات یہ ہے کہ ابھی پہلے دن ہی دعووں سے پلٹ گئے اور پھر بارش کی نئی پیشگوئی کر دی۔ یہ ان کے سائنسی علوم کی حیثیت ہے کہ اپنی پہلی بات پر بھی قائم نہیں رہ سکے۔
ریفرنس: ویڈیو دیکھیں
🎭 چوں چوں کا مربہ
ایک طرف میڈیا والے مون سون کے خاتمے کا اعلان کر رہے تھے، دوسری طرف کوئی اور گیارواں اسپیل کا نیا دعویٰ کر رہا تھا۔ آخر کار یہ ثابت ہوگیا کہ حقیقت پر پردہ ڈالنے سے کچھ حاصل نہیں۔ اللہ کی تدبیر سب پر غالب ہے۔
ریفرنس: ویڈیو دیکھیں
🌧️ بارش یا معجزہ؟
آخر کار یہ واضح ہوگیا کہ یہ بارش نہیں تھی بلکہ اللہ کا معجزہ تھا۔ میڈیا اور محکمہ موسمیات کو چاہیے کہ دعوے کرنے کے بجائے حقیقت عوام کے سامنے رکھیں۔
ریفرنس: معجزہ دیکھیں
نتیجہ: یہ تمام واقعات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ انسان اپنی سائنس اور ٹیکنالوجی پر کتنا ہی ناز کرے، اصل فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ انسان دعوے کرتا ہے مگر تدبیر اللہ کرتا ہے۔
اللہ اکبر – لیجنڈ
اتوار، 27 جولائی، 2025
کراچی سمندر ہے لڑکی نے سرعام سب کر دیا اتنی بے حیائی
کراچی سی ویو ہے یا نہیں مگر سی ویو ہے اور ایک لڑکا لڑکی کے ساتھ مٹر گشتی میں مصروف ہے۔
مانا کہ کوئی ساتھ ہیں مگرکیا یہ میاں بیوی ہیں؟
اگر شوہر ساتھ ہے تو لعنت ہے ایسے شوہر ہونے پر کہ بیوی ننگی نظر آرہی ہے اور وہ نہانے میں مصروف ہے جان لینے کے باوجود بھی اور لعنت ہے اس ویڈیو کو بنانے والے پر کہ وہ کسی عورت کی نہم برنہ حالت کی ویڈیو بنارہا ہے۔
عورتوں سے یہی کہوں گا، کہ تم ننگی ہوکر کیا دکھانا چاہتی ہو؟
تمہارے اندر شرم و حیا نام کی چیز باقی ہی نہیں رہی۔
یہ کرنے جاتی ہو تم ساحل سمندر پر؟
کس قدر بے غیرت ہے وہ درزی جس نے اتنے ہلکے لباس کا کپڑا سیا تھا اور پھر بیچا تھا۔
ایسے لعنتی لوگ سی ویو پر ہر روز آتے جاتے رہتے ہیں اور یہ بے حیا لوگ جہنم کا ایندھن ہیں سوائے ان کے جو توبہ کریں، ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔