بدھ، 18 مارچ، 2020

محمدﷺ کا وجود

 12 ربیع الاول  کے دن یہ ویڈیو لیکچر دنیا کے تمام انسانوں کے سردار اور محبوب رب العالمین جناب محمد رسول اعظم ﷺ کی عظمت، بڑائی، شان، سچائی ، وجود اور کردار کے حوالے سے ایک بہترین ویڈیو لیکچر ہے جس میں ان کے دنیا میں آنے اور وجود پر شک و شبہات پیدا کرنے والے دشمن اسلام کو منہ توڑ جواب دیا گیا ہے۔

اس ویڈیو میں حضرت محمد ﷺکے وجود پر ناقابل شکست ثبوت بیان کیے گئے ہیں جنہیں کبھی شکست نہیں دی جا سکتی۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رسالت پر اللہ کے فضل سے ایسی دلیل جسے ابلیس بھی شکست نہیں دے سکتا اور دنیا کا بڑے سے بڑا جادوگر یا جھوٹی نبوت کا دعویدار اور اس کے تمام پیروکار ملکر بھی اس پریکٹیکل ثبوت کو شکست نہیں دے سکتے۔

حضور نبی کریم ﷺؤ کی پیدائش اور انتقال ہوجانے کے حوالے سے بھی اس ویڈیو میں بات کی گئی ہے۔ یہ ویڈیو میلاد النبی 2019 کے دن اللہ کے فضل و کرم سے  بنائی گئی ہے۔

جمعرات، 12 مارچ، 2020

خدا کی تلاش

 
اس ویڈیو میں غیر جانبدار، فطری، ناقابل تردید اور قابل مشاہدہ ثبوتوں کے حوالے سے نظام کائنات، اس کے حقیقی خالق اور اس کے حقیقی مذہب سے پردہ فاش کیا جارہا ہے۔ یہ ویڈیو لیکچر بچے کی پیدائش سے لے کر انسانوں کی موت اور موت کے بعد کے نتائج تک کی مکمل رہنمائی  کے لیے ہے۔ یہ خدا کے وجود پر بہترین ویڈیو لیکچر ہے۔

ہماری جدید نسل اور نوجوان خالق کائنات سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور وہ مذہب کے بغیر مادیت پسند زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف عقلمند ہونے کے دعویدار اور سچائی کے متلاشی نوجوان زندگی میں سچے خدا کے وجود پر ثبوت تلاش کرنے میں الجھے ہوئے ہیں کیونکہ اس وقت دنیا میں بہت سے ادیان و مذاہب موجود ہیں اور ایک عام آدمی کے لیے مذہبی کتابوں کی خاک چھان کر سچے خدا کو تلاش کرنا بہت زیادہ مشکل ہے کیونکہ کتابوں میں حد سے بڑھ کر جھوٹے خداوں کے نام پر جھوٹی سچی کہانیاں مکس کرکے لوگوں کو صدیوں سے بےوقوف بنایا گیا ہے۔

ملحدین یہ دعویٰ کر تے ہیں کہ کوئی خدا موجود نہیں جبکہ مذہبی پیروکار اپنے اپنے خداؤں کے ناموں پر ایک دوسرے سے صدیوں سے جنگیں لڑ رہے ہیں۔بہت سے روحانی پیشواوں کا حال یہ ہے کہ دعوی کرتے ہیں کہ یہی نیچر دراصل خدا ہے اور کائنات میں خدا نام کی کوئی ہستی موجود نہیں ہے۔

دوسری جانب بہت سے مسلمان اللہ کے وجود، حضرت محمد ﷺ کی رسالت، دین اسلام کی سچائی اور قرآن کی حقیقت کے حوالے سے گمراہ ہوچکے ہیں۔

اب یہ میرے اسٹوڈنٹس کی ذمہ داری ہے  کہ وہ دنیا کے غیرمسلموں کو کائنات کے بادشاہ کے حوالے سے متعارف کرواکر دین اسلام میں داخل کرنے کے لیے اپنی کوشش کریں تاکہ وہ تمام غیرمسلم جو حق کی تلاش میں ہیں وہ کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوجائیں۔

اس ویڈیو میں خدا اور سائنس کے حوالے سے بھی جانکاردی دی گئی ہے۔ 

الحمدللہ رب العالمین
اللہ اکبر، اللہ واحد القہار

جمعہ، 17 جنوری، 2020

اکثر مسلم غیرمسلموں سے خوف ذدہ ہیں

چونکہ اکثر مسلم مذہبی پیشوا اور ان کے پیروکار اپنی بداعمالیوں کو خوب جانتے ہیں اس لیے وہ  اس یقین کامل سے محروم ہیں کہ اللہ آج بھی مردہ زندہ کرسکتا ہے، چاند دو ٹکڑے کرسکتا ہے، سمندر پھاڑ سکتا ہے، پہاڑ بلند کرسکتا ہے، آگ بے اثر کرسکتا ہے، سورج روک سکتا ہےوغیرہ وغیرہ۔

اسی لیے وہ ماضی کی کہانیوں کا سہارا لیتے ہیں۔ اندر سے ڈرتے ہیں اور غیرمسلموں کو معجزات پر چیلنج کرنے کےلیے انتظامات نہیں کرواتے بلکہ الٹا  ہماری مخالفت کرتے اور مذاق اڑاتے ہیں۔ بے شک یہ لوگ خود ہی ایمان کے کمزور اور بزدل ہیں۔

ہفتہ، 14 دسمبر، 2019

عمل کا دارومدار نیت پر ہے اس میں تکبر کیسا؟

 ایسا ہوتا ہی ہے جب ہم خود کو بہت بڑی چیز سمجھ لیتے ہیں اور کسی غرض کے سبب مدد کرتے ہیں۔ 

 چونکہ عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔ جس کی نیت سو فیصد اللہ کو خوش کرنے کے لیے ہو اور عمل کو اس کی توفیق سمجھے وہ ابلیس و نفس کی اس خفیہ چال میں نہیں پھنستا کہ کسی نے "میری، مجھے، میں" کو کیا سمجھا یا نہ سمجھا۔ نہ وہ خود سے اختلاف کرنے والے کو حقارت سے دیکھتا ہے نہ وہ ان کی تعریف و برائی کی خاص پرواہ کرتا ہے۔ وہ بے نیاز ہی رہتا ہے۔ خالق سے لیتا ہے مخلوق میں بانٹ دیتا ہے۔

جب ہم دوسروں کی مدد اپنی اہمیت منوانے کے لیے کرتے ہیں (اور یہ ہمیں خوب علم ہوتا ہے کہ ہمارا نفس کیا چاہتا ہے خواہ  تب یہ احساس نفس میں رہتا ہے کہ میری مدد سے یہ فلاں فلاں کام  کرگیا، یا فلاں فلاں رتبہ حاصل کرگیا اور مجھے ہی اہمیت نہیں دیتا۔ یہ نفس کی خباثت اور چال ہے جسے اکثر مدد کرنے والے گمان کرتے ہیں گویا انہوں نے کمزوروں و مسکینوں پر احسان کردیا۔

جبکہ یہ احسان اللہ  کرتا ہے کہ کسی متکبر کو ذریعہ بنادیتا ہے دوسروں تک مدد کروانے کا۔۔ پھر اس متکبر کی گردن توڑ کر اسے زمین پر رکھواتا ہے تاکہ اسے یہ احساس کروادے کہ اس کی اوقات کچھ بھی نہیں تھی۔ اگر یہ کمزور، مسکین، جاہل اور برے لوگ نہ ہوں تو کوئی نیک، امیر، عالم اس قابل نہ ریے کہ اللہ کو خوش کرسکے بنا اس کی ایسی مخلوق کو فائدہ پہنچائے بغیر۔ بے شک بہت کم لوگ ہی شکر کرتے ہیں اور خود کو مخلوق کا دنیاوی خدا سمجھ بیٹھتے ہ,یں۔

جمعرات، 7 نومبر، 2019

جب انسان خود ہی غصہ میں ہو تو

 جب ایک انسان اپنی بری کارگردی کے سبب زمانے سے مار کھاکر زخمی ہوتا ہے تب اس کے اندر غصہ بھرا ہوتا ہے۔ایسی صورتحال میں وہ کسی کے اچھے کام کی بھی تعریف نہیں کرتا۔بلکہ اگر اس کے سامنے کوئی اچھا کام کرنے والا ہو تو اس سے مزید جلتا ہے اور غصہ کھاتا ہے کیونکہ وہ اپنے طور پر ناکام ہورہا ہوتا ہے اور اس کے سامنے دوسرا کامیاب ہورہا ہوتا ہے۔

یہاں تک کہ ایسے انسان کے سامنے اگر کامیاب ہوتا ہوا انسان گر جائے یا کسی عمل میں نتائج نہ لا سکے تو غصہ کرنے والے کی خوشی میں اضافہ ہوتا ہے کہ اچھا ہوا دوسرے کا بھی نقصان ہوا۔

اتوار، 2 جولائی، 2017

مسلمان الحاد کے مقابلے میں کمزور اور ناکام کیوں ہیں؟

ایک مسلمان صاحب فیس بک پر کہہ رہے تھے کہ ’جر من ملحدتھیوڈونولڈیکے کا یہ اشکال کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں تھا بلکہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنایا تھا بالکل لغو ہے۔اس کے خلاف اچھے خاصے قرآئن موجود ہیں۔‘ اس کے بعد انہوں نے کچھ واقعات پیش کرکے مثالیں دیں۔جس پر بہت سے مسلمانوں نے ملحدوں کا مذاق اڑایا اور انہیں بے وقوف سمجھا۔

ایسے کئی مسلمانوں کی تحریریں میں پڑھتا دیکھتا رہتا ہوں۔یہاں تک کہ ایک مشہور و معروف مسلم اسکالر سے ہزاروں لوگوں کے سامنے جب کسی ملحد نے سوال کیا  کہ ’اللہ نظر کیوں نہیں آتا ، باتیں کیوں نہیں کرتا، ساتھ کیوں محسوس نہیں ہوتا وغیرہ‘ (یعنی وہ ملحد چاہتا تھا کہ اسے اللہ کا وجود ثابت کیا جائے ) تو وہ اسکالر اسے مطمئن کرنے میں میری نظر میں ناکام ہوئے۔کیونکہ ملحد اپنے اطمینان کیلئے اللہ کے وجود پر ثبوت چاہتا تھا جبکہ اسکالر صاحب قرآن کی آیات اور منطق سے اسے مطمئن کرنے میں لگے رہے ۔ظاہر ہے وہ ملحد زیادہ بات نہیں کرسکا کیونکہ اسے موقع نہیں دیا گیا (جبکہ وہ شک میں گرفتار رہا)۔

اس لیے میں بس اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ ہم مسلمان اپنے آپ کو جھوٹی تسلی دے سکتے ہیں مگر چونکہ اپنی گلی میں کتا بھی شیر ہوتا ہے اس لئے ہم اپنے حلقہ احباب میں ملحدین کو دین اسلام کیلئے مطمئن کرنے کی حقیقی کوشش کئے بغیر انہیں جتنا مرضی برا بھلا کہتے یا سمجھتے رہیں وہ فضول ہے۔

اسی طر ح ہندو ، عیسائی وغیرہ بھی مسلمانوں کیلئے بہت سی باتیں کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ بھی مسلمانوں کی طرح یہی چاہتے ہیں کہ ان کی باتوں کو سچا مان کر ان کا مذہب قبول کرلیا جائے۔

ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں قصے کہانیاں، مناظرے اور بحث اچھی لگتی تھیں مگر یہ سائنس و ٹیکنالوجی کا دور ہے۔لاکھوں کروڑوں انسان اپنے اپنے خداوں اور مذاہب کے معاملے پر شک میں گرفتار ہیں۔الحاد بھی دنیا میں پھیل رہا ہے۔بہت سے مذاہب کی جڑ یں اکھڑ رہی ہیں۔لوگ سوالات اٹھاتے ہیں مگر مطمئن نہیں ہوتے۔چند لوگ اگر مسلمان سے ہندو ہوجائیں یا عیسائیت چھوڑ کر مسلمان ہوجائیں تو کیا یہ بہت بڑ ا کام ہوگیا جبکہ دنیا میں پانچ ارب انسان اس وقت بھی غیرمسلم ہیں؟

اب آپ صرف کہانیاں سناکراکیسویں صدی کے انسانوں کو  یقین نہیں کرواسکتے۔آپ کو دکھانا پڑے گا، منوانا پڑے گا، آپ کو ثابت کرنا پڑے گا پریکٹکل اور ناقابل شکست ثبوتوں  کے ساتھ جن کے سامنے تمام غیرمسلم ذہنی و روحانی طور پر بے بس اور لاچار ہوجائیں اپنی تمام تر سائنس اور ٹیکنالوجی کے باوجود۔

ہم مسلمان پیدا ہوگئے تو یہ ہمارا کوئی کمال نہیں۔ہم ہندو یا عیسائی  یا ملحد گھرانے میں پیدا ہوتے تو ہمارے لئے بھی قرآن کی اہمیت نہ ہوتی۔ یہ ذمہ داری تو ہم مسلمانوں پر بنتی ہے کہ ہم جس اللہ کے وجود اور اس کی قدرت کے دعوے کرتے ہیں اس کا کوئی عملی ثبوت  غیرمسلموں کے سامنے پیش کریں۔ہم جس نبی کو سچا اور آخری کہتے ہیں ان کی سچائی پر کوئی عملی ثبوت بھی پیش کریں غیرمسلموں کے سامنے۔ہم جس دین کو سچا کہتے ہیں اس دین کی سچائی پر عملی ثبوت پیش کریں غیرمسلموں کے سامنے۔ہم جس قرآن کو کلام الٰہی کہتے ہیں اس کی سچائی پر کوئی عملی ثبوت پیش کریں غیرمسلموں کے سامنے۔

مثال کے طور پر ملحدوں کے نزدیک قرآن اللہ کا کلام ہے ہی نہیں۔وہ اسے سچا نہیں مانتے۔تو۔۔۔

۱) جب ملحد وں کیلئے قرآن ہی سچا نہیں تو وہ مسلمانوں کی دیگر کتابوں پر کیوں کریقین کرلیں؟سب باتیں کتابوں کی باتیں ہی ہیں۔اس لئے بطور ثبوت قابل قبول نہیں ہوسکتیں ورنہ دیگر مذاہب میں بھی بہت قصے کہانیاں موجود ہیں۔

۲) قرآنی آیات سے ملحدوں کو یقین دلانے کی کوشش کرنا ایسا ہی ہے جیسے ریاضی کے پرچے میں غالب کے اشعار سے استدلال کرنا۔ جس چیز کو کوئی مانتا ہی نہیں اسے اپنے موقف کیلئے اسی سے دلائل دے کر نتیجہ کی امید رکھنا استہزائی طریقہ ہے اور جب ملحدقرآنی آیات پر یقین نہیں کرتے تو ان کا مذاق اڑاناہم مسلمانوں کا انتہائی نامعقول سلوک ہے۔حقیقت یہ ہے کہ  بہت سے مسلمان ملحدوں کے سامنے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو سچا  اور آخری نبی ثابت کرنے میں ناکام ہیں۔ ایسے مسلم  چاہتے ہیں کہ ملحدین صرف ان کی باتیں سن کر فوراً ایمان لے آئیں ورنہ بے شک جہنم میں جائیں۔ مسلمانوں کا ایسا طرز عمل اور طریقہ کار درست نہیں۔

۳) اگر کوئی ملحد اپنے اصولوں کی روشنی میں خدا کے انکار پردلائل لائے گا تو آپ اسے سورہ اخلاص سناکر قائل نہیں کرسکتے۔اس کیلئے آپ کواسی کی زبان اور اصولوں کو بطور ہتھیار و دلیل استعمال کرنا ہوگا اسی کے خلاف۔

آخر میں ایک سوال بھی پوچھتا ہوں کہ کیا آپ جذباتی پن اختیار کرنے کے بجائے مجھے کوئی ایک ناقابل شکست ثبوت پیش کرسکتے ہیں  جس سے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو سچا اور آخری نبی ثابت کیا جاسکے دنیا کی کوئی بھی کتاب استعمال کیے بغیر؟

اگر  آپ مسلمان ہوکر مجھے ایسا کوئی پریکٹیکل اور ناقابل شکت ثبوت نہیں دے سکتے تو پھر ملحد بھی اپنی جگہ اپنے دعوے میں صحیح    ہیں کہ انہیں معجزہ  بطور ثبوت دکھایا جائے ۔ 

اس لئے میں آپ سمیت تمام مسلمانوں سے صرف اتنا کہوں گا کہ یا تو  غیرمسلموں کو ایسے ثبوت مہیا کریں جن کے ذریعہ ان کے دل و دماغ میں موجود شک و شبہات ختم ہوسکیں اور اگر ایسا کرنے میں آپ عاجز ہیں تو پھر ہمارے ناقابل شکست ثبوتوں کو بطور ہتھیار استعمال کریں اور دنیا بھر کے ملحدین و غیرمسلموں تک پہنچانا شروع کریں تاکہ وہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوسکیں  اللہ کے حکم سے۔

اس طرح مسلم الحاد کے مقابلہ پرکامیاب اور فتح یاب ہوں گے انشاء اللہ۔ لیکن اگر آپ ہمارے ثبوت استعمال نہ کریں اور مسلم ہونے کے باوجود کافروں پر فتح حاصل کرنے میں ناکام ہوجائیں تو خود سمجھ لیں کہ دیگر مسلمان بھی الحاد کے مقابلے میں کمزور اور ناکام کیوں ہیں۔

جمعہ، 23 جون، 2017

اللہ کے مخلص مومن بندےمعاشرے میں نظر کیوں نہیں آتے؟

میں اللہ کے کام کرنے کےکچھ  طریقے اپنے علم کے مطابق خوب جانتا ہوں۔اگر اللہ کو دنیا میں خود ہی سب کچھ کرنا ہوتا تو آن کی آن میں ساری دنیا کی کایا پلٹ سکتا ہے۔مگر وہ ایسا نہیں کرے گا کیونکہ اس کام کیلئے اس نے انسان کو اپنا نائب بناکر بھیجا ہے اور یہ امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمانوں پر ایک بہت بھاری ڈیوٹی ہے کیونکہ دنیا کے غیر مسلموں کے ہاتھوں اکیسویں صد ی میں  گلوبل ولیج بناکر اللہ نے مسلمانوں پر ظاہری وسائل اور ٹیکنالوجی فراہم کرکے بہت بڑا احسان کیا ہے کہ وہ آسانی سے گھر بیٹھے ہی دنیا بھر کے کفار و مشرکین کے سامنے دین اسلام کے معجزاتی دلائل اور روشن نشانیاں پہنچانے کی کوشش کرسکیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ فرقوں میں بٹے اکثر مسلمان دین اسلام کو کیا خاک غالب کرینگے بلکہ اکثر فرقہ پرست مسلمان تو ایک دوسرے کو ہی کافر و مشرک بنانے کی ڈیوٹی سر انجام دینے میں مصروف ہیں  اور معمولی مسائل پر لڑرہے ہیں۔

اس لیے دین اسلام کے حقیقی کام کو سمجھنا اور اس پر کام کرنا کم از کم کسی فرقی مسلمان کے بس کی بات ہرگز نہیں کیونکہ وہ پہلے یہ دیکھتا ہے کہ کیاکوئی مسلم اس کی جماعت سے تعلق رکھتا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو نفرت سے نظرانداز کردے گا ۔

اس طرح مخلص مومن بندے کو اکثریت کی جانب سے نظرانداز ہونا اور تنہا رہ جانے کا تجربہ ہوتا ہے تو وہ بھلا معاشرے میں کیسے نظر آئے گا ؟

 رہ گئے  دنیا دار مسلمان جنہیں مذہب سے خاص لگاو نہیں تو ان سے اسلام غالب کروانے میں ساتھ ہوجانے کی امید میں محنت کرنے کے بعد تاحال مجھے بھی کوئی سپورٹ حاصل نہیں ہوئی  تو کیا  یہ لوگ کسی مخلص مومن بندے کو سپورٹ کریں گے جو حق اور سچ بغیر ملاوٹ کے بولتا ہو اور کھلم کھلا اعلان کرتا ہو کہ تمام غیرمسلم ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائیں گے ، تمام غیرمسلموں کے تمام معبود باطل ہیں اور اکثر مسلم جھوٹے اور دھوکہ بازی کرنے والے ہیں؟ 

نہیں۔ ایسا نہیں ہوتا۔تو جب سپورٹ نہیں ملے گی تو وہ بھلا معاشرے میں کیسے نظر آئیں گے؟

اللہ جس کو چاہے اپنے دین اسلام کیلئے استعمال کرسکتا ہے اس لیے میں بھی اپنے طور پر غیرمسلموں تک دین اسلام کی سچائی پر ناقابل شکست ثبوتوں کو پہنچانے کی کوشش کرتا رہتا ہوں لیکن فرقہ پرست مسلمانوں اور دنیا دار مسلمانوں سے ہٹ کر جتنے بھی دیگر مسلمان کسی سیاسی یا دیگر جماعتوں سے وابستہ ہیں ان کی جماعتیں دنیا میں کچھ خاص کام نہیں کرسکیں اور نہ کر پارہی ہیں کیونکہ وہ اتنا ہی آگے بڑھ سکتے ہیں جتنا غیر مسلم قوتیں چاہتی ہیں یعنی کہ ابلیس کے پیروکار۔ اسی لیے یہ جماعتیں صرف احتجاج ، رونا پیٹنا، تقاریر وغیرہ کرکے لوگوں سے ہمدری اور مال بٹور سکتی ہیں مگر دین اسلام غالب کرنا یا دنیا کے مظلوم مسلمانوں کو کفار کے ظلم و ستم سےعملی طور پر نجات دلانا ان کے بس کی بات نہیں ہوتی کیونکہ ان کے پاس اس کا سو فیصد حل موجود ہی نہیں ہے، نہ مادی قوت، نہ روحانی قوت ۔ اس لئے ناکام ہیں۔

اب وہ چند فیصد جماعتیں جو بالکل ہی غیر سیاسی بن کر صرف اللہ ہو ، سنتیں اور تبلیغ کے نام پر کام کرتی ہیں تو ان کے کام اسی لئے جاری و ساری ہیں کہ یہ لوگ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی طرز پر کام نہیں  کررہے ورنہ ان کا ٹکراو ظلم کے نظام کے خلاف نظر آتا۔یہ لوگ تو اس سوچ کے تحت چلتے ہیں کہ اپنا عقیدہ چھوڑو نہیں اور کسی کا عقیدہ چھیڑو نہیں۔اس لئے مذہبی اور غیر سیاسی جماعتوں کی اکثریت کے باوجود ٹیپو سلطان، محمد بن قاسم، شیر شاہ سوری، عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ، امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ، عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسی طرز پر معاشرے میں مسلمان نظر نہیں آرہے۔

 آخر میں وہ مجاہدین اسلام جو اللہ کیلئے مخلص ہیں اور اللہ کی مدد کے سہارے اپنا کام کررہے ہیں تو ان کے خلاف غیرمسلموں کا میڈیا چلتا ہے اور دنیا بھر کامیڈیا یہودیوں کے اشاروں کا غلام ہے ۔

یہودی بہت شاطر قوم ہے وہ صرف جنگوں کے ذریعے لڑائی نہیں کرتے بلکہ انہوں نے عورتوں کے ذریعے بھی نوجوان مسلمانوں کو اس قابل نہیں چھوڑا کہ یہ کافروں کے خلاف عملی طور پر  کچھ کرسکیں لہذا یہ اخلاقی و معاشی طور پر تباہ ہوچکے ہیں تو مومن بندے  بھلا معاشرے میں کیسے نظر آئیں گے  ؟

ایسے حالات میں اگر کوئی مسلمان یہ کائناتی سوچ رکھے کہ وہ اکیلا حضرت محمدصلی اللہ علیہ کی امت کیلئے عالمی سطح پر کچھ کرے تو اس کا ٹکراو مخلص مجاہدین اسلام کے علاوہ باقی تمام طبقات کے انسانوں اور جنات سے لازمی طور پر ہوگا  لیکن وہ یاد رکھے کہ اکثر مسلم اپنے دنیاوی مفادات، موت کے خوف یا