اتوار، 27 جولائی، 2025

کراچی سمندر ہے لڑکی نے سرعام سب کر دیا اتنی بے حیائی

 کراچی سی ویو ہے یا نہیں مگر سی ویو ہے اور ایک لڑکا لڑکی کے ساتھ مٹر گشتی میں مصروف ہے۔

مانا کہ کوئی ساتھ ہیں مگرکیا یہ میاں بیوی ہیں؟

اگر شوہر ساتھ ہے تو لعنت ہے ایسے شوہر ہونے پر کہ بیوی ننگی نظر آرہی ہے اور وہ نہانے میں مصروف ہے جان لینے کے باوجود بھی اور لعنت ہے اس ویڈیو کو بنانے والے پر کہ وہ کسی عورت کی نہم برنہ حالت کی ویڈیو بنارہا ہے۔

عورتوں سے یہی کہوں گا، کہ تم ننگی ہوکر کیا دکھانا چاہتی ہو؟

تمہارے اندر شرم و حیا نام کی چیز باقی ہی نہیں رہی۔

یہ کرنے جاتی ہو تم ساحل سمندر پر؟

کس قدر بے غیرت ہے وہ درزی جس نے اتنے ہلکے لباس کا کپڑا سیا تھا اور پھر بیچا تھا۔

ایسے لعنتی لوگ سی ویو پر ہر روز آتے جاتے رہتے ہیں اور یہ بے حیا لوگ جہنم کا ایندھن ہیں سوائے ان کے جو توبہ کریں، ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔

پاکستان ملین ڈالرز سے محروم ہو رہا ہے

یہ ویڈیو مجھے فیس بک پر نظر آئی جس کے مطابق پاکستان کے رہنے والے جاہل گنوار لوگوں نے ایک فری لانسر کو آف لوڈ کردیا۔ اس سے یہ واضح ہے کہ فری لانسرز اپنا پیسہ ملک سے باہر رکھیں۔ انٹرنیشنل بینک اکاونٹس استعمال کریں اور جاہلوں کے بینکوں میں پیسہ منگوانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جب ایک فری لانسر  ایف بی آر سے رجسٹرڈ ہے، پیسہ کمارہا ہے، سب کچھ ٹھیک ہے تو صرف کم عمر ہونے کے سبب وہ کہیں جا نہ سکے؟

ظاہر ہے، جب اس طرح کی جہالت کے کام یہ لوگ کریں گے تو لوگ پاکستانی بینکنگ ملازمین، گورنمنٹ اداروں اور ایسا سلوک کرنے والوں پر تھوک کر پاکستان سے باہر ہی جائیں گے۔

اور ایسا کرنا بھی چاہیے کہ اللہ نے انسان کو آزاد بنایا ہے۔ ایک تو انہیں ٹیکس دو، ان کی جیبیں گرم کرو اور اس کے بعد؟ اپنی مرضی کے مطابق سفر بھی نہ کرسکو؟

کیا یہ زمین اور آسمان ان کے باپ کا ہے؟

جمعہ، 27 جون، 2025

تمہیں یہاں سے چلے جانا چاہیے۔ اور دوبارہ واپس مت آنا

social media se ek behtreen post

"تمہیں یہاں سے چلے جانا چاہیے۔ اور دوبارہ واپس مت آنا۔"
بس یہی الفاظ تھے جو اُس نے سنے۔
نہ کوئی چیخ، نہ آنسو۔ بس ایک سپاٹ جملہ... اور دروازے کے بند ہونے کی آواز۔
یہ اُس کی نانی تھیں۔
وہ عورت جس نے اُسے پالا تھا، کھلایا، ہر قدم پر اُس کا خیال رکھا — آج اُسے ایسے باہر نکال رہی تھیں جیسے وہ کوئی اجنبی ہو۔
قریب کھڑے اُس کے نانا حیران رہ گئے۔
"تم کیا کر رہی ہو؟ وہ تمہارا نواسہ ہے!"
نانی نے کوئی جواب نہیں دیا۔
بس خاموشی سے پلٹ کر گھر کے اندر چلی گئیں۔
اُسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔
کسی کو نہیں آیا — نہ ہمسایوں کو، نہ خود اُسے۔
وہ ابھی تک وہی کپڑے پہنے ہوئے تھا جو دوپہر کو پہنے تھے۔
نہ بٹوہ، نہ فون، نہ چابیاں۔ بس... باہر۔
سو وہ چل پڑا۔
پہلے ایک دوست کے گھر گیا۔
"یار، کیا میں کچھ دن تمہارے ساتھ رہ سکتا ہوں؟"
دوست حیرت سے دیکھنے لگا، "تمہیں نکال دیا گیا؟"
"ہاں..." اُس نے سر ہلایا۔
"یار معذرت، میرے والدین اجازت نہیں دیں گے۔ میں چاہتا ہوں مدد کرنا، لیکن نہیں کر سکتا۔"
وہ وہاں سے بھی چلا گیا۔
راستے میں ایک اور دوست ملا۔
"ٹھیک ہو؟ بڑے پریشان لگ رہے ہو۔"
"میرے پاس رہنے کی کوئی جگہ نہیں۔ کچھ دن تمہارے ہاں ٹھہر سکتا ہوں؟"
"تمہارے پاس پیسے ہیں؟ کوئی خرچہ اٹھا سکتے ہو؟"
"نہیں... میرے پاس کچھ بھی نہیں۔"
"تو پھر معذرت، میں کچھ نہیں کر سکتا۔"
وہ خاموشی سے سر جھکائے چلتا رہا۔
آخرکار وہ اپنی گرل فرینڈ کے پاس پہنچا۔
اُسے گلے لگایا اور ساری بات بتائی۔
وہ پریشان ہو گئی۔ بولی کہ اپنے والدین سے بات کرے گی۔
کچھ دیر بعد واپس آئی۔ آواز دھیمی تھی اور آنکھیں اداس۔
"میرے والدین نے منع کر دیا ہے۔ اور سچ کہوں تو... میں اُن کا فیصلہ نہیں بدل سکتی۔ معاف کرنا۔"
وہ خاموش رہا۔
بس سر ہلایا... اور واپس چل پڑا۔
اب وہ واقعی اکیلا تھا۔
ایک پارک کی بینچ پر بیٹھا آسمان کو دیکھنے لگا۔
جس کے لیے وہ ہمیشہ موجود رہا، وہ سب اُس کے لیے موجود نہ تھے۔
کئی گھنٹے گزر گئے۔
اور جب وہ سمجھ بیٹھا کہ اب کوئی نہیں آئے گا...
تب اُس کے نانا کی گاڑی آکر رکی۔
"آؤ، گھر چلتے ہیں۔"
اُس نے سر ہلایا۔
"کس لیے؟ تاکہ کل دوبارہ نکال دیا جائے؟"
"بس ایک بار اور چل پڑو میرے ساتھ... مجھ پر بھروسہ رکھو۔"
اُس نے ہچکچاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔
راستے بھر دونوں خاموش رہے۔
گھر پہنچتے ہی نانی دوڑتی ہوئی آئیں اور اُسے گلے لگانے کی کوشش کی۔
لیکن اُس نے پیچھے ہٹ کر اُنہیں روک دیا۔
تب نانا نے نرمی سے کہا، "بیٹھو۔"
اور پھر اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر آہستہ سے بولے:
"اس نے یہ سب تمہیں تکلیف دینے کے لیے نہیں کیا۔ بلکہ کیونکہ وہ تم سے سب سے زیادہ محبت کرتی ہے۔
وہ چاہتی تھی کہ تم وہ دیکھو، جو وہ کب سے دیکھ رہی تھی۔
تمہیں لگتا تھا تمہارے سچے دوست ہیں۔ ایک مضبوط رشتہ ہے۔
لیکن اُس نے دیکھا کہ یہ سب لوگ صرف تب تک تمہارے ساتھ ہیں جب تم کچھ دے سکتے ہو۔
جب تمہیں کچھ چاہیے ہو، تو سب غائب ہو جاتے ہیں۔
اُسے تمہیں یہ دکھانا تھا — تاکہ تم خود دیکھو، خود سمجھو کہ کون تمہارے لیے سچ میں ہے۔"
اُس کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے۔
تب نانی آہستہ سے آگے بڑھیں، آواز کانپ رہی تھی:
"میرے لیے وہ دروازہ بند کرنا سب سے مشکل کام تھا،" وہ بولیں۔ "لیکن میں مزید ایسے نہیں جی سکتی تھی جیسے سب ٹھیک ہے۔
تمہیں حقیقت کا سامنا کرنا تھا۔
اور مجھے تم سے اتنی محبت کرنی تھی کہ تمہیں تکلیف دے سکوں — تاکہ تم سیکھ سکو۔"
اب وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔
بچوں کی طرح نانی سے لپٹ گیا، ایسا گلے لگایا جیسے الفاظ کی ضرورت ہی نہ ہو۔
اور اُس لمحے میں... اُسے ایک ایسی بات سمجھ آ گئی جو لفظوں سے نہیں سکھائی جا سکتی۔
کبھی کبھی جو انسان تم سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے، وہی تمہیں جھنجھوڑنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
تاکہ تم وہ سچ دیکھ سکو، جس سے تم آنکھیں چرا رہے تھے۔
جب تمہارے پاس سب کچھ ہوتا ہے، تو لوگ تمہارے گرد آ جاتے ہیں۔
لیکن جب تمہارے پاس کچھ نہ ہو — تب تمہیں پتا چلتا ہے کون تمہارے ساتھ ہے۔
نہ کسی فائدے کے لیے۔
بس تمہارے لیے۔
اور ہاں، یہ تکلیف دیتا ہے۔
لیکن آخرکار، یہی تمہیں مضبوط بناتا ہے۔

جمعہ، 13 جون، 2025

کن رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنا جائز ہے؟

Kin Rishtedaron Se Qata Taluq Karna Jaiz Hai | Mufti Akmal | ARY Qtv



غیرمسلم اسلام کیوں قبول کریں؟

 غیرمسلم اس لیے اسلام قبول کریں تاکہ وہ موت کے بعد بھڑکتی ہوئی آگ اور دردناک سزاوں میں جانے سے خود کو بچاسکیں جو اللہ نے کافروں کے لیے تیار کرکے رکھی ہوئی ہے۔

غیرمسلم دنیا میں جتنی چاہے ترقی کرلیں، جتنا چاہے کام کرلیں، دولت شہرت عزت کامیابی حاصل کریں، یہ سب ان کی موت کے بعد انہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچاسکے گی۔

موت کے بعد صرف ایمان بچائے گا اور اس کے لیے اسی زندگی میں اللہ اور اس کے آخری نبی حضرت محمد رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ہوگا۔ انہیں ماننا پڑے گا۔ اگر کوئی غیرمسلم اللہ کا انکار کرے تو جہنم میں داخل ہوگا۔ اگر کوئی غیرمسلم اللہ کو مانے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرے، وہ بھی کافر ہے اور جہنم میں داخل ہوگا۔

جہاں تک یہ بات ہے کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ صرف اسلام اللہ کا دین ہے اور اللہ اس کائنات کا اصلی خدا ہے؟

اس کے ثبوت کے لیے مندرجہ ذیل یوٹیوب چینل اور ویب سائٹس دیکھی جاسکتی ہیں۔

YouTube Channels:

Websites:

مسلسل روز جاگنا بیماری کا باعث (Sidra Naseem) - ایک سوال

 سدرہ نسیم کی ایک پوسٹ پر یہ لکھا تھا


اس پر ایک کمنٹ کسی نے پوسٹ کیا اور کچھ جاہل گنواروں نے اس پر ہنسی مذاق بھی اڑایا نیز سدرہ نسیم نے مسلسل روز جاگنے کو بیماری کا باعث بننے کا سبب بتادیا مگر میڈیکل کو سامنے رکھ کر مگر اس روحانی بلندی کو غلط رنگ دیتے ہوئے۔

اب میرا یہ سوال ہے سدرہ نسیم اور اس کے تمام پیروکاروں سے کہ

مسلسل روز جاگنے سے کتنے ولی اللہ، صحابہ کرام اور نبیوں کا انتقال بیماریوں سے ہوا ہے؟

اللہ کی سزائیں بستیوں پر

 بچپن میں جب قرآن میں ان بستیوں کا ذکر پڑھتی تھی جن پر اللہ کا عذاب آیا اور سب کے سب ہلاک ہو گئے، تو یہ سوال دل میں اٹھتا تھا کہ ان میں جو نیک اور بے گناہ لوگ تھے ان کا کیا قصور تھا؟ وہ بھی ساتھ کیوں ختم ہو گئے؟ وقت گزرنے کے ساتھ جب میں نے دنیا کے نظام، خاص طور پر اپنے ملک کی سیاست، جاگیردارانہ نظام اور طاقت کے غلط استعمال کو دیکھا تو اندازہ ہوا کہ جب ایک نظام مکمل طور پر ظلم، بددیانتی اور ناانصافی پر قائم ہو جائے، تو پھر اس کی اصلاح کا ایک ہی طریقہ رہ جاتا ہے کہ وہ مکمل طور پر الٹ دیا جائے۔ ایسے میں جو نیک لوگ ہوتے ہیں ان کی ہلاکت دراصل ان کے لیے نجات بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ظالم نہیں۔ مگر نیک لوگ معاشرتی برائیوں کے خلاف آواز نہ اٹھائیں اور صرف اپنی عبادت اور ذاتی نیکی میں محدود ہو جائیں تو وہ خاموشی بھی گناہ بن جاتی ہے۔ اور جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو وہ صرف بدکاروں پر نہیں بلکہ ان سب پر آتا ہے جو برائی کو روکنے میں ناکام رہے ہوں۔ بعض اوقات اللہ نیک لوگوں کو فتنوں سے بچانے کے لیے پہلے ہی دنیا سے اٹھا لیتا ہے۔ اس لیے کسی بستی کی مکمل تباہی دراصل ایک بیمار نظام کی جڑ سے صفائی اور نئے آغاز کی تیاری ہوتی ہے۔

ایسی بات نہیں ہے۔ اللہ نیک لوگوں پر عذاب نہیں بھیجتا۔ قرآن کے مطابق اکثر لوگ ظالم فاسق ہیں لہذا اللہ اپنے قانون کے مطابق ظالموں کو سزائیں دیتا ہے۔ ان کے ذریعے صاف واضح ہے کہ بسیتوں کے لوگ ظالم ہوتے تھے اور یہی آجکل واضح ہے لہذا اللہ اپنی سنت کے مطابق کام کرتا رہتا ہے۔ لوگوں کو شعور نہیں کہ وہ اللہ کو صرف لفاظی کے ذریعے بےوقوف نہیں بناسکتے کہ منہ سے کلمہ پڑھ لیا اور کام سارے کافروں والے کرتے رہیں۔ اللہ کے نزدیک دو اہم طبقات ہیں، ایمان والے یا پھر کفر کرنے والے کافر، اور کفر کرنا انکار کرنا ہوتا ہے اور انکار کرنے والا "عمل نہیں کرتا" تو عملا کافر بھی کافروں کی category میں شمار ہوجاتا ہے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس سے اکثر لوگ جاہل ہیں اور غافل ہیں۔

پھر ہم نے وہاں سے اُن لوگوں کو نکال لیا جو مومن تھے، اور ہم نے اس بستی میں مسلمانوں کے ایک گھر کے سوا کوئی نہ پایا۔ سورہ الذاریات (51)، آیت 35-36

اور اسی طرح تیرے رب کی پکڑ ہوتی ہے جب وہ ظلم کرنے والی بستیوں کو پکڑتا ہے۔ بے شک اس کی پکڑ بہت دردناک اور سخت ہے۔ سورۃ ہود (11:102)

اور کتنی ہی ظالم بستیاں ہم نے تباہ کر دیں، اور ان کے بعد دوسرے لوگوں کو پیدا کیا۔ سورۃ الانبیاء (21:11)

اور آپ کا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکزی مقام میں کوئی رسول نہ بھیج دے جو ان پر ہماری آیات تلاوت کرے، اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کرتے مگر جب ان کے رہنے والے ظالم ہوں۔ سورۃ القصص (28:59)

اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو وہاں کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں، پھر وہ نافرمانی کرتے ہیں، تو ان پر بات ثابت ہو جاتی ہے، پھر ہم اسے پوری طرح تباہ کر دیتے ہیں۔ سورۃ بنی اسرائیل (17:16)