بدھ، 17 ستمبر، 2025

محکمہ موسمیات کے دعوے اور حقیقت: اللہ کی تدبیر کے سامنے سائنس کی بے بسی

ستمبر 2025 کے درمیانی دنوں میں محکمہ موسمیات اور میڈیا نے بارش اور موسم کے متعلق کئی دعوے کیے، لیکن اللہ نے ان کے دعووں کو جھوٹا ثابت کردیا۔ یہ واقعات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ انسان کتنا ہی ترقی کرلے، کائنات کا سارا نظام صرف اور صرف اللہ کے قبضے میں ہے۔

🌧️ 15 ستمبر 2025

سما نیوز پر دعوی کیا گیا کہ "مون سون کا 11 واں اسپیل، کل سے بارشوں کی پیشگوئی"
ریفرنس: ویڈیو دیکھیں

☀️ 16 ستمبر 2025

اگلے ہی دن دعویٰ بدل گیا اور کہا گیا کہ "پنجاب میں نیا مون سون اسپیل آج سے شروع ہونے کی پیشگوئی"
ریفرنس: ویڈیو دیکھیں

🔥 17 ستمبر 2025

اے آر وائی نیوز پر دعوی کیا گیا کہ "آئندہ چند روز تک گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگا، محکمہ موسمیات"
ریفرنس: ویڈیو دیکھیں

🌡️ 18 ستمبر 2025

میڈیا والے مان گئے کہ لاہور کا موسم آج گزشتہ دنوں کے مقابلہ میں خاصا گرم ہے
انہوں نے قبول کرلیا کہ یہ مون سون نہیں ہے
یہ بھِی مان لیا ہے کہ مون سون کا سلسلہ تھم چکا ہے
یہ دعوی بھی کررہے ہیں کہ بارش کا امکان ہے جبکہ گزشتہ دن اگلے تین دن گرمی بڑھنے کا دعوی کررہے تھے
گیارواں مون سون اسپیل کدھر گیا؟ کہاں غائب ہوگیا؟
ایسے کیسے چلتا برستامون سون اسپیل پاکستان سے غائب ہوسکتا ہے؟
کیا ایک انسان اتنا سب کچھ کرسکتا ہے؟
کیا خدا کے بغیر بھی یہ سب کچھ کرنا ممکن ہے؟
کیا کہتے ہیں سائنس کے ماہرین اور جدید علوم کے ماہرین؟
ریفرنس: ویڈیو دیکھیں

⚡ سائنس کے دعووں کی حقیقت

حیرت کی بات یہ ہے کہ ابھی پہلے دن ہی دعووں سے پلٹ گئے اور پھر بارش کی نئی پیشگوئی کر دی۔ یہ ان کے سائنسی علوم کی حیثیت ہے کہ اپنی پہلی بات پر بھی قائم نہیں رہ سکے۔
ریفرنس: ویڈیو دیکھیں

🎭 چوں چوں کا مربہ

ایک طرف میڈیا والے مون سون کے خاتمے کا اعلان کر رہے تھے، دوسری طرف کوئی اور گیارواں اسپیل کا نیا دعویٰ کر رہا تھا۔ آخر کار یہ ثابت ہوگیا کہ حقیقت پر پردہ ڈالنے سے کچھ حاصل نہیں۔ اللہ کی تدبیر سب پر غالب ہے۔
ریفرنس: ویڈیو دیکھیں

🌧️ بارش یا معجزہ؟

آخر کار یہ واضح ہوگیا کہ یہ بارش نہیں تھی بلکہ اللہ کا معجزہ تھا۔ میڈیا اور محکمہ موسمیات کو چاہیے کہ دعوے کرنے کے بجائے حقیقت عوام کے سامنے رکھیں۔
ریفرنس: معجزہ دیکھیں


نتیجہ: یہ تمام واقعات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ انسان اپنی سائنس اور ٹیکنالوجی پر کتنا ہی ناز کرے، اصل فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ انسان دعوے کرتا ہے مگر تدبیر اللہ کرتا ہے۔
اللہ اکبر – لیجنڈ

اتوار، 27 جولائی، 2025

کراچی سمندر ہے لڑکی نے سرعام سب کر دیا اتنی بے حیائی

 کراچی سی ویو ہے یا نہیں مگر سی ویو ہے اور ایک لڑکا لڑکی کے ساتھ مٹر گشتی میں مصروف ہے۔

مانا کہ کوئی ساتھ ہیں مگرکیا یہ میاں بیوی ہیں؟

اگر شوہر ساتھ ہے تو لعنت ہے ایسے شوہر ہونے پر کہ بیوی ننگی نظر آرہی ہے اور وہ نہانے میں مصروف ہے جان لینے کے باوجود بھی اور لعنت ہے اس ویڈیو کو بنانے والے پر کہ وہ کسی عورت کی نہم برنہ حالت کی ویڈیو بنارہا ہے۔

عورتوں سے یہی کہوں گا، کہ تم ننگی ہوکر کیا دکھانا چاہتی ہو؟

تمہارے اندر شرم و حیا نام کی چیز باقی ہی نہیں رہی۔

یہ کرنے جاتی ہو تم ساحل سمندر پر؟

کس قدر بے غیرت ہے وہ درزی جس نے اتنے ہلکے لباس کا کپڑا سیا تھا اور پھر بیچا تھا۔

ایسے لعنتی لوگ سی ویو پر ہر روز آتے جاتے رہتے ہیں اور یہ بے حیا لوگ جہنم کا ایندھن ہیں سوائے ان کے جو توبہ کریں، ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔

پاکستان ملین ڈالرز سے محروم ہو رہا ہے

یہ ویڈیو مجھے فیس بک پر نظر آئی جس کے مطابق پاکستان کے رہنے والے جاہل گنوار لوگوں نے ایک فری لانسر کو آف لوڈ کردیا۔ اس سے یہ واضح ہے کہ فری لانسرز اپنا پیسہ ملک سے باہر رکھیں۔ انٹرنیشنل بینک اکاونٹس استعمال کریں اور جاہلوں کے بینکوں میں پیسہ منگوانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جب ایک فری لانسر  ایف بی آر سے رجسٹرڈ ہے، پیسہ کمارہا ہے، سب کچھ ٹھیک ہے تو صرف کم عمر ہونے کے سبب وہ کہیں جا نہ سکے؟

ظاہر ہے، جب اس طرح کی جہالت کے کام یہ لوگ کریں گے تو لوگ پاکستانی بینکنگ ملازمین، گورنمنٹ اداروں اور ایسا سلوک کرنے والوں پر تھوک کر پاکستان سے باہر ہی جائیں گے۔

اور ایسا کرنا بھی چاہیے کہ اللہ نے انسان کو آزاد بنایا ہے۔ ایک تو انہیں ٹیکس دو، ان کی جیبیں گرم کرو اور اس کے بعد؟ اپنی مرضی کے مطابق سفر بھی نہ کرسکو؟

کیا یہ زمین اور آسمان ان کے باپ کا ہے؟

جمعہ، 27 جون، 2025

تمہیں یہاں سے چلے جانا چاہیے۔ اور دوبارہ واپس مت آنا

social media se ek behtreen post

"تمہیں یہاں سے چلے جانا چاہیے۔ اور دوبارہ واپس مت آنا۔"
بس یہی الفاظ تھے جو اُس نے سنے۔
نہ کوئی چیخ، نہ آنسو۔ بس ایک سپاٹ جملہ... اور دروازے کے بند ہونے کی آواز۔
یہ اُس کی نانی تھیں۔
وہ عورت جس نے اُسے پالا تھا، کھلایا، ہر قدم پر اُس کا خیال رکھا — آج اُسے ایسے باہر نکال رہی تھیں جیسے وہ کوئی اجنبی ہو۔
قریب کھڑے اُس کے نانا حیران رہ گئے۔
"تم کیا کر رہی ہو؟ وہ تمہارا نواسہ ہے!"
نانی نے کوئی جواب نہیں دیا۔
بس خاموشی سے پلٹ کر گھر کے اندر چلی گئیں۔
اُسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔
کسی کو نہیں آیا — نہ ہمسایوں کو، نہ خود اُسے۔
وہ ابھی تک وہی کپڑے پہنے ہوئے تھا جو دوپہر کو پہنے تھے۔
نہ بٹوہ، نہ فون، نہ چابیاں۔ بس... باہر۔
سو وہ چل پڑا۔
پہلے ایک دوست کے گھر گیا۔
"یار، کیا میں کچھ دن تمہارے ساتھ رہ سکتا ہوں؟"
دوست حیرت سے دیکھنے لگا، "تمہیں نکال دیا گیا؟"
"ہاں..." اُس نے سر ہلایا۔
"یار معذرت، میرے والدین اجازت نہیں دیں گے۔ میں چاہتا ہوں مدد کرنا، لیکن نہیں کر سکتا۔"
وہ وہاں سے بھی چلا گیا۔
راستے میں ایک اور دوست ملا۔
"ٹھیک ہو؟ بڑے پریشان لگ رہے ہو۔"
"میرے پاس رہنے کی کوئی جگہ نہیں۔ کچھ دن تمہارے ہاں ٹھہر سکتا ہوں؟"
"تمہارے پاس پیسے ہیں؟ کوئی خرچہ اٹھا سکتے ہو؟"
"نہیں... میرے پاس کچھ بھی نہیں۔"
"تو پھر معذرت، میں کچھ نہیں کر سکتا۔"
وہ خاموشی سے سر جھکائے چلتا رہا۔
آخرکار وہ اپنی گرل فرینڈ کے پاس پہنچا۔
اُسے گلے لگایا اور ساری بات بتائی۔
وہ پریشان ہو گئی۔ بولی کہ اپنے والدین سے بات کرے گی۔
کچھ دیر بعد واپس آئی۔ آواز دھیمی تھی اور آنکھیں اداس۔
"میرے والدین نے منع کر دیا ہے۔ اور سچ کہوں تو... میں اُن کا فیصلہ نہیں بدل سکتی۔ معاف کرنا۔"
وہ خاموش رہا۔
بس سر ہلایا... اور واپس چل پڑا۔
اب وہ واقعی اکیلا تھا۔
ایک پارک کی بینچ پر بیٹھا آسمان کو دیکھنے لگا۔
جس کے لیے وہ ہمیشہ موجود رہا، وہ سب اُس کے لیے موجود نہ تھے۔
کئی گھنٹے گزر گئے۔
اور جب وہ سمجھ بیٹھا کہ اب کوئی نہیں آئے گا...
تب اُس کے نانا کی گاڑی آکر رکی۔
"آؤ، گھر چلتے ہیں۔"
اُس نے سر ہلایا۔
"کس لیے؟ تاکہ کل دوبارہ نکال دیا جائے؟"
"بس ایک بار اور چل پڑو میرے ساتھ... مجھ پر بھروسہ رکھو۔"
اُس نے ہچکچاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔
راستے بھر دونوں خاموش رہے۔
گھر پہنچتے ہی نانی دوڑتی ہوئی آئیں اور اُسے گلے لگانے کی کوشش کی۔
لیکن اُس نے پیچھے ہٹ کر اُنہیں روک دیا۔
تب نانا نے نرمی سے کہا، "بیٹھو۔"
اور پھر اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر آہستہ سے بولے:
"اس نے یہ سب تمہیں تکلیف دینے کے لیے نہیں کیا۔ بلکہ کیونکہ وہ تم سے سب سے زیادہ محبت کرتی ہے۔
وہ چاہتی تھی کہ تم وہ دیکھو، جو وہ کب سے دیکھ رہی تھی۔
تمہیں لگتا تھا تمہارے سچے دوست ہیں۔ ایک مضبوط رشتہ ہے۔
لیکن اُس نے دیکھا کہ یہ سب لوگ صرف تب تک تمہارے ساتھ ہیں جب تم کچھ دے سکتے ہو۔
جب تمہیں کچھ چاہیے ہو، تو سب غائب ہو جاتے ہیں۔
اُسے تمہیں یہ دکھانا تھا — تاکہ تم خود دیکھو، خود سمجھو کہ کون تمہارے لیے سچ میں ہے۔"
اُس کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے۔
تب نانی آہستہ سے آگے بڑھیں، آواز کانپ رہی تھی:
"میرے لیے وہ دروازہ بند کرنا سب سے مشکل کام تھا،" وہ بولیں۔ "لیکن میں مزید ایسے نہیں جی سکتی تھی جیسے سب ٹھیک ہے۔
تمہیں حقیقت کا سامنا کرنا تھا۔
اور مجھے تم سے اتنی محبت کرنی تھی کہ تمہیں تکلیف دے سکوں — تاکہ تم سیکھ سکو۔"
اب وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔
بچوں کی طرح نانی سے لپٹ گیا، ایسا گلے لگایا جیسے الفاظ کی ضرورت ہی نہ ہو۔
اور اُس لمحے میں... اُسے ایک ایسی بات سمجھ آ گئی جو لفظوں سے نہیں سکھائی جا سکتی۔
کبھی کبھی جو انسان تم سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے، وہی تمہیں جھنجھوڑنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
تاکہ تم وہ سچ دیکھ سکو، جس سے تم آنکھیں چرا رہے تھے۔
جب تمہارے پاس سب کچھ ہوتا ہے، تو لوگ تمہارے گرد آ جاتے ہیں۔
لیکن جب تمہارے پاس کچھ نہ ہو — تب تمہیں پتا چلتا ہے کون تمہارے ساتھ ہے۔
نہ کسی فائدے کے لیے۔
بس تمہارے لیے۔
اور ہاں، یہ تکلیف دیتا ہے۔
لیکن آخرکار، یہی تمہیں مضبوط بناتا ہے۔

جمعہ، 13 جون، 2025

کن رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنا جائز ہے؟

Kin Rishtedaron Se Qata Taluq Karna Jaiz Hai | Mufti Akmal | ARY Qtv



غیرمسلم اسلام کیوں قبول کریں؟

 غیرمسلم اس لیے اسلام قبول کریں تاکہ وہ موت کے بعد بھڑکتی ہوئی آگ اور دردناک سزاوں میں جانے سے خود کو بچاسکیں جو اللہ نے کافروں کے لیے تیار کرکے رکھی ہوئی ہے۔

غیرمسلم دنیا میں جتنی چاہے ترقی کرلیں، جتنا چاہے کام کرلیں، دولت شہرت عزت کامیابی حاصل کریں، یہ سب ان کی موت کے بعد انہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچاسکے گی۔

موت کے بعد صرف ایمان بچائے گا اور اس کے لیے اسی زندگی میں اللہ اور اس کے آخری نبی حضرت محمد رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ہوگا۔ انہیں ماننا پڑے گا۔ اگر کوئی غیرمسلم اللہ کا انکار کرے تو جہنم میں داخل ہوگا۔ اگر کوئی غیرمسلم اللہ کو مانے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرے، وہ بھی کافر ہے اور جہنم میں داخل ہوگا۔

جہاں تک یہ بات ہے کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ صرف اسلام اللہ کا دین ہے اور اللہ اس کائنات کا اصلی خدا ہے؟

اس کے ثبوت کے لیے مندرجہ ذیل یوٹیوب چینل اور ویب سائٹس دیکھی جاسکتی ہیں۔

YouTube Channels:

Websites:

مسلسل روز جاگنا بیماری کا باعث (Sidra Naseem) - ایک سوال

 سدرہ نسیم کی ایک پوسٹ پر یہ لکھا تھا


اس پر ایک کمنٹ کسی نے پوسٹ کیا اور کچھ جاہل گنواروں نے اس پر ہنسی مذاق بھی اڑایا نیز سدرہ نسیم نے مسلسل روز جاگنے کو بیماری کا باعث بننے کا سبب بتادیا مگر میڈیکل کو سامنے رکھ کر مگر اس روحانی بلندی کو غلط رنگ دیتے ہوئے۔

اب میرا یہ سوال ہے سدرہ نسیم اور اس کے تمام پیروکاروں سے کہ

مسلسل روز جاگنے سے کتنے ولی اللہ، صحابہ کرام اور نبیوں کا انتقال بیماریوں سے ہوا ہے؟