الحمداللہ - پہلی جولائی سنہ 2020 سے میرا یہ دعوی ہے کہ اللہ کے فضل اور اس کے حکم سے کبھی بھی میرے جسم پر کرونا وائرس اثر نہیں کرے گا۔
مجھے اپنے جسمانی جسم کو اب کرونا وائرس سے بچانے کے لئے کسی سائنسی ، نفسیاتی ، روحانی اور طبی قسم کے وسائل کی ضرورت نہیں ہے. البتہ میں ایک شہری ہونے کے ناطے گھر سے باہر عوام میں حکومتی قوانین کے تحت ماسک استعمال کروں گا مگر یہ کسی کمزوری یا ڈر خوف کی وجہ سے نہیں ہوگا کیونکہ میں اللہ کی طاقت کی وجہ سے کسی بھی کرونا وارڈ میں بلا خوف گھوم پھر سکتا ہوں اور مجھے کسی سائنسی آلات وغیرہ کو استعمال کرنے کی ضرورت ہرگز نہیں ہے۔ یہ میرے کرونا امیون ہونے پر پریکٹیکل ثبوت ہوگا۔
اگر کوئی بھی حکومت اپنے ملک سے کرونا وائرس ختم کرنا چاہتی ہے تو اس ملک کا صدر یا پرائم منسٹر مجھ سے مدد کے لیے درخواست کرسکتا ہے۔
اگر میڈیکل ڈاکٹرز جسمانی طور پر مر رہے ہیں یا کرونا وائرس سے شدید متاثر خطرناک حالات کے مریضوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے موت کا نفسیاتی خوف رکھتے ہیں تو مرنے کے خوف سے بہتر ہے کہ "مسلم مین" سے مدد لیں۔
ان لوگوں کے لئے جو ایک حقیقی خدا کو تلاش کرنے کے لئے بے چین ہیں ، اور ان پیدائشی مسلمانوں کے لئے جو اللہ کے سچا خدا ہونے کے وجود پر شک رکھتے ہیں، یہ دین اسلام کے سچا ہونے پر یہ بھی ایک کھلی نشانی اور روشل دلیل ہے کہ آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ادنی مسلم امتی نے کرونا وائرس کے لئے مستقل طور پر ناقابل شکست طاقت حاصل کرلی ہے لہذا دنیا کے جس ملک کے ٹی وی چینل چاہیں اپنے اپنے ملک میں میرے دعوی اور مدد کے حوالے سے آفیشل اعلانات کرسکتے ہیں کیونکہ اب میں اللہ کے فضل و کرم سے ہمیشہ کے لیے بطور "مسلم مین فار کورونا" تیار ہوں۔
اعلان ختم ہوا
مسلم مین فار کورونا
لیجنڈ محمد ذیشان ارشد