کل میں کراچی کورنگی کراسنگ پر گیا اور اللہ کے فضل سے وہاں پہ میں نے ریکارڈنگ کی۔ جو کچھ بھی میں نے چاہا اللہ کے فضل سے اسے ریکارڈ کیا۔ لیکن عجیب و غریب منظر ہوا کہ جس وقت میں اپنا لیکچر ریکارڈ کر رہا تھا اسی وقت اس آگ کے بالکل اوپر بادلوں کے ذریعے اللہ کا نام نمودار ہو گیا۔
دوسری بات یہ کہ اس آگ کو میں اس لیے دیکھنے گیا تھا کہ ایک تو یہ وجہ تھی کہ وہ اللہ کی نشانی ہے اور دوسری بات یہ کہ اس آگ کے اندر اللہ کے نام نمودار ہوئے جن کے میں نے اسکرین شاٹ تیار کیے ویڈیو کے اندر سے۔
یہ بات میڈیا والے نہیں جانتے۔ اس لیے کہ لوگوں کی اس پر توجہ نہیں۔ جب میں کورنگی کراسنگ جا رہا تھا، راستے میں مجھے ایک ٹی سی ایس والا ملا۔ میں نے اس سے ایڈریس پوچھا اور بتایا کہ جہاں آگ لگی ہے وہاں جانا ہے۔ بولا کہ بھائی وہاں کیا ملے گا؟ کچھ بھی نہیں ہے ایسا خاص۔۔۔بس دھواں ہے۔
میں نے بتایا کہ وہ آگ اللہ کی نشانی ہے اور اس آگ کے اندر اللہ کا نام ہے۔
یہ سن کے وہ حیرت سے میری شکل دیکھنے لگا۔
پھر اس نے کہا کہ آپ چلو میں آتا ہوں، اسی جگہ جانا ہے۔ لیکن اس کے بعد وہ نہیں آیا۔ ظاہر سی بات ہے شیطان نے اس کی دماغ میں الٹی سیدھی باتیں ڈال دی ہوں گی۔ اسے لگا ہوگا میں کوئی پاگل ہوں اور عجیب و غریب بات کر رہا ہوں۔
پھر میں جب کورنگی کراسنگ کے قریب اس آگ والی جگہ پہ پہنچا تو وہاں میڈیا کی ایک گاڑی کھڑی ہوئی تھی باونڈری لائن کے اندر۔
جب میں نے اپنی ریکارڈنگ مکمل کر لی تو میں نے وہاں کے سیکورٹی گارڈ والے سے جس نے مجھے تھوڑی سی اجازت دی تھی اندر قدم رکھنے کی لیکن زیادہ دور جانے کی نہیں، میں نے اسے بتا دیا کہ اس آگ کے اندر اللہ کا نام نظر آتا ہے اگر سلو موشن میں دیکھا جائے، اگر چاہو تو میڈیا والوں کو بتا سکتے ہو۔
جب میں اپنی بائیک سٹارٹ کرکے واپس آنے والا تھا تو میڈیا کی گاڑی بھی باہر آگئی۔ اس میں ڈرائیور بیٹھا ہوا تھا تو میں نے اس ڈرائیور کو بھی یہ بات بتا دی کہ اس آگ میں اللہ کا نام نظر آتا اتا ہے سلو موشن پہ، چاہو تو میڈیا والوں کو بتا دینا۔
اتنا کام کر کے میں وہاں سے چلا آیا۔
اب وہ میڈیا والوں کو بتاتے ہیں یا نہیں بتاتے؟ میری بلا سے.اس لیے کہ میڈیا والوں نے کون سا اس وقت توجہ دی تھی جب میں نے ان کو پیچھے لگ لگ کے بتایا تھا کہ کرونا وائرس ختم کروا لو، ہینگ ٹونگ 77 کا جہاز نکلوانے کا کام میں نے کیا تھا, تب بھی ان لوگوں نے کوئی توجہ نہیں دی تھی۔ تو یہ میڈیا اتنا کوئی خاص نہیں ہے میرے لیے۔ یہ لوگ کنٹینٹ کو فلٹر کرتے ہیں۔ اپنی من پسند باتیں میڈیا پر دکھاتے ہیں اور مجھے ان کے پیچھے لگنے کی اب حاجت نہیں ہے۔ اللہ نے مجھے ان سے بے نیاز کر دیا ہے۔
اب میں اپنا کنٹینٹ خود لکھتا ہوں اور میں اپنا کنٹینٹ خود پبلش کرتا ہوں، چاہے وہ آڈیو کی صورت میں ہو، ویڈیو کی صورت میں ہو یا پھر تحریری صورت میں ہو۔ میرے پاس میرے جدید اے آئی کے ٹولز بھی ہیں اور اس کے علاوہ میری اپنی اسکلز بھی موجود ہیں۔
الحمدللہ رب العالمین
ڈاکٹر لیجنڈ محمد ذیشان ارشد (12 اپریل 2025)




